ڈاکٹر محمد واسع ظفر

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

نماز کے بعد آیت الکرسی و دیگر اذکار کا بالجہر پڑھنا

اگر کوئی صاحب ذکر بالجہر کو اختیار کرنا ہی چاہیں توان کے لئے راقم کا مشورہ یہ ہے کہ وہ سلام کے بعد ایک بار یا تین بار (جیسا کہ صاحب مظاہر حق نے لکھا ہے) صرف تکبیر متوسط آواز سے کہہ لیں اور باقی اذکار کو آہستہ پڑھیں ، اس طرح ان کے اعتبار سے ذکر بالجہر کی سنت بھی ادا ہوجائے گی، دیگر مصلیان کو نماز و ذکر کی ادائیگی میں خلل بھی واقع نہ ہوگا

مزید پڑھیں >>

نمازی کے آگے سے گزرنے سے بچنا کیوں ضروری ہے؟

تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک سترہ حائل نہ ہو نمازی کے سامنے سے گزرنے سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔البتہ اگر کسی کے ساتھ کوئی اضطراری حالت ہو مثلاً پیشاب یا پاخانہ کا زور ہو یا گاڑی چھوٹنے کا امکان ہو وغیرہ تو فقہاء اور مفتیان کی دی گئی رخصتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس سیہ کار کو بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے اور مسلمانوں کو بھی اس گناہ سے بچنے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! 

مزید پڑھیں >>

قرآن حکیم کا سمجھ کر پڑھنا ہی مطلوب ہے! 

قرآن کریم عالم انسانیت پر نازل ہونے والی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے ذریعہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنے خالق حقیقی کی معرفت حاصل کرسکتا ہے بلکہ اپنے وجود کے حقیقی مقاصد کو بھی پہچان سکتا ہے۔ وہ یہ جان سکتا ہے کہ اس کے لئے کامیابی اور نجات کی راہ کون سی ہے اور کس طرز حیات کو اختیار کرنے میں اس کی دنیوی و اخروی ذلت و رسوائی اور ناکامیابی ہے۔ اسی لئے اللہ رب العزت نے اسے کتاب ہدایت قرار دیاہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا ہمارے لئے نبی کریم ﷺ کی سنّتیں کافی نہیں؟

افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ امت مرحومہ نے ان سب ہدایات کو بالائے طاق رکھ دیا اور افراط و تفریط کا شکار ہوگئی، الا ماشاء اللہ۔ ایک طرف تو ہم نے یہ ظلم کیا کہ کتاب و سنت سے اپنا ناطہ توڑ لیا، ارکان دین اور اللہ کے قائم کردہ حدود کی بھی پرواہ نہ کی تو دوسری طرف اس کو راضی کرنے کے لئے از خود ایسے اعمال گھڑلئے جن کی کوئی اصل شریعت محمدیہ ﷺ میں موجود نہیں۔

مزید پڑھیں >>

ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں ؛ اپنی جسمانی،  علمی و مالی تمامتر صلاحیتوں کو اس عظیم مقصد کی حصولیابی کے لئے استعمال کریں۔ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اس کی رضا حاصل کرنا اور دعوت دین اور  اس راہ کی جد وجہد کے ذریعہ اسلام کو زندہ اور غالب کرنے کی مستقل فکر کرنا، یہی وہ مقاصد ہیں جن کے لئے ایک مسلمان کو جینا و مرنا چاہیے اور باقی تمام مقاصدکو ان عظیم مقاصد کے تابع رکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

عہدے امانت ہیں ان میں خیانت نہ کریں!

آخرت میں صرف وہ لوگ سرخرو ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اپنے منصب اور عہدوں کو امانت سمجھ کر اس کی ذمہ داریوں کوعدل و احسان کے ساتھ انجام دیا ہوگا جو کہ آسان کام نہیں ہے اور جس نے اپنی ذمہ داریوں میں خیانت کی ہوگی وہ وہاں رسوا اور ذلیل کیا جائے گا اور جہنم اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اس لئے اول درجہ میں تو ہمیں جاہ طلبی کے مرض سے ہی چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے کہ اکثر اوقات یہ دنیا میں بھی آزمائش اور رسوائی کا سبب ہوجاتا ہے جیسا کہ آج کل عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے اور آخرت کا معاملہ تو فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کی صورت میں اور بھی سنگین ہے۔

مزید پڑھیں >>

قربانی سے آخر کیا مطلوب ہے؟

اصل قربانی تو اپنے نفس کی ہے اور جانور تو حقیقت میں ایک علامت ہے۔ ہمارے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ قربانی کرتے وقت ہم اللہ کی طرف متوجہ ہوکر اپنے دل میں یہ کہیں کہ اے میرے رب ! یہ جانور کیا چیزہے، تیرے احکام کی پاسداری ا ور دین کی سربلندی کے لئے بندہ اپنی جان، مال اور اولاد کی ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قربانی سے پیدا کرنا مطلوب ہے اوریہی وہ جذبہ تھا جس نے سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے پر آمادہ کیا اور اللہ کی طرف سے آئی اس آزمائش میں کامیاب ہونے پر ہی وہ انسانیت کی امامت کے عہدہ پر سرفراز کئے گئے۔ جس کے اندر یہ جذبہ ہوگا وہ سب سے پہلے اپنے نفس کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کے تابع کرے گاجس کے بغیر ایمان کی تکمیل ہی ممکن نہیں.

مزید پڑھیں >>

ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر

جب ہم اپنا قیمتی وقت خرچ کرتے ہی ہیں تو نمازوں کو سنوارنے کی کی بھی فکر کریں اور ائمہ کو تو اور بھی محتاط ہونا چاہیے کیوں کہ وہ خود کے علاوہ مقتدیوں کی نماز کے بھی ضامن ہیں اور ان پر مقتدیوں کے اصلاح کی ذمہ د اری بھی ہے۔ اللہ پا ک ہم سب کو عمل کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! 

مزید پڑھیں >>

کیا نماز امت مسلمہ پر صرف رمضان المبارک میں ہی فرض ہے؟

آج امّت مسلمہ کے عمل سے تمامتر حسن ظن کے باوجود یہی ظاہر ہے کہ نماز کی فرضیت صرف رمضان المبارک میں ہے حالانکہ زبان سے کوئی بھی اس کا اقرار نہیں کرے گا باوجود یکہ70۔ 80 فی صد مسلمان غیر رمضان میں نماز کو ضروری نہیں سمجھتے اور نماز ترک کر کے بھی خود کوسچا پکا مسلمان سمجھتے ہیں یعنی ان کے یہاں نماز کے بغیر بھی اسلام کا تصور ہے جو صحابہ کے یہاں نہیں تھا۔ غور کیجئے کہ ایسا اسلام جو اصحاب رسول ﷺ کے اسلام کے تصور سے مختلف ہو کہاں کام آئے گا؟

مزید پڑھیں >>