صحافت

مدارس میں میڈیا کی تعلیم: وقت کی اہم ضرورت

مسرور احمد عین الحق

میڈیا کی تعریف:

میڈیا(Medium) کی جمع ہے میڈیا سے مراد وہ تمام ذرائع ابلاغ ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اردو میں”ذرائع ابلاغ,, اور انگریزی میں میڈیا (Media) اور عربی میں "الاعلام،، کہتے ہیں۔

میڈیا کے اقسام:

آزادی سے پہلے عام طور پر میڈیا سے صرف "اخبارات،، ہی مراد ہوتے تھے،  لیکن آزادی کے بعد اس کے مفہوم میں مزید وسعت پیدا ہوئی اور اب عام طور پر اس کی ۳ بڑی تقسیم کی جاتی ہے، پرنٹ میڈیا(Print Media)،  الیکٹرانک میڈیا(Electronic Media)، سوشل میڈیا(Social Media)، وغیرہ

عصر حاضر میں میڈیا کی کارکردگی:

موجودہ دور تفوق و برتری، مظاہرہ قوت و سطوت، اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کا دور ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں میڈیا کی اہمیت مسلم ہے، مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ نے ٹیکنالوجی کے سہارے اس وسیع و عریض کرہ ارض کو ایک گلوبل ویلج(Globle Village) میں بدل رکھ دیا ہے۔  میڈیا نے انسان کو ہر ہر لمحے باخبر رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے، آج کے دور کا اہم ترین مسئلہ معلومات کی قلت نہیں بلکہ بے پناہ معلومات کے سمندر نے انسانوں کو فکری پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ آج کے میڈیا کا سب سے بڑا استعمال ذہن سازی اور مخصوص مقاصد کے لئے کیا جانے والا پروپیگنڈہ ہے۔ میڈیا کے شور و غل نے سچ و جھوٹ کی پہچان مشکل بنادی ہے، مباحثوں، خبروں، دلکش پروگراموں کے ذریعے فکر ، سوچ اور ذہن کو مسخر کیا جاتا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی بھر پور یلغار کی بدولت آج ہمیں پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں فحاشی، عریانی، رقص و سرور اور سب سے بڑھ کر لا دینی جیسی لعنتوں کا سامنا ہے۔ ہندوانہ رسومات عام ہو رہی ہیں، معلوم یہ ہوتا ہے کہ آج کا انسان میڈیا کا اسیر بن چکا ہے، انسانی قلوب و اذہان وہی سوچتے ہیں جو میڈیا انہیں سوچنے کو کہتا ہے افراد و اشخاص وہی دیکھتے ہیں جو میڈیا انہیں دکھاتا ہے حتی کہ حکومتیں اور سلطنتیں بھی اپنی پالیسیاں اسی طرح بناتی ہیں جس طرح میڈیا انہیں باور کراتا   ہے گویا کہ پورا سماج اور اس کی سوچ مکمل طور سے میڈیا کے زیر اثر ہے ۔ آج میڈیا بلیک(Black)یعنی ظالم کو وہائٹ(White) یعنی مظلوم اور وہائٹ(White) یعنی مظلوم کو بلیک(Black) یعنی ظالم میں بدل کر رکھ دیا ہے۔

 وقت کی اہم ضرورت

آج کے دور میں میڈیا سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں ہے، بلکہ میڈیا سے آگاہی آج سب سے زیادہ ضروری ہے، اگر ہم معاشرتی ترقی کی منزل پانا چاہتے ہیں تو میڈیا سے ہمقدم ہوتے ہوئے اس سے ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ میڈیا کو اپنی معاشرت و روایات سے  ہم آہنگ کرنے کے لیے بھر پور تیاری کی ضرورت ہے۔ ذرائع ابلاغ کے کردار و عمل سے آگاہی کے لئے نصاب تعلیم میں ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے،  کس طرح میڈیا معاشرے کو بدلتا ہے، پروپیگنڈہ کے رائج طریقوں اور دوسرے اصول و ضوابط کا علم ہی لوگوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے، دوسرے بہت سے مضامین کی طرح (Media) ذرائع ابلاغ کے بارے میں بنیادی علم کو بھی مدارس اسلامیہ کے نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

 ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میڈیا دو دھاری دار تلوار ہے اس سے جہاں معاشرے کے سدھار میں زبردست کام لیا جا سکتا ہے وہیں یہ معاشرے کے بگاڑ کا باعث بھی بن سکتا ہے یہ ظلم و بربریت کو روکنے کے لئے ایک مؤثر ہتھیار ہے اور ظلم کے لئے دلائل فراہم کرنے کا سلیقہ بھی اس کو اتا ہے، یہ باطل افکار و خیالات کے پھیلانے کا وسیلہ بھی ہے اور اس کو مٹانے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مقصد ذرائع ابلاغ کا اہم اصول و ضوابط بنایا جائے،  ایسا نصب العین متعین کیا جائے جو اخلاقا درست ہو شرعا مباح اور قنونا جائز ہو ۔ آج ایسے میڈیا کی ضرورت ہے جس سے رب کریم کا یہ قانون نافذ ہو:

 یایھاالذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالة  فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین۔

اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہچادو پھر اپنے کئے پر پشیمانی اٹھاو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close