طب

عام ادویات کی حادثاتی تاریخ

وقاص چودھری

 کچھ دوائیں ایسی ہیں جو مخصوص بیماریوں کے لیے عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن ان دواؤں کا وجود کیسے عمل میں آیا اور وہ صارفین تک کیسے پہنچیں۔ اس بات سے صارفین حتیٰ کہ وہ دوائیں تجویز کرنے والے ڈاکٹرز بھی واقف نہیں ہوتے۔ عام طور پر استعمال کی جانے والی ادویات کی دریافت سے متعلق سچی کہانیاں جو مکمل طور پر ان کا پس منظر واضح کرتی ہیں۔ مائیکل سی جیرالڈ (Michael C. Gerald) کی کتاب’’دی ڈرگ بک‘‘ (The Drug Book) میں بیان کی گئی ہیں۔

ان ادویات کی تاریخ سے واقفیت کے بعد آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ ادویات ہمیشہ سے اسی حالت میں اور انہی بیماریوں کے لیے ہی نہیں استعمال کی جاتی رہیں بلکہ بعض کیسز میں تو یہ بالکل متضاد مقاصد کے لیے اور بالکل مختلف شکل میں زیرِِاستعمال رہی ہیں۔
اور مختلف ارتقائی مراحل طے کرنے کے بعد ہم تک پہنچی ہیں۔جو پس منظر ہم یہاں بتانے جارہے ہیںوہ ان ادویات کے بارے میں آپ کے سوچنے کا انداز تبدیل کرسکتا ہے۔

نوووکین (Novocain)

یہ جسم کے کسی حصے کو سن کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے کہ دانت نکالنے کے لیے مسوڑھوں پر اس کا انجکشن لگا کر اس حصے کو وقتی طور پر بے حس کر دیا جاتا ہے۔اس دواکی ابتداء کچھ یوں ہوئی۔بے ہوشی کے لیے عام طور پر استعمال کی جانے والی دوا اصل میں کوکین (Cocaine) کے نام سے جانی جاتی تھی۔

کوکین کو سب سے پہلے 1884 میں جسم کے ایک مخصوص حصے کو سن کرنے والی دوا کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ لیکن اس کی وجہ سے متعدد اموات بھی واقع ہوئیں اور یہ دوا لوگوں کو اس کا عادی بھی بنا دیتی تھی۔ چند سالوں بعد جرمن کیمیا دان الفریڈ این ہورن نے (Alfred Einhorn) اس کا محفوظ متبادل تلاش کرنے کی کوشش شروع کی۔ اس کی اس کاوش کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کی جانے والی بے ہوشی یا کسی مخصوص حصے کو سن کرنے والی پروکین دریافت کر لی۔
جو بعد میں نوووکین کے طور پر سامنے آئی۔

 لیتھیم (Lithium)

یہ دوا عموماً منتشر شخصیت اور موڈ کی خرابی کی شکایات کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔جیسے کہ بائی پولر ڈس آرڈر (bipolar disorder) جس میں موڈ کبھی حد سے زیادہ خوشگوار ہوجاتا ہے اور کبھی مریض پر حد سے زیادہ اداسی اور ڈپریشن کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اگر اس دوا کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 1970 میں ایف ڈی اے کی منظوری سے پہلے یہ دھات 1840 میں پتہ کی پتھری اور گھٹیا (جوڑوں کی بیماری جس میں وافر یورک ایسڈ خون میں شامل ہوجاتا ہے) کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ایک صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد آسٹریلوی ماہر نفسیات جان کیڈ (John Cade) نے مشاہدہ کیا کہ جب لیتھیم کو انجکشن کے ذریعے امریکی چوہے کے جسم میں داخل کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جذباتی ہیجان کے برخلاف تکلیف اوراعصابی تنائو کو کم کرنے میں مدد ملی۔

بعد ازاں بڑے پیمانے پر کی جانے والی طبی تحقیقات نے یہ بات ثابت کی کہ لیتھیم جنون اور دیوانگی کے لیے ایک پرا ثر دوا کا درجہ رکھتی ہے ۔اور اس کی مدد سے موڈ کی خرابی کی شکایت جیسے اہم نفسیاتی مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

کارٹی سون (Cortisone)

یہ دوا سوجن کو کم کرنے، درد کے علاج، مختلف اقسام کی الرجیوں پر قابو پانے، جلدی امراض اورا س کے ساتھ ساتھ مریض کی اپنی خواہش کے مطابق سوچنے کی بیماری (Autoimmune Diseases) لئوپس(Lupus) ایک جلدی بیماری اور چنبل کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

کارٹی سون اور اس کے نتیجے میں بننے والے ہائیڈروکارٹی سون (ایڈرینل کارٹیگل سٹیرائیڈ جو زندگی کے لیے لازم جزو ہے) دوسری جنگِ عظیم کی افواہ کے بعد بنائے گئے تھے تاکہ شدید قسم کے ذہنی دباؤ کے سدِباب کے لیے جرمن پائلٹوں کو سٹیرائیڈ ہارمون اکے انجکشن لگائے جاسکیں۔ اس تصور نے امریکی افواج کو اس کے مقابلے کی دوا پر تحقیق کرنے کی حوصلہ افزائی بخشی۔

وارفارین (Warfarin)

مختلف بلڈ بینکس اور بلڈ ڈونیشن کے اداروں میں اس دوا کو خون کو جمنے سے روکنے اور جان بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔1921 میں کینیڈا ور شمالی ڈکوٹا میں جانوروں کے معالجین نے جب یہ مشاہدہ کیا کہ جب کسی مویشی کو معمولی چوٹ لگتی ہے یا ان کی سرجری کی جاتی ہے تو ان کا ضرورت سے زائد خون بہہ جاتا ہے جو بعض اوقات ان کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔
اس سے ڈاکٹروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مویشیوں کی خوراک میں ایک ایسا مادہ شامل تھا جو ان میں زیادہ خون بہنے کی وجہ بنا۔ 1940 میں یونیورسٹی آف وسکونسن بائیو کیمسٹ نے اس مرکب میں سے وہ خالص مادہ الگ کیا اور بعد میں اسے مارکیٹ میں وارفارین کے نام سے متعارف کروایا گیا۔

روگین (Rogaine)

یہ دوا عام طور پر گنجے پن کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا پس منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ 1979 میں مائی نوکسی ڈِل (Minoxidil ) پہلی دفعہ بلند فشار ِخون کی راہ میں رکاوٹ کو دور کرنے والی دوا کے طور پر مارکیٹ میں پیش کی گئی۔ تاہم جب اس دوا کا استعمال کیا گیا تو یہ دوا 80 فی صد مریضوں (جنھوں نے تین سے چھ ہفتوں کے درمیان اس دوا کا باقاعدگی سے استعمال کیا تھا) میں بالوں کی نشوونما کا باعث بنی ۔

اس دوا کے استعمال کے بعد مریضوں کے چہرے ،ان کی پشت، سینے، ٹانگوں ،بازوؤں پر سیاہ بال نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ ادویات بنانے والی کمپنی اپ جون (Upjohn) نے 1988 میں گنجے پن کے علاج کے لیے اس دوا کی باقاعدہ مارکیٹنگ شروع کر دی۔

اے زیڈ ٹی (AZT)

ای زید ٹی کو ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کے لیے بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔یہ دوا کس طرح ایڈز کے لیے استعمال کی جانے لگی اس بارے میں شاید ہی کوئی جانتا ہو ۔ جیروم ہوروٹز (Jerome Horwitz) کارمانوس کینسر انسٹی ٹیوٹ (Karmanos Cancer) کا ایک نامی گرامی امریکی سائنس دان تھا جس نے 1964 میں سب سے پہلے خون کے سرطان سے بچاؤ کے لیے ای زیڈ ٹی کو ایک دوا کے طور پر متعارف کروایا لیکن یہ پر اثر ثابت نہیں ہو سکی۔1970 میں اے زیڈ ٹی ریٹرو وائرس کے خلاف ایک موثر دوا کے طور پر سامنے آئی جسے حکومت کے محققین کی قیادت میں غور و فکر کرنے کے بعد ایچ آئی وی کے علاج کے لیے بہترین دوا مان لیا گیا۔1987 میں ایف ڈی اے نے بھی اس کے استعمال کی منظوری دے دی۔

ڈیکسٹرو میتھورفن (Dextromethorphan)

اس دوا کو کھانسی کی وجہ سے ہونے والی تکلیف کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ دوا دماغ میں کھانسی کے مرکز کو بلاک کرتی ہے۔ یہ دوا کیسے ہم تک پہنچی ۔اس کی حقیقت یہ ہے کہ امریکی نیوی اور سی آئی اے نے کوڈین (افیون سے تیار کی گئی دوا جو کھانسی کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی تھی) کی متبادل غیر نشہ آوار دوا کی دریافت کے سلسلے میں کی جانے والی تحقیق میں مالی معاونت فراہم کر کے ڈیکسٹرو_میتھورفن کی دریافت میں مدد کی ۔درد کو دور کرنے والی یہ طاقتور دوا کھانسی کو بھی کم کرتی ہے۔  یہ دوا مسکن (سکون آور) بھی ہے اس لیے فوجی ملازمین کے لیے اس کا استعمال بہتر نہیں ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close