ہلال احمد

ہلال احمد

طلاق ثلاثہ: حکومت کا رویہ اور ہم

اتحاد اتحاد چیخنے کے بجائے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہم پاش پاش رہیں گے ہماری کوئی حکمت عملی کارگرنہیں ہوسکتی،لہٰذا ہمیں سرجوڑ کراس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے،اورمسلم معاشرے میں طلاق کی خباثت وشناعت کو واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر اپنی جانب سے قدغن لگایاجاسکے۔ اللہ ہمارے حالات کو بہتربنائے اور ملک کو امن امان کاگہوارہ بنائے۔

مزید پڑھیں >>

جشنِ ولادت یا  نفس پرستی

اصل محبت یہ ہے کہ اللہ اوررسول کے فرمان کو زندگی میں برتاجائے، اس سے سرموانحراف نہ کیا جائے۔ محبت وعقیدت کاتقاضہ یہی ہے کہ جس سے محبت کادعویٰ کیاجارہاہے اس کے ہرحکم کوسرآنکھوں پر رکھاجائے۔ آج کے جھوٹے محبت کے دعوے داروں کی طرح نہیں کہ دن رات مختلف آلائشوں میں رہیں، نمازوروزہ کاکوئی پاس نہ ہو۔ بس سال میں ایک بار محبت کی نام پرخواہش نفسانی کا اظہاراوراسراف وتبذیر کا وطیرہ اپنایاجائے جوکہ سراسر اسلام اوررسول کے فرمان کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں >>

نوٹ بندی کا ایک سال: کس کافائدہ کس کانقصان؟

مودی جی کوایک ریکارڈ اپنے نام قائم کرناتھا سو حاصل ہوگیا۔ بدنام نہ ہوں گے تو کیانام نہ ہوگا کی مصداق حکومت نوٹ بندی کے بعد مسلسل دفاعی پوزیشن میں کھڑی رہی ہے اوراپنے فیصلے کوعوام کے مفاد میں بتلارہی ہے حالانکہ حقیقت سامنے آچکی ہے۔ لوگ باگ حکومت کی چالبازی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟کے تحت جی ایس ٹی کوفوائد گنوائے جارہے ہیں۔ جس میں کہیں ناکہیں غریب، مزدور اور متوسط طبقہ پریشان ہورہاہے۔ نوٹ بندی سے جتنی دشواریاں غریب اور مزدور طبقہ بشمول سیکڑوں اموات کے کسی کو نہیں ہوئی، امیراوردھناسیٹھ لوگ اپنے اثرورسوخ کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے چکی کے پاٹ میں پسے تو بے چارے غریب۔ تقریباً اُس وقت چلن میں موجودتمام بڑے نوٹ بینکوں میں جمع ہوگئے اورکالادھن کہاں گیا کسی کو اندازہ تک نہیں !!

مزید پڑھیں >>

گجرات الیکشن: کانگریس کے لیے فیصلہ کن موڑ

کانگریس پارٹی لاکھ ہاتھ پاؤں ماررہی ہے لیکن ریاستیں اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتے جارہی ہیں، گجرات اسمبلی الیکشن کی گونج پورے ملک میں ہے تمام علاقائی وقومی سیاسی جماعتیں اپنی پوری طاقت جھونک دینے میں مصروف ہیں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی لگاتار کئی دنوں تک عوامی جلسوں میں شریک ہوکر اپنی پارٹی کی راہ ہموارکرنے میں جہدمسلسل کررہے ہیں

مزید پڑھیں >>

مظلوم روہنگیا اورخودساختہ امن کی فاختہ سوچی

نہتے لوگوں پر ظلم و زیادتی، امتیازی سلوک، ظالمانہ تعصب اور پر تشدد جارحیت کا دور جاری رہنے کی وجہ سے چار لاکھ سے زیادہ افرادکیمپوں میں رہنے پر مجبورہیں ، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے‘‘جہاں ایک طرف عالمی لیڈران اورہیومن رائٹس واچ نے میانمارکی حکومت اورفوج پر سخت پابندی کا مطالبہ کیاہے وہیں دوسری جانب امن نوبل ایوارڈیافتہ آنگ سان سوچی نے عذرگناہ بدترازگناہ کرتے ہوئے اس انسانیت سوزنسل کشی کا ذمہ خود انہیں مظلومین کے سرمنڈھنے کی کوشش کی ہے

مزید پڑھیں >>