وصیل خان

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

طلسمات عروض: فن عروض پر سکندر احمد کی منفرد تحریر

 موجودہ دور جب ارد و ادب کیلئے ہی پرخار ہوچکا ہے ایسے میں بھلا شاعری کا مستقبل کیوں کر مستحکم رہ سکتا ہےیہ کتنا بڑا المیہ ہے آج سب سےزیادہ کتابیں شعری مجموعوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن ان میں نہ عروض کا کہیں التزام ہوتا ہے نہ ہی فکری معیار کی بلندی کا جبکہ شاعری کا ان دونوں لوازمات سے مزین ہونا ضروری ہے۔ سکندر احمد کی یہ کتاب ’ طلسمات عروض، فن عروض پر ایک مستند اور تحقیقی تخلیق کا درجہ رکھتی ہے۔ امید ہے کہ اہل علم اور خصوصا ً شعراءاس سے بھرپور مستفید ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

نازی تحریک اور آر ایس ایس

جس طرح جرمن نازی یہ کہتے تھے کہ یہودی جرمنی ہی نہیں پوری انسانیت کیلئے تمام خرابیوں اور برائیوں کی جڑ ہیں اس لئے ان کو جینے اور زندہ رہنے کاکوئی حق نہیں ان کا قتل و خون ملک کیلئے مفید اور کارآمد ہے۔ بالکل یہی فلسفہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا مسلمانوں کیلئے ہے۔وہ اپنے مشن پر پوری طرح کاربند ہے اس کے برعکس سیکولر پارٹیاں مکمل طور پر باہمی انتشار اور سر پھٹول میں مصروف ہیں۔ کیا اس صورتحال میں حق اور اصول کی لڑائی جیتی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

شیخ رحمان اکولوی کے ’مضامین‘: ایک جائزہ

کتاب کی اہمیت حیرت انگیز انکشافات کے سبب مزید بڑھ جاتی ہے جس سے قاری کے تحیر اور معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ زبان سہل اور شگفتہ ہے لیکن کہیں کہیں کمزور ہوگئی ہے اس کے علاوہ کمپوزنگ کی غلطیاں مزید الجھن پیدا کرتی ہیں جن پر قابو پانا ضروری تھا۔

مزید پڑھیں >>

’اندھیر نگری چوپٹ راج‘ کا مطلب؟

پورا ملک مہنگائی اور بے روزگاری سے بدحال ہے اور شرپسند عناصر گھروں گھروں گائے کا گوشت تلاش کرتے پھررہے ہیں اور اس کی آڑ میں قتل و غارت گری مچائے ہوئے ہیں۔ دہشت گرد بے خوفی کے ساتھ سینہ تانے گھوم رہے ہیں اور ہمار ے حکمراں مذمتی بیانات جاری کرکے ایئرکنڈیشنڈکمروں میں غائب ہوجاتے ہیں۔ ملک میں نراجیت پھیلی ہوئی ہے، صبح کے اخبارات روزانہ خون میں لتھڑے ہمارے ہاتھوں میں جب آتے ہیں تو اندر تک روح کا نپ جاتی ہے۔ عوام کا نہ کوئی پرسان حال ہے نہ مسیحا،علاج ہوتو کیسے۔

مزید پڑھیں >>

 بھائی اب تو ایک ہو جاؤ

ظلم و طغیان کا سیلاب بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گیا کہ اب کھلے عام شریعت میں مداخلت شر وع ہوگئی ہے ،طلاق ثلاثہ کا معاملہ جو کہ خالص مذہبی شق سے تعلق رکھتا ہے جس کی آئین ہند میں اجازت دی گئی ہے اس کے باوجود مسلمانوں کو اتنا کمزور و بے وقعت سمجھ لیا گیا ہے کہ حکومت نے اتنی بھی ضرورت نہیں محسوس کی کہ اس تعلق سے مسلم علماء اور دانشوروں سےہی صلاح ومشورہ کرلیا جائے۔ دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ گذشتہ ۲۸؍دسمبر کو پارلیمنٹ میں جب بل پیش کیا گیا تو اس کی مخالفت اسدالدین اویسی نے تنہا کی اور ۲۲؍مسلم ممبران پارلیمنٹ کوجیسے سانپ سونگھ گیا وہ خاموش رہے یا حاضر ہی نہیں ہوئے۔ جس کا مطلب صاف ہے انہیں پارٹی عزیز ہے مذہب نہیں،کچھ سمجھے آپ ، اگر ہم اب بھی نہ جاگے توآنے والاکل کتنا سنگین ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ آپ سن رہے ہیں نا۔ ۔۔۔!

مزید پڑھیں >>

مٹھی بھرآسمان (شعری مجموعہ)

’’مٹھی بھر آسمان، اس لحاظ سے تو مٹھی بھر ہی ہے کہ اس میں شامل نظموں اور غزلوں کی تعداد مختصر ہے لیکن اس چھوٹے سے آسمان میں اوپرتلے کئی دائرے، قوسین اور پرتیں ہیں، اس میں شادمانیوں اور المناکیوں کے گھلے ملے خطوط بھی ہیں اور حسن وعشق کے مرتسم نقوش بھی، لہو کے رشتوں کی حرارت بھی ہے اور جذباتی وابستگیوں کی تجارت بھی۔ بچھڑے ہوئے ماضی کی شادابیوں کی ایک مہک بھی ہے اور نامحتسم حسرتوں کی کسک بھی۔ اخلاقی قدروں کے زیاں کا رونا بھی ہے او ر ان کی بازیابی و بقا کے امکانی موتیوں کا اشعار میں پرونا بھی۔ کتاب کے ابتدائی صفحات میں حمدو نعت، مناجات کا تو اثر شاعر کی مذہبی و روحانی ترجیحات کا غماز بھی ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیں >>

پھر ایک بڑے محاذ کی ضرورت ہے!

بہرحال گجرات کے الیکشن سے بی جے پی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے جو سیکولر جماعتوں کیلئے ایک خوشگوار مستقبل کا  اعلانیہ ہے جس کا فائدہ سیکولر لیڈران اپنی حکمت عملی کے مثبت استعمال اور ایک عظیم اتحاد کے ذریعے پوری طرح اٹھا سکتے ہیں، ایک ایسا اتحاد جو ایمر جنسی کے بعد جے پرکاش نرائن کی قیادت میں طوفان بن کر اٹھا تھا جس نےکانگریس کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا تھا۔ آج ایک بار پھر اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

’مسلمانوں کے تعلیمی مسائل‘ پر ایک رہنما کتاب

یہ صحیح ہے کہ حصول تعلیم کے موضوع پر اب تک جتنا لکھا جاچکا ہےاتنا پڑھا نہیں گیا، بالفرض جوپڑھا بھی گیا، اس پر عمل بہت کم کیا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ مذہب اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی ہے، سرور کائنات، محسن انسانیت، پیغمبر انقلاب محمد الرسول القائد ؐپر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم کے ہی تعلق سے تھی۔ جبرئیلؑ امین نےجب آپ سے کہا، اقراء (پڑھیئے) جواب میں آپ نے فرمایا ’ما انا بقاری ‘ (میں پڑھنا نہیں جانتا)، فرشتے نے پھر کہا اقراء آپ نے کہا، ما انا بقاری، اس کے بعد آپ نے ابتدائی چند آیات تلاوت فرمائیں ۔ فرشتے کے پیہم اصرار سے علم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اُف یہ مہذب لٹیرے!

گذشتہ دنوں ایسی ہی ایک فیملی سے ملاقات ہوئی جس نے ڈیلیوری کیلئےنرسنگ ہوم میں زچہ کو داخل کیا  وہاں کے منتظمین نے صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ آپریشن کا کیس ہے آپ فیس کا انتظا م کریں ورنہ کیس بگڑسکتا ہے اور زچہ بچہ دونوں کی موت ہوسکتی ہے غریب فیملی پیسوں کا فوری انتظام نہ کرسکی مریضہ رات بھرتڑپتی رہی لیکن انتظامیہ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی بس وہ پیسوں کا مطالبہ کرتی رہی لیکن صبح میں بڑی آسانی سے نارمل ڈیلیوری ہوگئی اوراسپتال انتظامیہ منھ دیکھتا رہ گیا۔

مزید پڑھیں >>

بال کی کھال: طنز و مزاح پر ایک دلچسپ کتاب

مطالعے کے دوران مجموعی تاثر یہی ہوتا ہے کہ فیاض احمد فیضی اردو ادب کی فضا میں طنزو مزاح کا ایک ایسا رنگ گھول رہے ہیں جو نہ پھیکا ہوسکتا ہے نہ ہی مدھم۔ ان کی مشاقی اور مستعدی اسی طرح جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب طنزو مزاح کی دنیا میں وہ  ایک نمایاں مقام پر نظر آئیں گے۔ لیکن کمپوزنگ میں بے تحاشا اغلاط سے ذہن و دل میں جو انقباضی کیفیت پیدا ہوتی ہے،جس سے مطالعے کا تسلسل مجروح ہوتا ہے اس ذمہ داری سے وہ پوری طرح انصاف نہ کرسکے کاش اس جانب بھی وہ توجہ مبذول کرلیتے۔

مزید پڑھیں >>