عبدالرشیدطلحہ

عبدالرشیدطلحہ
مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

قوت برداشت ہی کامیابی کی شاہ کلید

ہرسال 16/نومبر کو دنیا بھر میں برداشت کا عالمی دن منایاجاتاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں برداشت ورواداری کی ضرورت، صبر و تحمل کی اہمیت، دوسروں کے فرائض و حقوق کا احترام اور عدم برداشت کے معاشرے پر رونما ہونیوالے منفی اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ برداشت کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیمیں خصوصا اقلیتوں کے ساتھ غیر مساوی اور امتیازی سلوک کی روک تھام کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔ 

مزید پڑھیں >>

موسم سرما اور اسلامی ہدایات

اسلام وہ  کامل ومکمل مذہب جو انسانیت کی تعلیم دیتاہے، اسلام کے بغیر انسانیت نوازی کا کوئی تصور نہیں کیاجاسکتا؛یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں جہاں اپنی ذات سے متعلق حقوق بیان کیے گئے وہیں دوسروں کے حوالے سے عائد ہونے والے فرائض کی نشان دہی بھی کی گئی  ؛لہذا موسم سرما کی مناسبت سے ہم ان فاقہ کش، نیم برہنہ محتاجوں ، فقیروں اور مسکینوں کو ہرگز نہ بھولیں جوکس مپرسی کی وجہ سےسردی کی خنک راتوں میں ٹھٹر کر رہ جاتے ہیں اور گرمی حاصل کرنے کا کوئی سامان نہیں پاتے۔

مزید پڑھیں >>

9؍نومبر:عالمی یوم اردو کے حوالے سے

9؍ نومبر،بیسویں صدی کے معروف مفکر،مایہ ناز فلسفی، شاعر مشرق،علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے، اس دن بہ طور خاص اقبال کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کے روشن کارناموں  کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اس دن کو اب یوم اردو بھی کہا جانے لگا ہے ؛کیوں کہ اقبال مرحوم نے اپنی زندہ و پائندہ شاعری کے ذریعہ دنیائے اردو میں ایسا انقلاب برپا کیا اورایسی روح پھونکی جسے محبان اردو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں >>

فتنۂ شکیل بن حنیف اور علماء کی ذمہ داریاں

اس بات میں اب ادنی تردد کی گنجائش نہیں کہ یہ فتنوں اور آزمائشوں  کا دور ہے اور روئے زمین کا کوئی بھی گوشہ ان فتنوں سےمحفوظ نہیں ۔ ملت اسلامیہ پر سازشی فتنوں، گمراہ فرقوں  اور  باطل تحریکوں کی  چو طرفہ یلغار ہے، بدعقیدگی و بدعملی کا فتنہ،مادیت پسندی و نفس پرستی کا فتنہ، خدابیزاری اور دہریت کا فتنہ،تہذیبی زوال اور حیاباختگی کا فتنہ، اسلام دشمنی اور گروہ بندی کا فتنہ اور خود کو مہدی موعود اور مسیح ظاہر کرکے  مسلمانوں کا استحصال کرنے والےضمیر فروشوں کا فتنہ۔ 

مزید پڑھیں >>

خدارا فتوے کو فتنہ مت بنائیے !

موجودہ دور میں فتوی کی معنویت وافادیت اور اس کی اہمیت وضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے،گلوبلائزیشن اور جدید انکشافات کے اس دور میں تجارت و ملازمت اور صنعت و حرفت کی نئی نئی شکلوں نے جنم لیا ہے،میڈیکل سائنس کے حیران کن تحقیقات نے علاج ومعالجہ اور تحفظِ انسانیت کے لیے نئی نئی ایجادات پیش کی ہیں، انسان سیاروں پر اپنی آبادی بسانے لگا ہے،

مزید پڑھیں >>

قوموں کا عروج و زوال

تم کرہ ارض کی کوئی قوم لے لو اور زمین کا کوئی ایک قطعہ سامنے رکھ لو،جس وقت سےاس کی تاریخ روشنی میں آئی ہے اس کے حالات کا کھوج لگاؤ تو تم دیکھو گے کہ اس کی پوری تاریخ کی حقیقت اس کے سواکچھ ہے کہ وارث و میراث کی ایک مسلسل داستان ہے یعنی ایک قوم قابض ہوئی پھر مٹ گئی  اور  دوسری وارث ہو گئی۔پھراس کے لیے بھی مٹنا ہوا اور تیسرے وارث کے لیے جگہ خالی ہو گئی۔وھلم جرا۔۔۔۔۔ قرآن کہتا ہے یہاں وارث و میراث کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

ماہ صفر میں رائج بدعات و توہمات

دین اسلام ایک نہایت ستھرا اورپاکیزہ مذہب ہے، اور یہی وہ فطری دین ہے جو قیامت تک کے تمام مسلمانوں کیلئے ایک جامع دستور العمل اور مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت رکھتاہے؛ اسکے احکام، آفتاب نیم روزسے زیادہ روشن اورماہتاب شب افروزسے زیادہ واضح ہیں ؛ اسکی تعلیمات نہایت عمدہ، صاف اور صلاح و فلاح کی ضامن ہیں۔

مزید پڑھیں >>

تصوف وسلوک کی حقیقت !

”تصوف“ اصل میں اخلاق کی پاکیزگی، باطن کی صفائی، آخرت کی فکر، قلب کی طہارت اور دنیاسے بےرغبتی کا نام ہے؛ انہی پاکیزہ صفات سےاپنے آپ کو متصف کر نا احادیث کی اصطلاح میں احسان کہلاتاہے، جومذہب سے الگ کوئی نئی چیز نہیں ؛بلکہ مذہب ہی کی اصل روح ہے اور جس طرح جسم وجسد، روح کے بغیر بےجان، مردہ لاش تصور کئےجاتےہیں، اسی طرح تمام نیک اعمال وعبادات بھی اخلاص نیت اورباطنی طہارت کے بغیربے قدروقیمت تصور کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

آتش بازی اور ہمارا معاشرہ

چوں کہ برصغیر میں ہمارا ثقافتی اور معاشرتی پس منظر ہندو تہذیب سے وابستہ رہا  اور آج بھی عملی طور پر بڑی اکثریت اسی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے،اس لیے بہت سے مسلمان کہلانے والے افراد کا دین کےساتھ تعلق نماز روزہ حج زكٰوة کی حد تک محدودہے ان فرائض کے علاوہ دین کے کیا احکام ان پر لاگو ہوتے ہیں اس سےان کو کم ہی سروکار ہے؛جب کہ اسلامی تہذیب و ثقافت میں غیروں کے ساتھ مشابہت پر سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔  

مزید پڑھیں >>

عالمی یومِ خوراک

ہندوستانی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 84 فیصد افراد اندرون ریاست نقل مکانی کرتے ہیں جب کہ تقریبا دو فیصد افراد بین ریاستی نقل مکانی پرمجبور ہوتے  ہیں۔ ملک کے مشرقی خطوں اور شمال مشرقی علاقوں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ کام اور بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کرچکے ہیں، اس کے باوجود دنیابھر میں اربوں لوگ بھکمری کا شکار اور فاقہ کشی پر مجبورہیں۔

مزید پڑھیں >>