صحافت

بے باک صحافت کیو ں زیر عتاب؟

سمیہ فرحین

(مدرسہ الجامعہ صفہ الاسلامیہ اورنگ آباد)

صحافت  بابری مسجد کی شہادت سے لیکر گجرات فسادات  اورماب لینچنگ جیسی منفی اور درغ گوئی پر مبنی سیاست کرنے والی فسطائی طاقتوں اور تنظیموں کے ناپاک عزائم کا اپنے بے باک قلم سے پردہ چاک کرنے والی مایہ ناز صحافی گوری لنکیش صحافت کی دنیا میں اب محض ایک یاد بن کر رہ گئی  ہیں ،ظلم کے خلاف  سراپا احتجاج  کی علامت گوری لنکیش کو کس نے  اور کیوں مارا یہ ایک الگ بحث ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ گوری لنکیش کا قتل کن طاقتوں نے کیا اور وہ کن نظریات کی حامل تھیں۔ گوری لنکیش کا قتل نہ پہلا تھا اور نہ آخری، ملک میں قلم کی طاقت کو توڑنے اور حق کی آواز دبانے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے لیکن بی جے پی اروراس کے اتحادیوں کو سیاسی عروج کیا حاصل ہوا  نفرت کے سوداگروں کے حوصلے اور بھی بلند ہوگئے۔ اب سب کچھ اعلانیہ ہوہو رہا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہیکہ  آزادانہ، بے باک اور حقیقت پر مبنی صحافت کیسے کی جائے، ایسے ماحول میں جہاں حق کو دبانے کی کوشش بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے جہاں بڑے بڑے میڈیا ہاؤسیز حکومت کی شرن میں چلے گئے ہوں اور جن میڈیا ہاؤسیز میں صحافیوں کا منہ بند کردیا جارہا ہو، ہر آئینہ دکھانے والے صحافی کی جان کے لالے پڑھ جارہے ہو یا پھر انھیں خرید لیا جارہا ہو، ان سب کے باوجود جو  صحافی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اپنے قلم کی آبرو بچانےمیں کامیاب ہوجاتے ہیں انھیں موت کے گھاٹ اتار کر دوسروں کے لیے عبرت بنادیا جارہا ہوتاکہ پھر کوئی ظالموں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہ کرسکے  اور ظلم کا بازار پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری  رہے۔

 بھگوا سیاست کے خلاف قلم اٹھانے والی گوری لنکیش، ریت مافیا کا پردہ چاک کرنے والے صحافی دھرمیندر سنگھ، سفاک قاتلانہ جرائم پر سے پردہ اٹھانے والے رپورٹر راج دیو رنجن، اترپردیش حکومت کےغیر قانونی دھندوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے صحافی ترون مشرا اور حال ہی میں زندہ آگ میں ڈال دیئے  گئےسندیپ کوٹھاری میدان صحافت میں سچائی اور ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوکر جان نچھاور کرنے والے چند نام ہیں، ان صحافیوں کا المناک انجام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ  حکومت کو اصول پسند  غیر جانب دار صحافت اور  بے باک  صحافی نہیں بلکہ جی حضوری  کرنے والے مردہ ضمیر خادموں اور چاپلوسوں کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ان درباریوں کی ضرورت ہے  جو بادشاہت کو سلامت رکھنے کے لیے  اٹھتے بیٹھتے حکومت وقت کا گن گایا کرے اور حکومت کی ناکامیوں کو بھی اس انداز میں پیش کریں کہ  اس پر کامیابی و کامرانی کا گمان ہو۔ تلخ حقیقت یہ ہیکہ میدان صحافت میں ایسے ہی درباری صحافیوں کا طوطی بول رہا ہے، اپنے قلم کی دھار سے  ہوا کا رخ موڑنے والے بے باک صحافی اب انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنھیں کہیں کوئی جگہ نہیں  حق بات کے لیے انھیں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑھ رہا ہے  یا پھر  وہ حالات کے آگے  گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔

اب سوال یہ اٹھتا ہیکہ ہندوستان کی شاندار صحافتی روایت جس  کی اپنی ایک تاریخ ہے  سیاسی منظرنامہ بدلتے ہی درباری قصیدہ گوئی میں  کیسے تبدیل ہوگئی ماضی کے جھروکے میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو یہ بیباک صحافت  کی ایک طویل تاریخ رہی ہے سن اٹھارہ سو ستاون سے لیکر دور حاضر تک صحافیوں نے صدائے حق بلند کی ان کے قلم سے ایسے ایسے شہ پارے نکلے جو ماضی کی صاحفت کا مینار نور کہلائے انھوں نے اپنی جانوں کا نذارانہ پیش کیا لیکن قلم سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا غدرکی لڑائی میں  جب انگریز ہر طرف سے حاوی ہوگئے  توجس شخص کو سب سے پہلے  توپ پر باندھ کر شہید کیا گیا وہ ایک صحافی مولوی باقر تھے، مولوی باقر کے اخبار میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا گیا تھا پھر مولانا حسرت موہانی، مولانا ابوالکلام آزاد، گاندھی جی اور نہرو  جیسے تمام قائدین نے  اخباروں کے ذریعے اپنی آواز عوام تک پہنچائی اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں کئی اخبارات کو حکومت کی پابندیاں  جھیلنی پڑیں  ایک طویل تاریخ ہے اس ملک کی درخشاں صحافت کی لیکن افسوس کہ  حالیہ  برسوں میں   یہ پیشہ بھی بک گیا۔

پیشہ وارانہ صحافت کے اس گرتے معیار کی اگر وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہیکہ اس کا سہرہ سیدھے الیکٹرانک میڈیا کے سر جاتا ہے، یعنی ٹی وی جرنلزم جی ہاں  ملک میں پرائیوٹ نیوز چینلس تو بڑی تیزی سےشروع ہوئے  لیکن  میدان صحافت ان کے لیے اتنا کارگر نہیں ہوا  ان کی وقعت  اتنی نہیں تھی کہ  وہ ہر روز چوبیس گھنٹے  چلنے والے چینل کا خرچ برداشت کرسکے، اخبار چلانے کے لیے اگر سو کروڑ درکار ہوتے ہیں تو ٹی وی  چینل  چلانے کے لیے  کم از کم ایک ہزار کروڑ روپئے سالانہ درکار ہوتے ہیں جس کے لیے  ذرائع تلاش کرنے کے لیے ان چینلوں کے مالکان نے حکومت و سرمایہ کاروں کا رخ کیا ان ٹی وی چینلوں کا پہلا حربہ یہ رہا ہے کہ  حکومت سے بھاری بھاری قیمتوں کے اشتہارات وصول کیے جائیں اور چینل کا خرچ نکالا جائے۔

دوسرا یہ کہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے دروازْے کھٹکھٹائے جائے  تاکہ چینل کا خرچ نکالا جاسکے، اس طرح ان ٹی وی چینلثوں نے اپنے مفاد کی خاطر حکومت اور سرمایہ داروں کی چمچہ گیری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، ظاہر سی بات ہیکہ  اشتہارات کی صورت میں چینلوں  کا پیٹ بھرنے والی حکومت کو یہ کیسے برداشت ہوگا کہ وہی چینل حکومت کی قلعی بھی کھولتے رہے  نتیجہ سامنے ہے اب ہر چینل حکومت وقت کی مدح سرائی میں  لگا ہوا ہے، چند ایک کو چھوڑ کر لیکن جھنیں چھوڑ دیا گیا وہ بھی پوری طرح آزاد ہے ایسا نہیں ہے ان  کی ناگیاں بھی  کسی ہوئی ہیں  کبھی بھی حکومت کی گاج ان پر گر سکتی  ہے، جب چینل مالکان  حکومت کی گود میں بیٹھ  گئے تو بے چارے صحافیوں کی  بے بسی اور مجبوری کا  اندازہ لگایا جاسکتا ہے، مالک جو کہے  وہ لکھوں نہیں تو باہر کا راستہ کھلا ہے،  صحافیوں کی   ایک بڑی کھیپ کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا یہ کھیپ  ان زندہ ضمیر صحافیوں کی ہے جنھوں نے  بھوکے رہنا گوارہ کیا لیکن قوم کا سودا انھیں منظور نہیں تاہم  بہت سارے ایسے بھی ہیں جن کی مجبوریاں ان کے پیروں کی بیڑیاں بن گئی  اور دیانتدارانہ صحافت وقت کی چکی میں  پس کر  چینل مالکان، سرمایہ داران اور حکومت وقت کے ہاتھوں کا کھلونہ بن  رہ گئی قابل ذکر بات یہ ہیکہ اب چینلوں میں  صحافیوں کاتقرر قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات پر ہورہا ہے کہ  وہ چینل کا کتنا منافع کرسکتا ہے، اس کے سیاسی لیڈروں اور سرمایہ داروں سے کیسے مراسم ہیں۔

اب ایسے ہی لوگوں کو ویلکم کیا جاتا ہے جو منجمنٹ کا منہ پیسوں سے بھرنے  میں ماہر ہو یعنی قابلیت کے پیمانے  بدل گئے ہیں ، دوسرے معنوں میں اسے پیڈ جرنلزم کہا جاتا ہے، پیڈ جرنلزم میں مالک بھی خوش اور رپورٹر بھی خوش ہوتے ہیں غمگین اگر کوئی ہوتا ہے تو وہ  ہیں ملک کے عوام، کیونکہ ان کے حقوق ڈنکے کی چوٹ پر صلب ہورہے ہیں ، لیکن ان کے حق میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں صحافت کے اس موجودہ رجحان  کا خمیازہ صرف  صحافی یا صحافت ہی نہیں بلکہ پورا ملک بھگت رہا ہے اور اشارے تو اتنے  سنگین ہیکہ  کہیں یہ ملک کا شیرازہ نہ بکھیردے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close