صحافت

صحافت کا گر تا معیار

 ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار تعلیمی اورا قتصادی حالت سے لگایا جاتا ہے اگر ملک میں جہالت نا خواندگی اور غربت کی شرح زیادہ ہو تو ملک  یا سماج کو خوشحال تصور نہیں کیا جا سکتا ہے جب معاشرہ تعلیم سے آشنا نہیں ہو گا تو اس سماج کا استحصال کرنا بہت آسان ہے- اگر سماج خواندہ ہے تو اس کے اندر صحیح غلط کا امتیاز اپنے حقوق کی طلب کا جذبہ پیدا ہو گا اسی پر بس نہیں بلکہ وہ سماج موجودہ حالات کا بھی بہتر طور پر تجزیہ کر سکتا ہے اور سماج میں ہونے والی زیادتیوں کا ادراک کرنا بھی اس کے لئے بدیہی امرہے جو سماج علم ومعارف کے پاکیزہ اوصاف سے آشنا نہیں ہے وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہوتا ہے-

آج کا دور سائنس اورٹیکنا لوجی کا ہے انسانیت بڑی تیزی سے ترقی کرہی ہے مغربی ملکوں میں ترقی کا جو ماڈل ہے وہ انسانیت کے لئے معاون نہیں مگر جہاں جدید ٹیکنالوجی نے دنیا میں اپنی اہمیت مسلم کرائ ہے وہیں  صحافت بھی  معاشرہ کو اپنے وجود کا احساس دلانے میں کافی کامیاب نظر آرہی صحافت کے جدید آلات نے ایک دوسرے کے  بہت قریب کردیا ہے چاہے وہ الکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا یا سوشل میڈیا ان میں سے ہر ایک کی وقت اور ضرورت کے حساب افادیت مسلم ہے جہاں تک سوال انسانیت کو فوزو فلاح  اور حقائق سے متعارف کرانے کا تو یہ کہنا غلط نا ہو گا کہ میڈیا کی لا پرواہی اور عدم احساس ذمہ داری کی وجہ سے عوام میں آج  عدم رواداری کی روایت فروغ پا رہی ہے-

برعکس اس کے اگر میڈیا اپنی ذمہ داری کو بہتر خطوط پر انجام دے تو معاشرہ کی تشکیل صالح خطوط پر کی جا سکتی ہے کیونکہ  سماج میں بیداری لانے قوم پرستی   انسان دوستی کے اصولوں سے معمور کرنے میں صحافت کا بنیادی کردار ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ آج صحافت کی اخلاقی قدریں مفاد پرست طبقہ کی رکھیل بن چکی ہیں جبکہ صحافت سے وابستہ افراد عدل پروی کا مظاہرہ کریں تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ فسطائ طاقتیں جو معاشرہ میں بے چینی بد عنوانی کو فروغ دے رہی ہیں ان پر لگام کسنا بہت آسان ہے  کیونکہ صحافت کا  ملک کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار اداکرنا سماجی مسائل کو اجاگر کرنا انتہائ ضروری ہے اگر موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ جو سماج کی بنیادی ضرورت ہے ان مسائل سے چشم پوشی کرنا غیر ضروری مسائل پر توجہ دینا آج میڈیا کا بہترین مشغلہ بن چکا ہے،  جس کی وجہ سے معاشرہ بڑی تیزی سے بے چینی محسوس کررہا ہے–

اگر کسی بھی ملک کا میڈیا امانت و دیانت کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ خاص طبقہ کی ترجمانی کرنے لگے تو یقین جانئے کہ  اس ملک کا میڈیا محدود مفادات کا قیدی اور خود ساختہ مصلحتوں کا اسیر ہو چکا ہے نیز اس سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے- پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے ملک کی صحافت نے بھی بد دیانتی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا ہے جو جمہوریت کے لئے فائدہ مند نہیں ہے اس سے ملک کا مفاد مجروح ہورہا ہے لیکن ذاتی مفاد کا حصول خوب  کیا جارہا ہے-

 ہماراملک سیکولر آئین کا علمبردار ہے یہاں پر مختلف مذاہب و مشارب کے لوگ سکونت پذیر ہیں متعدد زبانوں کے رکھوالے ہیں اس طرح  یہ  گلستاں  سر سبز شاداب پھولو ں سے ہرا بھرا ہے    اگر اتنے حسین ملک میں میڈیا کا رویہ جانب دار ہو تو کیا اس سے معاشرہ کی ترقی ممکن ہے جبکہ موجودہ وقت میں میڈیا کو انتہائ ذمہ داری کے ساتھ سماج کی ذمہ داری کو نھبائے تاکہ ملک کا کوئ بھی طبقہ ظلم و زیادتی کا شکار نا ہو سکے –

آج ملک میں حکمراں طبقہ سنگھی فکر میں آلودہ ہے اور اس جماعت نے میڈیا کو پوری طرح اپنے قبضہ میں کر لیا ہے پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا سب اس وقت سنگھی فکر سے آراستہ ہیں جبکہ میڈیاکا کام جہاں سیاسی حالات سے باخبر کرنے کا وہیں سماج میں ہونے والے حساس واقعات سے بھی روشناس کرانا صحافت کی اخلاقی ذمہ داری ہے حیرت اس بات کی ہے میڈیا کی توجہ کا مرکز اس وقت 2019 کا لوک سبھا چناؤ ہے اگر نیوز چینل کھول کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا میڈیا نے ابھی سے  بی جے پی کو جتانا شروع کردیا ہے  بعض نیوز چینل کی ہینڈنگ تو قابل دید ہوتی ہیں جن پر صرف کف افسوس ہی ملا جا سکتا ہے۔

جبکہ راجستھان میں ایک درندہ صفت انسان نے افرازل کا بہیمانہ قتل کیا مگرمیڈیا نے اسے کتنی دیر اپنے اپنے چینلوں کی زینت بنایا؟اسی طرح آج کل شام میں آتش و آہن کا کھیل کھیلا جارہا ہے معصوموں خواتین اور بوڑھوں کو  تختئہ مشق کیا جارہا ہے کیا ان حالات پر میڈیا کی نظر نہیں ہے؟ ہاں اگر مسلمانوں اور اسلام کا کوئ مسئلہ ہو تو اس پر ہفتوں کے حساب سے ڈبیٹ بھی ہوتی ہے اور اخبارات نیوز چینل کی زینت بھی بنے رہتے ہیں کیا میڈیا کا معتدل رویہ یہی ہے؟ ابھی  طلاق کے مسئلہ میں جتنی فکرمندی کا احساس میڈیا نے کیا اور کررہی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا سے وابستہ تقریبا تمام افراد اپنی ذمہ داری کو کس حدتک اعتدال و توازن کے ساتھ نبھا رہے ہیں – حالیہ کاسگنج فساد میں میڈیانے جو دکھا یا کیا وہ سچ تھا ؟بعض اینکروں نے تو مسلمانوں کی حب الوطنی کو بھی مشکوک کردیا تھا بیشتر نیوزچینل  کا کہنا تھا کہ کیا اتر پردیش میں ترنگا نہیں لہراسکتے وغیرہ وغیرہ –

 بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کاسگنج میں عبدالحمید چوراہے پر پہلے سے مسلم طبقہ کے افراد یوم جمہوریہ کا جشن منانے کی تیاری کررہے تھے اس کےبعد کے حالات سے سب باخبر ہیں کہنے کا مقصد یہ کہ کیا ہمارےنیوزچینلوں نے کاسگنج معاملہ کو سچائ کے ساتھ میں عوام کے سامنے پیش کیا؟ اگر یہ کہا جائے تو بیجا ناہو گا کہ ملک کا میڈیا اس وقت زعفرانی طاقتوں کا ترجمان ہے – ہمارے صحافتی اداروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس وقت ملک میں بھائ چارہ گنگا جمنی تہذیب انسان دوستی بقائے باہم کی سخت ضرورت ہے کیونکہ سماج غربت وافلاس مہنگائ کی مار سے پریشان ہے کچھ نا عاقبت اندیش ملک کو ہندو مسلم کے نام پر بانٹنے کی کوشش کررہے ہیں مذہب کے نام پر سیاست کا گھنائونا کاروبار کیا جارہا ملک کی سالمیت یکجہتی مجروح ہورہی ہے سماجی انصاف کا جنازہ نکالاجارہاہے انسنانیت کو بے دریغ قتل کیا جارہا ہے- اس کےباوجود میڈیا ذاتی مفادات کا شکار ہے-

یوں تو کہا جاتا ہے کہ میڈیا آزادہے  مگر کیا واقعی آزادی اسی کو کہتے ہیں؟  اس حقیقت سے بھی انکار نیں کیا جا سکتا ہے کہ معاشرہ کو مضبوط و مستحکم بنانے سماجی تفریق ختم کرنے اونچ نیچ کو مٹانے میں صالح صحا فت اہم کردار ادا کرسکتی ہے–

آج جس طرح میڈیا کو سیاسی جماعتوں نےاپنے نرغے میں لے رکھا ہےوہ یقینا  انسانی معاشرہ کو شکشت وریخت کی طرف لے جارہی ہیں کیونکہ سیاسی اداروں کو صرف ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے انہیں ملی و ملکی مفاد  عزیز نہیں ہوتے انسانی ہمدردی معاشی ترقی تعلیمی پستی کا علاج سیاسی جماعتوں کے اہداف میں  شامل نہیں ہے – یہی وجہ کہ آج اگر ہم ملک کے منظر نامے پر نظر ڈالے تو اندازہ ہوگا کہ کتنےکنبہ ایسے ہیں جو نان شبینہ کے محتاج ہیں ہزاروں افراد فٹ پاتھ پر زندگی گزانے کو مجبور ہیں سر ڈھکنے کے لئے چھپر کا گھر تک موجود نیہں ہے -اگر ہمارا میڈیا سماج کی ان حقیقتوں کو سامنے لائے تو ملک سے بہت حد تک غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے – اس لئے میڈیا کو چاہئے کہ ان چیزوں کو عوام کے سامنے لائے جو ملک وسماج کی تعمیروترقی کے لئےمفید ہوں نا  کہ ان مناظر کو بروئے کار لائے جو سیاسی جماعتوں کے لئے مفید ثابت ہو-

االبتہ موجودہ زمانے میں صحافت کی اہمیت وافادیت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے مگر اس کی اہمیت اسی وقت مسلم ہوگی جبکہ اس میدان میں صالح افکار سیکولراقدار کے حامی اور ملک ملت کے سچے وفادار ہوں آج ہمارا معاشرہ اخلاقی قدروں ملی وقومی ہمدردی کے جذبہ سے سبکدوش ہوچکا ہے اور اخلاص کی جگہ مفاد پرست عناصر نےاپنا ناپاک تسلط جما رکھا لہذا سماج کو ان عناصر سے پاک صاف کرنا اہم ترین ضرورت ہے اور اس بد عنوانی سے ملک کو میڈیا کا مثبت رویہ ہی بچا سکتا ہے- جب میڈیا کے اہداف معاشرہ کی ترقی ہو ملک کا تحفظ ہو سماج میں اتحاد واتفاق کی روا یت کو فروغ دینا ہو اسی کے ساتھ  احترام آدمیت نوع انسانی کی قدر کا جذبہ ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

متعلقہ

Close