ڈاکٹر محسن عتیق خان

ڈاکٹر محسن عتیق خان

ڈاکٹر محسن عتیق خان معروف اونلائن عربی میگزین اقلام الھند کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور ہندوستان میں عربی زبان کے واحد افسانہ نگارہیں۔ آپکے مختلف افسانے، مقالے اور مضامین ملک و بیرون ملک کے مختلف رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں اور اسکے ساتھ ہی آپکی دو کتابیں بھی منظر عال پر آچکی ہیں۔

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (آخری قسط)

  شیخ مبارک بودلےؒ کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے، آپ کی اشاعتِ اسلام کی کاوشوں کے مختصر جائزے اور آپ کے خلفاوارادتمندگان کے بارے میں پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص آپ کی عظمت وبزرگی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا، مگر اتنی عظیم ہستی کا اب تک پردۂ خفا میں رہنا انتہائی تعجب کی بات ہے، اور مسلم تذکرہ وسیرت نگاروں اور خود آپ کے خانوادے کے علما کی بے اعتنائی اور بے توجہی پر دلالت کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (تیسری قسط)

 شیخ مبارک بودلے ؒکے احوال وکارہائے نمایاں کے تذکرہ کے بعد یہ ضروری ہے کہ ہم آپ کے مشہور اور اہم ترین شاگردوں وجانشینوں کا بھی ذکر کریں اس لئے کہ آپ صرف ایک صوفی بزرگ اور داعی ہی نہ تھے بلکہ ایک متبحر عالم تھے اور خلق خدا کی ایک کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا

مزید پڑھیں >>

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (دوسری قسط)

 شیخ مبارک بودلے ؒ کے انتقال کے بعد آنے والی نسل اخلاق واعمال کے زوال سے دوچار ہوئی۔ ایک طرف ان کے عقائد نے ہندوستانی رنگ اختیار کیا، تو دوسری طرف ہندوستانی روایات نے اسلامی اقدار کی جگہ لینی شروع کردی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تعلیم وتبلیغ اور ارشاد وہدایت میں مشغول ہونے کے بجائے عرس وفاتحہ اور محرم وعزاداری کے مراسم میں الجھ کر رہ گئی۔

مزید پڑھیں >>

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (پہلی قسط)

تعلیم سے فراغت، حج کی ادائیگی اور پھر ازدواجی زندگی سے جڑنے کے بعد اب وقت آگیا تھا کہ آپ خلافت سے مشرف ہوں اورمسند ارشاد پر متمکن ہوں ۔ چنانچہ آپ کے جد امجد سید حاجی قتال نے آپ کو خرقئہ خلافت عطا کیا اور طالب علموں کی تدریس، مریدوں کی تربیت اور فقراء کی خدمت کی ذمہ داری آپ کے سپرد کر کے خود عبادت وریاضت میں مشغول ہوگئے۔

مزید پڑھیں >>

مغربی تہذیب کی تنقید یا خود احتسابی

ہمیں تنقید کے بجائے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا کی بھلائی کے لئے کیاکام کر رہے ہیں ، اگر نہیں کر رہے ہیں اور نہیں کرنا چاہتے تو اپنی بے وقعتی کا شکوہ کرنا بے جا ہے کیونکہ ہمیں اپنا کھویا ہو اوقار اسی وقت ملے گا جب ہم انسانی سماج کی خاطرخود کاوش کریں گے۔ یقینا ہمیں بطور امت، بطور قوم ایک نئی پرواز کی ضرورت ہے ایک نئی اڑان بھرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>