محمد اشفاق عالم ندوی

محمد اشفاق عالم ندوی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی

استاد کی اہمیت

استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا لیکن وہ بادشاہ گَر ضرورہوتاہے۔ ان سب کے باوجود ہمارے معاشرہ میں استاد کی اہمیت نہ تو کل تھی اور نہ آج ہے۔ یہاں استاد کو عام انسانوں کی طرح جانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں رہ کر بھی اٹھارہویں صدی جیسی زندگی گذار رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

حضرت شاہ ولی اللہؒ : آغوش موج کا ایک درِ تابندہ 

شاہ صاحب کی زندگی کا ایک ایک لمحہ متاثرکن اور سحر انگیز ہے۔شاہ صاحب نے اکیلے منزل کی طرف چلنا شروع کیا تھا لیکن ان کے تجدیدی کارناموں سے متاثر ہوکرراہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا چلا گیا۔ آج ایک بار پھر شاہ ولی اللہ ثانی کی ضرورت ہے جو مسلم سماج میں بڑھتی بدعات و خرافات پر لگام لگاسکے۔ آج پھر سے اسی طرح کے حالات پیدا ہوتے جارہے ہیں اور امت مسلمہ کاشیرازہ منتشر ہوتا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (آخری قسط)

  آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہندوستان میں رہنے والے ہر ہندی تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور اس کے محکم اصولوں کو بحسن و خوبی پہو نچائیں اور آج انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان دین عند اللہ الاسلام(آل عمران۔19۔پارہ 3) کہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی دین ہے تو وہ اسلام ہے اسی پر عمل پیرا ہوکر اور اس کی تعلیمات کو دل و جاں سے لگا کر ہی نجات کا حصول ممکن ہو سکتا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط چہارم)

ہندو مت کی کتابوں میں اس کا سبب یہ بیا ن کیا گیا ہے کہ روح کا انسانی جسم سے باہر نکلنے کے بعدچونکہ اس کے دوسرے انسانوں سے تعلقات کی بنیاد پر بہت سارے مطالبات اور معاملات باقی رہ جاتے ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اور اپنے اعمال کے ثمرات کو پانے کی خاطر روح نئے روپ اور نئے قالب میں ظہور پذیر ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط سوم)

رفتہ رفتہ جب ہندو مت میں نئی نئی چیزیں درآئیں اور ذات پات کا نظام اس حد تک بڑھ گیا کہ شودروں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جانے لگا اور مذہبی عبادات اس حد تک پیچیدگی کا شکار ہو گئے کہ غریب کے لئے ان تمام پوجا پاٹ اور یگیہ وغیرہ کو انجام دینامشکل ہو گیا تو لوگوں میں ہندومت سے بغاوت کی چنگاریاں اٹھنے لگیں اور دھیرے دھیرے لوگ برہمنوں کے خلاف اپنی زبانیں کھولنے لگے اور یہیں سے فرقہ بندی کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس مقالہ کے اندر ہم چند اہم فرقوں اور ان کے عقائد سے بحث کریں گے۔ 

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط دوم)

ایک ابدی روح ہے جو پاک ہے اور جو بڑھاپے،موت،بھوک،پیاس اور غم سے بری ہے یہی آتمن ہے ۔انسان کے اندر روح اور اس روح کی ہر خواہش حق ہے،یہی وہ روح ہے جس کو ہر قیمت پر ہم کو پالینا چاہیئے ۔جس نے اپنی روح کو پا لیا اور اس کی معرفت حاصل کر لی اس نے تمام دنیائوں کو پا لیا ،اوراس کی تمام خواہشات پوری ہو گئیں

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط اول)

ہندوستان ایک قدیم ملک ہے اور دنیا کے جن خطوں میں پہلے پہل انسانی تہذیب و تمدن نے آنکھیں کھولی ہیں ان میں ہندوستان کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ آ ثار قدیمہ اور علم الانسان اور جغرافیائی تحقیقات نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اب تک انسانوں کی ایسی کوئی بھی جماعت نہیں رہی ہے جو مذہب سے بالکل عاری رہی ہو ۔خود ہندوستان بھی چار بڑے مذاہب کا منبع اور سرچشمہ اور مختلف تہذیب وتمدن کی آماجگاہ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جدید یورپ کا ارتقاء اور اسلام پر جدید مطالعات کا آغاز

 اخبارات ورسائل پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام اور مغرب کی کشمکش آج بھی جاری ہے ،مستشرقین کے انداز تحقیق کا رخ ضرور بد ل گیا ہے ان کے تحقیقات و مطالعات کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے چنانچہ انہی مقاصد کی حصولیابی کے لئے 9/ ستمبر  2001  ء کو امریکہ کے ولڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کراگیا تاکہ اس کے ذریعہ افغانستان میں اسلامی حکومت کی اٹھنے والی چنگاری کو بجھا کر رکھ دیا جائے جس میں شاید انہیں کامیابی کم نقصان زیادہ ہوا اور اسی مقصد کے پیش نظر ابھی دو سال قبل ابو بکر البغدادی کی قیادت میں اسلامک اسٹیٹ کے نام پر جو خونی کھیل شروع ہوا وہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے جسے امریکہ اور دیگر یورپین ممالک کا تعاون حاصل ہے ۔اس کے ذریعہ اسلام کے چہرہ کو مسخ کرنے اور اسلام کی طرف مائل ہونے والوں کو اس سے بیزار کرنے کی کوشش کی گئی جس میں انہیں ناکامی ملی ۔

مزید پڑھیں >>

مسلکی اختلافات اور اعتدال کی راہ!

اعتدال کی را ہ اسی وقت نکل سکتی ہے جب تمام مسلمان خواہ وہ دیوبندی ہوں یا بریلوی ،وہابی ہو ں یا سلفی فرعاتی مسائل میں اختلاف کو نظر انداز کریں اور اس بات پر متفق ہوجائیں کہ ہر وہ شخص جو اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہواور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہو اور اس کی کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کا اقرار کرتا ہو اور یوم آخرت پر کامل یقین ہووہ مسلمان ہے اب خواہ وہ عظمت صحابہ کا قائل ہو یا نہ ہو خواہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لئے علم غیب کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو ہمیں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہئے بلکہ ہم دنیا کی نگاہ میں کل بھی مسلمان تھے اور آج بھی مسلمان ہونگے فرق اتنا ہوگا کہ کل تک ہم باہم دست و گریباں تھے اور آج ایک دوسرے کے لئے مخلص ۔

مزید پڑھیں >>