معاشیات

رسک مینجمنٹ: شریعت کی نظر میں

کسی بھی ایسے رسک میں ملوث ہونایا رسک مینجمنٹ کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس کی وجہ سے غررِ کثیر لازم آئے، جائز نہیں ہے۔

شادمحمد شاؔد

رسک مینجمنٹ (Risk Management) کی شرعی حیثیت معلوم کرنے سے پہلے رسک اور رسک مینجمنٹ کی مختصر سی وضاحت کرنامناسب معلوم ہوتاہے۔

رسک:

کسی بھی متوقع خطرے کو رسک(Risk)  کہتے ہیں، اس کو عربی میں ”خطر“یا ”مخاطرۃ“کہا جاتا ہے، لیکن تاجروں کے عرف میں اور مالی معاملات میں جس رسک کو مینج کیا جاتا ہے اس سے مراد وہ نامعلوم واقعات ہوتے ہیں جو مستقبل میں مالی اثرات اور نقصانات میں کافی اور قابلِ توجہ  اَثر ڈال سکتے ہیں۔

اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے، مثلا ًمیں نے شیئرز خریدے، اب مستقبل میں کئی قسم کے نامعلوم واقعات یا حالات پیش آسکتے ہیں، جیسے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہو، یا شیئرز کی قیمت بحال رہے یا شیئرز کی قیمت کم ہوجائے، پہلی صورت میں مجھے نفع ہوگا، دوسری صورت میں مجھے نہ نفع ہوگانہ نقصان اور تیسری صورت میں مجھے نقصان ہوگا۔ اس قسم کے خطرات کو ”رسک“کہتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جس  ”رسک“میں نقصان کےپہلو کے ساتھ ساتھ  نفع کی امید بھی ہوتی ہے، اس کو ”تخمینی رسک“(Speculative Risk)کہتے ہیں، جس کی تعریف  ماہرین نے ان الفاظ میں کی ہے کہ :” A probability of a loss or gain “ (یعنی نقصان یا نفع کا امکان)۔ کچھ رسک ایسے ہوتے ہیں، جن میں نفع کی امید نہیں ہوتی، بلکہ صرف نقصان کا احتمال ہوتا ہے، جیسے آگ، سیلاب اور زلزلہ وغیرہ کے واقعات، اس قسم کے رسک کو ”خالص رسک“(Pure Risks) کہتے ہیں۔ (مجلۃ مجمع الفقہ الإسلامي (2/ 25722)

رسک مینجمنٹ:

رسک مینجمنٹ(Risk Management) کو اُردو میں ”خطرات کی تدبیروانتظام کرنا“ اور عربی میں ”ادارۃ المخاطر“کہتے ہیں۔

رسک مینجمنٹ ایسے سسٹم اورنظام کو کہتے ہیں جس کے ذریعے متوقع خطرات سےبچا جاتا ہےیا واقع ہونے والے خطرات کو ختم یا کم کیا جاتا ہے۔ (Longman Dictionary of  Contemporary English)

رسک مینجمنٹ کے کچھ طریقے(Techniques)ہیں، مثلا :

1۔ Avoiding Risks

2۔ Controlling Risks

3۔ Accepting Risks

4۔ Transferring Risks

5۔ Risk Share

رسک مینجمنٹ کا مقصد:

رسک مینجمنٹ کا مقصد صرف مالی  نقصانات سے بچنا نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے کوئی بھی شخص، ادارہ یا بینک اپنا فائنانشل ٹارگٹ حاصل کرنے میں  کامیابی حاصل کرسکتا  ہے اور ترقی  کے ساتھ ساتھ  اپنے ادارے کوکسٹمرز اور عوام کی نظروں میں قابلِ اعتماد بناسکتا ہے۔

رسک مینجمنٹ شریعت کی نظر میں:

رسک مینجمنٹ،  بالفاظِ دیگر مالی خطرات ونقصانات کو ختم یا کم کرنے کو شریعت نے بھی تسلیم کیا ہے، بشرطیکہ مینجمنٹ کا طریقہ کار جائز ہواور شرعی اصولوں کے خلاف نہ ہو، باری تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورتِ بقرہ کی آیت نمبر 282 میں یہ اہم ہدایت  دی ہے کہ اگر کوئی اُدھار کسی کے ذمے واجب ہورہا ہو تو اُسے ایسی تحریر لکھنی یا لکھوانی چاہیے جو معاملے کی نوعیت کو واضح کردے، اس ہدایت کا اصل مقصدیہ ہے کہ مقروض شخص  قرض کی ادائیگی سے انکار نہ کرسکے اور قرض خواہ  متوقع خطرے اور قرض کے ضائع ہونے کے رسک  سے محفوظ رہے۔

امامِ ترمذیؒ نے ایک حدیث نقل کی ہے، جس میں ایک شخص رسول اللہ ﷺ سے پوچھتا ہے کہ یا رسول اللہ! میں اپنا اونٹ باندھ کر اللہ پر توکل کروں یا اُسے کُھلا چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ رکھوں؟ آپﷺ نے جواب میں فرمایا کہ اونٹ کو باندھ کر اللہ پر بھروسہ رکھو۔ (سننِ ترمذی4/ 668، حدیث نمبر:2517)

اس حدیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خطرات سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر کرنا نہ توکل کے خلاف ہے اور نہ ہی شرعا ناجائز ہے، بلکہ یہی توکل کی حقیقت ہے کہ انسان خطرات سے بچنے کے لیے وسائل واسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ پر بھروسہ رکھے۔

اسی طرح فقہ اسلامی میں بھی  ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں  رسک کو مینج کیا جاتا ہے:

1۔ ضمان خطر الطریق:

یہ ٹرانسفرنگ رسک کی مثال ہے، اس کی صورت فقہاء نے یہ لکھی ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ اس راستے پر چلو، یہ محفوظ ہے، اگر تمہارا مال چھین لیا گیا تو میں ذمہ دار ہوں، وہ شخص اس کی ضمانت کی بنیاد پر اس راستے پر چلا، لیکن آگے جاکر اس کو مالی نقصان لاحق ہوگیا، اس کا مال چھین لیا گیا تو رسک قبول کرنے والا شخص شرعاً ضامن ہوگا۔ (ردالمحتار 5/291)

2۔ ضمان الدرک:

ضمان الدرک کی  صورت کتبِ فقہ میں یہ مذکور ہے کہ مثلا زید، عمر سے زمین خریدنا چاہتا ہے، لیکن اُسے یہ ڈر ہے کہ کہیں اس زمین میں  عمر کے علاوہ کسی اور کا حصہ  نہ ہوتو خالد زیدکویہ اطمینان دلاتا ہے کہ یہ زمین جوتم عمر سے خریدرہے ہواگراس میں کوئی مستحق نکل آیاتو اس کی قیمت  لوٹانے کامیں ضامن ہوں گا۔ ایسی صورت میں اگر زمین میں کوئی مستحق نکل آتا ہے تو گارنٹی دینے والا(خالد)ذمہ دار ہوگا، یہاں بھی رسک کو ٹرانسفر کیا  گیا۔ ( قواعد الفقہ – ضمان الدرك (1 / 359)

3۔ عاقلہ:

اگر کوئی شخص قتل کردے اور اس کی وجہ سے قاتل پر دیت واجب ہوجائے تو بعض صورتوں میں قاتل خود دیت اداء نہیں کرتا، بلکہ اس کی عاقلہ یعنی برادری دیت اداء کرتی ہے، اس کی تفصیلات کتبِ فقہ میں موجود ہیں۔ (بخاری، حدیث نمبر:6740)

4۔ عقدِ موالات:

اس سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا اور اُسی شخص سے یا کسی اورسے یہ عقد کرلیا کہ  میرے مرنے کے بعد میری میراث تمہاری ہوگی  اور اگر مجھ سے کوئی جنایت ہوگئی تو اس کی دیت تم اور تمہاری عاقلہ اداء کرےگی، ایسی صورت میں اگر اس شخص نے زندگی میں کوئی جرم کیا تو اس کا ضمان عقد کرنے والے شخص پر لازم ہوگا۔ (الفتاوى الهنديہ (6/ 271)

5۔ حوالہ وکفالہ :

حوالہ اور کفالہ دوایسے عقود ہیں جن کے ذریعے قرض خواہ کا رسک کم ہوجاتا ہے، اگرقرض خواہ چاہے تو اپنا قرض اصل مقروض سے کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل کردے، جس سے قرض وصول کرنا آسان ہو، اس کو حوالہ کہتے ہیں، یا مقروض کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے شخص کو بھی ضامن بنادے، پھر چاہے تو اصل مقروض سے قرض کا مطالبہ کرے یا ضامن(کفیل)سےمطالبہ کرے، یہ دونوں معاملات شریعت نے رسک کم کرنے کے لیے مشروع کیے ہیں۔ (تحفۃ الفقہاء 3/ 237و247)

6۔ رہن:

رہن کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کا دوسرے کے ذمہ کوئی مالی حق واجب ہو تو صاحبِ حق اس شخص کی کوئی چیز اپنے پاس رکھ سکتا ہے، تاکہ اگروہ شخص  حق کی ادائیگی سے انکارکردے، یا ادائیگی میں ٹال مٹول کرے تو صاحبِ حق اس کی چیز سے اپنا حق وصول کرسکے، رہن کے ذریعے صاحبِ حق کے رسک کم ہوجاتے ہیں، اس عقدکی مشروعیت  قرآن مجید سے ثابت ہے، سورتِ بقرہ کی آیت نمبر 283میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

”وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ “

(اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے تو کوئی چیز بطورِ رہن قبضہ میں دیدو)۔

درج بالا تفصیل سے یہ معلوم ہوگیا کہ شریعت نے رسک مینجمنٹ کوتسلیم کیا ہے، لیکن  اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ کسی بھی رسک مینجمنٹ کے ٹول کو اپلائی کرنے میں کوئی شرعی خرابی لازم نہ آئے، ورنہ رسک مینجمنٹ کا وہ طریقہ شرعا ً درست نہ ہوگا۔

رسک مینجمنٹ کے شرعی اصول:

1۔ شریعت نے ہر عقد یا معاملے میں  معاملہ کرنے والوں(Parties) کی کچھ ذمہ داریاں اور کچھ حقوق مقرر کیے ہیں، معاملہ کرنے والے ہر فریق کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور کچھ اس کے حقوق ہوتے ہیں، لہذا رسک کو مینج کرنے  کے دوران اس بات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ  شریعت کی بیان کردہ ذمہ داریاں(Responsibilities)اور حقوق(Rights)میں خلل واقع نہ ہو۔

مثلا  ًشرکت کے عقد میں تمام شرکاء کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر شریک اپنے لگائے ہوئے سرمایہ کی حد تک نقصان  میں بھی شریک ہوگا، مضاربت میں اگر مضارب کی غفلت و کوتاہی کے بغیر نقصان ہوجائے تو اس کی ذمہ داری رب المال(سرمایہ فراہم کرنے والے)پر عائد ہوتی ہے، اب اگر کوئی شریک نقصان کسی دوسرے شریک پر ڈال کرخوداس رسک سے نکل جاتا ہے تو یہ جائز نہ ہوگا، اسی طرح رب المال کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ نقصان کی ذمہ داری بہر صورت مضارب پر ڈال دے، کیونکہ اس سے شریعت کی بیان کردہ ذمہ داری متاثر ہوتی ہے۔

استصناع اور سلم کے علاوہ ہر قسم کے خرید وفروخت کے معاملے میں شریعت نے خریدار کو یہ حق دیا ہے کہ وہ خریدی ہوئی چیز پر فی الفور قبضہ کرے، اب اگر معاملہ ہوجانے کے بعد فروخت کنندہ اُس کا یہ حق سلب کرکے کہتا ہے کہ میں کچھ عرصہ بعد چیزفراہم کروں گا تو یہ جائز نہ ہوگا، جس کو ”بیع مضاف الی المستقبل“(Forward Sale)کہتے ہیں۔

2۔ فقہاء نے ایک قاعدہ بیان کیا ہے : ”الخراج بالضمان“ (الأشباه والنظائرص: 151) (نفع، ذمہ داری کے بدلے ملتا ہے) یعنی جو چیز انسان کے ضمان میں اس طرح آجائے کہ اس چیز کی ہلاکت یا نقصان کی ذمہ داری وہ شخص برداشت کرے تو اس چیز کا نفع بھی اُسی شخص کو ملے گا، اس سے معلوم ہوا کہ ہر نفع(Benefit)کے مقابلے میں شریعت نے کچھ ذمہ داریاں   (Responsibilities) مقرر کی ہیں، اگر وہ ذمہ داریاں پوری کی جائیں گی  تو نفع بھی ملے گا، ورنہ نہیں، اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کسی چیز کی ذمہ داری یا رسک ایک آدمی برداشت کرے اور اس کا نفع کسی دوسرے شخص کو ملے۔

3۔ اسی طرح فقہاء نے نفع کے استحقاق کے لیے ایک اور ضابطہ ان الفاظ میں بیان فرمایاہے کہ: ”يستحق الربح إما بالمال وإما بالعمل وإما بالضمان “ (بدائع الصنائع (6/ 62) (یعنی انسان  اپنا مال خرچ کرکے یا عمل کرکے  یا ذمہ داری  وضمانت برداشت کرکے ہی نفع کا مستحق بنتا ہے) لہذا یہ تین قسم کے رسک ہیں، اگر کوئی شخص  یہ چاہتا ہے کہ وہ ان میں سے کوئی ایک رسک بھی خود  برداشت نہ کرے، تینوں قسم کے رسک مینج کرکے کسی دوسرے پر ڈال دے تو وہ نفع کا مستحق بھی نہ ہوگا۔

4۔ کسی بھی ایسے رسک میں ملوث ہونایا رسک مینجمنٹ کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس کی وجہ سے غررِ کثیر لازم آئے، جائز نہیں ہے۔ غرر(Uncertainty) ایسی جہالت  کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے معاملے کا انجام نامعلوم ہوجائے اور غررِ کثیر اتنی زیادہ جہالت کو کہتے ہیں  جو عموماً نزاع اور جھگڑے کا ذریعہ بنے۔ (غرر کی صورتیں، ص:52)

ذیل میں چند ایسے رسک کی مثالیں دی جاتی ہیں جن میں غررِ کثیر ہیں:

1۔ Risk in Existence (بیع معدوم)کسی چیز کو وجود میں آنے سے پہلے فروخت کرنا۔

2۔ Risk in Ownership (بیع غیر مملوک)کسی چیز کو ملکیت میں آنے سے پہلے فروخت کرنا۔

3۔ Risk in taking Possession (بیع قبل القبض)کسی چیز کو خریدنےکے بعد قبضہ میں آنے سے پہلے آگے فروخت کرنا۔

4۔ Risk in Quantity جس چیز کی خرید وفروخت ہورہی ہے، اس کی مقدار معلوم نہ ہو۔

5۔ Risk in Qualityبیچی جانے والی چیز کی کوالٹی اور صفات مجہول ہوں۔

6۔ Risk in Time of Paymentاُدھار کے معاملے میں ادائیگی کا وقت متعین نہ ہو۔

7۔ Risk in deliveryبیچی ہوئی چیز کو خریدار کے قبضہ میں دینا ممکن نہ ہو۔

8۔ Insuranceمروجہ انشورنس، جس میں رسک کسی  ادارے کی طرف ٹرانسفر کیا جاتا ہے، لیکن اس کے لیے جو طریقہ کار اپنا یا گیا ہے اس میں سود کے ساتھ ساتھ غررِ کثیر بھی پایا جاتا ہے کہ پریمیم اداء کرنے والے کو کوئی حادثہ لاحق ہوگا یا نہیں؟اس کو اضافی رقم ملے گی  یا خود اس کی  رقم ہی ڈوب جائیگی وغیرہ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شادمحمد شاؔد

فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

متعلقہ

Close