عابد الرحمن

عابد الرحمن
ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

بابری مسجد معاملہ: صرف مقدمہ لڑنا ہی کافی نہیں

اس صورت میں ہم سے زیادہ ملک کے قانون عدلیہ حکومت اور جمہوریت کی رسوائی ہو گی، لیکن اس کے بعد جو حالات پیدا ہوں گے وہ وہی ہو سکتے ہیں جو بابری مسجد کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے تھے یا ان سے بھی خراب، ان حالات کے لئے ہماری کچھ تیاری ہے؟ اسی طرح خدانخواستہ سو بار خدا نخواستہ اگرفیصلہ ہمارے خلاف آیا تو اس صورت میں ہمارا لائحہء عمل کیا ہوگا اس کی منصوبہ بندی بھی ابھی سے کر رکھنی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد تنازعہ: اسپین کا سبق یاد رکھیں مسلمان!

بابری مسجد معاملہ میں فقہ حنبلی کا سہارا کیوں لیا جا رہا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ ہم جس فقہ کو فالو کرتے ہیں اس میں اس طرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ توکیا ہمارے مذہب میں اس کی اجازت ہے کہ ہم ہماری کسی ضرورت کے تحت، یا کسی پسندیدہ فیصلے کی چاہ میں یا اپنی مطلب براری کے لئے ایک فقہ میں رہتے ہوئے دوسرے فقہ کو بھی فالو کر سکتے ہیں ؟

مزید پڑھیں >>

ڈیموکریسی یا موبو کریسی

حکومت نے بھی سپریم کورٹ کی اس بے عزتی کے خلاف کوئی سخت بیان جاری نہیں کیا بلکہ الٹ حکومت کے وزیر مملکت برائے خارجہ جنرل وی کے سنگھ نے تو احتجاج کر نے والوں کی حمایت کر دی کہ ’ اگر کوئی چیز اتفاق رائے (consensus ) سے نہیں کی جاتی تو احتجاج ناگزیر ہے۔ ‘ تو کیا وزیر موصوف سپریم کورٹ کو سبق پڑھا رہے ہیں کہ اب انصاف بھی قانون کی بجائے اتفاق رائے کی بنیاد پر کیا جائے ؟

مزید پڑھیں >>

ہندوتوا سیاست کی ایک اور جیت!

بھیما کورے گاؤں میں اسی لئے فساد برپا کیا گیا اور پھر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہندوتوا سیاست کے علمبرداروں کی منشا کے عین مطابق ہوا۔ اور مسلمانوں کو سماجی اور سیاسی طور پر بے اثر کر دینے کے بعد یہ ہندوتوا سیاست کی دوسرے پڑاؤ کی طرف کامیاب پیش قدمی ہے۔ دلتوں نے اس کے خلاف کوئی موثر حکمت عملی بنا کر جدوجہدکر نی چاہئے تاکہ ہندوتوا سیاست کے علمبردار انہیں اپنے لئے نہ استعمال کر سکیں ۔ ہم مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں دلتوں کی حمایت کریں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ یہ حمایت اتنی پرشور بھی نہ ہو کہ سازشی اس معاملہ کو تیسرا رخ دے کر مزید فائدہ اٹھا لیں۔

مزید پڑھیں >>

کیا یہ مسلم مکت سیاست کی شروعات ہے؟

سو اس بات کا بھی خاص خیال رکھتے ہوئے ہمیں دیگر دلت پچھڑوں اور مظلوم طبقات کو ساتھ لے کر چلنے والی سیاست کر نی چاہئے۔ اس میں اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ یہ تاثر کبھی نہ جائے کہ ہم کسی مخصوص پارٹی کے دوست ہیں یا کوئی پارٹی ہماری دشمن ہے۔اسی طرح ہماری صفوں میں موجود کالی بھیڑوں، کرائے کے ٹٹوؤں، منافقوں اوران بے ضمیر دلالوں کو پہچاننا اور مسترد کرنا بھی انتہائی ضروری ہے جو اپنے معمولی ذاتی مفادات کے لئے پوری قوم کا سودا کر نے سے بھی نہیں چوکتے۔

مزید پڑھیں >>

بے چارہ وکاس!

مودی جی کی اس گاڑی کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کو سائلینسر نہیں ہے یہ شور بہت کرتی ہے جس میں سے ترقی اور وکاس کی آواز آتی رہتی ہے جو اتنی تیز اور اس قدر مسلسل ہوتی ہے کہ لوگوں کو اسے سمجھنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور جو لوگ اس کا تجزیہ کر کے اس کے اچھے اور برے پہلو لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں ان کی آواز اس شور میں بالکل دب جاتی ہے۔ لیکن اس سب شور کے با وجود اس بار گجرات میں حالات مختلف تھے۔

مزید پڑھیں >>

شمبھو کی ذہنیت ختم ہو

اس معاملہ میں ہم مسلمانوں کی ذمہ داری بھی کچھ کم نہیں ہے، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اول فول بکنے، جذباتی جملے بازی کر نے فوٹو شوٹ اورمیڈیا میں نام ونمود حاصل کر نے کی اوچھی کوششوں کی بجائے انتہائی منظم طریقے سے اور بغیر کسی شور شرابے کے اس ضمن میں قانونی چارہ جوئی کرتے رہیں اورانتہائی خاموشی کے ساتھ پردے کے پیچھے سے اس کے لئے کام کر نے والی سول سوسائٹی کی ہر ممکن اعانت کرتے رہیں ۔

مزید پڑھیں >>

گھونگے میاں

اس سے پہلے ملک کے معزز چیف جسٹس نے رو رو کر حکومت سے یہ کمی پوری کر نے کی گہار لگائی تھی لیکن اس پر کیا عمل ہوا کوئی خبر نہیں آئی۔ لیکن بابری مسجد کے دونوں مقدمات سے یہ بات اچھی طرح کھل کر سامنے آ جاتی ہے سیاسی ملزمین جہاں اس نظام عدل کوچکر پہ چکر دے کر، مختلف اسباب و وجوہات گڑھ کر اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گھونگے میاں سے بھی زیادہ سست کر دیتے ہیں وہیں سبرامنیم سوامی کی طرح عرضی پہ عرضی کر کے اس گھونگے میاں کو تیز رفتار چلنے کے لئے مجبور بھی کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 گجرا ت: فرقہ وارانہ سیاست اور ہماری ذمہ داری

یہ سیاسی پارٹیاں یہ بھی چاہتی ہیں کہ جس لہجہ میں وہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرتی ہیں مسلمانوں میں سے بھی کوئی اٹھے اور اسی لہجے میں ان کے خلاف بولنے لگے تاکہ ایک طرف ہندو، مسلمانوں کو خطرہ سمجھ کرہندوتوا کا جاپ کرنے والے ان لوگوں کو اپنا محافظ سمجھیں اور سیدھے ان کے خیمے میں چلے آئیں اور دوسری طرف مختلف پارٹیوں میں بٹے مسلمان اپنی طرف سے بولنے والے کی طرف جھک کر مزید تقسیم ہو جائیں ۔ سو ہمیں ان کی اس چال کو بھی ناکام کر نے کا سامان کرنا چاہئے،اور اس کے لئے خود بھی جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا اور اپنے مفادات اور مسلم ووٹ بنک کی سیاست کر نے والوں کی اشتعال انگیز باتوں کو بھی رد کر نا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

سیاست کی دہشت گردی یا دہشت گردی کی سیاست؟

دہشت گردی اور اس کی منصوبہ بندی کے الزام میں مسلمانوں کی گرفتاریاں اب کوئی نئی بات نہیں رہی ، پولس اس طرح کے کیسس میں مسلمانوں کو گرفتار کرتی ہے میڈیا انہیں خطر ناک دہشت گرد اور دل میں آئے وہ کہہ کر پورے ملک اور بیرون ملک میں بد نام کرتا ہے مسلمان رو پیٹ کر اور اخبارات خاص طور سے اردو خبارات کے صفحات کالے کر کے اور کبھی کبھار احتجاج کر کے خاموش ہو جاتے ہیںاور جمیعت علماء ہند پوری تندہی سے ان لوگوں کے مقدمات لڑ تی ہے اور اس کی وجہ سے کئی سال بعد معلوم ہوتا ہے کہ پکڑے گئے مسلمان بے قصور ہیں،پولس ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر پائی اور میڈیا نے ان کے خلاف جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا۔

مزید پڑھیں >>