محمد خان مصباح الدین

محمد خان مصباح الدین

محبت رسول کامیابی کا ضامن!

ہماری عزت و حشمت کو کیوں چار چاند لگ گیا؟ہمارا کارواں نیل کے ساحل سے لیکر کاشغر کی خاک تک کیوں کامیابی و سرفرازی کے جھنڈے گاڑتا ہوا بڑھتا ہی رہا؟ہماری شان و شوکت کیوں نقطۂ عروج تک پہونچ گئی؟کیا سبب تھا ان عظمتوں اور رفعتوں کا ؟کیا وجہ تھی ان سربلندیوں اور کامیابیوں کی؟صرف ایک سبب تھا صرف ایک وجہ تھی…اور وہ تھی …صحابۂ کرام کی رسول عربی سے بے پناہ محبت و الفت اور ا نکی بارگاہ کے تئیں کامل وفاشعاری.

مزید پڑھیں >>

زمینی خدا

غالبا آزادی سے قبل کی یہ روداد ہے جو خاندانی روایت کے مانند مجھے اپنے باپ دادا کی زبانی حاصل ہوئی ہے مجھے آج بھی یاد ہے دادا مغرب کی نماز کے بعد  گھر کے سارے بچوں کو اکٹھا کر کے کوئی نصیحت آمیز افسانہ سنایا کرتے تھے اور یہ انکا معمول تھا,انکا سنایا ہوا ایک افسانہ مجھے آج بھی یاد ہے سردی کا موسم تھا گاوں میں چارو طرف خوف ناک سنٹا تھا, سب لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تھے,گھر کے بڑے اپنے اپنے بستر پر تھے اور سارے بچے دادا کے لحاف میں گھس کر انکا پاوں دبانے میں مقابلہ آرائی کر رہے تھے اور ایک دوسرے سے اچھا دبانے کا دعوی کرکے سبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے,اس وقت دادا نے ایک واقعہ سنایا تھا جو آج بھی دل و دماغ پہ نقش ہے

مزید پڑھیں >>

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر!

آگے بڑھنے سے پہلے اگر یہ واضح کر دیا جائے کہ ہماری رائے میں ہندو تنگ نظری کا اطلاق تمام ہندوؤں پرکرنا انصاف نہیں، کیونکہ بھارت اور اس کے باہر ہندوؤں کی اکثریت دلت اور نیچ ذات سے تعلق رکھتی ہے، اور یہ کروڑوں ہندو مذہبی تعصب میں مبتلا  نہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ خود اپنے مذہب میں شدید ترین تعصب کا شکار ہیں۔ وجہ بہرحال جو بھی ہو، دلتوں کا ذرا سی ترغیب پر مسلمان ہو جانا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ وہ ہندو مت کے ذات پات کے نظام سے کتنے بیزار ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

اس زمانے کا بڑا کیسے بنوں!

آج شخصی آزادی کے نام پر جوکچھ ہم نے اپنایا ہوا ہے وہ شخصی آزادی دنیا کی کوئی بھی تہذیب یا تعلیم یا فتہ معاشرہ پسند نہیں کرتا ہے۔ ترقی کے جو منازل ہم طے کرنا ہی ترقی سمجھتے ہیں وہ ہماری ناقص عقلی ہے کیونکہ وہ  دراصل انسانی تنزلی ہے.  ہمیں مادیت کی چکا چوند نے بلکل اندھا کردیا ہے اور ہم ترقی کے  اصل میں کیا معنی  ہیں  اسکو بھلا بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ایمان کی تجارت!

آج ہم نام کے مسلمان منافقت میں اتنے آگے جا چکے ہیں کہ دوسروں کو قبر، آخرت و محشر کے سبق کی آڑ میں مذہب کو بیچ رہے ہیں. مگر وہ پاک ذات باری بہت بڑی ہے وہ ایسے لوگوں کے چہروں پر انکی اصلیت لے ہی آتی ہے بس ہم جیسے لوگوں کو چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ٹٹولیں کہ ہم خود کتنا اپنا  مذہب جانتے ہیں اور کتنا عمل کرتے ہیں تب کہیں جا کر ہم ان دجالی چیلوں سے خود بھی بچ سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 سر سید احمد خاں: شخصیت,عقائد اور نظریات!

سر سید احمد خاں کی علمی خدمات کا اعتراف کیے بنا ہندوستان کی علمی تاریخ ادھوری ہے اس لیے کہ سر سید احمد خاں نےجو کچھ ہندوستانی سماج کو دیا ہے اسے بھلانا آسان نہیں ہے انکی کاوش اور خدمات کا قائل ہر شخص ہے ہاں خامیاں بھی تھیں انکے اندر مگر اسکی وجہ سے انکی علمی کارناموں کا انکار نہیں کیا سکتا_

مزید پڑھیں >>

بھوک کا سایہ!

دعوی کرنے والے ہزارو ملینگے جو چیخ چیخ کر آپ سے کہینگے کہ ہم نے بھوک اور غریبی کا سایہ دیکھا ہے فٹپاتھ کی گود دیکھی ہے اس لیے میں یہ وقت نہیں بھولونگا, مگر ایسا کبھی نہیں ہوا ہر پیٹ کا بھوکا شکم سیر ہونے کے بعد,اپنا دن پلٹ جانے کے بعد کسی دوسری بھوک کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنے ماضی کو دیکھنا گوارہ نہیں کرتا کیونکہ اس کے لیے وہ مایوسی کا دن تھا_

مزید پڑھیں >>

جو جتنا چاہے لوٹ لے اس ملک کو!

ہندوستان کی آزادی کے فورا بعد ہی بدعنوانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا,بدعنوانی کے خاتمے کے لیے 21دسمبر 1963 کو پارلیمینٹ میں بحث ہوئی جس میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ ہندوستان میں سیاست اور تجارت کے تعلقات اتنے بد عنوان ہو گئے ہیں دنیا کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا.

مزید پڑھیں >>

غلامانہ ذہنیت!

آج ضرورت ہیکہ ہمیں اپنی تہذیب اور زبان وادب سے محبت کے ساتھ ساتھ اس پر فخر ہونا چاہیے اور اسکی بقاءوتحفظ کے لیے قدم اٹھانا چاہیے اور اس پر عبور حاصل کرکے لوگوں کو اس سے آشنا کرانا چاہیے تب ہمیں سراٹھا کر کہنے کا پورا حق ہوگا کہ ہمیں ہندوستانی پونے پر فخر ہے ورنہ دوسروں کی زبان و ادب سے محبت کرکے ملک کی محبت کا دم بھرنا بیجا اور فضول ہے۔

مزید پڑھیں >>

طلبئہ مدارس احساس کمتری کے شکار!

طلبئہ مدارس جب کسی اسکول کے طلبہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ اسکول میں انجینئرنگ کررہا ہے بعد میں اتنا کمائیگا اور ہم کو وہی چار پانچ ہزار روپئے ملتے ہیں آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کیسے اتنی قلیل رقم میں کام چلےگا لیکن شاید وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ علوم نبویہ کو سیکھ رہے ہیں جس سے ہماری دنیا تو دنیا آخرت بھی سنور جاتی ہے اور آج تک دنیا شاہد ہےکہ جس نے اس علم کو اپنے رب کی رضا کے لیے پڑھا وہ کبھی ذلیل وخوار نہیں ہوا.

مزید پڑھیں >>