کامران غنی صبا

کامران غنی صبا

اعزازی مدیر اردو نیٹ جاپان

بچے، اسمارٹ فون اور ہم

ایک بات اور بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آج کے بچے ٹکنالوجی کے معاملہ میں آپ سے بہت زیادہ ذہین ہیں ۔ اگر آپ موبائل کے منفی پہلوئوں پر بات کرتے ہوئے ان سے کھل کر گفتگو نہیں کرتے ہیں اور کچھ موضوعات پر بات کرتے ہوئے شرم و جھجھک محسوس کرتے ہیں تو یہ بھی آپ کی بہت بڑی بھول ہے۔ بچوں کو اپنے اعتماد میں لے کر اگر آپ نے صحیح نہج پران کی رہنمائی نہیں کی تو یاد رکھیے کہ اِس اسمارٹ فون کی وجہ سے آپ کا لختِ جگر جنسی مریض، جرائم پیشہ یا مختلف قسم کے ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

زندگی کو کیسے کام یاب بنائیں؟

کسی بھی کام یا مشن میں دو ہی امکانات ہیں ۔ کامیابی یا ناکامی۔ کامیابی کی صورت میں ہمیں اپنی محنت کا بدلہ اپنے سامنے ہی مل جاتا ہے لیکن ناکام ہونے کی صورت میں ہمیں شدید کرب و اذیت کی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان دونوں حالتوں میں اگر ہم صبر و شکر کا دامن تھامے رکھیں تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ کامیابی پر شکر ادا کرنا اور ناکامی پر صبر کرنا بھی نیکی ہے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اسے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

فیس بک: خود نمائی اور توازن

فیس بک کا صحیح استعمال وہی لوگ کرتے ہیں جو ان دنوں انتہاؤں کے بیچ کے فرق کو سمجھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ خود نمائی ایک ایسا نشہ ہے جو شراب سے بھی زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ خود نمائی کے مرض میں مبتلا ہونے والا شخص ہر گھڑی اپنی تعریف و توصیف سننا پسند کرتا ہے۔ اگر ہم فیس بک پر اپنی تصویر یا کوئی پوسٹ ڈالنے کے ہر تھوڑی دیر بعد یہ چیک کر رہے ہیں کہ کتنے لائکس اور کمنٹس ملے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارے اندر اس مہلک مرض کا وائرس داخل ہو چکا ہے۔ خود نمائی کا مرض کتنا ہلاکت خیز ہے اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

مزید پڑھیں >>

بزم کیف کے زیرِ اہتمام افروز عالم (کویت) کے اعزاز میں شعری نشست 

 شہر عظیم آباد کی مشہور ادبی انجمن بزمِ کیف کی طر ف سے آج شام کویت سے تشریف لائے ہوئے شاعر افروز عالم کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا اہتمام بزم کے دفتر نیو عظیم آباد کالونی ، پٹنہ میں ہوا۔ نشست کی صدارت مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور پٹنہ کالج کے پرنسل پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کی جبکہ نظامت کے فرائض معروف ناقد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے انجام دئیے۔

مزید پڑھیں >>

عشق تمام مصطفیﷺ

 اللہ کا شکر و احسان ہے کہ ہم محمدﷺ کے امتی ہیں۔ ہمارے دلوں میں ان کی محبت بھی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کی اس جذبے کو مزید بڑھایا جائے۔یہاں تک کہ محبت رسولﷺ تمام محبتوں پر غالب آ جائے۔اگر ہمارے دلوں میں اللہ کے رسولﷺ سے سچی محبت پیدا ہو گئی تو پھر اللہ کی نظر عنایت و التفات بھی ہم پر ہوگی اور محبت رسولﷺ کے طفیل ہماری کوتاہیاں بھی در گزر کر دی جائیں گی(انشاء اللہ) اور ہمارا شمار بھی اللہ کے مقرب بندوں میں ہوگا 

مزید پڑھیں >>

اقبال اور عشق رسولﷺ

 دعویٔ عشق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اتباع و اطاعت محبوب نہ ہو۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین آپﷺ کے ہر فعل و عمل پر نظر رکھتے اور دل و جان سے ان کی تقلید کرتے۔حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ جب حج کو جاتے تو بلا کسی ظاہری سبب کے جا بجا رکتے یا اٹھتے، بیٹھتے جاتے۔کسی نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپؓ نے جواب دیا کہ میں نے حضورﷺ کو سفر حج میں جس جگہ جس حالت اور جس انداز میں دیکھا، میں چاہتا ہوں کہ ان طریقوں پر جوں کا توں عمل کروں ۔

مزید پڑھیں >>

علمی مجلس کے زیر اہتمام طارق متین کے اعزاز میں شعری نشست

علمی مجلس، پٹنہ کے زیر اہتمام گزشتہ شام معروف شاعر طارق متین کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ نشست کی صدارت بزرگ شاعر قیصر صدیقی نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ اثر فریدی نے اپنے مخصوص انداز میں انجام دیا۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مہمان شاعر طارق متین کے علاوہ معروف افسانہ نگار فخر الدین عارفی اور مغربی بنگال سے تشریف لائے ہوئے افسانہ نگار عشرت بیتاب شریک ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

سہ ماہی ’تحقیق‘ کا بہار اردو اکادمی میں رسالہ کا اجرا

بہار اردو اکادمی میں آج شام سہ ماہی ’تحقیق‘ کے دوسرے شمارہ کا اجرا عمل میں آیا۔ رسم اجرا پروگرام میں مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد، بہار اردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری، رسالہ کے مدیر ڈاکٹر منصور خوشتر معاون مدیر کامران غنی صبا، معروف فکشن رائٹر، شاعر اور ناقد ڈاکٹر قاسم خورشید، سابق صدر شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید حیات، معروف شاعر شمیم قاسمی اور ڈاکٹر انتخاب ہاشمی موجود تھے۔

مزید پڑھیں >>

سرکاری اسکول کے اساتذہ کو درپیش چیلنجز

 مرکزی اور ریاستی حکومتیں اگر واقعی تعلیمی نظام کو بہتر بنانا چاہتی ہیں تو انہیں ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل بنانا ہوگا لیکن افسوس کہ سرکاری اسکولوں کو اب تک تجربہ گاہ کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے ، ایک ایسی تجربہ گاہ جہاں کے بیشتر تجربے ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسلۂ طلاق ثلاثہ: چند قابلِ غور پہلو

 اسلام دین فطرت ہے لہٰذا اس کے قوانین بھی فطری اور قابل عمل ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی قوانین کی باریکیوں سے اپنے اور غیروں کو روشناس کرایا جائے اور دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کی بجائے پوری طاقت کے ساتھ اسلامی تعلیمات اور احکامات کی حکمتوں کو بردران وطن تک پہنچایا جائے۔

مزید پڑھیں >>