اسلم جاوید

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

افراضل کے قتل جیسی نفرت کی کھیتی کون کررہاہے؟ 

صوبہ راجستھان میں ہندوانتہاپسندوں نے بے رحمی کے ساتھ ایک مسلمان مزدور کو کلہاڑیوں کے مسلسل وار کرکے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگادی، اپنی سفاکیت اورحیوان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے قاتلوں نے اس سارے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرکے واٹس ایپ کے ذریعے وائرل بھی کردی۔ واقعے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، یہ ایک سیاسی چالاکی ہے جس کے ذریعے وسندھراراجے حکو مت اپنی حیوانیت پردے ڈالنے کی ناپاک کوشش کر رہی ہے جب کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کلیدی مجرم کو گرفتار کرلیاہے۔

مزید پڑھیں >>

اترپردیش بلدیاتی انتخابات میں کیسے چلا ای وی ایم کا جادو؟

ای وی ایم گھوٹالہ پر سوال اٹھانے والوں کی زبان کاٹ لینے کی کوشش کی گئی۔ مظا ہر ہ کرنے والوں پر پولیس نے  بھرپور طاقت کا استعمال کیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ جمہو ریت کا گلا گھوٹنے کیلئے مقامی حکومت نے پولیس فورس سے  عوام اور جمہو ریت کے محافظ کی بجائے غنڈوں اور پیشہ ور شر پسندوں کا کام لیا۔

مزید پڑھیں >>

آسان نہیں ہے کانگریس کیلئے گجرات فتح کرنا!

ریاستی حکومت نے ہمیشہ ہندوتوا کو ترقی سے جوڑ کرعوام کے سامنے پیش کیا ہے جو گجرات کے غیر سیکولرووٹروں کی پسند بھی ہے۔ بی جے پی اوروزیر اعظم نریندر مودی ووٹروں کو یقین دلانے میں کامیاب رہے ہیں کہ کانگریس ہندومخالف جماعت ہے جو مسلمانوں کے فائدے کے لئے کام کرتی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے بڑی کامیابی کے ساتھ اس منصوبہ کا استعمال کیا تھا۔ گجرات میں مسلمانوں کے تئیں ہندوؤں میں نفرت واضح طور پر نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

طب یو نانی کی ترویج و ترقی اور زوال کے اسباب؟

طب یونانی کی ترویج و ابتداء اور اس کے عام ہونے مسلم مسلطنتوں میں پھلنے پھولنے اور اس طرح  ہندوستان میں گھر گھر تک پہنچنے کی اجمالی تاریخ۔ ہم دیانت داری کیساتھ دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ طب یونانی پر صرف مسلمانوں کا ٹھپہ لگا کر اردو کی طرح ہی اس کی جڑیں کاٹنے کی خاموش کوششیں ہورہی ہیں ۔ اب اس کے پیچھے کون ہے اور کن عناصر نے ایک پانچ ہزار برس قدیم طریقہ علاج کو مٹانے اور بے نام و نشان کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔

مزید پڑھیں >>

گجرات میں انتخاب کرانا کیوں نہیں چاہتی بی جے پی؟

اب ہر جانب انتخابات کی تاریخیں ٹالنے پر الیکشن کمیشن کے ساتھ مرکزی حکومت پر نشانہ سادھا جانے لگا ہے۔ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ انتخابی کمیشن کی جانب سے یہ بیان وزیر اعظم نریندر مودی کے اشارے پر دیا گیا ہے اور وہ اپنی سہولت کیلئے اس اہم اور جمہوری ادارے کو بے دست وپا کررہے ہیں۔ مخالفین کے یہ الزامات بے جابھی نہیں لگتے۔ اگربغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ وہاں مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی عوام مخالف پالیسیوں کے نتیجے میں عوام شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں >>

نکاح ایک نعمت ہے،جسے امت کیلئے زحمت بنادیا گیا

ایک مرد اور عورت کے درمیان اسلامی قانون کے مطابق جو تعلق اور رابطہ استوار کیاجاتاہے ،اسے شریعت اسلامی میں نکاح کہتے ہیں ۔یہ محض اپنی نفسانی اور جنسی خواہشوں کے پورا کرنے کیلئے نہیں اور نہ نکاح کا یہ مقصد ہے کہ ایک مرد اور عورت کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے گلے پڑ جائیں اور نہ شریعت اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ عورت کوشہوانی خواہشات کی تکمیل کا سامان بناکر رکھ دیا جائے۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح ایک دینی اور مذہبی عمل اور ایک گہرا تمدنی، اخلاقی اور قلبی تعلق ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہند ۔ بنگلہ دیش معاہدہ!

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ ان دنوں اپنے چار روزہ دورۂ ہند پردہلی میں ہیں ۔ دوروزقبل جب شیخ حسینہ واجد نئی دہلی پہنچنے ہی والی تھیں کہ اس سے پہلے ہی اندراگا ندھی بین الا قوامی طیران گاہ پر وزیر اعظم نریندر مودی اپنے اعلیٰ افسران اور ڈپلومیٹک پالیسی سازوں کے ساتھ بہ نفس نفیس موجود تھے۔وزیر اعظم مودی کے اقدام نے اس وقت پوری دنیا کو چونکادیا تھا، جب شیخ حسینہ طیارہ سے اتررہی تھیں تو اسی پل وزیراعظم تمام پروٹو کال توڑ کر گلدستہ لے کر اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب کے قریب پہنچے، نہایت گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور بعد ازاں اپنے ہمراہ ہی وزیر اعظم انہیں لے آئے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے شیخ حسینہ کا شاہانہ خیر مقدم کرکے کئی سفارتی دانشمندی اور دوراندیشی کی جانب اشارہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانان ہند کومودی کی عوامی حمایت کا پیغام

ایک طرف ساری مخالف جماعتیں وزیراعظم اور بی جے پی کے خلاف محاذ آراء تھیں ،مگران میں سے ایک بھی سیاسی جماعت رائے دہند گان کووزیراعظم نریندر مودی کی ناکامیوں کا یقین دلانے کامیاب نہ ہوسکیں ،توہم اقلیتیں کس کی کھیت کی مولی ہیں ۔لہذا مصلحت کا تقاضہ یہی ہے حکومت کیخلاف مظاہرے اور محاذ آرائی کے بجائے حکومت سے راست طور پر رابطہ کرنے کی کوشش کی جائے۔یہی ایک ایسالائحہ عمل ہے جو ہمیں بڑی حد تک اپنی حیثیت منوانے اور حقوق دلوانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

یوپی میں سیکولرزم کے قاتل اکھلیش کے اپنے ہی لوگ ہیں!

نیتا جی کی کردگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ اکھلیش کی جیت ہواور وہ دوبارہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوں ۔ان ساری تشاویش سے جو نتیجہ نکل رہا ہے اس سے تو کم ازکم یہی لگتا ہے کہ نیتا نے جی ہی بی جے کی بساط میں اصل مہرے کا کام کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>