عبد العزیز

عبد العزیز

نماز کا مقصد اور فوائد

  فریضۂ نماز کا اصل اور بنیادی مقصد تو اللہ کا ذکر ہے۔ وہ انسان کو اللہ کا شکر گزار اور فرماں بردار بندہ بناتی اور اس میں وہ خدا ترسی پیدا کرکے اسے فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ لیکن اس کے ساتھ نماز کے قیام دے متعدد اہم اور دور رس فوائد آپ سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

حج سبسڈی کے خاتمہ کا سرکاری اعلان

 حج سبسیڈی کے خاتمہ کا معاملہ ہو یا مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا کوئی اور معاملہ ہو اس میں زعفرانی حکومت کی مداخلت ہندوتو ایجنڈا کا ایک حصہ ہے جسے مودی سرکار ایک ایک کرکے 2019ء تک پورا کرے گی تاکہ ہندو پرستوں اور فرقہ پرستوں کو خوش کرسکے۔ بھگوا پارٹی یا اس کی حکومت میں جو لوگ مسلمانوں جیسا نام رکھتے ہیں جیسے نقوی، اکبر یا شاہنواز ان کو پارٹی نے حکم دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے یہ بتاتے رہیں کہ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ مسلمانوں کے حق میں کیا جارہا ہے۔ خاص طور سے مسلم خواتین کی فلاح و ترقی حکومت کے پیش نظر ہے۔ یہ بالکل لغو اور دھوکہ دینے والی بات ہے۔

مزید پڑھیں >>

جج بی ایچ لویا کی پُراسرار موت کا مقدمہ

سی بی آئی کے سابق اسپیشل جج بی ایچ لویا کی دسمبر 2014ء میں اس وقت موت ہوئی جب سہراب الدین کے فرضی مڈبھیر   کے مقدمہ کی سماعت ان کے ذمہ تھی۔ اس کیس میں خاص ملزم امیت شاہ تھے جو اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ہیں ۔میڈیا میں ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔ اس وقت میڈیا نے بھی اسے کوئی اہمیت نہیں دی اورنہ چھان بین کرنے کی کوشش کی۔ جب جسٹس لویا کی ایک ڈاکٹر بہن نے اخبارات میں اپنا بیان دیا کہ ان کے بھائی کی فطری موت نہیں ہوئی بلکہ ان کا قتل کرایا گیا ہے تو پھر ان کے متعلق کچھ نئے سرے سے خبریں آنے لگیں ۔

مزید پڑھیں >>

چیف جسٹس آف انڈیا کا مواخذہ حق و انصاف کا متقاضی

   کہا جاتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہے مگر جب بڑوں کی بدعنوانیوں اور نا انصافیوں کا معاملہ آتا ہے تو سب کی پالکی رکھا جاتی ہے۔ کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں جن کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ہندستان کی عدالت عظمیٰ میں الٹ پھیر کئی بار ہوا جس سے حق و انصاف کو صدمہ پہنچا اور عدالت کا وقار مجروح ہوا۔ سب سے پہلے جواہر لال نہرو کے زمانے میں ہوا جب ان کی بیماری کی وجہ سے دوسرے لوگ ان کا کام کاج سنبھالے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی کے مطابق اوپر والے کو نیچے اور نیچے والے کو اوپر کردیا۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریت اور عدلیہ کو سنگین خطرہ لاحق ہے

 حق گوئی کا اثر ہمیشہ پڑتا ہے کیونکہ جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہوتا ہے۔ اس کو ہر طرف سے خطرہ لگا رہتا ہے۔ وہ ایک اندھیرے کی طرح ہے جسے روشنی کی ہر کرن سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے اگر کوئی نہ آواز اٹھائے تو اکیلئے اور تنہا آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ حق و انصاف کی بات کرنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ مردہ دل ہوجاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

انسانیت اور زعفرانی فرعونیت کی کشمکش

مسلمانوں کو دلتوں سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ مسلم نوجوانوں کو دلتوں کا ساتھ دینا چاہئے اور اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے کمیونسٹوں کا بھی ساتھ دینا ضروری ہے۔ کانگریس اگر دفاعی پوزیشن اختیار کرتی ہے تو اسے دفاع کے بجائے اقدام کرنے کی ضرورت ہے یعنی اقدامی پوزیشن اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ گجرات میں کچھ کمی تھی۔ دلتوں کا انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔ جب ہی ان کی ننگی جارحیت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں جس قدر ضرب لگانے کی ضرورت ہے اسی قدر ضرب لگانی ہوگی جب ہی اثر انداز ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ (دوسری قسط)

  توکل نصف دین ہے، دوسرا نصف دعا و اِنابت (یعنی اللہ تعالیٰ سے مانگنا اور رونا اور گڑگڑانا) دین اللہ سے طلب کرنے اور عبادت کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ توکل مدد طلب کرنے ہی کے مترادف ہے اور انابت و توجہ الی اللہ تو عبادت ہے ہی۔ اولیاء اللہ بالخصوص ایمان باللہ، اس کے دین کی مدد اوراعلاء کلمۃ اللہ اور جہاد میں اس کے حکموں کو نافذ کرنے میں ، غرض ہر چیز میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں یعنی ان کی نظر اسباب نے زیادہ نصرت خداوندی اور غیبی مدد پر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

طلاق پر بل لانے یا قانون بنانے کے ذمہ دار کون ہیں؟

 غرض کہ اس قسم کے اسباب تھے جن کی بنا پر حضرت عمرؓ نے یہ حکم جاری کیا کہ تین طلاقیں جو ایک مجلس میں اور دفعتہ واحدۃً دی جائیں گی ان کا حکم طلاق مغلظہ ہونے میں وہی ہوگا جو اُن تین طلاقوں کا ہے جو طلاق سنت کے مطابق تین طہروں میں دی گئی ہوں ۔ حضرت عمر نے دیکھا کہ جو شخص نکاح کی گرہ کو اتنا بے حقیقت سمجھتا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالتا ہے وہ بے حس اور یاوہ گو انسان ہے اور اسے اس بے حسی اور یاوہ گوئی کی سزا ملنی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

 اس لئے اس وقت سارے دینی اداروں، تعلیمی دعوتی سرگرمیوں، کتب خانوں بلکہ مساجد و مدارس کی حفاظت اور عزت و ناموس کے تحفظ کی ضمانت وہ وسیع بیرونی آہنی حصار ہے، جس کے اندر یہ سب دینی مرکز، ملّی اثاثہ اور عزت و ناموس محفوظ ہو، ماحول کا ضروری حد تک مانوس و آشنا ہونا، اس سارے اثاثہ کو قیمتی سمجھنا جو ملک ہی کا سرمایہ ہے۔ اورملت اسلامیہ کی افادیت و ضرورت کا اعتراف ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر ان سے فرمایا ’’تمام کے تمام لوگ اس آیت کریمہ کو اپنا شعار بنالیں۔ اگر اپنے اندر پورے طور پر تقویٰ اور توکل پیدا کرلیں تویہ ان کے دینی و دنیوی سبھی قسم کے معاملات و ضروریات کیلئے کافی ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں >>