ابراہیم افسر

ابراہیم افسر

’ہندستانی زبان‘ کے فروغ میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کا کردار

  مہاتما گاندھی کی ادارت یا نگرانی میں جو اخبارات یا رسائل شائع ہوتے تھے ان کی پالیسی میں یہ بات شامل تھی کہ وہ اُردو اور ہندی دونوں رسم الخظ کا خاص خیال رکھیں گے۔ اس کا ثبوت ہمیں ’’ندائے ملت ‘‘میں عبدالسلام صدیقی کا شائع شدہ مضمون سے ملتاہے۔ جس میں ’’ہری جن سیوک ‘‘اخبار کے ہندی اُردو ایڈیشن کو ایک ساتھ بند کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں گاندھی جی نے ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنا موقف واضح کیا۔

مزید پڑھیں >>

اردو غزل کا منٹو: شادؔ عارفی

  دبستان دہلی، دبستان لکھنؤ، دبستان عظیم آباد کی طرح دبستان رام پور بھی اردو ادب میں اپنی علاحدہ پہچان، منفرد مقام ومرتبہ لیے ہوئے ہے۔ جغرافیہ کے اعتبارسے یہ ریاست چھوٹی تھی لیکن اس کے فرماں روا بلند حوصلوں کے مالک تھے۔ 1857کے ناکام انقلاب کے بعد جب اردو کے دونوں دبستانوں (دہلی اور لکھنوء) میں افراتفری کا ماحول پید اہوا اور ادبا وشعرا میں اضطراب پنپنے لگا تھا۔ ایسے پُرآشوب ماحول میں والئی رام پور نوّاب یوسف علی خاں ادباوشعراکے لیے امید کی کرن بنے۔

مزید پڑھیں >>

مشاہیر: خطوط کے حوالے سے

  یہ بات سو فی صد سچ ہے کہ’’ خط آدھی ملاقات ہوتی ہے۔ ‘‘کیوں کہ بہ ذریعہ خط انسان اپنی بات اور دلی جذبات مکتوب الیہ تک با آسانی پہنچا دیتا ہے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کی خیر و عافیت سے واقف ہو جاتے ہیں۔ مکتوب نگار کھبی کبھی اپنے مکتوب میں اُن حالات و واقعات کو بھی قلم بند کر دیتا ہے جو اُس کی نجی زندگی میں رو نماہوتے ہیں۔ خط میں طنز و مزاح، کے علاوہ ہجر و وصال کی باتیں، مسرّت و تعزیت کا اظہار، کاروبار کا احوال، اور اخلاق و اخلاص کا درس بھی دیا جاتا ہے۔ جب ان واقعات و حالات کو کوئی علمی، ادبی اور سیاسی شخص تحریر کرتا ہے تو ایسے خطوط تاریخ رقم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ واقعات کوئی معمولی واقعات نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

احمد فرازؔ کی شاعری میں احتجاج اور رومانیت کے عناصر

  بلا شبہ، نثر کے مقابلے شاعری کا جادو ہر خاص و عام کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بات صرف اُردو شاعری پر ہی صادق نہیں ہوتی بل کہ دنیائے ادب کی شاعری ہر دور میں قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتی آئی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کوئی شاعر ناقدین ادب کی توجہ کا بھی مرکز بنا رہا ہو اور عام لوگوں نے اِسے دادِ تحسین بھی دی ہو۔ اُردو ادب کے دامن میں بھی ایسے بہت سے شاعر ہیں جن کی شہرت کے چرچے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اخترؔ الایمان کی شخصیت کے چند نقوش

اخترؔالایمان(۱۹۱۵ء۔۱۹۹۶ء)کا شمار بیسویں صدی کے نما ٰیندہ نظم گو شاعروں میں ہوتا ہے۔فیضؔـ‘جوشؔ‘ن۔م۔راشدؔ اور میراجیؔ کے بعد جس شاعر نے اردو نظم نگاری کو نئی پہچان‘ جہت ‘ سمت و عروج بخشا وہ  اخترؔالایمان ہے۔اخترؔالایمان نے اپنے دور کی کسی بھی تحریک سے وابستہ ہو کر شاعری نہیں کی۔ حالاں کہ ایک طرف ان کے تعلقات ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں سے تھے تو دوسری جانب حلقہ ارباب ذوق سے بھی ان کی دوستی تھی۔میراجی کے ساتھ ساتھ سردار جعفری‘ سجاد ظہیر‘ ملک راج آنند‘ کیفی اعظمی‘ شہر یار‘ مجروح سلطان پوری جیسے نام ور ادیبوں اور  شاعروں سے اچھے مراسم تھے۔

مزید پڑھیں >>

احمد ندیمؔ قاسمی: ذات و صفات

ندیمؔ ؔ صاحب واقعی درویش صفت انسان تھے۔ وہ زندگی اور اُس کے حُسن کے قدر دان تو تھے لیکن انھیں زیادہ کا حرص اور عیش و آرام کا لالچ نہیں تھا، جب کہ وہ ضروریات ِ زندگی خود اپنے دستِ محنت سے پوری کر لیتے۔ وہ کبھی چھینتے نہیں تھے لیکن اپنا کچھ چھیننے بھی نہیں دیتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی مرضی سے جتنا چاہا بانٹ دیا۔ وہ اُن کا قیمتی وقت ہی کیوں نہ تھا، کیوں کہ اُن کا پختہ یقین اس میں تھا کہ سکھ سب میں برابر تقسیم ہونا چاہیئں۔

مزید پڑھیں >>

پذّا بوائے: کچھ حقیقت کچھ فسانہ

توصیف بریلوی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ان تمام حالات کا بہ غور مطایعہ کر، انھیں افسانے کی شکل عطا کی۔ آنے والے وقت میں ہم ان سے ایسے ہی موضوعات پر اورکھل کر لکھنے کی اُمید کرتے ہیں ۔ ویسے توصیف بریلوی نے اپنا قاری اور نقاد خود پیدا کر لیا ہے۔ یہ ان کے لیے خوش آئین بات ہے۔ اس افسانے کو پڑھ کر ہماری تیز رفتار زندگی میں بریک لگ جائیے تو بہتر ہے۔ یہی افسانے کی کامیابی کی ضمانت ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

افسانہ ’بھات‘ کا تنقیدی تجزیہ

ویسے میں نے معاشرے میں بھات کے نام پر لوگوں کو مقروض ہوتے دیکھا ہے۔ لیکن جس خوبصورتی سے توصیف بریلوی نے اس افسانے کا تانہ بانہ بنا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ سماج مین جڑ جما چکی اس برائی کو اب ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے اور نو جوان نسل کو اس خفی برائی یا لعنت سے روبرو کرانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ توصیف بریلوی نے اس افسانے کی تخلیق کرکے اس برائی کو ختم کرنے کی جانب  پہلا قدم بڑھایا ہے۔ ان کے اس قدم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

مزید پڑھیں >>

افسانہ ’ایک ماں‘ کا سماجی اور نفسیاتی مطالعہ

افسانہ نگار کو میں افسانہ ’’ایک ماں ‘‘ کی تخلیق کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ ساتھ ہی توصیف صاحب نے اپنے افسانے میں جمالیاتی پہلوؤں کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ ماں کی اپنے بچے سے والہانہ محبت جمالیات کا ہی حصہ مانا جاتا ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ قارئین کے ذہنوں کے نہاں خانوں میں عرصہء دراز تک اس افسانے کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی۔

مزید پڑھیں >>

شعری مجموعے ’ظہورِ غزل‘ کا تنقیدی مطالعہ

ظہور احمد صاحب کا کمال یہ ہے کہ ان کے سامنے زبان کی خدمت اور ذاتی شعری مشق کے لیے روزگار کبھی مسئلہ بن کر رُکاوٹ نہیں بنا۔باری تعلی اور تقدیر پر انھیں مکمل یقین اوربھروسا تھا۔وسائل کی فراوانی انھیں خوب میسر رہی۔آج اُن کی کاوش اُردو دنیا کے سامنے ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کا یہ شعری مجموعہ اُردو غزل کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت سے پذیرائی حاصل ضرور کرے گا۔آخر میں میں ظہور احمد ظہورؔ کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔

مزید پڑھیں >>