حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

حکومت اور عدالتوں کا دوستانہ میچ

الہ آباد ہائی کورٹ اور اس کی لکھنؤ بینچ حکومت کو آٹھ مہینے میں کئی بار ہدایت دے چکی ہے کہ غیرقانونی مذبح کے نام پر جو حکومت نے پورے اُترپردیش میں ہر مذبح کو تاراج کردیا وہ اس کی تلافی میں بھی اپنا فرض ادا کرے اور وہ کروڑوں شہری جو گوشت کھانا چاہتے ہیں یا جو گوشت، کھال اور جانوروں کا کاروبار کرتے ہیں ان کا روزگار واپس کرے۔

مزید پڑھیں >>

اب بے قراری کی وجہ سمجھ سے باہر ہے

وشو ہندو پریشد نے بھی رام مندر کی تعمیر پر مصالحت کو بے معنیٰ قرار دیا ہے وی ایچ پی کے میڈیا انچارج نے وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ عدالت کو ثبوت چاہئے جو مندر کے حق میں اسے مل گئے ہیں ۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد میاں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مصالحت کی بنیاد پر ہم بابری مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارا آئین پر پورا یقین ہے لہٰذا وہ جو بھی فیصلہ کرے گا ہم سرجھکاکر اسے تسلیم کرلیں گے۔

مزید پڑھیں >>

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

مولانا سالم صاحب دارالعلوم میں مدرّس بھی تھے اور ملک میں ہونے والے ان دینی جلسوں میں بھی مقر ِر کی حیثیت سے جاتے تھے جہاں حضرت مہتمم صاحب معذرت کرلیتے تھے۔ مجلس شوریٰ صرف بااختیار ہی نہیں باخبر بھی رہتی تھی مجلس نے اسے تو منظور کرلیا کہ نام کی حد تک حضرت مولانا قاری طیب صاحب مہتمم رہیں اور نائب کسی اور کو بنا دیا جائے لیکن اسے منظور نہیں کیا کہ وہ مولانا سالم قاسمی ہوں ۔

مزید پڑھیں >>

راہل پہلے ماضی کو پڑھیں پھر فیصلہ کریں

اس وقت کانگریس کی پوزیشن وہ نہیں ہے کہ وہ بی جے پی سے مقابلہ کررہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے ایک لیڈر تھے انہوں نے بھی ایک مہینہ پہلے راجیہ سبھا الیکشن کے موقع پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب وہاں کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے کہ اگر پارٹی جیت جائے تو اس کے گلے میں مالا ڈال کر اسے مکھ منتری بنایا جائے پارٹی سے استعفیٰ نہ دیا ہوتا تو شنکر سنگھ واگھیلا ایسے ضرور تھے۔

مزید پڑھیں >>

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

وہ ہندو جو شاہجہاں اور ٹیپو سلطان پر الزام لگا رہے ہیں ان کا دھرم ہے کہ مرنے کے بعد جل جائیں گے اور پھر دنیا میں ایم ایل اے، ایم پی، وزیر یا کارپوریٹر بن کر آئیں گے اور اسی طرح آتے جاتے رہیں گے۔ یہ بحث ہے نہیں بنائی گئی ہے صرف اسی لئے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر رونا گانا بند ہو لیکن جو زخمی ہیں جن کی تھالی سے دیسی گھی ہٹ گیا جو چار گھنٹے نوٹ گنتے تھے اب 20  منٹ میں گن کر دُکان بند کردیتے ہیں وہ جی ایس ٹی کو کیسے بھول جائیں ؟

مزید پڑھیں >>

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ اترپردیش میں رام راج قائم کریں گے۔ انہوں نے جو تیور دکھائے وہ اب تک کسی نے نہیں دکھائے تھے۔ ان کی اس بات کا مطلب ہم بھی نہیں سمجھ سکے کہ اب اجودھیا سے متعلق اٹھنے والے سوال بند ہوں یہاں کے بارے میں منفی باتیں بند ہونی چاہئیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم کے بارے میں بھی کہا کہ وہ ملک میں رام راج قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہو ویسی سنو

الیکشن کمیشن کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب دو چار صوبوں کی اسمبلی کی مدت ختم ہونے والی ہوتی ہے تو سب کے الیکشن ساتھ میں کردیتے ہیں ۔ گجرات اور ہماچل کے بارے میں کافی دنوں سے شور تھا کہ دونوں ریاستوں کے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم جو 13  برس گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور ایسے رہے ہیں کہ انہوں نے جس خبر کو چاہا کہ وہ باہر جائے وہ گئی ہے اور جسے چاہا کہ باہر نہ جائے وہ کتنی ہی اہم ہو باہر نہیں گئی۔

مزید پڑھیں >>

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اخلاق کے گھر میں جو گوشت فریج میں رکھا تھا وہ اور جو پک رہا تھا وہ بکرے کا گوشت تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن کی ضمانت ہوگئی ہے ان سے وہاں کے ایم ایل اے کوئی رابطے نہ رکھتے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ بقرعید کا تہوار منا رہا تھا۔

مزید پڑھیں >>

اب عدالت نے بھی بلوغ کیلئے عمر 18  سال مان لی

حکومت اور عدالت دونوں باتوں کو ایک نہ کرے کہ بالغ ہو اور عمر اٹھارہ سال ہو۔ صرف عمر کی بات کرے بلوغت کی نہیں کیونکہ بلوغ کے بغیر کوئی بچی ماں نہیں بن سکتی اور آپ نے بھی ایسی خبریں پڑھی ہوں گی کہ 13  یا 14  سال کی بچی ماں بن گئی۔ پندرہ سال تک پہونچتے پہونچتے تو اکثر بچے بالغ ہو ہی جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مودی کو اُن کے جھوٹ لے ڈوبیں گے

غیرملکوں کے کالے دھن اور ہر ہندوستانی کو پندرہ پندرہ لاکھ کی سوغات ایسا جھوٹ نہیں ہے جسے امت شاہ نے بہار میں انتخابی جملہ کہہ کر کپڑے جھاڑ دیئے۔ انتخابی جملہ والے جھوٹ وہ ہوتے ہیں جو تقریر کے دوران زبان سے نکل جاتے ہیں پندرہ لاکھ والے جھوٹ کے رشتے تو ناگ پور سے جڑے ہوئے ہیں یہ منصوبہ بندی وہاں ہوئی تھی کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے قدم بقدم کون کیا کہے گا اور کب کہے گا؟

مزید پڑھیں >>