ڈاکٹر محمد رفعت

ڈاکٹر محمد رفعت
مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

سماجی و سیاسی اصلاح کی دینی اساس

ہمارے ملک کا معاشرہ متعدد اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہے۔ خیانت و بددیانتی، اباحیت پسندی اور بے راہ روی، اوہام پرستی و تنگ نظری، حرص و ہوس اور مادہ پرستی جیسے سنگین امراض کے علاوہ کمزور افراد و طبقات پر ظلم و ستم اور اُن کا استحصال آج کے سماج کی عام روش ہے۔ سماج سے ہٹ کر سیاسی نظام پر نظر ڈالی جائے تب بھی اطمینان کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ سیاسی نظام میں ایسی بنیادی خرابیاں موجود ہیں، جنھوں نے اس کو خیروفلاح کے بجائے شر اور فساد کا خادم بنادیا ہے۔ غیر منصفانہ قوانین، غیر معتدل پالیسیاں، قانون کے نفاذ میں جانب داری، طاقتور عناصر کی قانون کی گرفت سے آزادی، حقوقِ انسانی کی پامالی اور جرائم پیشہ وسرمایہ دار طبقے کی مطلق العنانی موجودہ سیاسی نظام کی چند نمایاں خصوصیات ہیں۔ اس صورتحال میں امتِ مسلمہ کے اُس جز کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، جس کا وطن ہندوستان ہے۔ امتِ مسلمہ کی مجموعی حیثیت یہ ہے کہ اُس کو پورے انسانی معاشرے کی عام اصلاح کے لیے برپا کیا گیا ہے۔ چنانچہ امت کا کوئی حصہ جو دنیا کے کسی خاص خطے میں رہتا ہو، اُس کو بالخصوص اُس خطے کے اندر اپنی اصلاحی کوششیں انجام دینی ہوں گی۔ یہ اُس کا فطری دائرہ کار ہے۔

مزید پڑھیں >>

عالمِ اسلام کا مستقبل اور تحریکِ اسلامی

اُمتِ مسلمہ بھی ایک انسانی گروہ ہے۔ اس کی رہنمائی کافریضہ، تحریک اسلامی کے سپرد ہے۔ چنانچہ تحریکِ اسلامی کو اپنے اندر بلند حوصلگی اور عالی ظرفی کی صفات پیدا کرنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر کا مستند فہم، علمبردارانِ تحریک کو حاصل ہو اور وہ حالات کا تجزیہ اس فہم کی روشنی میں کرسکیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج امتِ مسلمہ مختلف عصبیتوں کا شکار ہے، جو قومی و وطنی بھی ہیں ، قبائلی اور نسلی بھی اور مسلکی، فرقی و جماعتی بھی۔ ان حالات میں تحریکِ اسلامی کا ایک اہم کام یہ ہے کہ عصبیتوں سے مسلمانوں کو نجات دلائے، جائز اختلافات کو عصبیت بننے سے روکے اور دین کی بنیاد پر مسلمانوں کو یک جہتی، اتحاد، اجتماعیت اور اشتراکِ عمل پر آمادہ کرے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے یہ بہرحال ناگزیر ہے کہ تحریکِ اسلامی خود اپنے بارے میں چوکنّی رہے اور اپنے دامن کو کسی عصبیت سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کا مقام تقاضا کرتا ہے کہ قرآن و سنت فی الواقع اس کی اساسِ کار ہوں، اُن کے دائرے کے اندر وہ تمام اہلِ ایمان کا یہ حق تسلیم کرے کہ وہ اخلاص کے ساتھ، علم کی روشنی میں قرآن و سنت کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں۔ تحریکِ اسلامی کو ایسے رویے سے اجتناب کرنا چاہیے، جو اُسے ایک مسلک یا محدود مکتبِ فکر بنادے۔ اس کے دامن میں وہی وسعت ہونی چاہیے جو خود اسلام کے آفاقی تصور میں پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کا سیاسی رویّہ

 مسلمانوں کے سامنے وہ سوال دوبارہ اُبھر کرآگیا ہے جو آزادیِ مُلک کے بعد مسلسل اُن کے سامنے رہا ہے یعنی یہ کہ ہندوستان میں اُن کا سیاسی رویّہ کیا ہوناچاہئے؟ گرچہ اِس سوال کا یہ جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور دیا بھی گیا ہے کہ مسلمانوں کو ’بحیثیت مسلمان‘ مُلکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی رائے عامّہ کو یہ جواب مطمئن نہیں کرتا۔ بجا طور پر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ سیاست پر اثر انداز ہوناضروری ہے اِس لیے کہ سیاست اور سیاسی نظام کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اِس احساس کو درست تسلیم کرنے کے بعد دواہم سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاست کو متاثر کرنے کی کوشش کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں ۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے حالات کے ساتھ موجودہ نظام کی نوعیت اور خود مسلمانوں کی حیثیت کو سمجھنا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

چیلنج کا اِدراک، سمتِ سفر کا شعور اور تجدیدِ عہد

 ہمارے ملک میں پائے جانے والے حالات کی مجموعی کیفیت کا ایک رخ افکار ونظریات ہیں۔ جہاں تک عام سماج کا تعلق ہے وہ شرک سے متأثر ہے نظامِ تعلیم پر بھی دیومالائی اثرات پائے جاتے ہیں لیکن نظامِ قانون وسیاست میں مغربی افکار کا رنگ نمایاں ہے۔ ذرائع ابلاغ میں کیفیت ملی جلی ہے، مشرکا نہ تصورات کے اثرات بھی محسوس ہوتے ہیں اورمغربی افکار کے بھی، ان کے درمیان فطری طورپر تصادم پایا جاتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کے لیے شرک بھی ناقابل قبول ہے اور مغربی مادیت بھی۔ حکمت، صبر اور استدلال کے ساتھ شرک اور مادی افکار کی تردید اور ان کے بالمقابل تو حید اور وحدتِ بنی آدم کی جانب دعوت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ حالات نے اس ذمہ داری کی ادائیگی کو اور زیادہ ضروری بنادیا ہے۔ اسلام اور مسلم مخالف پروپیگنڈے کے باوجود حق کی دعوت کو عام کرنے کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ بلکہ بعض ذہنوں کو خود منفی پروپیگنڈے نے اسلام کی جانب متوجہ کیا ہے۔ دعوتِ حق کا کام سنجیدگی، منصوبہ بندی اور محنت کا طالب ہے۔ حالات کے اندر صحت مند تبدیلی لانے میں بنیادی رول دعوت کا ہے۔ اس سے غفلت برتی جائے تو کوئی اور کام اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

انسانی آزادی کا تحفظ

آزادی کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ دوسروں کی مرضی اُس پر نہ چلے، بلکہ وہ اپنے رجحانِ طبع کے مطابق کام کرنے اور زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہو۔ آزادی کی یہ طلب اتنی شدید ہوتی ہے کہ بسا اوقات انسان آزاد ہونے یا آزاد رہنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ آزادی کی اس طلب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد عملاً آزادی سے محروم رہتی ہے۔ اس صورتِ حال کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ انسانوں کے درمیان ایسے افراد کی موجودگی ہے جو دوسروں پر اپنی مرضی چلانا چاہتے ہیں اور طاقت، تحریص یا فریب کے ذریعے اُن کی آزادی سلب کرلیتے ہیں۔ ایسے افراد کو یہ گوارا نہیں ہوتا کہ دوسرے انسان اُن کے مساوی ہوجائیں بلکہ وہ اُن کے سر اپنے آگے جھکانا چاہتے ہیں۔ ان متکبرین کی موجودگی کے علاوہ انسانوں کی آزادی سے محرومی کی ایک دوسری وجہ بھی ہے، جس کا تعلق انسانی زندگی کے اجتماعی پہلو سے ہے۔ ہر انسان اپنا انفرادی وجود یقیناً رکھتا ہے لیکن زندگی بہرحال وہ تنہا نہیں گزارتا بلکہ اس کی فطرت اور اس کی ضروریات دونوں اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ اجتماعی زندگی گزارے اور اجتماعی اداروں سے تعلق رکھے۔ ہوتا یہ ہے کہ بسا اوقات یہ اجتماعی ادارے انسان کی آزادی سلب کرلیتے ہیں اور اسے حریتِ فکر و عمل سے محروم کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

معاصر فضا اور مسلمان: ہندوستان کے سیاق میں

اسلامی مزاج مسلمانوں کو ایک تیسری راہ دکھاتا ہے۔ بجائے اِس کے کہ مسلمان اس دنیا سے بے تعلق ہو جائیں یا پھر غلامانہ ذہنیت کے ساتھ سیکولر دنیا کے مقتدی بن جائیں، اُن کو اِس دنیا کو بدلنے کا عزم لے کر اُٹھنا چاہیے۔ اِس راہ کا پہلا قدم یہ ہے کہ مسلمان، جدید دنیا کا مرعوبیت کے ساتھ مطالعہ کرنے کے بجائے اُس کے افکار واقدار پر‘ اِسلامی بصیرت کی روشنی میں، تنقیدی نگاہ ڈالیں۔ سیکولر دنیا کے تصورکائنات اوراقدار کی نشاندہی کرکے اُن کی علمی تردید کریں اور اِس طرح باطل کی ذہنی غلامی سے خود بھی آزادی حاصل کریں اور دنیا کو بھی آزاد کرائیں۔ مرعوبیت سے ذہن آزاد ہوں گے تو مسلمانوں کے لیے اپنے آپ کو پہچاننا ممکن ہوجائے گا اور جس دین سے وہ جذباتی لگائو رکھتے ہیں، اُس پر اُن کو عقلی اطمینان بھی حاصل ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

جارحانہ قوم پرستی: ایک تجزیہ

ہمارے ملک میں جارحانہ قوم پرستی کی ایک طاقتور تحریک موجود ہے، جو اپنے کو ہندوتو کا علمبردار کہتی ہے۔ اس تحریک کا خاص نشانہ مسلمان ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں میں مُلک میں ایسے واقعات پے درپے پیش آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہندوتو کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے جان و مال اور اسلامی شعائر پر یلغار کردی ہے۔ حکومت کی مشنری یا تو خاموش تماشائی ہے یا ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلمانوں کو اور منصف مزاج اہلِ مُلک کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ سوال در پیش ہے۔جارحانہ قوم پرستی کے رجحان کے علمبردار ترقی کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن یہ بات اب تک واضح نہیں ہے کہ پورے ملک کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے لیے وہ کیا حل پیش کرتے ہیں ؟ البتہ مسلمانوں سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے عقائد، شعائر، تہذیب اور ثقافت سے دستبردار ہوجائیں اور اکثریت کے  کلچر میں جذب ہوجائیں۔ غالباً یہی ہندوتو کی کُل حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ عوام کے لیے یا ملک کے لیے کوئی مثبت پروگرام انھوں نے پیش نہیں کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان آبادیوں کے مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی وہ سیاسی پارٹیوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اس سلسلے میں پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ یہ سارا طریقِ کار اسلامی اجتماعیت کی جڑ کاٹ دینے والا ہے اور اس رویے کو جاری رکھتے ہوئے نہ کبھی کوئی مسلمان قیادت ابھر سکتی ہے، نہ مسلمان منظم ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی خاکہ پیش کیا جس میں ترتیب کے ساتھ اُن اقدامات کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے علوم کی تدوین کا کام انجام پاسکتا تھا۔ ان اقدامات میں آخری اقدام نصابی کتب کی تیاری کا تھا۔ اس پورے اندازِ فکر میں عجلت پسندی جھلکتی ہے۔ سوچا یہ گیا کہ ایک مرتبہ نصابی کتب مرتب ہوجائیں تو گویا تدوینِ علوم کا کام مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد محض ان کتابوں کاپڑھنا پڑھانا کافی ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نئے خطوط پر علمی ارتقاء پیشِ نظر ہو تو آدمی کے ذہن میں آغازِ کار کے طورپر نصابی کتب تیار کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ کرے گا۔

مزید پڑھیں >>

کثرتیت اور اقامت دین

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں اور انسانی گروہوں کے درمیان گوناگوں نوعیتوں کے اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ یہ تنوع (Diversity) ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کثرتیت کی اصطلاح کبھی کبھی اِس واقعے کے بیان کے لیے استعمال کی جاتی ہے مثلاً جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ’’ہندوستان کا سماج Plural (یعنی کثرتیت کا حامل) ہے‘‘ تو وہ اس واقعے کا ذکر کرتا ہے کہ ہندوستان کے رہنے والے رنگ ونسل، علاقہ وزبان اور عقیدہ ومذہب وغیرہ کے اعتبار سے یکساں نہیں ہیں بلکہ ان سب پہلوئوں سے ان کے درمیان نمایاں فرق پایاجاتا ہے۔ اس تنوع کو بطور واقعہ ہر شخص تسلیم کرے گا، جو حقائق کا انکار نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کثرتیت کی اصطلاح محض ایک حقیقی صورتحال کی عکاسی کے لئے استعمال کی جائے (جو فی الواقع موجود ہے) تو اِس اصطلاح پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’عرب کا بیشتر حصہ ریگستان ہے‘‘ اور اُس کا یہ قول محض ایک حقیقت کا اظہار ہے تو وہ اسی طرح یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں ملک کا سماج Plural (کثرتیت کا حامل) ہے اور یہ بھی محض ایک حقیقت کا اظہار ہوگا۔

مزید پڑھیں >>