ڈاکٹر محمد رفعت

ڈاکٹر محمد رفعت
مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

حالات وظروف کا تنوع اور دعوت اسلامی

یہ واقعہ ہے کہ جب حالات و ظروف بدلتے ہیں  تو نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں ۔ کسی ایک زمانے میں  بھی خطہ ارضی پر رہنے والے مختلف انسانی گروہوں  کے حالات یکساں  نہیں  ہوتے چنانچہ ان سے دعوتی مخاطبت میں  اس تنوع کا لحاظ ضروری ہے۔ اسی طرح زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ٹکنالوجی، وسائل کے استعمال کے طریقوں  اور ابلاغ کے ذرائع میں  تبدیلی آتی ہے۔ انسانوں  سے خطاب کرنے کے اسلوب پر اس تبدیلی کا اثر پڑنا لازمی ہے۔ خارج کی ان تبدیلیوں  کے علاوہ انسانی گروہوں  کے مزاج اور نفسیات میں  پائے جانے والے تنوع اور اُن کے داخل کی دنیا میں  واقع ہونے والے تغیرات کو بھی نظر انداز نہیں  کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

معاصر دنیا اور دعوت اسلامی

 کار دعوت سے متعلق ہر کارکن جانتا ہے کہ یہ کام بڑا وسیع ہے۔ اس کام کا بنیادی ذریعہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ ہماری مجلسوں میں اس کی بار بار یاد دہانی بھی ہمیں کرائی جاتی رہی ہے یعنی انسانوں سے انفرادی ربط اور گفتگو ہے۔ ہندوستان کروڑوں کی آبادی کا ملک ہے۔ یہاں ہر سطح کے لوگ آباد ہیں ۔ ذہنی صلاحیت، فکری پس منظر اور رجحانات کے اعتبار سے بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔یہ ساری آبادی جدید نظریات و فلسفوں سے واقفیت یا ان سے متأثر نہیں ہے۔ البتہ تعلیم یافتہ طبقے پر ان نظریات کا اثر پڑا ہے۔ ملک کے کار فرما عناصر، جن کا تعلق حکومت اور پالیسی سازی سے ہے اور جو ذرائع ابلاغ کی دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، وقت کے غالب فکری رجحانات سے متأثر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اقامت دین ہندوستان میں: معنویت اور تقاضے!

رجحانات کی کش مکش کے اس ماحول میں امت مسلمہ کو دین کی اقامت کا فریضہ انجام دینا ہے۔ اس کے لیے مسلم مزاج کی تربیت ضروری ہے۔مسلمان اس وقت ہندتو کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ یہ تشویش بجا ہے۔ ہندتو کے مقابلے میں کمیونسٹ اور امبیدکر وادی حلقوں کے بارے میں مسلمان خوش گمان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے تشخص کی حفاظت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ان سیاسی طاقتوں سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ چناں چہ مسلمانوں کے درمیان بحث اور گفتگو اس موضوع پر ہوتی ہے کہ ان رجحانات میں کس کا ساتھ دیا جائے؟ مسلمان عوام اور ان کی سیاسی قیادت نے اب تک اس انداز سے سوچنا شروع نہیں کیا ہے کہ ان مختلف قوتوں پر انحصار (Dependence) اور ان سے سودا چکانے (Bargaining) کے بجائے کوئی اور راستہ بھی ہوسکتا ہے، جو مسلمانوں کے شایانِ شان ہو اور جس پر چل کر وہ نہ صرف اپنے تشخص کی حفاطت کرسکیں ، نیز اپنے مسائل حل کرسکیں ، بلکہ اپنے فرضِ منصبی کو بھی انجام دے سکیں ۔

مزید پڑھیں >>