صحافت

سنسنی خیز بریکنگ نیوز اور پریشان عوام

یہ جو سنسنی خیز اور بریکنگ نیوز کا سلسلہ ہے، یہ حطرناک اور پریشان کن ہے

اسماء طارق

 آج کل جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ایسے میں تو یہی لگتا ہے کہ مسکرانا منع  ہے جس طرف دیکھو بری خبریں ہی سنائی دیتی ہیں ایسے میں بندہ کی گبھڑاہٹ ہی نہیں جاتی اس  زمر میں میڈیا خاص اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے ہر  وقت سنسنی پھیلا ئے رکھنے کا عہد کر لیا اور اب تو یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات کو اس طرح سنسنی خیز بنایا جاتا ہے۔

نیوز چینلز کی بات ہی مت کیجئے اب آپ ہی دیکھیں جب ٹی وی آن کریں اور نیوز چینل پر کریں تو کوئی نہ کوئی حادثے یا سانحے کی خبر ہی ملتی ہے، معجزہ ہوجاتا جب کوئی خبر سننے کو ملے۔

میڈیا ہر وقت بری خبروں کے تعاقب میں رہتا ہے مگر اچھی خبر سامنے بھی ہو تو کوئی نہیں بتاتا اسے اپریشیڈ نہیں کیا جاتا۔ جب کہ اگر کوئی حادثہ یا سانحہ ہو جائے تو ایک ایک لمحے کی کوریج کی جاتی ہے وہ بھی دکھایا جاتا ہے جو نہیں دکھانا چاہیے۔ ہم مانتے ہیں اس معاشرے میں بہت خرابیاں ہیں مگر اچھائیاں بھی تو  ہیں، ان  کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی نہ ان کی کوئی بریکنگ نیوز بنتی ہے۔ زور جہاں ہزاروں حادثے ہوتے ہیں وہی ہزاروں اچھے ایونٹ بھی ہوتے ہیں جن کی نہ خبر بنتی نہ کوریج ہوتی ہے۔ بری خبر کےلئے چوری  چھپے بھی کمرے لگائے جاتے مگر اچھی خبر کی ایک ہیڈ لائن تک نہیں بنتی۔

 اوپر سے ٹاک شوز جس میں اس طرح سیاسی فریقین گتھم گتھا ہوتے ہیں جسے دیکھ کر لگتا ہے  گلی کے ناسمجھ لڑکوں کی لڑائی  ہورہی ہے، آجکل تو وہ بھی ایسے نہیں لڑتے. اور اس طرح گفتگو میں ایک دوسرے کی عزتوں کو نیلام کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے الفاظ کہ سن کر آپ کو بھی شرم آ جاتی ہے مگر انہیں فرق نہیں پڑتا-

اسی طرح خبریں اس قدر سنسنی سے بھرپور کہ ہر طرف سنسناہٹ سنائی دیتی ہے. ایک چھوٹی سی خبر کو بھی اس طرح سنسنی خیز بنا دیا جاتا ہے کہ بندہ حیران  و پریشان ہو جاتا ہے .جبکہ اندر کوئی  معمولی سی خبر  ہوتی ہے جو شاید اہمیت کی حامل ہی نہیں ہے. بریکنگ نیوز کاجو آجکل ٹرینڈ ہے اس کی وجہ سے حقائق مسخ ہو رہے ہیں. اوپر سے جو الرٹ پروگرام ہیں جنہیں دیکھ کر بندہ سچ مچ گھبرا جاتا ہے کہ حالات اتنے خراب ہیں  اور سوچنے لگ جاتا ہے کہ وہ سانس کیسے لے رہا ہے. ایسے ایسے واقعات دکھائے جاتے ہیں کہ بندہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے.

بدقسمتی سے ہم جیسے ممالک جہاں باہر کی ایکٹیویٹیز  نہیں ہیں خواتین کو بھی گھر میں ہی رہنا ہوتا ہے، بچوں کے لئے بھی پارکز اور فن لینڈز کی کمی، ان سب حالات میں ٹی وی ہماری زندگیوں کا اہم ترین حصہ بن گیا ہے اور یہ ہماری روزمرہ کی زندگیوں کو کنٹرول کر رہا ہے ایسے میں بہت ضروری ہے کہ ہم جو مواد دیکھ ہیں وہ درست اور صحیح ہو، تصدیق شدہ ہو کیونکہ اس سے ہماری زندگیوں پر بہت اثر پڑتا ہے وہ ڈرامے  ہوں، کارٹون ہوں یا خبریں.

آجکل ڈرامے بھی جیسے آ رہے ہیں جن میں کہا نی کم اور سنسنی زیادہ ہے ہر طرف سازشیں ہی سازشیں جنہیں دیکھ کر اچھا خاصا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے عورتیں تو باقاعدہ وہمی ہو جاتی ہیں پھر شوہروں کی شامت آ جاتی ہے۔

بےشک معاشرے میں آگاہی کا ایک اہم ذریعہ میڈیا ہے جو معاشرے کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی سے ہمیں حقائق کا پتا چلتا ہے مگر یہ جو سنسنی اور بریکنگ نیوز کا سلسلہ ہے یہ حطرناک ہے اور پریشان کن ہے اس کے متعلق ہمیں سوچنا ہو گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close