حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

حج سبسڈی

جب ہوائی سفر شروع ہوا تو مرکزی حج کمیٹی اور صوبائی حج کمیٹیاں بنائی گئیں صوبوں نے حج ہائوس بنائے اور ہر درخواست کے ساتھ تین سو روپئے وصول کئے جاتے ہیں جو کئی مہینے پہلے لے لئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عازمین حج سے پورا روپیہ مہینوں پہلے وصول کرلیا جاتا ہے جس کا سود ہی 30  کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی عازمین حج اور عام مسلمان جنہوں نے سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا وہ اس لئے تھا کہ حکومت کا روپیہ سود کی وجہ سے پاک نہیں رہتا۔ اور حج کمیٹیاں عازمین حج کے پاک روپئے کو بینک میں رکھ کر اور اس سے سود لے کر اسے ناپاک کردیتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

خدا کرے صوتی آلودگی کی سزا مسلما نوں کو نہ ملے

 بس اس کو ذہن میں رکھا جائے کہ صوتی آلودگی صرف مسجد کی اذان سے ہوتی ہے نہ ہر تہوار میں اور نہ ہندو گھرانے کی ہر تقریب میں کان پھاڑ دینے والے فلمی گانوں سے ہوتی ہے اور ان گانوں کا انتخاب کوئی نہیں کرتا جس کا لائوڈ اسپیکر ہوتا ہے اس کے پاس جو بھی گھسے پٹے ریکارڈ ہوتے ہیں وہ بجاتا رہتا ہے گھر والوں کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اتنا شور ہو جو گھر میں ہر آدمی یا عورت چیخ کر بولے۔ ہمیں یقین ہے کہ قارئین کرام میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے ان حالات سے سابقہ نہ پڑا ہو۔ آخر میں اتنا عرض کردیں کہ اطلاع کے مطابق لکھنؤ میں مسجدوں کو اجازت دینے میں ابھی کسی نے شکایت نہیں کی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلمان مدرسوں کے بجائے اپنی فکر کریں

حقیقی مدرسوں کی بات یہ ہے کہ وہاں کروڑوں کا بجٹ ہونے کے باوجود کسی حکومت سے مدد نہیں لی جاتی اور جو طبقہ اپنے بچوں کو وہاں بھیجتا ہے ان میں 90  فیصدی وہ ہوتے ہیں جن کے گھر والے صرف آنے جانے کا خرچ برداشت کر پاتے ہیں اس کے بعد مدرسہ میں رہنے کا کمرہ پڑھنے کی کتابیں دونوں وقت کھانا لائٹ اور چارپائی وغیرہ سب کا انتظام مدرسہ کی طرف سے ہوتا ہے ان لڑکوں کو اپنے خرچ سے صرف ناشتہ کرنا ہوتا ہے جو اپنی حیثیت کے حساب سے وہ کرتے ہیں یا رات کی بچی روٹی سے ناشتہ کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اُترپردیش کی مسجدوں سے بلند ہونے والی اذانیں نشانہ پر

ہماری اطلاع کے مطابق اور اخبار کی خبروں کی حد تک کسی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ حکومت نے جو زون بنائے ہیں ان میں صنعتی، بازاری اور آبادی کے زون ہیں اور یہ بتایا ہے کہ ان میں کس کس سطح کی آواز رکھی جاسکتی ہے۔ بہرائچ میں نہ جانے کیا بات ہے کہ وہاں حلف نامے لئے جارہے ہیں۔ ابھی تک کوئی نہیں سمجھ سکا کہ کس بات کا حلف نامہ لیا جائے گا؟ لیکن ایک بات کا لحاظ زیادہ رکھنا چاہئے کہ انتظامیہ سے کسی طرح کا ٹکرائو نہ ہو۔

مزید پڑھیں >>

راج سنگھاسن ڈانوا ڈول

وزیراعظم اپنے ساتھی اور دوست امت شاہ کے لئے کہاں تک جاسکتے ہیں اس کا اندازہ   اس سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جو اب تک ہر کسی کا آخری سہارا تھا وہ بھی پھٹتا نظر آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ کی زندگی میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ چار محترم سینئر جج اندرونی طور پر اپنی سی کوششوں کو ناکام دیکھ کر عوام کی عدالت میں آگئے۔ اور وہ سب کہہ دیا جس کے بعد اچھا تو یہ تھا کہ چیف جسٹس دیپک مشراجی استعفیٰ دے کر باہر آجاتے یا اسی کانفرنس میں آکر معذرت کرلیتے۔

مزید پڑھیں >>

مدرسوں کی روح اور اُن کا مقصد

اگر تاریخ اٹھاکر دیکھا جائے تو اس وقت سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان شکست کے بعد عیسائی نہ ہوجائیں اور اس کے لئے اگر بزرگوں نے تعلیم کا ایسا نظام بنایا کہ عالم بننے کے بعد وہ اللہ کے کام کے علاوہ کسی کام کے نہ ہوں تو یہ اُن کی دانشمندی تھی۔ آج ان ہی مدارس میں کمپیوٹر بھی چل رہے ہیں انگریزی بھی پڑھائی جارہی ہے اور وہاں سے نکلنے والے لڑکے ہر میدان میں نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

وسیم رضوی کے کئی پرزے خراب ہوگئے ہیں

وسیم رضوی جہالت کی باتیں چھوڑیں اور صرف دنیا کی نہیں دین کی فکر بھی کریں اور کوشش کریں کہ وہ بھی شیعوں کیلئے دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء، مظاہر العلوم، دارالعلوم وقف اور پورے ملک میں اس معیار کے چند مدرسے بنائیں ہر انسان کو ایک زندگی ملی ہے اس میں ہی اُسے وہ سب کرنا ہے جس کے عوض وہ قیادت کے دن سرخرو ہوکر جنت میں جائے۔ یاخدا کی نافرمانی کرکے اور وقف کی جائیدادیں اپنے اختیار سے فروخت کراکے اور جھوٹ کی بنیاد پر فیصلے کرکے دوزخ کا ایندھن بنے۔

مزید پڑھیں >>

اپنی مسجد سے مائک اُتروا لیجئے

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے حکم کے بعد 15 جنوری کے بعد سے کسی بھی مسجد میں لائوڈ اسپیکر سے نہ اذان دی جاسکے گی اور نہ جمعہ کا خطبہ دیا جاسکے گا۔ ہم ہندوستانیوں کا مزاج پتھر کی طرح سخت ہے۔ برسوں سے یہ حکم نافذ ہے کہ دس بجے رات کے بعد لائوڈ اسپیکر بند کردیئے جائیں گے لیکن کسی بھی عوامی تقریب شادی موڈن عقیقہ ختنہ اور منگنی جیسی تقریبات میں لائوڈ اسپیکر ضروری ہوگیا ہے۔ اور جو جتنا بڑا جاہل ہے اس کے گھر بجنے والے لائوڈ اسپیکر کی آواز اتنی ہی اونچی ہوتی ہے اور رات کو بارہ بجے تک شور مچاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

دستور نے یوں بھی صدر کے ہاتھ پوری طرح باندھ دیئے ہیں وہ پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد جن سے زیادہ محترم صدر پھر کوئی نہیں ہوا انہوں نے اپنے سیاسی ساتھی پنڈت سندر لال، مولانا حفظ الرحمن، ڈاکٹر ذاکر حسین، پنڈت داتریہ، کیفیؔ جیسے دوستوں سے جب یہ کہہ دیا تھا کہ آپ لوگ میرے پاس کیوں آئے ہیں؟ میں تو وہ کروں گا جو جواہر لال اور سردار پٹیل کہیں گے۔ اور آج جو صدر محترم ہیں وہ تو اپنی سائیکل کے کیریئر پر مودی جی کو بٹھاکر گھمایا کرتے تھے وہ تو دستخط کرنے سے پہلے پڑھیں گے بھی نہیں کہ لکھا کیا ہے؟

مزید پڑھیں >>

کجریوال عروج و زوال کے درمیان

سیاست میں کوئی ہمیشہ ایک مقام پر نہیں رہتا، وہ یا تو اوپر جاتا ہے یا غلطی کرے تو نیچے آجاتا ہے۔ پانچ برس پہلے سیاست کے میدان میں کجریوال نام کا کوئی کھلاڑی نہیں تھا۔ جس وقت کانگریس کی حکومت پر بی جے پی ہر طرف سے حملے کررہی تھی اس زمانہ میں ونود رائے نام کے ایک بیوروکریٹ نے 2G  والے معاملہ میں ٹیلی کام کے وزیر اے راجہ پر بدعنوانی کا الزام لگایا اور پوری اپوزیشن کو کانگریس کے خلاف متحد کردیا۔ دوسری طرف اس نے اننا ہزارے کو اُکسایا جو لوک پال بل پاس کرانے کا دبائو ڈالنے لگے۔

مزید پڑھیں >>