عظمت علی

عظمت علی

حق کا دفاع ضروری ہے

 مذکورہ نظریہ کی تائید دنیا کو ہر صاحب و فکر ونظر کرتارہے گا۔ چاہے وہ جس قوم و قبیلہ سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہو۔ کیوں کہ حق کادفاع بہر حال ضروری ہے۔ اسی باعث دنیا کا ہرملک اپنی خاص دفاعی فوج اور کچھ اہم  افراد رکھتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے ملک کا دفاع کرتاہے۔ وگرنہ  ہر کس و ناکس فرعون زمانہ ہوتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ زمین لاشوں سے پٹ جاتی اور جنازے زیادہ اور زندہ آدمی کم ہوتے !المختصر ! ہر طاقت ور آدمی یزید و صدام ہوتا اور ہرزمین کربلاو عراق ہوتی!

مزید پڑھیں >>

جدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابی!

گزشتہ صدیوں میں ا ن کااس وقت علمی دبدبہ تھاجب سارے مغربی ممالک خواب غفلت میں اوندھے منھ پڑے تھے۔ جب مغربی دنیا میں علمی گھٹاتوپ اندھیراچھایا ہواتھا،اس وقت دین اسلام غیرمعمولی علمی ترقی کے زینے طے کر چکاتھا۔نور علم بڑے ہی آب و تاب کےساتھ جلوہ فگن تھا۔تاریکی میں زندگی بسر کرنے والے مغربی لوگوں کو جب اس روشنی کی کر ن نظر آئی تو خواب غفلت سے حرکت میں آئے اور جب اسلامی ترقی کودیکھا تو کچھ دیر تلک آنکھیں ملتے رہے کہ کہیں ہم خواب تو نہیں دیکھ رہے ہیں !

مزید پڑھیں >>

صلاحیتوں کو کیسے پروان چڑھائیں؟

ترقی کے مستحکم ستون پر کامیابی کی سر بفلک عمارتیں تعمیر ہوسکتی ہیں۔ صرف اپنے دلی کاموں میں عمل  پیہم اور جہد مسلسل کی بنیادی شر ط ملحوظ نظر رہناچاہئے ورنہ۔ ۔۔زیادہ تر ایسامشاہدہ میں آیاہے کہ اکثر افراد میں استقلال نہ ہونے کے باعث یا تو ان کے ارمانوں پر پانی پھر جاتاہے یا ان کی تمنائیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

غرور کا انجام !

انسان کو ہمیشہ اس با ت کا ذہن نشین رکھنا چاہئے  کہ ہم کیاتھااور ہمارا حشر کیا ہونے والا ہے اور اس بات کو کبھی بھی فراموش نہ کرے کہ ہم سے بھی طاقت ور کوئی ذات ہے جسے غرور تکبر بالکل نہیں پسند ہے۔ لہٰذا!ہمیں غرورو تکبر سے پنا ہ مانگنی چاہئے۔ چونکہ جب فرعون و نمرود اس کی گرفت سے نہ بچے تو ہم اورآپ کجا؟

مزید پڑھیں >>

خطرنا ک سفر کی پر امن واپسی

ابتدائے خلقت میں انسان بالکل ننگا اور علم و ٹیکنالوجی سے بے بہرہ تھا۔ اسے اپنے آپ کو ڈھکنے کے لئے درختوں کے پتوں کا سہارا لینا پڑتا۔جیسے جیسے گردش و لیل و نہار نے کروٹیں لیں ویسے ویسے حالات سازگارہوتے گئے اور لوگوں نے ترقی  کی راہوں پر اپنے قدم جمانا شروع کیا۔ پھر ترقی  کا یہی سلسلہ جاری و ساری رہا۔ یہاں تک کہ نوع انسانی نے لمحوں میں سینکڑوں میل کا سفر کرنا شروع کردیا۔ تاہم اس نے زمین سے ماوراء آسمانی زندگی کا مشاہدہ کر نے کے لئے ایک راکٹ ایجاد کیاجسے Eagleکا نام دیاگیا تھا۔

مزید پڑھیں >>

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

مسلمانوں نے عقابی نگاہوں سے فرنگی شاطرانہ چال کو نقش برآب کردیا اور تن کے گورے دل کے کالے انگریزوں کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے قیمتی خون سے اس گلستاں کی آبیاری کی ہے جس کی فتح و ظفر کی گواہی آج بھی سرخی آفتاب پر نمایاں نظر آتی ہے۔ لہٰذا! ہمیں چاہئے کہ اختلافات کی دیوار کوگراکر ہندوستان کی ترقی میں شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں اور ہر شر پسند عناصر کو دندان شکن جواب دے کر اپنے ملکی اتحاد کا ثبوت فراہم کریں۔ 

مزید پڑھیں >>

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط ششم)

 امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایسا ہواکہ جبرئیل چالیس روز تک حضرت رسول خدا  ﷺپر نازل نہیں ہوئے تو جبرئیل نے اللہ سے عرض کیا:خدایا!میں تیرے نبی کے دیدار کا شدت سے مشتاق ہوں۔ مجھے اجازت دیں کہ میں تیرے رسول کی خدمت باریابی کا شرف حاصل کرسکوں۔

مزید پڑھیں >>

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط پنجم)

امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ رسول خدا  ﷺ کے فرامین کا اتباع کرواور جو کچھ خداوندتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کا اقرار کرو۔ ہدایت کی نشانیوں کی پیروی کرو کیونکہ یہی امانت اورتقوای الٰہی کی علامت ہے۔ جان لو کہ جوشخص عیسیٰ ابن مریم کا انکار کرے اور آپ کے علاوہ تمام انبیاء کااقرا ر کرے پھربھی وہ دائرہ ایمان سے خالی ہے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط چہارم)

بے شک ! جناب عیسیٰ ابن مریم کے علاوہ انبیا ء میں سے کسی بھی نبی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا ہے کہ انہیںآسمان کی طرف اٹھا لیا گیا ہو۔آپ کی روح زمین اورآسمان کے مابین قبض کی گئی تھی۔ پھر آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور آپ کی روح پلٹادی گئی جیسا کہ اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:’’یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی‘‘اور جب خدانے فرمایا : اے عیسیٰ ! ہم دنیا میں تمہارے قیام کی مدت کو پورا کرنے والے ہیں اورتمہیں اپنی طرف اٹھانے والے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (تیسری قسط)

اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی یہ ارض کربلا ہے جو مقدس اور بابرکت جگہ ہے اور زمین کا وہ حصہ ہے جہاں سے جناب موسیٰ کوایک درخت کے ذریعہ ندا دی گئی تھی۔یہ ایک پہاڑی ہے جہاں جناب مریم و عیسیٰ نے پناہ لی تھی۔ وہاں ایک ندی ہے جہاں امام حسین علیہ السلام کے سر اقدس کودھلا گیا۔وہی پر جناب مریم نے جناب عیسیٰ کو دھلا تھا اور ان کی ولادت کے بعد انہیں غسل کیا تھا۔ یہ ایک بہترین جگہ ہے جہاں سے رسول اللہ کو معراج ہوئی تھی۔ یہ زمین اس وقت تک پاک وپاکیزہ رہے گی جب تک ہمارے شیعوں کے آخری امام، حضرت مہدی ظہور نہ ہوجائے۔

مزید پڑھیں >>