جاوید رحمانی

جاوید رحمانی

مولانا اسلم قاسمی کا انتقال ملک و قوم کا عظیم نقصان

مولانا کے انتقال سے نہ صرف اہل دیوبند اور جماعت دیوبند کا نقصان ہوا ہے بلکہ یہ ادب، درس و تدریس، تحریر و تقریر اور پوری ملت اسلامیہ کا بھی عظیم خسارہ ہے۔آپ کی شخصیت ان خصوصیات کی بہ نسبت ممتاز رہی اور اس ملکہ خاصہ کے ذریعہ مولانا مرحوم نے عالم اسلام میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ ان کے انتقال سے ایک علمی خلا پیدا ہوگیا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

کتاب ‘جدید ہندی شاعری’ کی رسم رو نمائی

انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیر اہتمام اردو گھر نئی دہلی میں خورشید اکرم کی ترتیب دی ہوئی کتاب جدید ہندی شاعری کی رسم رو نمائی کے موقع پر مشہور دانشور و نقاد پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ اردو اور ہندی خانوں میں بٹی رہی۔ ان دیواروں کو ٹوٹنا چاہئے اور یہ کتاب اس جانب ایک بڑا قدم ہے۔

مزید پڑھیں >>

’راج نرائن رازؔاور ان کے بعض ہم عصر شعرا‘ کے موضوع پر خطبہ

انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی کے زیرِ اہتمام راج نرائن رازؔ میموریل سوسائٹی کی جانب سے 07 نومبر 2017 بروز منگل شام پانچ بجے اردو گھر میں پہلا راج نرائن راز یاد گاری خطبہ کا انعقاد ہوا، جس میں معروف و ممتاز نقّاد و دانشور پروفیسر شمیم حنفی نے ’’راج نرائن رازؔ اور ان کے بعض ہم عصر شعرا‘‘  کے عنوان سے اپنا  پُر مغز خطبہ پیش کیا۔پروفیسر شمیم حنفی دو درجن سے زائد اہم کتابوں کے مصنف ہیں اور پروفیسر موصوف کے سیکڑوں ادبی، تہذیبی اور ثقافتی موضوعات پر مضامین ہندستان اور پاکستان کے ممتاز رسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

’امیر خسرو اور انسان دوستی‘ کے موضوع پر خطبہ

 پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ خلیق انجم یادگاری خطبات کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ کرنل بشیر حسین زیدی کہا کرتے تھے کہ میرے پا س ایک جن ہے اور وہ ہے ڈاکٹر خلیق انجم۔ ان سے جو کام کرنے کو وہ ہوجاتا ہے۔ خلیق انجم ہمیشہ اپنے آپ کو مصروفِ کار رکھتے تھے۔ یہ اردو گھر کا موجود ہونا ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

ملک کی موجودہ صورتحال کیلئے قومی میڈیا ذمہ دار

ملک کی موجودہ صورت حال سے مایوس ہونے اور خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر مسئلہ کا حل ہے اور موجودہ مسئلہ کا بھی حل نکلے گا۔ اردو صحافت نے ملک کو آزادی دلانے اور ملک میں انقلاب برپا کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ آج اردو صحافت کو پہلے جیسا رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

اردو ہماری گنگا جمنی تہذیب کی میراث ہے

پروفیسر اے۔ ایم۔ خسرو ممتاز مفکر، ماہرِ معاشیات، مدیر، وائس چانسلر اور چانسلر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود وہ ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت سے بھی جڑے رہے، اس لیے انھیں یاد کرنا گویا اپنی زبان اور تہذیب و ثقافت کو یاد کرنا ہے۔ انھیں اردو اور انگریزی میں یکساں ملکہ حاصل تھا، وہ فارسی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آزاد ہندستان میں ملک کے معماروں میں پروفیسر اے۔ ایم۔ خسرو کا نام بھی ضرور شامل رہے گا۔ وہ متعدد اداروں سے وابستہ رہے اور ہر جگہ اپنے نقوش ثبت کیے۔ ان خیالات کا اظہار معروف اسکالر اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسر اخترالواسع نے یکم مئی 2017 کو انجمن ترقی اردو (ہند) اور فاؤنڈیشن فار ایکٹو سوشل ٹرانفارمیشن (فاسٹ) کے زیرِ اہتمام اردو گھر میں منعقدہ پانچواں ڈاکٹر اے۔ ایم۔ خسرور میموریل لکچر دیتے ہوئے کیا۔

مزید پڑھیں >>