عابد الرحمن

عابد الرحمن
ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

سیاست کی دہشت گردی یا دہشت گردی کی سیاست؟

دہشت گردی اور اس کی منصوبہ بندی کے الزام میں مسلمانوں کی گرفتاریاں اب کوئی نئی بات نہیں رہی ، پولس اس طرح کے کیسس میں مسلمانوں کو گرفتار کرتی ہے میڈیا انہیں خطر ناک دہشت گرد اور دل میں آئے وہ کہہ کر پورے ملک اور بیرون ملک میں بد نام کرتا ہے مسلمان رو پیٹ کر اور اخبارات خاص طور سے اردو خبارات کے صفحات کالے کر کے اور کبھی کبھار احتجاج کر کے خاموش ہو جاتے ہیںاور جمیعت علماء ہند پوری تندہی سے ان لوگوں کے مقدمات لڑ تی ہے اور اس کی وجہ سے کئی سال بعد معلوم ہوتا ہے کہ پکڑے گئے مسلمان بے قصور ہیں،پولس ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر پائی اور میڈیا نے ان کے خلاف جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا۔

مزید پڑھیں >>

تاریخ بھی کہیں بدلی جاسکتی ہے!

ملک میں مسلمانوں کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کوئی نیا کام نہیں ہے آزادی کے بعد ہی سے مسلم ناموں والے شہروں سڑکوں چوراہوں وغیرہ کے نام بدلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو اب بھی جاری ہے۔اسی طرح ملک میں مسلم حکمرانوں کی تاریخ کو منفی انداز میں پیش کر نے کی کو شش کی جارہی ہے۔ انہیں ظالم اور ہندو دشمن ظاہر کر نے کے لئے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کے ذریعہ بنائی گئی عمارتیں ہندو مندروں کو توڑ کر بنائی گئی تھیں، بابری مسجد رام مندر معاملہ تو اب بہت پرانا ہو چکا ہے جس میں بظاہر تاریخ بدلنے کے لئے بابری مسجد کو شہید کردیا گیا لیکن تاریخ تو نہ بدلی جا سکی بلکہ یہ مسماری بھی بجائے خود تاریخ بن گئی اب اگر وہاں رام مندر بن بھی جائے توجب جب تاریخ اس کا ذکر کر ے گی یہ ضرور کہے گی کہ وہاں پہلے بابری مسجد معرض وجود میں تھی اور کس طرح اسے مسمار کیا گیا اور پھر رام مندر بنایا گیا۔

مزید پڑھیں >>

وکاس ایودھیا پہنچ گیا!

بی جے پی کی ہندوتوا سیاست بلکہ جارحانہ ہندوتواکوئی حیرت کی بات نہیں ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی نے جب بھی اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی یا اس سے ذرا بھی ہٹی مات کھائی۔ ایک وقت میں ہندوتوا کے فائر برانڈ لیڈر اور بی جے پی کی بنیاد کے پتھر اور اپنے جارحانہ ہندوتوا کے ذریعہ اسکی عمارت کھڑی کر نے والے لال کرشن اڈوانی نے جب ’فیل گڈ‘ اور ’انڈیا شائننگ ‘ کے نعرے کے ساتھ جارحانہ ہندوتوا سے ہٹنے کی کوشش کی انتخابات ہار گئے

مزید پڑھیں >>

کانگریس کی’ہندوتوا‘ سیاست

یہ سیاست سرو دھرم سنبھاؤ کے لئے ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ ’ہندوتوا ‘،’ نرم ہندوتوا‘ یا’ سیکولر ہندوتوا ‘ کی سیاست ہے جسکا گمان غالب ہے تو سمجھئے کہ کم از کم کانگریس کے لئے تو یہ مزید ناکامیوں کی ضمانت ہے کیونکہ وہ اس شدت سے ہندوتوا سیاست نہیں کر سکتے جس شدت سے بی جے پی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیا: صرف امداد ہی حل نہیں!

اگر میانمار روہنگیا پر ہونے والے ظلم و ستم سے باز نہیں آتا تو اس کے خلاف اسے ایک موثر متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ انسانی بحران ہے اور اس سے نمٹنا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے اور بحران سے نمٹنے سے زیادہ ضروری ہے کہ بحران روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔ لیکن اقوام متحدہ مسلمانوں کے تئیں متعصب عالمی طاقتوں کے سامنے بے بس ہے غالب گمان ہے کہ وہ یہاں اس طرح کا کوئی نہیں حل لائے گی تو کم از مسلم ممالک نے اپنے طور پر متحد ہو کرسفارتی اور معاشی بائیکاٹ کے ذریعہ اس کی شروعات کر نی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیا : حل ہمیں ہی ڈھونڈنا ہوگا

ضروری ہے کہ اس ضمن میں ہم بے وقوفی کی بجائے انتہائی وقوف سے کام لیں ۔جو کچھ کریں بہت سوچ سمجھ کر ،جذبات اور جوش کی بجائے پوری طرح ہوش کے ساتھ اور پختہ منصوبہ بندی کے ساتھ کریں ، اس طرح کریں کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔

مزید پڑھیں >>

لہو لہان روہنگیا: مسئلہ پوری امت کا  ہے!

 بہرحال مسلم مملکتوں کے ذریعہ عسکری کوششیں اس مسئلہ میں سلجھاؤ کی بجائے الجھاؤ پیدا کر سکتی ہیں ،لیکن ہمت طاقت اور اللہ کی امداد ہو تو نوک شمشیر ہمیشہ ظلم پر غالب ہو کر رہتی ہے مگر صاحب ہمارے پاس نہ ہمت ہے نہ جرت ہے اور نہ ہی ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہمیں اللہ کی مدد آئے۔

مزید پڑھیں >>

موت کی دستک: اپنے بچوں کو بچائیے

کیرالا کے ایک سولہ سالا لڑ کے نے خود کشی کر لی ، اس نے اپنی ماں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اگر وہ مر گیا تو پریشان مت ہونا، یعنی وہ خود کشی کی پیشگی تیاری میں تھا۔ اس کے بعد ممبئی میں ایک 14، سالہ لڑ کے نے بلڈنگ کی ساتویں منزل سے کود کر خود کشی کی۔ اگست میں مغربی بنگال میں ایک پندرہ سالہ لڑ کے نے اپنے گھر کے باتھ روم میں منھ پر پلاسٹک بیگ لپیٹ کر خود کشی کرلی۔

مزید پڑھیں >>

ایک اور جمہوری تماشا: کانگریس جیت کر بھی ہار گئی!

ان حالات میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ بی جے پی کے طلسم اور کانگریس کے جعلی سیکولرازم سے باہر آئیں اور سخت بی جے پی مخالف اور کانگریس کے ارد گرد گھومنے والی روایتی سیاست کو چھوڑ کر کسی نئی سیا سی راہ کا تعین کریں اور کوئی ہمہ گیر سیاسی منصوبہ بندی کرتے ہوئے موثر لائحہء عمل تیار کریں اور من حیث القوم اس پر عمل کریں۔

مزید پڑھیں >>

جمہوری تماشہ

ملک کو ’سنگھ مکت‘ کروانے کا عزم کرنے والے نتیش کمار سنگھ کی گود میں بیٹھ گئے ۔ بہار میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے انہوں نے اپنے دیرینہ حریف لالو پرساد یادو کے ساتھ مل کر ’مہا گٹھ بندھن ‘ بنا یا تھا ۔ اب لالو یادواور ان کی فیملی کے دیگر ممبران خاص طور سے لالو کے بیٹے اور نتیش کمار کے نائب تیجسوی یادو کے خلاف کرپشن کے معاملات کو لے کر حال ہی میں جو سی بی آئی کارروائی ہوئی اس کے بہانے انہوں نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کا استعفیٰ دے دیا

مزید پڑھیں >>