عبد العزیز

عبد العزیز

ڈاکٹر ایم۔نظام الدین کو تلنگانہ اردو اکیڈیمی کا بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈ

نسپل ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری اینڈ پی جی کالج محبوب نگر کی اطلاع کے مطابق 18نومبر2017ء کو چو محلہ پیالس خلوت حیدرآباد میں حکومت تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کی جانب سے مولانا ابوالکلام آزادی کی یوم پیدائش اور یوم اقلیتی بہبودکے موقع پر منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر ایم نظام الدین اسسٹنٹ پروفیسر اردو ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری اینڈ پی جی کالج محبوب نگر کواردو اکیڈمی حکومت تلنگانہ کی جانب سے اردو بیسٹ ٹیچر 2016-2017 ڈگری کالج سطح کا ایوارڈڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی صاحب نے ایوارڈ و توصیف نامہ اور نقد رقم دیا۔

مزید پڑھیں >>

حضورﷺ کی عائلی زندگی پر ایک نظر

ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معلّمات ہونے کے رول کو آسان بنانے کیلئے رب کائنات نے ان کو امہات المومنین یعنی اہل ایمان کی ماؤں کا منصب عطا کیا۔ گویا ہر صاحب ایمان آدمی مسائل دریافت کرنے کیلئے ان تک اسی طرح رسائی حاصل کرسکتا تھا جس طرح ایک بیٹا اپنی ماں تک رسائی رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

بہت سے لوگ تاریخ کشمیر سے ناواقف ہیں

ہندستان جیسے ملک میں سیکولرزم کا ایجنڈا ایسا رہا جس کی وجہ سے کشمیر پر اس کا دعوی مستحکم ہوتا رہا۔ 24 اکتوبر کو مودی حکومت نے محکمہ خفیہ (IB) کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو یہ ذمہ داری سونپی کہ ایسے تمام کشمیریوں سے بات چیت کریں جو کشمیر کے اسٹیک ہولڈرس (اہل مفاد) ہیں لیکن مودی اور ان کی پارٹی پانچ ہی دن کے بعد آرٹیکل 370 کے خلاف بات کرنے لگی۔ ایسی تنگ نظر اور جارحانہ قومیت کے حامیوں سے کشمیر کا مسئلہ نہ کبھی حل ہوا ہے اور نہ حل ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

پولس فورس کی تفتیش پر سوالیہ نشان

آج کی پولس برطانیہ کے راج سے بھی زیادہ خراب اور ظالم ہے۔ بہت سے ججوں نے پولس فورس پر سخت ریمارک دیا ہے کہ ان کا کردار مجرمانہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ جو جرائم میں ملوث ہوں وہ کیسے غیر جانبدارانہ تفتیش یا چھان بین کا کام انجام دے سکتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ تو خون سے رنگے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ازواجِ مطہراتؓ کی زندگیاں

امریکہ یا یورپ میں جہاں مسلمان عورتوں کو بے حیائی اور عریانیت کا درس دیا جارہا ہے، پردہ کے خلاف قانون بنایا جارہا ہے۔ حجاب، نقاب اور پردہ قابل جرم ہے۔ وہاں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ آغوش اسلام میں آرہی ہیں ۔ اگر یورپ یا امریکہ میں پانچ افراد اسلام قبول کرتے ہیں تو ان میں سے تین خواتین ہوتی ہیں ۔ کیا یہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کا بین ثبوت نہیں ہے؟

مزید پڑھیں >>

مولانا ابو الکلام آزادؒ  کی صحافت

مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت کے دور ارتقاء کاآغاز الندوہ کی سب ایڈیٹری سے ہوا۔ ’وکیل‘ امرتسر دورثانی پرختم ہوا مولانا کی صحافت دور عروج حقیقت میں الہلال کے اجراء سے شروع ہوا۔ الہلال کا پہلا شمارہ 13؍جولائی 1912 کو نکلا جب مولانا ابوالکلام آزاد کی عمر 24سال سے بھی کم تھی۔یہ محض ایک ہفتہ وار اخبار نہ تھا بلکہ ایک دعوت اور ایک تحریک تھی اسلام کو جس طرح انہوں نے سمجھا اسی رنگ میں اسے پیش کرنا شروع کیا۔

مزید پڑھیں >>

شیطان انسان کا دشمن ہے اور انسان شیطان کا

پہلی حقیقت تو یہ واضح ہوتی ہے کہ انسان کی حیثیت اس دنیا میں خدا کے خلیفہ اور نائب کی ہے۔ یہ بات قرآن مجید کے الفاظ میں نہایت واضح طور پر کہی گئی ہے۔ اس خلافت و نیابت کی حقیقت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس کے کچھ لازمی تقاضے ہیں جن کے پورے ہوئے بغیر خلافت کا تصور مکمل نہیں ہوسکتا۔ ہمارے نزدیک یہ تقاضے بالاجمال یہ ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

آخر ہماری حالت کیوں نہیں سدھر رہی ہے؟

کلکتہ کے مسلمانوں کی جو تصویر بنگلہ و ہندی اخبارات اور بنگلہ نیوز چینلوں میں آئی ہے اسے دیکھ کر غیر مسلم بھائیوں نے یقینا یہی سوچا ہوگا کہ مسلمان خدمت خلق کے اداروں میں صدر اور سکریٹری بننے کیلئے اپنے بھائیوں کا سرقلم کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ فتنہ وفساد برپا کرتے ہیں تو پھر ان کا جب دوسروں سے سامنا ہوگا تو کیا کریں گے؟ اس واقعہ کے بعد راقم نے غیر مسلموں کے اداروں کا حال معلوم کرنا چاہا تو معلوم ہوا کہ اس قسم کی حرکتیں ان کے اداروں میں نہیں ہوتیں کہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں اور پھر ایک دوسرے کے سامنے نہ آسکیں ۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کی سیرت وشخصیت ان کے خطوط کے آئینہ میں

علامہ اقبال نے جو کچھ کہا اور لکھا وہ پورے یقین کے ساتھ ایک مرد مومن کی حیثیت سے مگر جو لوگ مسلمانوں میں بے عملی اور گمراہی پیدا کرناچاہتے تھے وہ ہر زمانے کی طرح ان کے زمانے میں بھی ان کی راہ کا روڑابنے ہوئے تھے اقبال نے ہرطرح سے ان کا مقابلہ کیا۔ ایک خط میں عرض کیا کہ’’ آپ میری نسبت بدگمانی کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، اور اگر کسی وجہ سے بدگمانی ہوبھی گئی ہو توآپ مجھ سے براہ راست دریافت کرسکتے تھے۔لوگ تو اس قسم کی باتیں اڑایا ہی کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

اقبال کی شاعری کاموضوع انسان ہے!

اقبال زندگی میں ہی موت کو شکست خوردہ بنادیتا ہے اور جب موت اسے بلانے آتی ہے تو مسکراتے ہوئے اس کا خیر مقدم کرتا ہے کہ اب تو اس کی دلی مراد پوری ہونے والی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو اوردوسروں کو زندگی سے لڑتے رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نہ روتا ہوا نظرآتا ہے اور نہ ہی اپنی زندگی کے پاس ناامیدی اور مایوسی جیسی لعنتوں کو پھڑکنے کی اجازت دیتا ہے بلکہ زندگی کا گیت گاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>