الطاف حسین جنجوعہ

الطاف حسین جنجوعہ

مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں۔

قانون سازیہ کے تئیں حکومت کی غیرسنجیدگی !

حکمراں جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ’افسران‘کی چالبازیوں کا شکار نہ ہوکر اس ادارہ کو مضبو ومستحکم بنانا ہوگانہیں توجمہوری نظامِ حکومت کے اس مقدس ادارہ کی کمزوری کا مطلب عوام کو کمزور بناناہے جوکہ پہلے ہی ظلم وستم، نا انصافیوں کی چکی میں پس رہے ہیں، جو تھوڑی بہت آس بچی ہے وہ کھوجائے گی۔ساتھ ہی ساتھ ایک ایم ایل اے /ایم ایل سی کو بھی انفرادی طور محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ اپنے عہدہ سے انصاف کرپارہے ہیں ....؟

مزید پڑھیں >>

سال 2017 :جموں وکشمیر میں بیتا کچھ اس طرح سے

اجڑنے، بسنے کا سلسلہ جاری رہا۔ بڑے پیمانے پر جانی ومالی ن نقصان بھی ہوا۔ البتہ حکومت نے ایکس گریشیا ریلیف میں کچھ بڑھوتری کی اور بنکروں کی تعمیر کے لئے فنڈز بھی واگذار کئے جس سے کچھ راحت ضرورہوئی لیکن اس اعلان پر زمینی سطح پر کوئی عمل ہونا باقی ہے۔ سیاحتی صنعت کو فروغ دینے اور رابطہ سڑک میں بہتری لانے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2اپریل2017کو افتتاح کیا۔ 9.28کلومیٹر یہ ٹنل ہندوستان میں سب سے بڑا ٹنل ہے، جس سے جموں اور سرینگر کے درمیان30کلومیٹر مسافت کم ہوئی۔ امیرکبیرؒکی زیارت میں آتشزدگی کی واردات بھی ہوئی جس سے زیارت کو جزعی نقصان پہنچا۔ چند چھوٹے فرقہ وارانہ معاملات کو چھوڑ کر خطہ لداخ کے اضلاع کرگل اور لہہ پر امن رہے۔ وادی میں بندوقوں کی گن گرج، سنگ باری اور تشدد کے ڈل جھیل کنارے عدنان سمیع اور لکی علی کے میوزیکل کنسرٹ بھی ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

خطہ پیر پنچال کی سیاست اور عوامی اُمنگیں

ایک عام ووٹر سے التجا رہے گی کہ وہ پہاڑی، گوجر، کشمیری، ڈوگرہ کے نام پر چل رہی سیاسی دکانوںپر روک لگاکر اپنی اہمیت کو سمجھے، موقع پرست ، مفاد پرست سیاستدانوں کو اپنے ووٹ کی قیمت کا احساس کرائے۔ مذہب، ذات، پات، علاقہ اور فرقہ کے نام پر کی جانے والی سیاست سے عام ووٹرکو کچھ نہیں ملنے والا، اس سے تو ایک Creamy Layerبن رہی ہے جوکہ ہم سب کا استحصال کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

جموں میں دربار موؤد فاتر اور نانوائی

روٹی لے لو… روٹی لے لو… گرما گرم روٹی لے لو…لواسہ، کلچہ، گرما گرم‘…یہ آوازیں آپ کو صبح سویرے سنجواں، بٹھنڈی، سدھڑا، جانی پور اور سرمائی راجدھانی جموں کے دیگر علاقوں، جہاں خاص کر وادی کشمیر سے آئے دربار موؤ ملازمین یا سرماکے دوران وادی سے آئے دیگر لوگ رہائش پذیر ہیں، میں سننے کو ملیں گیں۔

مزید پڑھیں >>

جموں میں بھی سانس لینا دشوار!

شہر جموں میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ سڑکوں پر دوڑنے والی لاکھوں کی تعداد میں روزانہ گاڑیاں ہیں۔ اس کے بعد جگہ جگہ پر کوڑا کرکٹ، فضلہ وغیرہ کو جلانے سے نکلنے والا دھواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ دیر تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے شہر جموں پردھند سی بکھر جاتی ہے، وہ زمین سے اٹھنے والا گرد وغبارہوتا ہے جوکہ ہوا کو آلودہ کرتاہے۔

مزید پڑھیں >>

مذکرات کار کی تقرری:  مخلصانہ پہل یا ایک بار وقت گذاری؟

آخری مرتبہ سال 2010کو کشمیر میں ایجی ٹیشن جس دوران سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 120شہری مارے گئے تھے ,کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نپٹنے کے لئے حکومت ہند نے تین رکنی مذاکراتکاروں کی تقرری عمل میں لائی جن میں دلیپ پڈگاؤنکر، ایم ایم انصاری اور پروفیسر رادھا کمار شامل تھے جنہوں نے مختلف حلقوں سے بات کر کے ایک مفصل او ر جامع رپورٹ پیش کی مگر اس پر کوئی بھی عمل نہ ہوا۔

مزید پڑھیں >>

88سالہ تاریخ میں صوبہ جموں کے مسلم طبقہ کوعدالت عالیہ میں نمائندگی نہیں ملی!

صوبہ جموں میں مسلم آبادی قریب40فیصد ہے ۔جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں میں 3400کے قریب وکلاء میں کم وپیش700مسلم وکلا ہیں لیکن ان میں سے کسی کو ابھی تک ہائی کورٹ کا جج بننے کا موقع نہیں ملا۔ صوبہ جموں کے 10اضلاع میں سے 5اضلاع میں 50فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے جن میں راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

جموں کے زنانہ کالج میں زیر تعلیم طلاب عدم تحفظ کا شکار

بدھ کے روز جموں میں پریڈ کالج کے علاوہ متعدد کالجوں کے طلبہ وطالبات سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے کالج پرنسپل کے خلاف زوردارنعرے لگائے۔ انہوں نے کالج پرنسپل کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا۔ کالج انتظامیہ پرطالبات کی طرف سے لگائے گئے سنگین الزامات کی سوشل میڈیا اور اخبارات میں شائع خبروں سے پیدا شدہ غیر معمولی صورتحال کے بعد حکومت نے کالج پرنسپل کو اٹیچ کر دیا۔

مزید پڑھیں >>

GST اور جموں و کشمیر کے صنعت کار

جموں وکشمیر میں اشیا و خدمات ٹیکس(GST)کے اطلاق کے لئے احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور ہڑ تا ل کرنے والے جموں کے صنعت کار وں پر اب یہ حقیقت آشکارا ہو ئی ہے کہ ریاست میں صنعتوں کو مراعات ختم ہو نے والی ہیں جس کے بعد ان کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

سرنکوٹ کی گمنام حسین وجمیل وادیاں!

ایڈونچرٹورازم میں دلچسپی رکھنے والے سیاحوں، ریسرچ سکالروں ،یونیورسٹی کالجوں کے طلبا اور مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ سرنکوٹ کی ان گمنام وادیوں کا دورہ کر کے ان کی ویڈیوگرافی یا تصویری عکاسی کر نے کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں لکھیں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ باہری دنیا کو اس بارے بتائیں ۔

مزید پڑھیں >>