نقد و تبصرہ

راشد شاز اور ہوا ہوائی

ابوفہد

راشد شاز صاحب حدیث رسول ﷺ کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں اور جس  قسم کی لفظیات   اور جملے بازی سے صحیح احادیث کا بھی رد کرتے ہیں وہ کسی بھی صورت ناقابل قبول ہے۔ منکر حدیث کے سوا دوسرا کوئی بھی  شخص کم از کم صحیح احادیث کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کرتا۔ کسی بھی حدیث کو رد کرنے کا جو صحیح طریقہ ہے وہ وہی ہے جو محدثین کے یہاں رہا ہے مگر شازصاحب اس معاملے میں بہت مختلف ہیں، وہ  احادیث کو رد کرنے کے معاملے میں بہت جری ہیں، اب  چاہے وہ صحیح احادیث ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر یقین نہ آئے تو سر دست یہ  اقتباس ملاحظہ کریں :

’’ مستقبل کا علم، یا مستقبل کے بارے میں بصراحت واقعات کی خبر دینا دراصل تاریخ سے کنٹرول ہٹا لینے کے مترادف ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس نبی نے اپنے بارے میں اس عقیدے کو پروان نہ چڑھنےدیا کہ اسے غیب کا علم بھی حاصل ہے اور جو اپنے آپ کو (بشر مثلکم یوحیٰ الی) (فصلت:6) سے زیادہ کچھ بھی باور کرانا نہ چاہتا تھا اور جو تکمیل وحی پر جمہور امت کے مجمع عام میں ترسیل وحی اور شہادتِ حق کی گواہی لے چکا ہو اس کے بارے میں بعد کے متبعین نے نہ جانے کیسے یہ یقین کر لیا کہ رسول نے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیلی اور ترتیب وار خبر دے دی ہے۔ بخاری نے حضرت عائشہ ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ آنحضرت ؐ غیب جانتے تھے وہ دراصل اللہ پر بہتان باندھتا ہے۔ قرآن مجید اور صحیح حدیث کی اس واضح تصریح کے بعد ان روایات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جن میں امت کے زوال، خلافت کا خاتمہ، مسیح موعود کی آمد، مہدی کا ظہور، دجال کا ورود وغیرہ واقعات کا تفصیلی بیان موجود ہے۔ ان روایات کو بلاچوں و چرا کسی تاریخی اور نظری تنقید کے بغیر قبول کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک بار پھر خود کو جبری تاریخ کے حصار میں گھرا پائیں جہاں سے نکلنے کا راستہ اس وقت تک مسدود ہو جب تک کہ ندائے غیب خود یہ اعلان نہ کر دے کہ ہوشیار! تاریخ اب آگے بڑھا چاہتی ہے۔ ‘‘ (ادراک زوال امت جلد اول صفحہ 35)

دیکھئے ان کے یہاں احادیث کو رد کرنے کا رویہ کس قدر عمومی ہے۔ اس طرح تو حدیث کے پورے ذخیرے کو ہی  رد کیا جاسکتا ہے۔ اس عبارت ’’ قرآن مجید اور صحیح حدیث کی اس واضح تصریح کے بعد ان روایات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جن میں امت کے زوال، خلافت کا خاتمہ، مسیح موعود کی آمد، مہدی کا ظہور، دجال کا ورود وغیرہ واقعات کا تفصیلی بیان موجود ہے۔ ‘‘ کتنی احادیث کی صحت پر زد پڑتی ہے اور اگر یہ سب یا ان میں سے اکثر احادیث صحیح ہیں تو کیا انہیں رد کرنے کا یہ طریقہ درست ہے جو شاز صاحب نے اختیار کیا ہے اور کیا ان احادیث کو رد کرنے کی تنہا یہ دلیل کافی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا۔ ؟

اس عبارت میں دراصل مقدمہ ہی غلط قائم کیا گیا ہے۔ مقدمہ یہ بنایا گیا ہے کہ جب قرآن کی آیات اور حضرت عائشہؓ والی حدیث جواس اقتباس میں نقل کی گئی ہیں، ان سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا تو یہ بھی یقینی ہوگیا کہ وہ سب  احادیث غلط ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضورصلی اللہ نے غیب کی باتیں جانتے تھے۔ اور  نتیجے کے طور پر یہ ماننا درست ہوسکتا ہے  کہ کوئی بات یا خبرجو ہماری عقل اور علم کے دائرے سے باہر ہو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے دائرے سے بھی یقینا باہر ہوگی۔ کیونکہ وہ ہمارے حساب سے غیب ہے اورقرآن ہمیں بتاتا ہے  کہ حضورﷺ غیب نہیں جانتے تھے۔ حالانکہ اس مقدمے میں یہ گنجائیش فراہم کی جاسکتی تھی کہ چونکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو خود اللہ نے بعض چیزوں کے متعلق پیشگی خبر دیدی تھی، تو وہ تمام چیزیں جو ہمارے لیے تو غیب تھیں اور ہیں مگر حضورصل اللہ علیہ وسلم کے لیے غیب نہیں رہ گئیں تھیں۔ جیسے آپ ﷺ نے اپنے کی اصحاب کو پیشگی جنت کی بشارت دی۔ اور اس وقت جب آپ خندق کھود رہے تھے تو آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی چابیاں دیدی گئیں۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات سیرت واحادیث کی کتابوں میں بھر پڑے ہیں۔ اگر یہ ذرا سی گنجائش نکال لی جاتی تو احادیث کو اتنی بےدردی سے رد کرنے کی مجبوری سامنے نہ آتی۔

دراصل  احادیث کو رد کرنے کی وجہ وہ نہیں جو اس اقتباس میں بتلائی گئی ہے یعنی امت کے زوال، خلافت کے خاتمے، مسیح موعود کی آمد، مہدی کا ظہور اور دجال وغیرہ کے ورود سے متعلق جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم احادیث کے مستند ذخیرے میں ملتی ہیں وہ قرآن بلکہ خود حضرت عائشہ کی محولہ بالا حدیث سے ٹکراتی ہیں کیونکہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں اور خود قرآن میں حضورؐ کے لیے علم غیب کی ممانعت ہے اور صریح ممانعت ہے اور اس کے برعکس مذکورہ ابواب و مضامین سے متعلق احادیث سے حضورؐ کے لیے علم غیب ثابت ہوتا ہے، لہذا دونوں میں تعارض ہوا۔ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ رد کرنے کی وجہ شاز صاحب کے ذہن کا وہ خود ساختہ فریم ہے جس میں یہ احادیث فٹ نہیں بیٹھتیں۔ اب جو چیز مجوزہ فریم میں  فٹ نہیں بیٹھے گی  اسے رد کرنا مجبوری بن ہی جائے گی۔

اور ایسا بھی نہیں ہے کہ احادیث کو اس قدر عمومی انداز یعنی غیر علمی اور غیر منطقی طرز استدلال کے ساتھ رد کرنے کے طریقۂ کار سے صرف انہی ابواب اور مضامین سے متعلق احادیث پر ہی زد پڑے گی جن کا حوالہ ابھی اوپر گزرا، بلکہ اور بھی بہت سے ابواب و مضامین کی احادیث پر بھی ضرب لگے گی۔

اس اقتباس کا پہلا جملہ (مستقبل کا علم، یا مستقبل کے بارے میں بصراحت واقعات کی خبر دینا دراصل تاریخ سے کنٹرول ہٹا لینے کے مترادف ہے ) ہی غور سے پڑھ لیں اور بتائیں کہ آپ اس سے کیا سمجھتے ہیں۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ مستقبل کا علم یا مستقبل کے بارے  کوئی خبر دینا ’تاریخ سے کنٹرول‘ ہٹالینے کے مترادف کیسے ہے۔ ؟ اگر یہ پہلا جملہ سمجھ میں آگیا ہو تو ذرا آخری جملہ بھی پڑھ لیں 🙁 ان روایات کو بلاچوں و چرا کسی تاریخی اور نظری تنقید کے بغیر قبول کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک بار پھر خود کو جبری تاریخ کے حصار میں گھرا پائیں جہاں سے نکلنے کا راستہ اس وقت تک مسدود ہو جب تک کہ ندائے غیب خود یہ اعلان نہ کر دے کہ ہوشیار! تاریخ اب آگے بڑھا چاہتی ہے۔ )   غورکریں، کس طرح ہوا میں باتیں کررہے ہیں اور وہ بھی ایسے موضوع پر جس میں ٹھوس دلائل  اور واضح و ششتہ اسلوب کی ضرورت  ایک واقعی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ اقتباس ادراک زوال امت جلد اول  کی اس ابتدائی تحریر سے لیا گیاہے جسے کتاب کے اصل مباحث کے لیے تقریب فہم کے طورپرسپرد قلم کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے’’مسئلہ کی باز یافت، طریقۂ کار اور بنیادی مباحث‘‘ یہ پہلا باب ہے۔ اس کے مزید ذیلی عناوین اس طرح ہیں :1۔ نفس مسئلہ کا ادراک   2۔ وحی اور تاریخ 3۔ تاریخ، وحی اور مستقبل شناسی۔ مذکورہ پیرا گراف اسی آخری ذیلی سرخی کے تحت لکھے گئے چند اقتباسات کا ایک حصہ ہے۔ اس کے بعد پھر حوالے ہیں، جن میں بعض طویل بھی ہیں، یہاں پر بعض احادیث کے ضعف کو متقدمین کی تحریروں اور آراء کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے۔

اس پور ے مضمون میں ایک لفظ ’تاریخ‘ از اول تا آخر کسی نہایت ہی شوخ اور چنچل ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ خیال تو یہی گزرتا ہے کہ لفظ ’تاریخ‘ ہر اس چیز، علم اور واقعات کے لیے لایا گیا ہے جو ’وحی‘ کے علاوہ ہیں، یعنی جس چیز، علم اور واقعے کی صراحت قرآن میں نہیں وہ تاریخ کے دامن کا حصہ ہے، وہ ظنی ہے اور اگر اپنے ذہنی فریم میں فٹ نہیں بیٹھتا تو قابل رد ہے۔ یہاں تک کہ ’خلفائے راشدین‘ کا تصور بھی اس فریم میں درست نہیں بیٹھتا اور یہ بھی قابل رد ہے۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ اس مضمون کا ایک ذیلی عنوان ’وحی اور تاریخ‘ بھی ہے۔ اور اسلوب تو یہی بتاتا ہے کہ حدیث کی حیثیت محض تاریخ کی ہے۔ اور امت پر جو سب سے بڑا ظلم ہوا ہے وہ یہی ہے کہ تاریخ کو تقدیسی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ یہ لفظِ تاریخ ایام، دہراور الساعۃ کے معنیٰ میں زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ وضاحت بھی ہے۔ مگر یہ لفظ آپ کو مایوس نہیں گرے گا اگر آپ اس سے کوئی دوسرا مطلب بھی نکالنا چاہیں۔ آپ کو کئی جگہ ایسا  محسوس ہوگا کہ تاریخ سے مراد حدیث بھی ہے اور زمانہ اور وقت بھی۔ ’’ تاریخ اب آگے بڑھا چاہتی ہے۔ ‘‘ یعنی زمانہ آگے بڑھا چاہتا ہے۔ اسی طرح تاریخ اپنے معرو ف معنیٰ میں بھی ہے یعنی ہسٹری کے معنیٰ میں۔

اس کے بعد ’’تاریخ، وحی اور مستقبل شناسی‘‘ سے یہ درج ذیل ایک اقتباس بھی پڑھ لیں اور سر دھنیں کہ آخر موصوف اس میں کہنا کیا چاہتے ہیں :

’’آگے کیا  ہے؟ اس بارے میں جاننے کی خواہش انسان کا فطری داعیہ ہے۔ اس سوال کا جواب یا تو تاریخ فراہم کرسکتی ہے یا وحی۔ تاریخ کا جواب قطعی نہیں ہوسکتا کہ اس کا کام ماضی کے محدود تجربات کی روشنی میں مستقبل کی پیش گوئی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے برتنے والوں کے لئے(فاعتبرا یا اولی الابصار) کا نعرہ بلند کرسکتی ہے۔ البتہ وحی قطعی علم ہے جس میں شبہ کی کوئی گنجائشن نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’’ماکان ومایکون‘‘ کا علم بندوں کی دسترس سے باہر ہے الا یہ کہ وحی کسی خاص بارے میں واضح اشارہ کردے۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو تاریخ کا فہم بھی ’’ ماکان ومایکون‘‘ کا علم ہے جو انسان کی ذہنی سطح سے ہم آہنگ ہے۔ آنکھیں اگر کھل جائیں تو انسان تاریخ کی گردش میں مستقبل کے عادو ثمود کو مستحضر دیکھے، واقعات کی زمانی ترتیب معنویت کھودے، ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم سے پرےوسکتا ہے۔ کسی صاحب بصیرت کے لیے مستقبل کی پیش گوئی’’ آٰیات اللہ فی کون‘‘ کی تلاش کا عمل ہے، کائنات میں ایک منطقی ربط دریافت کرنے کی کوشش ہے کہ کس طرح ایک واقعہ کا منطقی نتیجہ دوسرا واقعہ لازما ہوسکتا ہے الایہ کہ خود اللہ کی سنت کے سابقہ نظائر کی روشنی میں کبھی کبھی مخصوص حالات میں آسمانی مداخلت محسوس ہو، فرشتے آسمان سے نزول کریں ( حوالہ 15’’ ان الذین قالوا ربنا اللہ۔ ۔ فصلت 30)  اور ایسا محسوس ہونے لگے گویا تاریخ چند لمحے کے لیے مبہوت ہوگئی ہے۔ ‘‘ (ادراک زوال امت، جلد اول، صفحہ 33)‘‘

 ایک طرف تو تاریخ کو رد بھی کررہے ہیں اور دوسری طرف اسے ماکان ومایکون کا ایسا علم بھی بتا رہے ہیں جو انسان کی ذہنی سطح سے ہم آہنگ ہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اسی تاریخ کا علم اور شعور انسان کو اس حد تک بھی آگے بڑھا سکتا ہے کہ اسے یہ محسوس ہونے لگتا ہے  جیسے اس پر فرشتے نزول کررہے ہیں اور تاریخ چند لمحوں کے مبہوت ہوگئی ہے۔ (یعنی وقت چند لمحوں کے لیے رک گیا ہے اور صاحب بصیرت شخص کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا ہے کہ وقت تو میں ہوں مگر یہ کیا بلا ہے؟)

ایک طرف وحی  کو قطعی علم بھی قرار دے رہے مگر ساتھ ہی اس کے ساتھ یہ مصیبت بھی کھڑی کررہے ہیں کہ ماکان ومایکون کا علم بندوں کی دسترس سے بالاتر ہے الا یہ کہ قرآن کسی خاص وقوعے کے بارے میں بہت ہی واضح اشارہ کردے۔ ایک طرف تو قرآن کے بہت ہی واضح اشارے کے بغیر بندہ ماکان ومایکون سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا مگر دوسری طرف کوئی صاحب بصیرت  کائنات میں رونما ہونے والے واقعات میں منطقی ربط معلوم کرکے  اپنے لئے آسمانی مداخلت کا سزاوار بھی ہوسکتا ہے اور تاریخ یعنی زمانے کے منہ میں بھی لگام ڈال سکتا ہے۔

کس قدر گنجلک ہے یہ اقتباس؟  تاریخ ہی خود بصیرت دے اور تاریخ ہی خود مبہوت بھی ہوجائے۔ دراصل موصوف کی یہی جملے بازی ہے جو قاری کے لیے مسئلے کی تفہیم میں رکاوٹ ہے۔ اس اسلوب کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے خلاف آسانی سے مقدمہ قائم کرنا مشکل ہے کیونکہ بہت سے دعوےسرسری انداز سے قائم کئے گئے ہیں اور انہیں ڈرامائی انداز میں اچھالا گیا ہے۔ اس بلا کی ہواہوائی میں اچھے اچھے ناقد بھی محض چند حروف، جملوں اور اقتباسات  پر ہی حرف گیری کر سکتے ہیں۔

محترم شاز صاحب نے  بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ اسلامیات کے پورے ذخیرے اور امت کے متوارث عمل کے خلاف حد درجہ پرتشدد اور منفی بیانیہ کھڑا کردیا ہے، جس کی عمارت شاذ واقعات، متروک اعمال اورمنفی پروپیگنڈے سے متاثر امور  پر استوار ہے۔ مثلا انہوں نے امت کے متوارث عمل اور تخلیقات و تنقیدات سے ان چیزوں اور باتوں کو چن لیا ہے جو اختلافی رہی ہیں یا پھر امت میں انتشار کو بتاتی ہیں۔ جیسے آپ جب کسی شخص یا قوم کا قلمی خاکہ تیارکریں یا کوئی ڈکومینٹری فلم بنائیں تو اس شخص یا قوم کے کارناموں، اچھے اخلاق اور قابل رشک مثالوں کو تو چھوڑ دیں اور اس کے خلاف چند منفی مثالوں اور بد اخلاقی پر مبنی بعض اعمال کو لے لیں اور لوگوں کو دکھائیں  کہ لو دیکھو یہ ہے اس شخص یا قوم کا کچا چٹھا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ یہ کوئی علمی طریقہ نہیں۔  مگر پھر وہ شاز ہی کیا جسے یہ شاذ طریقہ راس نہ آئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں
Back to top button
Close