ایم شفیع میر

ایم شفیع میر

آصفہ کے قتل کا فرضی خاکہ اور پولیس کی کارکردگی

پولیس سربراہ سے یہ گزارش ہے کہ وہ سیاسی بیانات سے زیادہ فرائض منصبی کا ثبوت پیش کریں اور محکمہ پولیس کے دامن کو  الزامات کی گندگی سے پاک رکھنے میں اپنی توجہ دیں تاکہ مستقبل انھیں ایک ایماندر، انسان دوست آفیسر کے طور یاد رکھا جائے اور پولیس محکمہ کے ان ذمہ دار پولیس افسروں کو بھی یاد رکھا جائے جنھوں نے قومی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

یہی تو وقت ہے سورج تیرے نکلنے کا

مسلم قائدین سے یہ گزارش ہے کہ وہ سیاست دانوں کی جی حضوری میں اپنی عافیت خراب نہ کریں اور وقتی طور کی ان گھنگور گھٹاؤں سے ڈرنا چھوڑ دیں یہ وقت ڈرنے کا نہیں کچھ کرگزرنے کا ہے۔ خوف موت ہے لیکن خوف کے مہیب سایوں کو امید کی نئی جوت بنالینا زندہ قوموں کا شعار ہے۔ ہم اس خوف کو دھتکاریں گے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے خوف کی کوئی جگہ نہیں ۔

مزید پڑھیں >>

منشیات فروش، پولیس اور ہم

  منشات فروشی کے بڑھتے رجحان کو لیکر والدین، پولیس، اساتذہ، سیاسی قائدین، میڈیا، معزز شہری، علمائے کرام اور فلاحی تنظیمیں خاموش ہیں یوں لگتا ہے کہ سب ملکر کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نسل نو کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں آنے والی نسل شاید یہ جرم ہمیں معاف نہ کر دے اس سے قبل ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اب بھی وقت ہے جاگنے کا۔منشیات کے خلاف آواز اٹھانا آپ سب کی  ذمہ داری ہے اور میری بھی !

مزید پڑھیں >>

پی ڈی پی اوربی جے پی اتحاد

  ریاستی عوام ابھی تک ششدر ہے کہ مرحوم مفتی سعید کو کیا ہوا تھا کہ انھوں نے اتنا بڑ افیصلہ کر ڈالا اوراپنے ووٹران کو تپتے صحرا میں تنہا چھوڑ کر ماضی کے دشمن اور خاص کر ریاست کے خرمن امن میں آگ کے شعلوں کو ہوا دینے والی جماعت بھاجپا کو اپنا اتحادی دوست بنا لیا لیکن بہت سی کہانیاں ہیں جو آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیںں ڈیل کے قصے بھی زبان زدہ خا ص و عام ہیں جن کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔بس انتظار کیجئے اور مفادی سیاست کے نتائج دیکھئے۔

مزید پڑھیں >>

آزادیٔ ہند میں مسلمانوں کا کردار

 ہندوستان کو  آ زاد کرنے میں جتنی قربانیاں مسلم رہنمائوں نے دی اُسے زیادہ دیگر مذاہب کے رہنمائوں نے نہیں دی ہیں ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ رہنمائی کا سب سے بڑا چہرہ گاندھی کے طور پر سامنے آیا ہے جو کہ ایک ہندو تھا لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ دیگرمذاہب کے لوگوں کی قربانیوں کو فراموش کیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

اُمیدِ وفا

دل میں ہزار تمنائوں کے خواب لئے آفاق اپنی معصوم سی زندگی اپنی پانچ بہنوں اور اپنے بڑے بھائی کی پرورش میں گزار رہا تھا ۔سب کا اکلوتا اور اپنے بھائی کا چھوٹا عزیز و رفیق آفاق کی حالت روتے روتے خراب ہو گئی تھی، اُکھڑے بال،سوجی آنکھیں ،سوگوار چہرہ اور ملگجا سا شکن آلود لباس۔اُس کے آنسو رمیز کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

محمد شفیع جرال: بیباک قلم کار

 کسی نے ادب میں نام کمایا تو کسی نے صحافت میں ،کسی نے رپورٹنگ میں شہرت پائی تو کسی نے کالم نگاری میں ،کسی کی صاف گوئی پہچان بنی تو کسی کی بے باکی۔مگر محمد شفیع جرال ایسی شخصیت ہیں جس نے ادب ،صحافت اور بحیثیت استاد بیک وقت اپنی شناخت حاصل کی ۔قلم جب بھی اُٹھا صاف گوئی و بے باکی وجہ مقبولیت بنی۔

مزید پڑھیں >>