ڈاکٹرمحمد واسع ظفر

ڈاکٹرمحمد واسع ظفر
مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں ؛ اپنی جسمانی،  علمی و مالی تمامتر صلاحیتوں کو اس عظیم مقصد کی حصولیابی کے لئے استعمال کریں۔ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اس کی رضا حاصل کرنا اور دعوت دین اور  اس راہ کی جد وجہد کے ذریعہ اسلام کو زندہ اور غالب کرنے کی مستقل فکر کرنا، یہی وہ مقاصد ہیں جن کے لئے ایک مسلمان کو جینا و مرنا چاہیے اور باقی تمام مقاصدکو ان عظیم مقاصد کے تابع رکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

عہدے امانت ہیں ان میں خیانت نہ کریں!

آخرت میں صرف وہ لوگ سرخرو ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اپنے منصب اور عہدوں کو امانت سمجھ کر اس کی ذمہ داریوں کوعدل و احسان کے ساتھ انجام دیا ہوگا جو کہ آسان کام نہیں ہے اور جس نے اپنی ذمہ داریوں میں خیانت کی ہوگی وہ وہاں رسوا اور ذلیل کیا جائے گا اور جہنم اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اس لئے اول درجہ میں تو ہمیں جاہ طلبی کے مرض سے ہی چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے کہ اکثر اوقات یہ دنیا میں بھی آزمائش اور رسوائی کا سبب ہوجاتا ہے جیسا کہ آج کل عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے اور آخرت کا معاملہ تو فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کی صورت میں اور بھی سنگین ہے۔

مزید پڑھیں >>

قربانی سے آخر کیا مطلوب ہے؟

اصل قربانی تو اپنے نفس کی ہے اور جانور تو حقیقت میں ایک علامت ہے۔ ہمارے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ قربانی کرتے وقت ہم اللہ کی طرف متوجہ ہوکر اپنے دل میں یہ کہیں کہ اے میرے رب ! یہ جانور کیا چیزہے، تیرے احکام کی پاسداری ا ور دین کی سربلندی کے لئے بندہ اپنی جان، مال اور اولاد کی ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قربانی سے پیدا کرنا مطلوب ہے اوریہی وہ جذبہ تھا جس نے سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے پر آمادہ کیا اور اللہ کی طرف سے آئی اس آزمائش میں کامیاب ہونے پر ہی وہ انسانیت کی امامت کے عہدہ پر سرفراز کئے گئے۔ جس کے اندر یہ جذبہ ہوگا وہ سب سے پہلے اپنے نفس کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کے تابع کرے گاجس کے بغیر ایمان کی تکمیل ہی ممکن نہیں.

مزید پڑھیں >>

ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر

جب ہم اپنا قیمتی وقت خرچ کرتے ہی ہیں تو نمازوں کو سنوارنے کی کی بھی فکر کریں اور ائمہ کو تو اور بھی محتاط ہونا چاہیے کیوں کہ وہ خود کے علاوہ مقتدیوں کی نماز کے بھی ضامن ہیں اور ان پر مقتدیوں کے اصلاح کی ذمہ د اری بھی ہے۔ اللہ پا ک ہم سب کو عمل کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! 

مزید پڑھیں >>

کیا نماز امت مسلمہ پر صرف رمضان المبارک میں ہی فرض ہے؟

آج امّت مسلمہ کے عمل سے تمامتر حسن ظن کے باوجود یہی ظاہر ہے کہ نماز کی فرضیت صرف رمضان المبارک میں ہے حالانکہ زبان سے کوئی بھی اس کا اقرار نہیں کرے گا باوجود یکہ70۔ 80 فی صد مسلمان غیر رمضان میں نماز کو ضروری نہیں سمجھتے اور نماز ترک کر کے بھی خود کوسچا پکا مسلمان سمجھتے ہیں یعنی ان کے یہاں نماز کے بغیر بھی اسلام کا تصور ہے جو صحابہ کے یہاں نہیں تھا۔ غور کیجئے کہ ایسا اسلام جو اصحاب رسول ﷺ کے اسلام کے تصور سے مختلف ہو کہاں کام آئے گا؟

مزید پڑھیں >>

عصری تعلیم سے وابستہ افراد کے لئے علم دین کیوں ضروری ہے ؟

یوں تو علم دین ہر مسلمان کے لئے بلکہ ہر انسان کے لئے ضروری ہے کیوں کہ عقائد و اعمال کی درستگی کا انحصار علم کے اوپر ہے جس پر دنیا و آخرت کی حتمی کامیابی کا دارومدار ہے لیکن کئی وجوہات کی بنا پر راقم کا خیال یہ ہے کہ عصری تعلیم سے وابستہ افراد کے لئے علم دین کی فکر کرنازیادہ ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

علم دین کے حصول سے غفلت کیوں؟

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ چنانچہ اسلامی احکامات کے دائرہ میں صرف عقائد و عبادات ہی نہیں بلکہ معاملات، اخلاقیات، معاشرت، معیشت ( یعنی حصول رزق کے مختلف ذرائع ملازمت، تجارت، زراعت، صنعت و حرفت وغیرہ)، سیاست اور نظام عدل و انصاف بھی آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

علماء اپنی تقاریر کا انداز بدلیں!

علماء کے طرز خطاب کی اصلاح کی تجاویز دے کراس نے چھوٹا منہ بڑی بات والے مقولہ کو صادق کیا ہے لیکن اس کی نیت کسی پر تنقید یا کسی کی تنقیص کی نہیں بلکہ علماء سے عوام کو پہنچنے والے دینی فوائد کو مزید وسعت دینے کی ہے اور امید قوی ہے کہ علماء راقم کو مجبور سمجھ کر ضرور معاف فرمائیں گے لیکن اپنے روایتی بیانات سے ضرور پیچھا چھڑائیں گے۔

مزید پڑھیں >>

طلاق زحمت نہیں رحمت ہے! (آخری قسط )

روایتی تقریر کرکے و ما علینا الا البلاغ کہہ دینا تو بہت آسان ہے لیکن قوموں کی اصلاح اور انہیں امت بنانے کی فکر بہت آسان نہیں ہے۔اس کے لئے دن رات کی فکر اور تگ و دو کی ضرورت ہوتی ہے اور مجھے یقین ہے علماء ہی اس کام کو کرسکتے ہیں ۔ابھی جس ڈھنگ سے علماء عقیدہ اور مسلک سے بالاتر ہوکر اور متحد ہوکرمسلم پرسنل لاء بیداری کے لئے اٹھے ہیں یہ یقیناً قابل تعریف ہے۔

مزید پڑھیں >>