اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (آخری قسط)

ملحدین کا فہم اور استدلال دونوں درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب مغرب میں فلسفۂ سائنس کا ارتقاء رک گیا ہے۔ سائنس کا ارتقاء تو بیسویں صدی میں ہوا اور اب بھی جاری ہے۔ مگر فلسفۂ سائنس پر جمود طاری ہو گیا۔ اس لیے ملحدین درست طرز پر فلسفیانہ غور و…

اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (قسط 4)

اب تک کی تحقیق کی مطابق بلیک ہول کا ظہور ممکن ہے، لازم نہیں ہے۔ ابھی تک بلیک ہول صرف امکان کا نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے کچھ شواہد موجود ہیں، مگر ان کی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ یقینی کہے جاسکیں۔ ان مشاہدات کی تعبیر دوسرے طریقوں سے بھی ہو…

اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (قسط 3)

انسانی دنیا میں اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے کہ ایک گاؤں میں انسانوں کی آبادی ایک ہزار ہے۔ سابق مشاہدات کی بنا پر ہمارا اندازہ یہ ہے کہ اگلے پانچ سال میں اس گاؤں میں دس لوگوں کا انتقال ہو جائے گا، مگر وہ کون سے دس ہوں گے؟ یہ ہم نہیں بتا…

اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (قسط 2)

نیوٹن کا کہنا یہ ہے کہ جو روشنی ہم دیکھ رہے ہیں وہ بھی ذرّات ہی پر مشتمل ہے۔ اس کے خواص کو اس تصور کے تناظر میں بیان کیا جا سکتا ہے، مثلاً سیدھی لائن میں روشنی کا چلنا۔ اس خصوصیت کی توجیہ کے لیے ہم ذرات کی خاصیتوں کو کافی سمجھتے ہیں۔ ذرات…

اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (قسط 1)

1900ء میں ایک صدی ختم ہو رہی تھی اور بیسویں صدی شروع ہو رہی تھی۔اس وقت پلینک نے اپنے نظریات ابتدائی شکل میں پیش کیے۔ اس کے ایک چوتھائی صدی بعد تین اہم شخصیات نے اس نظریے کی مربوط تشریح کی، اس میں اہم اضافے کیے اور اس کی تفصیل بیان کی۔ یہ…

علم: ماہیت اور ذرائع

اسلام نے علم اور تزکیہ کا ذکر ساتھ ساتھ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسان کو علم دینا چاہتا ہے مگر اس طرح دینا چاہتا ہے کہ اس کا تزکیہ بھی ہوتا رہے۔ اس بات کو دوسرے طریقے سے اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان کا تزکیہ کرنا چاہتا ہے مگر اس…

سماجی و سیاسی اصلاح کی دینی اساس

ہمارے ملک کا معاشرہ متعدد اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہے۔ خیانت و بددیانتی، اباحیت پسندی اور بے راہ روی، اوہام پرستی و تنگ نظری، حرص و ہوس اور مادہ پرستی جیسے سنگین امراض کے علاوہ کمزور افراد و طبقات پر ظلم و ستم اور اُن کا استحصال آج کے سماج…

عالمِ اسلام کا مستقبل اور تحریکِ اسلامی

اُمتِ مسلمہ بھی ایک انسانی گروہ ہے۔ اس کی رہنمائی کافریضہ، تحریک اسلامی کے سپرد ہے۔ چنانچہ تحریکِ اسلامی کو اپنے اندر بلند حوصلگی اور عالی ظرفی کی صفات پیدا کرنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر کا مستند فہم،…

مسلمانوں کا سیاسی رویّہ

 مسلمانوں کے سامنے وہ سوال دوبارہ اُبھر کرآگیا ہے جو آزادیِ مُلک کے بعد مسلسل اُن کے سامنے رہا ہے یعنی یہ کہ ہندوستان میں اُن کا سیاسی رویّہ کیا ہوناچاہئے؟ گرچہ اِس سوال کا یہ جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور دیا بھی گیا ہے کہ مسلمانوں کو…

چیلنج کا اِدراک، سمتِ سفر کا شعور اور تجدیدِ عہد

 ہمارے ملک میں پائے جانے والے حالات کی مجموعی کیفیت کا ایک رخ افکار ونظریات ہیں۔ جہاں تک عام سماج کا تعلق ہے وہ شرک سے متأثر ہے نظامِ تعلیم پر بھی دیومالائی اثرات پائے جاتے ہیں لیکن نظامِ قانون وسیاست میں مغربی افکار کا رنگ نمایاں ہے۔…

انسانی آزادی کا تحفظ

آزادی کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ دوسروں کی مرضی اُس پر نہ چلے، بلکہ وہ اپنے رجحانِ طبع کے مطابق کام کرنے اور زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہو۔ آزادی کی یہ طلب اتنی شدید ہوتی ہے کہ بسا اوقات انسان آزاد ہونے یا آزاد رہنے…

معاصر فضا اور مسلمان: ہندوستان کے سیاق میں

اسلامی مزاج مسلمانوں کو ایک تیسری راہ دکھاتا ہے۔ بجائے اِس کے کہ مسلمان اس دنیا سے بے تعلق ہو جائیں یا پھر غلامانہ ذہنیت کے ساتھ سیکولر دنیا کے مقتدی بن جائیں، اُن کو اِس دنیا کو بدلنے کا عزم لے کر اُٹھنا چاہیے۔ اِس راہ کا پہلا قدم یہ ہے کہ…

جارحانہ قوم پرستی: ایک تجزیہ

ہمارے ملک میں جارحانہ قوم پرستی کی ایک طاقتور تحریک موجود ہے، جو اپنے کو ہندوتو کا علمبردار کہتی ہے۔ اس تحریک کا خاص نشانہ مسلمان ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں میں مُلک میں ایسے واقعات پے درپے پیش آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہندوتو کے علمبرداروں نے…

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے…

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی…

کثرتیت اور اقامت دین

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں اور انسانی گروہوں کے درمیان گوناگوں نوعیتوں کے اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ یہ تنوع (Diversity) ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کثرتیت کی اصطلاح کبھی کبھی اِس واقعے کے بیان کے لیے استعمال کی…

عالمی حالات کا چیلنج اور اُمتِ مسلمہ

حالات کا مقابلہ امتِ مسلمہ کو کرنا ہے۔ چنانچہ امت مسلمہ کے بارے میں بھی چند بنیادی باتیں ہمارے ذہن میں رہنی چاہییں ۔ ایک بات یہ کہ یہ امت کسی ایک ملک میں محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے وابستہ افراد کسی ایک زبان کے…

شخصیتِ انسانی کا امتیاز

انسانی شخصیت  کے بارے میں غور کرنے والے اس امر پر تو متفق ہیں کہ انسان محض طبعی اور جسمانی وجود نہیں ہے، بلکہ اس کی شخصیت، مادّی سطح سے بالاتر واقع ہوئی ہے۔ البتہ اس امر میں اُن میں اختلاف ہے کہ انسانی وجود کے ان اعلیٰ اور بلند تر پہلوؤں…

منصفانہ عالمی نظام اور نبوی رہنمائی

تاریخ کے موجودہ مرحلے میں استعماری طاقتیں نئے عالمی نظام کے علمبردار کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ عالم گیر ہونے کے باوجود، استعماری منصوبوں کا خادم یہ نظام — عام انسانوں کو انصاف فراہم نہیں کرتا بلکہ ان کی محرومی  میں…

استعمار: قدیم محرکات جدید قالب

استعمار کی جو شکل موجودہ ٹکنالوجی کے دور سے پہلے دنیا میں پائی جاتی تھی وہ نوآبادیت (Colonialism) تھی۔ یوروپ کامذکورہ بالا استعمار نوآبادیت ہی کی نوعیت رکھتاہے۔ نوآبادیت کے معنی یہ ہیں کہ کسی قوم پر براہِ راست فوجی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل…

مغربی سائنس اور فلسفہ الحاد

مغربی سائنس نے (سائنس کے موضوعات کے سیاق میں ) عالمِ غیب کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح شعورِ حیات کے مستقل وجود کا (جو محض مادے کی کسی خاص کیفیت کا نام نہیں ہے) ادراک نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے حیات اور مظاہرِ حیات کی موزونیت اور ان کے اندر…

موجودہ نظامِ تعلیم کے مضر اثرات کا مقابلہ

ہندوستانی سماج میں مسلمانوں کو اور بعض اور طبقات کو امتیازی سلوک اور تعصب سے واسطہ پیش آتا ہے۔ زندگی کے دوسرے دائروں کی طرح تعلیمی ادارے بھی اس متعصبانہ ذہنیت سے متاثر ہوئے ہیں چنانچہ مسلمان اساتذہ اور طلباء اور اسی طرح بعض محروم طبقات کے…

نیشنلزم  اور اس کے مطالبات 

یہ نیشن کے ساتھ فطری محبت سے متعلق ہے۔ آدمی کو اپنے ملک سے محبت ہوتی ہے، اس محبت کو تعظیم کے درجہ تک لے جانا، بے اعتدالی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمیں اپنے محلے سے محبت ہے۔  اپنے محلے سے پرانی دلی جائیں تو محلے کی یاد آتی ہے، دلی سے دوسرے صوبے کیرل…

پیغامِ حق کی ترسیل

اِنسانوں تک ہدایت اِلٰہی کی ترسیل کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور قرار پاتے ہیں۔  پہلا دور حضرت آدم علیہ السلام سےشروع ہوکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتا ہے۔  تاریخ کے اس مرحلے میں اِنسانوں تک اُن کے خالق ومالک کی ہدایت، اُس…

عصرِ حاضر کا مزاج اور اسلوبِ دعوت

داعیانِ حق کو بے یقینی کی اِس فضا کوبدلنا ہے اورعصرِ حاضر کے اِنسان کو پھر یقین کی کیفیت سے لذت آشنا کرنا ہے ۔ اسوۂ نبوی کی روشنی میں اس کے لیے چند امور کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں پہلا قدم اللہ اوراس کے رسول پر اعتماد کی تلقین ہے ۔…

اُمتِ مسلمہ: زوال سے عروج کی جانب

اُمتِ مسلمہ کے اہلِ فکر و نظر ہمیشہ اُمت کو خود احتسابی کی  طرف متوجہ کرتے رہے ہیں ۔ اپنی تاریخ کے دوران جب بھی اُمت زوال سے دوچار ہوتی نظر آئی ہے، اہلِ علم نے زوال کے اسباب جاننے کی کوشش کی ہے اور اُمت کی دوبارہ عروج کی طرف پیش رفت کی…

نظامِ تعلیم: موجودسے مطلوب کی جانب

اسلامی نقطہ نظر کے مطابق مطلوب نظامِ تعلیم وہ ہے جو تعلیم کے جملہ مقاصد کو پورا کرے یعنی — درست معلومات کی فراہمی، طلباء کی صلاحیتوں کی نشوونما، جامع شخصیت کی تعمیراور اخلاقی اقدار کی ترویج  اس سیاق میں، تربیت کو تعلیم سے جدا نہیں کیا…

آزادی عمل اور آزادی انتخاب!

یہ اِسلام کا کارنامہ ہے کہ وہ فرد کی آزادی کو محفوظ رکھتے ہوئے اُسے معاشرہ کا کارآمد جُز بناتا ہے۔ باطل سے سمجھوتہ کیے بغیر، معاشرے سے مثبت تعلق کی استواری کا ڈھنگ اِسلام نے سکھایا ہے۔ ریاست کے ظلم کا ساتھ دیے بغیر نظم وضبط کی برقراری کا…

اخلاقی حِس، سماجی روایت اور حق پرستی

انسانی شخصیت کی درست معرفت کے لیے اُس کی ماہیت سے متعلق دو اہم صداقتوں — اخلاقی حس اور آزادی انتخاب — کا ادراک ضروری ہے۔ ان میں سے پہلی صداقت کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہر انسان صالح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ فطری طور پر ہر انسان کا وجدان اس…

دعوت و جہاد اور اسوۂ نبوی

یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ ’’جہاد، دفاعی ہے یا اقدامی؟‘‘ یہ سوال چونکہ نامکمل شکل میں کیا جاتا ہے اس لیے مغالطہ آمیز ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ ایمان لانے والوں کا کام حق پر خود عمل کرنا اور دنیا کے سامنے حق کا اظہار کرنا ہے تاکہ ہدایت کے…