وصیل خان

وصیل خان

اجالوں کو نگلتے اندھیرے

مادیت اور صارفیت کی زد میں آنے کے بعد دنیا کا رنگ تیزی سےبدلتاجارہاہے اس کے اثرات بد سب سے زیادہ اخلاقی اقدار پر پڑے ہیں اور اس میں اس قدر گراوٹ آگئی ہے کہ آج انسان کو انسان سمجھنا بھی مشکل ہوتاجارہا ہے۔ حصول زر اور تعیش کی جستجو اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہم اپنے فائدے کیلئے انسانیت کے معیار سے  گرجانے میں بھی دریغ نہیں کرتے کبھی کبھی ان حرکات کا بھی ارتکاب کربیٹھتے ہیں جس سے خود ہماری روح بھی شرمسار ہوجاتی ہے.

مزید پڑھیں >>

منزل ما دور نیست

طلباء کی ایک خاص نہج پر تربیت کی جارہی ہے جو انہیں وسعت نظری کے اعلانیئے کے باوجود تنگ نظری کا اسیر بناسکتی ہے۔ اسلاف سے رشتے کا انقطاع ایک طرح کی ہلاکت کے مترادف ہوسکتا ہے۔ اس برج کورس کی تیاریاں، مقاصد سب متبرک سہی لیکن اس طرح کی سوچ شدید نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے جس سے پہلو تہی یا چشم پوشی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔

مزید پڑھیں >>

ہندو مذہبی کتابوں میں ذکر رسولﷺ: ایک تحقیقی مطالعہ  

جیسا کہ نسل انسانی کی ابتدا سے حضرت آدم علیہ السلام نے جو تعلیم اور دین دیا وہ اسلام ہی تھا جس کے بنیادی اصول یہی تھے جو آج بھی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، جیسے خدا کی ہستی اور عقیدہ ٔ توحید، عقیدہ ٔ وحی و رسالت، آخرت یعنی دنیاوی زندگی کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا کا عقیدہ۔ اس طرح آ ج بھی ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں خدا کی ہستی اور اس کی توحید کے عقیدے جن میں مورتی پوجا کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن توحید خالص شکل میں موجود نہیں اس لئے کہ توحید کے ساتھ ساتھ مشرکانہ اشلوک بھی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اُف یہ مسلکی پھندے !

کہتے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے، آج پھر وہی مذہبی جبر کا زمانہ لوٹ آیا ہے اور آج پھر اس کا جواب وہی ہے جو ماضی میں دیا جاچکا ہے، یعنی صبر اور اتحاد کے ساتھ خود کو مضبوط و مستحکم کرنے کا عمل، ہمارے درمیان مسلکی اختلافات اتحاد کی راہ کا کانٹا بنے ہوئے ہیں ہمیں ان کانٹے دارمسلکی جھاڑیوں کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا ایک خدا ایک قرآن اور ایک نبی کے نام پر متحد ہوکر سارے گلے شکوؤں کو دور کرنا ہوگا، خود غرضیوں اور مصلحت پسندیوں سے پرے امن و اخوت کا پرچم بلند کرتے ہوئے امن و محبت  کے دریا بہانے ہوں گے، اس کے بغیر ہمارا ہر احتجاج ہر چیخ و پکار اور ہر کوشش صدابصحرا ہی ثابت ہوگی، آپ سن رہے ہیں نا۔

مزید پڑھیں >>

اب ہمیں کون سمجھائے !

تعلیم انسانی ضرورت ہے اس کا حصول مہذب سماج اور معاشرے کیلئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ کسی بھی انسان کیلئے خوراک، جس طرح انسان کھائے پیئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح کسی بھی صحت مند سماج کیلئے تہذیب و تمدن ضروری عناصر ہیں اس کے بغیر سماج زندہ تو رہے لیکن اس طرح کہ اس کے اندر انسانیت نہیں بلکہ حیوانیت و و وحشت کا راج ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

شاخ طوبیٰ: جذبۂ اندروں کا خوبصورت اظہار 

شعری تخلیقات میں نعت گوئی کا سلسلہ قدیم بھی ہے اور انتہائی دشوار گزار بھی ۔دشوار گزار اس معنی میں کہ اس صنف سخن میں دوسری اصناف کے مقابلے کچھ زیادہ ہی حزم و احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔  ذراسی غفلت اور بے توجہی کسی کوبھی خارج از ایمان بناسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

اتحاد کو سبوتاژ کرنے کی مذموم جسارت

جس طرح عقیدہ ٔ توحید اسلام کی بنیاد ہے اسی طرح  فراست یعنی حکمت و تدبر کو بھی اسلامی اساس تسلیم کیا گیا ہے ۔احادیث میں آیا ہے کہ اتقوابفراست المومن کانہ ینظربنوراللہ، مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ کے نو ر سے دیکھتا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ مومن جب کچھ دیکھتا ہے تو اسکی نگاہیں ذاتی مفاد پر مرکوز نہیں ہوتیں بلکہ اسے عوامی مفاد کا خیال رہتا ہے

مزید پڑھیں >>

شذرات معرفت: اللہ کی طرف بلانے والی ایک مختصرکتاب

مجموعی طور پر یہ کتاب ان افراد کیلئے انتہائی مفید اور کارآمد ثابت ہوسکتی ہے جن کے دلوں میں تزکیہ ٔ نفس کی خواہش اور ایک اچھا اور مفید انسان بننے کی آرزو ہوگی ۔ موجودہ صورتحال اور کفر و الحاد کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر اس طرح کی کتابوں کی ضرور ت اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

حیات مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانیؒ

بدایوں میں ملا عبدالقادر بدایونی کے کتب خانے سے استفادہ کیلئے تین دن تک وہاں باریابی کیلئے مقیم رہا۔ حضرت سید اشرف جہانگیر ؒ کے حالات زندگی پر مشتمل زیر نظر کتاب پورے پلان کا ایک حصہ ہے اس میں آپ کے حالات اور واقعات کی چھان بین کی گئی ہے اور انہیں جہاں تک ممکن ہوسکا تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ‘‘

مزید پڑھیں >>

جمہوریت پر گرتا اندھیرا 

انصاف کا قیام کسی بھی حکومت کے استحکام کیلئے انتہائی ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب حکمراں نیک نفس اور منصف ہوں ۔ملک کی موجودہ صورتحال آج یہی منظر پیش کررہی ہے۔ حکمراں طبقہ صرف اسی عمل میں مصروف ہے کہ بس کسی نہ کسی طرح وہ ملک کی تما م ریاستوں پر اپنا تسلط قائم کرلے اسے نہ انصاف سے سروکار ہے نہ ظلم وجور کے خاتمے سے۔

مزید پڑھیں >>