ایم شفیع میر

ایم شفیع میر

پی ڈی پی اوربی جے پی اتحاد

  ریاستی عوام ابھی تک ششدر ہے کہ مرحوم مفتی سعید کو کیا ہوا تھا کہ انھوں نے اتنا بڑ افیصلہ کر ڈالا اوراپنے ووٹران کو تپتے صحرا میں تنہا چھوڑ کر ماضی کے دشمن اور خاص کر ریاست کے خرمن امن میں آگ کے شعلوں کو ہوا دینے والی جماعت بھاجپا کو اپنا اتحادی دوست بنا لیا لیکن بہت سی کہانیاں ہیں جو آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیںں ڈیل کے قصے بھی زبان زدہ خا ص و عام ہیں جن کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔بس انتظار کیجئے اور مفادی سیاست کے نتائج دیکھئے۔

مزید پڑھیں >>

آزادیٔ ہند میں مسلمانوں کا کردار

 ہندوستان کو  آ زاد کرنے میں جتنی قربانیاں مسلم رہنمائوں نے دی اُسے زیادہ دیگر مذاہب کے رہنمائوں نے نہیں دی ہیں ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ رہنمائی کا سب سے بڑا چہرہ گاندھی کے طور پر سامنے آیا ہے جو کہ ایک ہندو تھا لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ دیگرمذاہب کے لوگوں کی قربانیوں کو فراموش کیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

اُمیدِ وفا

دل میں ہزار تمنائوں کے خواب لئے آفاق اپنی معصوم سی زندگی اپنی پانچ بہنوں اور اپنے بڑے بھائی کی پرورش میں گزار رہا تھا ۔سب کا اکلوتا اور اپنے بھائی کا چھوٹا عزیز و رفیق آفاق کی حالت روتے روتے خراب ہو گئی تھی، اُکھڑے بال،سوجی آنکھیں ،سوگوار چہرہ اور ملگجا سا شکن آلود لباس۔اُس کے آنسو رمیز کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

محمد شفیع جرال: بیباک قلم کار

 کسی نے ادب میں نام کمایا تو کسی نے صحافت میں ،کسی نے رپورٹنگ میں شہرت پائی تو کسی نے کالم نگاری میں ،کسی کی صاف گوئی پہچان بنی تو کسی کی بے باکی۔مگر محمد شفیع جرال ایسی شخصیت ہیں جس نے ادب ،صحافت اور بحیثیت استاد بیک وقت اپنی شناخت حاصل کی ۔قلم جب بھی اُٹھا صاف گوئی و بے باکی وجہ مقبولیت بنی۔

مزید پڑھیں >>

نجی تعلیمی ادارے بمقابلہ سرکاری تعلیمی ادارے!

جو لوگوں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلہ کرانے پر مجبور ہیں وہ یہ رونا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس بھی ذرایعے آمد ن کا کوئی راستہ ہوتا تاکہ ہم بھی اپنے بچوں کا نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ کرا کر انہیں اچھی تعلیم سے آراستہ کراتے۔

مزید پڑھیں >>

ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی بساط!

ریاست جموں و کشمیر میں میں نام نہاد لیڈرکثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ یہ شاید واحد شعبہ ہے جس میں ریاست جموں و کشمیرخود کفیل ہے۔ اس کے لیے کسی غیر ریاست کی امداد کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔بہت بار ایسا ہوا کہ عوام نے دل میں خدمت ِ خلق کا جزبہ رکھنے والے رہنما کی ضرورت محسوس کی اورحالیہ دور میں اِ س ضرورت نے شدت اختیار کر رکھی ہے لیکن ریاست میں آج تک عوامی امیدوں کے مطابق کسی لیڈر نے جنم ہی نہیں لیا جو حقیقی معنوں میں اپنے اندر عوامی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔

مزید پڑھیں >>

فیس بُک د ی ہٹی!

اک زمانہ ہوا کرتا تھا جب انسان فیس بک کے بغیر کھاناکھا لیا کرتا تھا، اک زمانہ ہوا کرتا تھا…یعنی ……’’ہوا کرتا تھا‘‘…لیکن موجودہ دور میں انسان کھانے پینے کی چیزوں کے بغیر کچھ دیر تو رہ سکتا ہے لیکن فیس بک جیسی اہم سہولت سے محروم خود کو نامکمل انسان سمجھنے لگتا ہے ،یوں سمجھ لیجئے کہ زندگی جینے کیلئے انسان کا فیس بک سے ناطہ جڑنا لازمی بن گیا ہے ۔

مزید پڑھیں >>