خیرالدین اعظم

خیرالدین اعظم

کہاں لے کر مجھے جائیگی اب یہ گردش دوراں نہ رہبر ھے، نہ رستہ ھے، نہ منزل کی نشانی ھے خیرالدین اعظم
Back to top button
Close