عامر ظفر قاسمی

مدیر

متکلم اسلام مولانا محمد اسلم قاسمی: حیات وخدمات 

دیوبند کو دیوبند بنانے اور دنیا میں اس کا مقام پیدا کرنے، میں جس خانوادے کے خدمات سب سے نمایاں ہیں وہ ہے خانوادہ قاسمی۔ متکلم اسلام حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی ؒ اس خانوادے کے روشن وچراغ ہیں ، آپ نے 3/ جون 1938ءکو حکیم الاسلام حضرت محمد طیب صاحبؒ کے گھر آنکھیں کھولیں۔

مزید پڑھیں >>

مولانا محمد اسلم قاسمیؒ: ایک عاشق رسول ـ تھا، نہ رہا

حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی ؒ کی رحلت، بالخصوص علم سیرت النبیﷺ کے باکمال انسان اور ایک عظیم سیرت نگار کی رحلت ہے؛ اس وفات سے دنیائے علم وعرفان میں ایک زبردست خلا پیدا ہوگیا ہے، جس کا بآسانی پر ہونا ممکن نہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے، اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین۔

مزید پڑھیں >>

اکبر الہ آبادی طنز و مزاح کی چلمن سے

 حالی، اکبراوراقبال اردوکے وہ شعراء ہیں ،جنھوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ قوم وملت کی اصلاح کی اوران کوآئینہ دکھایا۔ذہنی استعداد،بصیرت اورتخلیقیت کی بناپر ان کی شاعری کانقطۂ نظراوررنگ آہنگ الگ الگ ہے؛لیکن اس میں شک نہیں کہ تینوں نے ملک کے سماجی اورمعاشرتی مسائل کواپناموضع بنایااور فن کے تقاضوں کااحترام کرتے ہوئے تینوں کامطحِ نظر اصلاح اورفلاح تھا۔

مزید پڑھیں >>

سکون قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں

اللہ نے جس بات کی تعلیم دی ہے وہ عین فطرت انسانی کے موافق اور مطابق ہے۔ اور جن چیزوں سے گریز کرنے کی تلقین کی وہ اس سے بچنا فطرت سلیم کی ضرورت ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ ہم اور آپ اسلامی کلچر اسلامی تہذیب و ثقافت کے بغیر کسی دوسری چیز سے ذرہ برابر بھی سکون و اطمینان نہیں حاصل نہیں کر سکتے ہیں  چاہے سکون کی حصولیابی کے لئے کتنی ہی موج و مستی کر لی جائے چاہے کتنی ہی  ہنسی اور مزاق کی محفلوں میں شرکت کر لی جائے بجائے سکون کے غم اور رنج و الم ہی ملے گا۔

مزید پڑھیں >>

پتھر کا دور

 انسان کے قریبی رشتے دار مزید ''دور ''کے رشتے دار بنتے گئے,اور پڑوسی ازلی دشمن کا روپ دھار گئے۔ ایک ہی بستر پر دراز دو لوگ ہاتھوں میں فون تھامے اجنبیوں کی ماننداپنی اپنی دنیا میں کھوگئے۔انسانیت,محبت,خیر خواہی اور غمگساری جیسے الفاظ اب اس ڈیجیٹل دنیا سے عنقاء ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 مولانا آزاد کی چائے نوشی

 دوودھ والی چائے سے مولانا کو جو چڑ تھی اس کی شکایت یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ وہ اس کے اسباب کا پتہ ڈھونڈ نکلالتے ہیں اور اس تمام ب’بد عمالیوں ‘ کے لیے انگریز کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے ان کی چائے نوشی کے مذاق کا کچھ اس اندازمیں مذاق اڑاتے ہیں: ’’انہوں نے چین سے چائے پینا تو سیکھ لیا مگر اور کچھ نہ سیکھ سکے۔ اوّل تو ہندوستان اور سیلون ( سری لنکا) کی سیاہ پتی ان کے ذوق چائے نوشی کا منتہائے کمال ہوا، پھر قیامت یہ کہ اس میں بھی ٹھنڈا دودھ ڈال کر یک قلم گندہ کردیں گے۔

مزید پڑھیں >>

انتخابی سنسنی سے اب تک بچا کس طرح ہے گجرات؟

گجرات انتخابی سنسنی پھیلانے میں شروع سے مشہور رہا ہے. ایک وقت تھا جب گجرات کو فرقہ وارانہ خیالات کے نفاذ کی لیبارٹری کہا جاتا تھا. گجرات ہی ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر مسائل کو ڈھونڈنے اور ڈھوڈھ كر پنپانے کے لئے ایک سے ایک ہتھکنڈے استعمال ہمیں دیکھنے کو ملے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انتخابی سیاست میں ایک رستا نہیں چل پاتی. اسی لیے ہر بارانتظار رہتا ہے کہ کیا نئی بات کی جائے گی. اس بار بھی گجرات میں اب تک یہی انتظار ہے. لگ رہا تھا کہ وہاں حکمران بی جے پی آپ کی ضرورت کے پیش نظر اس وقت ترقی کا مسئلہ لے کر آئے گی، لیکن اس بار پردیش کے لیڈر کے طور پر وہاں نریندر مودی نہیں ہیں. وزیر اعظم بن جانے کے بعد وہاں ان کے لئے انتخابی جادوگری دکھانے کے موقع بھی کم ہو گئے ہیں. بہرحال دو رائے نہیں کہ وہاں بی جے پی کو ایڑی چوٹی کا دم لگانا پڑ رہا ہے. ملک پہلی بار دیکھ رہا ہے کہ ایک چھوٹی سی ریاست کے لئے مرکز کے درجنوں وزراء کو اپنا سارا کام دھام چھوڑ کر وہاں ڈیرہ ڈال پڑ رہا ہے.

مزید پڑھیں >>

ابوالکلام آزاد وادیٔ صحافت میں

 مولاناآزاد کی زندگی کامطالعہ اوران کی صحافتی خدمات کاجائزہ لینے سے یہ بات بہت ہی واضح طورسے سامنے آتی ہے،کہ ان کی دیگرخوبیاں اورخصوصیات جوکچھ بھی ہوں ،وہ علم وعرفان کی جس بلندیوں پرپہنچ گئے ہوں ،فکروعمل کی جن منزلوں کوپالیا ہوں ؛وہ ایک صحافی کادل ودماغ لے کرپیداہوئے تھے؛اسی وجہ سے ابھی وہ نثر کی ابتدائی منزل میں ہی تھے کہ ’’المصباح‘‘جاری کرکے صحافت کی راہ پرچلنے کااعلان کردیاتھااوراس راہ پر تقریبااٹھائیس سال، بے باک مثلِ شیر چلتے رہے۔

مزید پڑھیں >>

قلعہ دیپالپور کی تہذیب و ثقافت تاریخ کے آئینے میں

  چند سال قبل مصر میں ایک مصری بادشاہ کے مقبرے کی دریافت نے دھوم مچادی تھی یہ مقبرہ 525ء قبل مسیح میں تعمیر ہوا تھا اس مقبرے سے ملنے والے برتن، پختہ اینٹوں اور دیگر اشیا پر اب بھی تحقیق جاری ہے۔ ماہرین مصر کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے جن نتائج کے سامنے آنے کی توقع ہے وہ نہایت اہم ہوں گے۔ اس مقبرے کی دریافت کو اہل مصر اپنی ایک اہم کامیابی تصور کر رہے ہیں ہمارے ہاں بھی کم و بیش اس زمانے کے آثار قدیمہ موجود ہیں مگر نہ تو سرکاری محکمہ زیادہ فعال ہے اور نہ ہمارے ماہرین عمرانیات اور مؤرخین نے اس ارتقاء کو کھوجنے کی کوشش کی ہے۔ قدیم قصبہ دیپالپور اس کی ایک مثال ہے۔

مزید پڑھیں >>

وسیم رضوی: ہندتوادیوں کا ایجنٹ!

وسیم رضوی جو کچھ بھی ہرزہ سرائی کررہا ہے وہ اپنی ذاتی حیثیت سے کررہا ہے (ویسے ہمارے متعدد شیعہ قارئین کا خیال ہے کہ وسیم رضوی کی ماسوائے سرکاری یا چند فروخت شدہ بے ضمیر غدار ان ملت کے حلقوں کے کہیں کوئی حیثیت ہی نہیں ہے) شیعہ عوام و خواص کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وسیم رضوی غالباً پہلا شیعہ ہے جس نے عامتہ المسلمین کے بابری مسجد کے بارے میں متحدہ اور مضبوط موقف سے انحراف کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>