عبدالرشیدطلحہ

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

امید کہ ہماری حکومت، صدر محترم، وزارت قانون نیز بیدار مغز بھارتی شہری کی اس حساسیت پر متوجہ ہوں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کا چیف جسٹس ہی اصلاً ملک کے نظام و آئین اور اس کے باشندوں کا رکھوالا ہوتا ہے، اسی خاطر ہمارا اپنی حکومت سے مطالبہ ہیکہ وہ اپنے فیصلے پر یا تو پھر سے غور فرمائیں یا توضیح فرمائیں اور ہماری عدالتوں کے چاروں ججز کے خدشات کو دور کریں ۔

مزید پڑھیں >>

اسرائیل سے نفرت کیوں؟

اسرائیل نے اس دوران مسلسل کوشش کی ہے کہ بیت المقدس پر اس کے قبضے کو جائز تسلیم کیا جائے اور یروشلم کو غیر متنازعہ شہر قرار دے کر اسرائیل میں شامل قرار دیا جائے؛ لیکن عالمی رائے عامہ اس کے اس موقف کو قبول نہیں کر رہی۔ 1995ء میں جب اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 5دسمبر 1995ء کو بھاری اکثریت کے ساتھ قرار داد منظور کر کے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا اور واضح طور پر کہا کہ یروشلم کی حیثیت ایک متنازعہ شہر کی ہے اور باقاعدہ فیصلہ ہونے تک یہ متنازعہ شہر ہی رہے گا۔

مزید پڑھیں >>

پتنگ بازی: ایک غیر اسلامی عمل

اجتماعی سطح پر ہم غور کریں کہ اگر خوشی کے لمحات بھی ہمارے اپنے نہیں بلکہ غیروں کے عطا کردہ ہیں ۔ عیدیں ہمیں وہ مسرت نہیں دیتیں جو بسنت اور ویلنٹائن ڈے جیسے بیہودہ دنوں میں نوجوانوں میں نظر آتی ہے ، عیدوں میں گرم جوش شرکت کو بیک ورڈ اور رجعت پسندی سمجھا جاتاہے اور غیروں کے تہواروں میں پرجوش شرکت کو جدت پسندی اور ماڈرن ہونے کی ضمانت اور علامت بتایا جاتا ہے تو پھر ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے جسد ِقومی کو خطرناک سرطان لاحق ہے جس سے پیچھا چھڑانے کی ہمیں جلد از جلد تدبیر کرنا ہوگی!!

مزید پڑھیں >>

مدارس اسلامیہ: گہوارۂ امن و محبت

مادر وطن ہندوستان کے حالات روز افزوں بگڑتے جارہے ہیں ،جمہوری اقدار و روایات مائل بہ تنزل نظر آرہے ہیں ، ہر صبح طلوع ہونے والا سورج کسی نئی آزمائش اور ہر شام ڈوبتا آفتاب،کسی تازہ مصیبت کی پیشین گوئی کررہا ہے۔ اسلامیان ہند کے ملی تشخص کو مسخ کرنے، دین و شریعت میں کھلم کھلا مداخلت کرنے اور ہر میدان میں اقلیتوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے بعد اب ان کا ہدف مدارس اسلامیہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

مزاح کا عالمی دن اور اسلامی تعلیمات

مزاح کی مثال  صاف و شفاف پانی سے دی جاتی ہے،اسے جس ظرف میں ڈالا جائے گا وہ اسی رنگ میں رنگ جائے گا ، شریف  وباوقار لوگ نہات ہی حسین اور لطیف مزاح کرتےہیں ؛جس سےمحفل زعفران زار ہوجاتی ہے جب کہ بداخلاق اور  آوارہ لوگ لچر مزاح کرتے ہیں ؛جس سے انبساط کے بجائے مزید انقباض پیدا ہوجاتاہے۔چناں چہ مزاح کی اپنی کوئی شخصیت نہیں ہوتی،غیرمہذب اور اخلاق باختہ گروہ کا مزاح بھی غیر مہذب اور اخلاق باختہ ہوا کرتا ہے، مہذب اور اخلاق والے گروہ کے مزاح پر بھی اُس گروہ کے کردار کی چھاپ پڑتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مومن فقط احکامِ الہی کا ہے پابند!

میڈیا  میں جاری اس بحث و مباحثے کے تعلق سے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانیؔ مدظلہ نے فرمایاکہ کوئی سیاسی جماعت دارالعلوم دیوبند کے تئیں کیا نظریہ رکھتی ہے اس پر وہ کوئی بیان نہیں دیں گے،ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ دارالافتاءسےجو فتاویٰ صادر ہوتے ہیں وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہوتے ہیں اور ادارہ اس کام کو آئندہ بھی جاری  رکھے گا۔

مزید پڑھیں >>

سالِ نو کا جشن اور اسلامی تعلیمات

 ایک سال کا اختتام اور دوسرے سال کا آغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہو گیا، حیات مستعار کا ایک ورق الٹ گیا اورہم موت کے مزید قریب ہوگئے، اس لحاظ سے ہماری فکر اور ذمہ داری اور بڑھ جانی چاہیے، ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور وقت کو منظم کرکے اچھے اختتام کی کوشش میں لگ جانا چاہیے اوراپنا محاسبہ کرکے کمزوریوں کو دور کرنے اور اچھائیوں کو انجام دینے کی سعی کرنی چاہیے؛مگر افسوس صد افسوس! اس کے برعکس دیکھا یہ جاتا ہے کہ عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پرمغربی ممالک کی طرح ہمارے ملک کے بہت سارے مسلم اور غیر مسلم بالخصوص نوجوان لڑکیاں اور لڑکے،دھوم دھام سے خوشیاں مناتے ہیں،

مزید پڑھیں >>

کرسمس ڈے اور ہمارا معاشرہ

ہمارے اسلامی تصورات اور اصطلاحات کو مسخ کرنے کی جو سرتوڑ کوششیں اس وقت ہورہی ہیں، اہل اسلام پر ان سے خبردار رہنا واجب ہے۔ ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے عہد میں ہوا ہے۔ مگر ان کے دین اور دینی شعائر سے بیزاری بھی سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے ہاں پائی گئی ہے۔ یقیناًیہ حسن سلوک آج بھی ہم پر واجب ہے، مگر اس کے جو انداز اور طریقے، حدود و قیودسے بالاترہوکراس وقت رائج کرائے جا رہے ہیں وہ دراصل اسلام کو منہدم کرنیوالے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

عربی: اک زندہ و پائندہ زباں

 عربی زبان اپنی وسعت، جامعیت اور آفاقیت کی وجہ سے دنیا کی چھ بڑی زبانوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کی قدامت و پختگی،طرز و انداز کی شیرینی، استعارات کی رنگینی، گرامر (صرف ونحو) کی ہمہ گیری اور ان سب سے بڑھ کر خدا کے آخری کلام کی ترجمانی و نمائندگی اسے دنیا کی تمام زبانوں سے ممتاز کردیتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی ربوبیت کا فیض ساری مخلوق کےلئے عام ہے اسی طرح سے آپ کی صفت رحمت کا فیضان بھی دونوں عالم کومحیط ہے۔ سب سے پہلے تو حضور پاک کی تشریف آوری کا فیضان یہ ہوا کہ ایک طرف قحط سالی سے دوچار سر زمین عرب سر سبز و شاداب، سیراب و خوشحال ہو گئی،تو دوسری طرف کفر و شرک کی گھٹاٹوپ تاریکیاں کافور ہوکر ایمان و ایقان کی صبح تجلی نمودار ہوئی،آپ ﷺ رحمت و شفقت کا پیکر ِبے مثال  بن کر ظہور پذیر ہوئے، آپ کی اس صفت عظیم کا قران کریم نے ان الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے :اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہی بناکر بھیجاہے

مزید پڑھیں >>