طب

ماء الجبن کی طبی اہمیت و افادیت

شمیم ارشاد اعظمی

طب یونانی ایک قدیم طریقہ علاج ہے۔ علاج و معالجہ کے سلسلے میں اس فن کے اپنے امتیازات ہیں۔ مرض، حالت مرض اور مقام مرض کو نگاہ میں رکھتے ہو ئے دواؤں کو مختلف مسالک کے ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دواء مقام مرض تک بآسانی پہونچ کر جلد از جلداپنی تا ثیر پیدا کر سکے۔ اس طرح دوا کی اثر پذیری کے لئے بھی مرض، حالت مرض اور مقام مرض کومد نظر رکھ کر ادویہ کو مختلف شکلوں (اشکال ادویہ )میں تیار کیا جاتا ہے۔ جیسے امراض قلب میں خمیرہ جات، امراض راس میں اطریفلا ت اور امراض معدہ و جگر میں جوارشات کو بالخصوص استعمال کیا جاتا ہے۔ اشکال ادویہ کی ایک طویل فہرست ہے جن میں کچھ مائیات بھی قابل ذکر ہیں جیسے ماء الذہب، ماء الفضۃ، ماء الجبن، ماء العسل، ماء ابقول وغیرہ۔ان کی اپنی الگ الگ دوائی افادیت ہے۔ زیریں سطور میں ماء الجبن کے طبی فوائد و خواص کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

ماء الجبن آب پنیر کو کہتے ہیں۔ یعنی دودھ جب بستہ ہوجائے اور رطوبت اس سے جدا ہوجائے اس رطوبت کو ماء الجبن یا آب پنیر کہتے ہیں۔ (قرابادین قادری)

 مزاج

 ماء الجبن درجہ اول میں گرم ہے۔ ماء الجبن میں دہنیت کی نشانی دسومت کا محسوس ہو نا ہے۔ ہر چند دہنیت زیادہ ہو دسومت زیادہ ہوتی ہے۔حاصل کلام ماء الجبن میں گرمی قریب اعتدال ہے۔لیکن رطوبت اس کی زیادہ ہے۔اس لئے اس کے استعمال کا مقصدصرف ترطیب ہے۔(قرابادین قادری،علاج الامراض، فردوس الحکمۃ)

طریقہ تیاری

ما ء الجبن کئی طریقہ سے بنایا جاتا ہے۔

 (۱) سکنجبین کے ذریعہ دودھ پھاڑنا۔

 (۲) انفخہ کے ذریعہ دودھ پھاڑنا۔

 (۳) مغز قرطم  کے ذریعہ دودھ پھاڑنا۔

 (۴) سنگدانہ مرغ کے ذریعہ دودھ پھاڑنا۔

ان کی علاحدہ علاحدہ تراکیب بیان کی گئی ہیں۔ ماء الجبن کے لئے جو دودھ استعمال کیا جائے وہ رقیق ہو نا چاہئے۔(ذخیرہ  خوارزم شاہی)

حکیم محمد اکبر ارزانی کے مطابق ماء الجبن جو سکنجبین کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے، اس کی تر کیب درج ذیل ہے:

’’ دودھ تازہ پتھر، مٹی یا تانبے کے قلعی دار برتن میں جوش دیں۔ اگر دودھ دو رطل ہو توسکنجبین صادق الحموضت رطل کی ایک تہائی اس پر گرائیں، اگر سکنجبین زیادہ ترش نہ ہوتو قدرے سرکہ انگوریاآب لیموں کا اضافہ کریں تاکہ دودھ جلد پھٹ جائے۔ بعض متاخرین نے دو رطل دودھ کے لئے ۱۵ مثقال سکنجبین اور ایک مثقال سرکہ کا فی خیال کیا ہے۔‘‘(قرابادین قادری)

بعض کہتے ہیں کہ اگر سرکہ میں افتیمون، ہلیلہ سیاہ اور نمک رات کے وقت بھگوئیں اور صبح کے وقت صاف کر کے دودھ میں ڈالیں توبہتر ہے۔دودھ پھٹ جانے کے بعد برتن کو آگ سے نیچے اتار کر تین تہ کی صافی سے چھان لیں۔ اس کے بعد تھوڑا سا نمک ملا کر دوبارہ ایک دو جوش دیکر چھان لیں  اور شربت نیلوفر یا جو کچھ طبیب مناسب سمجھے اضافہ کر کے پلائیں۔ (علاج الامراض)

شفاء الاسقام میں لکھا ہے کہ دودھ کو نرم آگ پر جوش دیں اور لکڑی سے ہلاتے رہیں یہاں تک کہ دودھ جوش مار کر دیگ کے سر تک آجائے۔پھر اتار کر تین درم سرکہ یا آب لیموں ڈالیں تاکہ دودھ پھٹ جائے۔جوش دیتے وقت دودھ کو حرکت دینا لازم ہے تاکہ جل نہ جائے اور ہلانے کے لئے انجیر ترکی لکڑی چاہئے جس کا پوست اتار لیا گیا ہو۔ ایسا اس لئے کرتے ہیں تاکہ یتوعیت اور لبنیت جو انجیر کی لکڑی میں ہے نکل کر ماء الجبن میں مل جائے اور اسہال کے لئے ممد بنے۔اگر انجیر کی لکڑی نہ میسر ہو تو خرما کی لکڑی سے ہلائیں۔

٭اگر ماء الجبن ترطیب بدن کے لئے تیار کر نا ہو اور طبیعت کو نرم کر نے کی غرض نہ ہو تو انجیر کی لکڑی کے بجائے بید کی لکڑی سے چلانا چاہئے اور جوش دیتے وقت دیگ کے منھ کو بھیگے کپڑے یا اسپنج سے تر کرتے رہیں تاکہ احراق نہ ہونے پائے۔ جب دودھ پھٹ جائے تو دودھ اتار لیں۔

٭اگر یہ غرض ہو کہ اجزاء د ہنی ماء الجبن میں زیادہ رہیں تو دودھ جب سرد  ہو نے کے قریب ہو یعنی اس میں ابھی کچھ گرمی باقی ہو تو  کپڑے میں صاف کریں اور دودھ کو کپڑے میں رکھکر لٹکا دین تاکہ پانی قطرہ قطرہ ہو کر ٹپک جائے تو بہتر ہے۔

٭اگر یہ مطلوب ہو کہ  ماء الجبن میں دہنیت کم آئے تو دودھ کو اچھی طرح سے سرد کریں تاکہ اجزاء دہنیہ میں بھی جمود اور بستگی آئے اور تصفیہ کے وقت پانی کے ہمراہ اجزائے دہنیہ کم نکلیں۔ (قرابادین قادری )

اگر کسی شخص کو نزلہ اور دوسرے عارضات لاحق ہوں جن کی وجہ سے مذکورہ بالا ترش چیزوں سے دودھ کو نہ پھاڑ سکیں تو بکری کے پنیر سے دودھ پھاڑیں۔

پنیر سے دودھ پھاڑنے کا طریقہ

پنیر کو نمک سے دھو کر خشک کر کے رکھیں اور دودھ کو جوش دیں اور قدرے پنیر کو پیس کر دودھ میں ڈال کر چھوڑ دیں تاکہ دودھ منجمد ہو جائے۔اس کے بعد اس کو چاقو سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس میں نمک ڈالیں اور دو تہ کی صافی میں باندھ کر ایک جگہ لٹکا دیں، تاکہ اس سے تھوڑا تھوڑا پانی ٹپکتا رہے۔اس کے بعد صبح کے وقت جوش دیکرجھاگ اتاریں اورچھان کر پلائیں۔ (علاج الامراض)

افعال و استعمال

 ٭جالی

 ٭ غسال

 ٭مغذی

 ٭مسمن بدن

 ٭ مسہل

 ٭مرطب

 ٭مفتح سدد

 ٭مسکن الم

 ٭مسکن حرارت

ماء الجبن مندرجہ با لا افعال و خواص کے حامل ہو نے کی وجہ سے امراض حارہ، سوداوی، التہاب، سوزش، مالیخولیا،جذام، داء الفیل، احتراقات، حرقۃ البول، ضعف کلیہ، حصاۃ کلیہ و مثانہ، قروح مثانہ، یرقان، نئے اور پرانے زخمہائے بدن، خارش خشک و تر،شقیقہ، ظلمت بصر،آنکھوں اور پلکوں کی طرف مواد گر نے میں اس کا استعمال مفید ہے۔اس کے علاوہ بدن کی کمزوری، جگر کی حرارت، استسقاء اور لاغری کے لئے نافع ہے۔صفراء کی حدت کو مٹاتا ہے۔خراب اور جلے ہوئے خلطوں کو نکلا لتا ہے۔ اس کے پینے اور حقنہ کر نے سے آنتوں سے بدبو دار فضلہ نکل جا تا ہے اور کسی طرح سوزش نہیں پیدا کرتا، بلکہ مسکن سوزش ہے۔ زخم مثانہ میں استعمال کرنا ہو تو اس کی ترکیب میں نمک نہ ملایا جائے۔(قرابادین قادری،علاج الامراض، خزینۃالادویہ )

دیاسقوریدوس کا کہنا ہے کہ ماء الجبن ان گرم فضلات محرقہ کوخارج کرتا ہے جن سے صرع پیدا ہوتا ہے، نیز دیاسقوریدوس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماء الجبن بغیر نمک والا، معدہ کے لئے مفید اور غذا فراہم کرتا ہے۔(ٖفردوس الحکمۃ)

 جالینوس کہتا ہے : اگر ۱۰ درم حب قرطم کوٹ چھاٹ کرماء الجبن میں پئیں تو بہت اسہال لاتا ہے۔اس طرح جوش دینے کے بعد نمک ملا کر پلانا بھی اسہال لانے میں قوی ہے۔(قرابادین قادری)

ابوالحسن علی بن سہل ربن طبری کہتے ہیں کہ بکری کے بنے ہوئے ماء الجبن پینے سے یرقان کے صفراء محرقہ کو نکال کر، فائدہ دیتا ہے۔(فردوس الحکمۃ)

مرض مالیخولیا میں بکری کے دودھ کا ماء الجبن سب سے بہتر ہے۔اگر یہ میسر نہ ہو تو گائے کے دودھ کا ماء الجبن اچھا ہو تا ہے۔اونٹی نکے دودھ کا ماء الجبن جگر کے سدوں، استسقاء اور کلف کو زائل کرنے کے لئے مناسب ہے۔ اگر استسقاء حرارت کے ساتھ ہو تو ماء الجبن بکری کے دودھ کا مناسب اور بہتر ہے۔(قرابادین قادری،علاج الامراض،ذخیرہ خوارزم شاہی)

مالیخولیا میں وہ ماء ا لجبن زیادہ تر مفید ہے جس افتیمون اور ہلیلہ ہندی کو تر کیا گیا ہو یا وہ جس میں شربت شاہترہ اور روغن بادام ملایا گیا ہو نیز مالیخولیا اورتمام سوداوی امراض کے لئے ماء الجبن ہمراہ حب لاجورد نہایت مفید ہے۔ (قرابادین قادری)

خواص

 (۱) اس کی قوت عضو مقصود تک فورا پہونچتی ہے۔کیونکہ قوام میں رقت اور لطافت ہے اور یہ دونوں وصف حدت اور قوت دوا کے قائم مقام ہیں۔

 ( ۲)یہ حدت لطیفہ اوردسومت کا جامع ہے اور چکنائی کے باعث اخلاط حارہ میں ملائمت اور نرمی پیدا کرتا ہے۔ اور حدت لطیف کے باعث مواد کو قطع کرتا ہے۔

 (۳) ماء الجبن با وجود اسہال اخلاط کے مواد کو پکا تا ہے اور اس کا فضلہ جو بدن میں رہ جا تا ہے، تکلیف دینے کے بجائے غذا بن جا

 تا ہے۔یہ عمل خالص ماء الجبن میں ہے اور کسی اور چیز میں نہیں ہے۔

 (۴) یہ مواد کثیفہ اور غلیظہ کو بتد ریج خارج کرتا ہے۔ اور با وجود اخراج کے خشکی کی بجائے بدن کی ترطیب کرتا ہے اور مواد کو نضج دیتا ہے۔ اور بدن کی غذا بن جاتا ہے۔

چندتراکیب استعمال

٭یرقان کے لئے جو فساد جگر کی وجہ سے ہو  درج ذیل سفوف کے ساتھ دیں۔

نسخہ :سقمونیا ۴؍تولہ، انیسون اور نمک ہندی ہر ایک۶؍رتی، ہلہلہ۱۰؍ماشہ اور ایلوا ۹؍رتی۔

٭فساد طحال کی وجہ سے یرقان ہو تو ذیل کا نسخہ استعمال کرائیں۔

نسخہ : ہلیلہ سیاہ۴؍ماشہ، افتیمون ۳؍ماشہ،نمک ۶؍رتی اور ایلوا ۹؍رتی۔

٭پھوڑے پھنسی اور خارشات کے لئے  یہ نسخہ استعمال میں لائیں۔ آب برگ شاہترہ، آب برگ کثوث،ہلیلہ زرد اور ایلوا

٭سوداوی مزاج کو  ہلیلہ سیاہ، حجر ارمنی مغسول، برگ گاؤزبان، تخم فرنجمشک، اسطوخودوس اور نمک ہندی چودہ چودہ رتی کے ساتھ دیں۔

٭فضلہ بلغمی نکالنے کے لئے ایارج فیقراء ۳؍ماشہ اور ایک ماشہ نمک ہندی کے ساتھ استعمال کرائیں۔

 طریقہ استعمال

ماء الجبن نیم گرم پیا جائے۔اور اس کے تین حصے کئے جائیں۔ ایک حصہ ماء الجبن پی کر چہل قدمی کریں تاکہ پسینہ آجائے۔ اس سلسلہ میں بعض سو قدم اور بعض چالیس قدم چلنے کو متعین کرتے ہیں۔ اس کے بعد باقی حصوں کو بھی اسی طرح پیئیں۔ (علاج ا لامراض)

حکیم نجم الغنی اپنی مشہور کتاب خزینۃ الادویہ میں طریقہ استعمال کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں ؛

ماء الجبن کوہمراہ ادویہ مناسبہ منضجہ یا غیر منضجہ کے پانچ تولہ سے شروع کرائیں اور تین روز کے بعد ایک تولہ کا اضافہ کریں، پھر دو روز کے بعد ایک تولہ کا مزید اضافہ کریں، پھر ایک روز کے بعد ایک تولہ اور بڑھائیں پھر ہر روز ایک تولہ کا اضافہ کرتے رہیں یہاں تک کہ  تمام دوا ماء لاجبن میں بھگو لی جائے اسی درمیان طبیب کی رائے کے مطابق تنقیہ مسہل بھی ہو جائے اور تنقیہ کی دوا بھی اس ماء الجبن میں تر کی جائے، مگر سقمونیا اور افتیموں جیسی ادویہ استعمال نہ کرائی جائیں، لیکن جہاں صفراء کا زیادہ اخراج منظور ہو سقمونیا کا استعمال کریں اور جہاں سودا کا اخراج مقصود ہو افتیمون دیں۔  ( خزینۃ الادویہ)

ماء الجبن کے استعمال کا بہترین وقت موسم بہارہے جس میں نہ گرمی زیادہ ہوتی ہے نہ سردی بلکہ موسم اعتدال پر رہتا ہے۔کیونکہ اس مو سم میں مسہلات کا وہ خوف نہیں رہتا جو موسم گرما یا موسم سرما میں رہتا ہے۔ (قرابادین قادری)

غذا اور پر ہیز

ماء  الجبن کے استعمال کی حالت میں ادویہ شدیدۃ الحرارت سے اور غذاہائے کثیف و مرغن و گرم سے، رنج و غم سے، کثیف و گرم میوں اور ترکاریوں سے، گھی، ترشی  و شیرینی و غیرہ سے نہایت پر ہیز کرنا چاہئے۔ اور جماع، ریاضت شاقہ اور عارضات نفسانیہ سے باز رہیں۔ جہان تک ممکن ہو تفریحات اور یاقوتیات کا استعمال کریں۔ (خزینۃ الا دویہ، قرابادین قادری)

ماء الجبن پینے کے پانچ ساعت بعد غذا کھائیں۔ بہترین غذا قیمہ، شوربہ اور پلاؤ وغیرہ ہے۔چاولوں کو گیہوں کی بھوسی کے پانی یا بادیان سبز کے پانی میں بھگو دیں اور دھو کر پکائیں تاکہ سدہ اور لزوجت نہ پیدا کرے۔ جنہیں چاول کھانے کی عادت نہیں ہے انہیں بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھلائی جائے بہتر تو یہی ہے کہ اس دوران روٹی کا استعمال ہی نہ کیا جائے۔جس دن ماء الجبن  کے ساتھ مسہل لینا مقصود ہو تو بہتر ہے کہ اس سے ایک دن پہلے صرف آب نخود پر ہی اکتفا کیا جائے، نہ ہو تو نہایت نرم غذا تھوڑی مقدار میں استعمال کی جائے۔ (قرابادین قادری)

مقدار خوراک

مقدار خوراک مطابق قوت مریض کے ہے۔ادنی مقدار ستر درم، اوسط مقدار ایک رطل اوراگر مریض قوی ہے تو تین رطل تک  دے سکتے ہیں۔ قلانسء نے دیسقوریدوس سے نقل کیا ہے کہ بعض دفعات نو رطل تک دیا جا سکتا ہے۔بہر حال ماء الجبن قلیل مقدار سے شروع کر کے بتدریج زیادہ مقدار کی جائے۔ مسہلات کے ہمراہ ہے ماء لاجبن قلیل مقدار میں ہی استعمال کیا جائے۔(قرابادین قادری)

حوالہ جات

(۱)ابن ہبل بغدادی، کتاب المختارات فی الطب،جزء اول،۲۰۰۵، سی۔سی۔آر،یو۔ایمنئی دہلی، صفحہ:۳۸۔۲۳۶

(۲)ارزانی حکیم محمد اکبر، قرابادین قادری،۱۹۹۸، اعجاز پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، صفحہ۷۲ تا۷۸۔

(۳)جرجانی اسماعیل، ذخیرہ خوارزم شاہی، جلد سوم،مطبع نول کشورلکھنؤ،صفحہ:۵۷،۵۹۔

(۴)ربن طبری ابوالحسن  بن سہل، فردوس الحکمۃ( اردو ترجمہ:حکیم محمد او ل شاہ سنبھلی)، ۲۰۰۲، فیصل پبلیکیشنز، دیو بند،صفحہ:۳۵۱تا ۳۵۲۔

(۵)محمدشریف خان حکیم، بیاض خاص(ترجمہ)، ۲۰۰۶،اعجاز پبلشنگ ہاوس،نئی دہلی، صفحہ:۶۷تا۶۹۔

 (۶)نجم الغنی حکیم، خزینۃ الادویہ، بدوں سن، ادارہ کتاب الشفاء، نئی دہلی، صفحہ: ۱۰۶،۱۲۰۴۔

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close