ڈاکٹر محمد رفعت

ڈاکٹر محمد رفعت
مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان آبادیوں کے مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی وہ سیاسی پارٹیوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اس سلسلے میں پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ یہ سارا طریقِ کار اسلامی اجتماعیت کی جڑ کاٹ دینے والا ہے اور اس رویے کو جاری رکھتے ہوئے نہ کبھی کوئی مسلمان قیادت ابھر سکتی ہے، نہ مسلمان منظم ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی خاکہ پیش کیا جس میں ترتیب کے ساتھ اُن اقدامات کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے علوم کی تدوین کا کام انجام پاسکتا تھا۔ ان اقدامات میں آخری اقدام نصابی کتب کی تیاری کا تھا۔ اس پورے اندازِ فکر میں عجلت پسندی جھلکتی ہے۔ سوچا یہ گیا کہ ایک مرتبہ نصابی کتب مرتب ہوجائیں تو گویا تدوینِ علوم کا کام مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد محض ان کتابوں کاپڑھنا پڑھانا کافی ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نئے خطوط پر علمی ارتقاء پیشِ نظر ہو تو آدمی کے ذہن میں آغازِ کار کے طورپر نصابی کتب تیار کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ کرے گا۔

مزید پڑھیں >>

کثرتیت اور اقامت دین

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں اور انسانی گروہوں کے درمیان گوناگوں نوعیتوں کے اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ یہ تنوع (Diversity) ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کثرتیت کی اصطلاح کبھی کبھی اِس واقعے کے بیان کے لیے استعمال کی جاتی ہے مثلاً جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ’’ہندوستان کا سماج Plural (یعنی کثرتیت کا حامل) ہے‘‘ تو وہ اس واقعے کا ذکر کرتا ہے کہ ہندوستان کے رہنے والے رنگ ونسل، علاقہ وزبان اور عقیدہ ومذہب وغیرہ کے اعتبار سے یکساں نہیں ہیں بلکہ ان سب پہلوئوں سے ان کے درمیان نمایاں فرق پایاجاتا ہے۔ اس تنوع کو بطور واقعہ ہر شخص تسلیم کرے گا، جو حقائق کا انکار نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کثرتیت کی اصطلاح محض ایک حقیقی صورتحال کی عکاسی کے لئے استعمال کی جائے (جو فی الواقع موجود ہے) تو اِس اصطلاح پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’عرب کا بیشتر حصہ ریگستان ہے‘‘ اور اُس کا یہ قول محض ایک حقیقت کا اظہار ہے تو وہ اسی طرح یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں ملک کا سماج Plural (کثرتیت کا حامل) ہے اور یہ بھی محض ایک حقیقت کا اظہار ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

عالمی حالات کا چیلنج اور اُمتِ مسلمہ

حالات کا مقابلہ امتِ مسلمہ کو کرنا ہے۔ چنانچہ امت مسلمہ کے بارے میں بھی چند بنیادی باتیں ہمارے ذہن میں رہنی چاہییں ۔ ایک بات یہ کہ یہ امت کسی ایک ملک میں محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے وابستہ افراد کسی ایک زبان کے بولنے والے یا ایک علاقے کے باشندے نہیں ہیں ، بلکہ مختلف زبانوں کے بولنے والے اور مختلف علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان دیگر جغرافیائی اختلافات موجود ہیں ۔ جس چیز نے ان سب کو جمع کیاہے وہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ امت مسلمہ کے بارے میں غور کرتے ہوئے پوری امت کو سامنے رکھنا چاہیے، چاہے کسی ایک ملک کے مسلمانوں کے امور زیربحث ہوں۔ اس لیے کہ امت کا ہر حصہ دوسرے حصے کو متاثر کرتا ہےمسلمانوں کے حالات میں جو تبدیلی آتی ہے، اچھی ہو یا بری، اس میں کچھ نہ کچھ رول امت کے ہر حصے کا ہوتاہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ امت جس طرح ملکوں اور علاقوں میں بٹی ہوئی امت نہیں ہے۔ اسی طرح زمانے کے لحاظ سے بھی بٹی ہوئی نہیں ہے، پچھلے زمانے میں بہت سے صالحین اللہ کے دین پر عمل کرتے تھے۔اسی طرح آئندہ بھی اہلِ ایمان دین پر عمل کریں گے۔

مزید پڑھیں >>

شخصیتِ انسانی کا امتیاز

انسانی شخصیت  کے بارے میں غور کرنے والے اس امر پر تو متفق ہیں کہ انسان محض طبعی اور جسمانی وجود نہیں ہے، بلکہ اس کی شخصیت، مادّی سطح سے بالاتر واقع ہوئی ہے۔ البتہ اس امر میں اُن میں اختلاف ہے کہ انسانی وجود کے ان اعلیٰ اور بلند تر پہلوؤں کی صحیح تعبیر کیا ہے۔ انسان کی ماہیت کے بارے میں سوچنے والوں میں جو افراد، انکارِ غیب کا رجحان رکھتے ہیں وہ انسانی شخصیت کے طبعی اور مادّی پہلوؤں کے علاوہ عموماً  صرف یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ انسان غور وفکر اور تجزیے کی صلاحیت رکھتا ہے، ادراک و شعور کی لطیف قوتوں سے بہرہ ور ہے اور اس کے اندر جمالیاتی حس پائی جاتی ہے لیکن اس سطح سے آگے، وہ انسان کے اندر مادّی خصوصیات سے بالاتر، کسی وصف کی شناخت سے قاصر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

منصفانہ عالمی نظام اور نبوی رہنمائی

تاریخ کے موجودہ مرحلے میں استعماری طاقتیں نئے عالمی نظام کے علمبردار کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ عالم گیر ہونے کے باوجود، استعماری منصوبوں کا خادم یہ نظام — عام انسانوں کو انصاف فراہم نہیں کرتا بلکہ ان کی محرومی  میں اضافہ کرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ استعماری نظام سے نجات پانےکے لیے انسانوں کا ہدایتِ الٰہی کی طرف مخلصانہ رجوع ناگزیر ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسانوں کو ان کے خالق و مالک کی ہدایت، ان برگزیدہ بندگانِ خدا کے ذریعے سے ملتی رہی ہے، جن کو انبیاء اور رُسل کہا جاتا ہے۔ الٰہی ہدایت پر مبنی نظام کی بنیادی صفت عدل اور تمام انسانوں کے حقوق کا احترام ہے (اور اس کے برعکس استعماری نظام کا بنیادی وصف، انسانوں کا استحصال ہے)۔ انبیاء و رسل کے سلسلے کی آخری کڑی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی آمد سے تاریخ کے اس مرحلے کا آغاز ہوتا ہے، جس میں منصفانہ عالمی نظام کا قیام ممکن بھی ہے اور ضروری بھی ۔

مزید پڑھیں >>

استعمار: قدیم محرکات جدید قالب

استعمار کی جو شکل موجودہ ٹکنالوجی کے دور سے پہلے دنیا میں پائی جاتی تھی وہ نوآبادیت (Colonialism) تھی۔ یوروپ کامذکورہ بالا استعمار نوآبادیت ہی کی نوعیت رکھتاہے۔ نوآبادیت کے معنی یہ ہیں کہ کسی قوم پر براہِ راست فوجی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل کرلیاجائے اور  اُسے غلام بنالیا جائے۔ قدیم تاریخ میں طاقتور  بادشاہوں کی ملک گیری اِسی استعمار کی ایک قِسم ہے۔ نوآبادیت کاردّعمل ہمیشہ آزادی کی تحریکات کی شکل میں ہواہے۔ یوروپ کے استعمار سے نجات پانے کے لیے ایشیا اور افریقہ کے ہر ملک میں آزادی کی تحریکیں برپا ہوئیں ۔ ان تحریکوں نے مسلح بغاوت کی شکل بھی اختیارکی لیکن اکثر صورتوں میں مسلح بغاوتیں یوروپ کی بالاتر فوجی طاقت کے مقابلے میں کامیاب نہ ہوسکیں ۔ البتہ جب جنگ عظیم اوّل و دوم کے نتیجے میں یوروپ کی استعماری طاقتیں کمزور ہوگئیں تو انہیں مجبوراً آزادی کے عوامی مطالبے کے آگے جھکنا پڑا جو پُرامن تحریکات کی شکل میں سامنے آچکا تھا۔ عوامی ردِعمل کی یہ لہر اُس اِنسانی  جذبے کی غمّازی کرتی ہے جو ہر قوم میں اپنی آزادی کے حصول اور اُس کے استقلال کے لیے پایاجاتا ہے۔ فوجی جبر اور طاقت اِس اِنسانی جذبے کو وقتی طورپر دباتو سکتی ہے لیکن ختم نہیں کرسکتی۔

مزید پڑھیں >>

مغربی سائنس اور فلسفہ الحاد

مغربی سائنس نے (سائنس کے موضوعات کے سیاق میں ) عالمِ غیب کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح شعورِ حیات کے مستقل وجود کا (جو محض مادے کی کسی خاص کیفیت کا نام نہیں ہے) ادراک نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے حیات اور مظاہرِ حیات کی موزونیت اور ان کے اندر پائے جانے والے حسن و تناسب کی کوئی تشریح نہیں ہوپاتی۔ مغربی سائنس نے اس توجیہ کے لیے نظریہ ارتقاء کو پیش کیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں ڈارون نے اس نظریے کی ابتدائی شکل بیان کی۔ پھر بعد کے محققین نے اس میں اہم اضافے کیے۔ ہاکنگ جیسا ذہین ناقد بھی ارتقاء کا قائل ہے اور ارتقاء کا نظریہ، الحاد کے فلسفے کے لیے سہارے کا کام کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

موجودہ نظامِ تعلیم کے مضر اثرات کا مقابلہ

ہندوستانی سماج میں مسلمانوں کو اور بعض اور طبقات کو امتیازی سلوک اور تعصب سے واسطہ پیش آتا ہے۔ زندگی کے دوسرے دائروں کی طرح تعلیمی ادارے بھی اس متعصبانہ ذہنیت سے متاثر ہوئے ہیں چنانچہ مسلمان اساتذہ اور طلباء اور اسی طرح بعض محروم طبقات کے اساتذہ اور طلباء امتیازی برتاؤ کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس نوع کی زیادتی کے شکار افراد بھی مدد کے مستحق ہیں۔ زیادتیوں کا سلسلہ، بسا اوقات، تعلیمی ادارے میں داخلے کے مرحلے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ باوجود اہلیت کے اور داخلے کی شرائط کی تکمیل کے، بعض طلباء، بلا وجہ داخلے سے محروم رکھے جاتے ہیں اور حصولِ تعلیم کا موقع اُن سے چھین لیا جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ضابطے کی حد تک محرومین کے لیے داخلے کی نشستیں محفوظ (Reserve)ہوتی ہیں لیکن عملاً ان نشستوں پر اُن کو (مختلف بہانوں کے ذریعے) داخلہ نہیں دیاجاتا۔ اس طرح کی تمام زیادتیوں کا نوٹس لینا ضروری ہے اور ان کے مقابلے کے لیے یونین، عدالت اور خیرپسند عناصر کو متحرک کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

نیشنلزم  اور اس کے مطالبات 

یہ نیشن کے ساتھ فطری محبت سے متعلق ہے۔ آدمی کو اپنے ملک سے محبت ہوتی ہے، اس محبت کو تعظیم کے درجہ تک لے جانا، بے اعتدالی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمیں اپنے محلے سے محبت ہے۔  اپنے محلے سے پرانی دلی جائیں تو محلے کی یاد آتی ہے، دلی سے دوسرے صوبے کیرل چلے جائیں تو دلی کی یاد آئے گی۔ ہندوستان سے ایران چلے جائیں تو ہندوستان یاد آئے گا۔ یہ کوئی غیر فطری کیفیت نہیں بلکہ ایک فطری بات ہے اور یہ کوئی بری بات نہیں ۔ یہ نہ ہو تو عجیب بات ہوگی ۔ اپنے محلے سے محبت ، اپنے ملک سے محبت ، یہ سب فطری جذبات ہیں ، لیکن اس فطری جذبے کو تعظیم تک پہنچانا، مثلاً گنگا جمنا کی توصیف کے گیت گانا، ہمالیہ کی عظمت بیان کرنا، بے اعتدالی ہے۔ عظمت تو خدا کی ہے نہ کہ مخلوق کی۔ پھر تعظیم تک یہ لے نہیں رکتی، تعظیم سے بڑھ کر مثلاً ہمالیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا، پھر عقیدت سے آگے بڑھ کر عبادت ہونے لگتی ہے، مثلاً وندے ماترم گانے والے ملک کو دیوی کا روپ دینا چاہتے ہیں ۔ تو نیشنلزم کا پہلا غیر معقول مطالبہ یہ ہے کہ وطن کی محبت کا جذبہ آگے بڑھ کر تعظیم بنے، پھر عبادت بن جائے۔

مزید پڑھیں >>