محمد شمشاد

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں
رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

کانگریس کیلئے گجرات الیکشن کا سبق آموز نصیحت

 الیکشن جہاں جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں کسی ایک پارٹی کی جیت اور دوسرے کو ہار تسلیم کرنا پڑتا ہے لیکن بعض الیکشن میں یکطرفہ نتائج سامنے آتے ہیں تو کبھی مقابلہ برابر کا ہوتا ہے ان حالات میں ہارنے والی پارٹی کو بھی الیکشن جیت کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور وہ پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہتی ہے اسکی مثال بہار،جمو و کشمیر،منی پور اورگوا کی حکومتیں ہیں بہار اور جمو کشمیر کی عوام بھاجپا کے مخالفت میں تھی اوروہ کسی بھی حال میں بھاجپا کو نہیں چاہتے تھے لیکن بھاجپا کے امیت شاہ اور نریندر مودی کی جوڑی نے ڈنڈے کے زور پہ ان دو ریاستوں میں  حکومت کی کرسیاں تھام لیاور وہاں کی عوام انکا منہ دیکھتے رہ گئے ۔

مزید پڑھیں >>

جامعہ نگر نئی دہلی کا ایک جائزہ

اسکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر ایک یا دو گلی کے بعد کوئی نہ کوئی مسجد مل جائیگی لیکن وہ مسجدیں کسی نہ کسی مسئلک، ذات، علاقائیت اور تنظیم کے نام سے منسوب ہوگئیں ہیں اور ان میں زیادہ تر مقتدیوں کی تعداد بھی انکے پیروکار نظر آتے ہیں اسکے علاوہ ان مسجدوں میں مسلکی، علاقائیت اور تنظیموں کے نام پر شدت پسندی کے بنا پر تصادم بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے بلکہ کچھ مسجدوں میں ان تصادم کے خاتمے اور امن و شانتی سے نماز قائم کرنے کیلئے پولس و عدالت کا بھی سہارا لینا پڑا ہے بڑی عجب بات ہے کہ جو دین اسلام لوگوں کوسلامتی کا راستہ دکھانے آیا ہے اسکے پیرو کار ہی اپنی نماز قائم کرنے کیلئے پولس کا سہارا لے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ہندستان کی براہمنیت

یوں توبراہمنوں کے مطابق انکے دیوتائوں کی تعداد چالیس کروڑ ہے یعنی دیوتائوں کی تعداد پجاریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور گائے ان دیوتائوں کی سردار ہے  ہندو مت کے پیروکار اگر جانور وں مثلا ناگ، ہنومان اور بندروں کی پرستش کرتے ہیں تو وہ درختوں ، پتھروں ، دریائوں کے سنگم، منبع، سورج، چاند، اور انگنت دوسری چیزوں کی پوجا بھی کرتے ہیں مزید یہ کہ وہ علم، موت، دولت وغرہ کو بتوں کی شکل دیتے ہیں اور انہیں دیوتا مان کر انکی پوجا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

منحوس

   ایک شام، ضیاء ابھی دفتر سے گھر لوٹا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر پولس انسپیکٹر اور کئی مسلح سپاہی کھڑے تھے اسکے نام گرفتاری کا وارنٹ تھا۔ اس پرالزام یہ تھا کہ و فساد کی خبریں شائع کر کے مسلمانوں کو مشتعل کر رہا ہے اس طرح اسے جیل کی چہار دیواریوں میں بند کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

دل میں اٹھتے سوال

 ’’یہ سن کے ہم کو دکھ ہوا بہت دکھ ہم اسکے اجت (عزت) کے کھاتر (خاطر)تاڑی کا دوکان کھول دیا اور سالی کو تاڑی بیچنے کو بیٹھا دیا۔ تب سے سالی رکمنی تاڑی بیچنے لگی اور آج سالی کہتی ہے جا تو ہمر (میرا)کون لگے ہے۔ ہاں! ہم اس کا کون ؟ کچھ تو نہیں میاں بھائی کچھ بھی نہیں۔ اس کے کھاتر ہم اب تک ایک دن بھی اپن کھولی میں نہیں سویا۔ جاڑا گرمی برسات سب رات ہم پھوٹ پاتھ پر سوتے گجارا اور سالی وہ دن رات ہر بکھت ہمارکھولی میں رہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

انقلاب

اس نے بارہا کہا کہ میں اس کی مدد کروں لیکن مجھے اتنی فرصت کہاں کہ میں ۔۔ ۔ ۔ حالانکہ وہ پڑھنے میں بہت تیز اور محنتی تھی پہلے ہی دن وہ ہمارے لکچر سے کئی سوالات اٹھا چکی تھی اور اسی وجہ کر میں اس سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوا تھا اس کے علاوہ اس میں اور بھی کئی خوبیاں تھیں جو ہر وقت سبھی کو متاثر کر تی تھی تیزی چنچلاپن خوبصورتی یہ تمام خوبیاں اس میں یکجا تھیں۔

مزید پڑھیں >>

بے بس انسان

میں بیدار نہیں ہوں پھر بھی لوگ مجھے بیدار کہتے ہیں ان لوگوں نے میرا نام بیدار کیوں رکھا مجھے اس کا علم نہیں اور نہ ہی کبھی اس راز کو میں نے جاننے کی کوشش کی۔ پہلے پہل مجھے بہت برا لگاتھا لیکن بار بار سنتے سنتے مجھے بھی یہ نام پسندآنے لگا۔ آخر کار میں نے اسے اپنے نام کے ساتھ جوڑا دیا اورگائوں کے سارے لوگ میرے اصل نام کو بھول گئے اس طرح میں بیدار بن گیا۔

مزید پڑھیں >>

  خواب کی الٹی تعبیر!

انکا جواب نئے انداز کا تھا ہزاروں سوالوں کا جواب ایک چپ وہ خاموشی سے سب کچھ سنتے رہے تھے اسکے برعکس میں کافی خوش تھی کہ جس شخص سے دنیا کبھی آنکھ نہ ملا سکی اسے میں نے اتنی جھاڑ پلائی اسکے بعد میں شیر بن گئی اور میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا لیکن جب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو مجھے انکے سامنے جانے سے بھی خوف لگنے لگا یہاں تک کہ معافی مانگنے میں بھی اور میں بھیگی بلی بن بیٹھی تھی۔

مزید پڑھیں >>

بھولے بسرے لمحے!

یہ کہتے ہوئے بابا نے اسکے سامنے ایک تصویر رکھ دیا اور بولا ’’یہ لو میرا ایک حقیر تحفہ‘‘ اس تصویر کو دیکھتے ہی عزمی تڑپ اٹھی یہ تو میرا فنکار ہے میرا فنکار یہ تمارے پاس کہاں سے آیا؟ بتاؤ بابا! تم اسے کہاں سے لائے ہو۔کیا تم فنکار کو جانتے ہو بتاؤ نا میرا فنکار کہاں ہے؟‘‘ اور اسکی نظر اسکے ہاتھ پر جا پڑی اسکی دی ہوئی انگوٹھی اسکے ہاتھوں میں چمک رہی تھی اور وہ انگوٹھی کو دیکھتے ہی اس پر برس پڑی ’’تم جھوٹے ہو تم نے مجھے اتنا کیوں تڑپایا میں بھی کتنی بدھو ہوں کہ اتنے دنوں سے میرا فنکار میرے پاس ہے اور میں نے زرا بھی اسے پہچاننے کی کوشش نہیں کی اور تم نے بھی مجھے نہیں کہا کہ تم ہی میرے فنکار ہو۔

مزید پڑھیں >>

ایک اور ستیہ گرہ

وہ گھر سے نکل کر سیدھے گاندھی چوک جا پہنچی اور گاندھی کے پیروں پر اپنا سر ٹیک کر باپو کو پکار اٹھی ’’باپو! کیا تونے اسی لیے لوگوں کو ستیہ اور اہنسا کا سبق سکھایاتھا؟ کیا تونے اسی دن کے لیے اپنے دیش کو آزاد کرایا تھا؟ اٹھ اور دیکھ اپنی آنکھوں سے اپنے ان دیش واسیو ں اور بھگتوں کو، وہ کیا کر رہے ہیں ؟ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ہر طرف ظلم ہی ظلم ہے چاروں طرف زنا، ہنسا، لوٹ مار ،جھوٹ اور نہ جانے کن کن جرائم کا دورہ دورہ ہے اٹھ باپو اٹھ! جا ان دیش واسیوں کے درمیان، پھر سے اپنا سبق دوہرا اور ……

مزید پڑھیں >>