محمد شاہد خاں

محمد شاہد خاں
آپ کاروان اردو قطر کے جنرل سیکریٹری ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مترجم بھی ہیں.

آتش تلخی حالات میں کیا کچھ نہ جلا

ان دنوں مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب کے بابری مسجد سمجھوتہ فارمولہ اور مسلم پرسنل بورڈ سے ان کے ہٹائے جانے کے موضوع نے پورے ہندستانی میڈیا میں ایک ہیجان برپا کررکھا ہے شوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان بپا ہے، عمل پھر رد عمل پھر رد عمل کے ردعمل کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے اس دھینگا مشتی اور گھماسان میں کسی نے کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، یہاں تک کہ دین وملت کے سودے کے الزامات بھی لگائے گئے، ذاتی رنجشیں بھی نکالی گئیں اور جماعتی وگروہی تعصب کا اظہار بھی کیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

ویلنٹائن ڈے

محبت ایک فطری عمل ہے اور محبت کا جذبہ قدرت نے نہ صرف انسان بلکہ دنیا کی ہر مخلوق کی طبیعت میں ودیعت کی ہے اگر محبت نہ ہوتی تو دنیا کا کوئی بھی رشتہ مستحکم نہ ہوتا، محبت ایک جذبہ ہے ایک کشش ہے ایک مقناطیسی قوت ہےایک کیفیت ہے جسے بیان کم اور محسوس زیادہ کیا جاسکتا ہے، زمین ہم سے محبت نہ کرتی تو اتنی نرم نہ ہوتی اگر آسمان ہم سے محبت نہ کرتا تو کب کا ہمارا سائبان چھن چکا ہوتا اور پہاڑ محبت نہ کرتا تو یوں کرۂ ارضی کا توازن کب کا بگڑ چکا ہوتا اگر سمندر محبت نہ کرتا تو دنیا کب کی غرق ہوچکی ہوتی اگر ہوا محبت نہ کرتی تو کائنات کب کی غبار ہو چکی ہوتی اگر آگ محبت نہ کرتی تو دنیا جل کر راکه ہو گئی ہوتی۔ 

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد تنازعہ: ایک جلتا زخم

بابری مسجد کی تعمیر کب ہوئی؟ اس کی تعمیر کس نے کی؟ بابری مسجد کی تعمیر سے قبل وہ زمین کس کی ملکیت تھی؟ اس کی تعمیر سے قبل وہاں کیا تھا؟ ان سارے سوالات کے جوابات تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں لیکن آزادی سے قبل بھی اور آزادی کے بعد بھی بابری مسجد اپنی جگہ  موجود تھی اور اس میں بدستور نماز قائم تھی۔

مزید پڑھیں >>

بدلتا بھارت اور ہماری اولین ترجیحات

مسلمانوں کا ملی وجود مٹانے کی کوششیں تیز تر ہورہی ہیں اسلئے مسلمانوں کو تعلیم، تجارت سیاست میں عرق ریزی کرنی پڑے گی اور اپنی صفوں کو درست کرنا پڑے گا، اپنے ملی وجود کی حفاظت ساتھ ساتھ اس ملک کو بھی ان مادہ پرست، خود غرض اور کرپٹ لوگوں سے بچانا ہوگا جو اسکی روح پر ضرب لگارہےہیں۔ یہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

لمحات آگہی

غالبا فروری 2017 کا مہینہ تھا دوحہ قطر میں ایک بڑا عالمی مشاعرہ ہورہا تھا پورا اسٹیج بقعۂ نور بنا ہوا تھا الوک کمار سریواستو پہلی بار نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے اور بڑی اچھی نظامت کررہے تھے، یکے بعد دیگرے مختلف شعراء کرام اپنا کلام سناکر رخصت ہورہے تھے کہ اچانک ناظم مشاعرہ نے ایک خاتون شاعرہ کو آواز دی، کھچاکھچ بھرے ہال میں ایک نسوانی آواز ابھری، وہ آواز سماعتوں سے گزر کر روح میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی، وہ تحت اللفظ میں پڑھ رہی تھیں ان کی آواز میں بڑا وقار اورلہجہ میں بڑا اعتماد تھا۔

مزید پڑھیں >>

کتاب ’حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے‘ کا رسم اجرا

12 جنوری 2018 کی رات ایک یادگار ادبی تقریب کے دوران مذکورہ کتاب کی رسم رونمائی عمل میں آئی،  تقریب کے ناظم اور جدید ترقی پسند شاعری کی معروف آواز جناب عتیق انظر صاحب نے فرمایا: کہ اس کتاب کے مصنف ہمارے عزیز دوست اور کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب محمد شاہد خاں ندوی صاحب ایک علم دوست اور لکھنے پڑھنے سے گہرا تعلق رکھنے والے شخص ہیں، وہ مترجم بھی ہیں اور اس پہلے کئی کتابوں کا ترجمہ کر چکے ہیں، انکی یہ نئی کاوش برصغیر کے مشہور عالم مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کے بارہ میں ہے، اس موضوع پر مزید اظہار خیال کے لئے میں کاروان اردو قطر کے نائب صدر جناب حسیب الرحمن صاحب کو زحمت دوں گا۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے (آخری قسط)

حضرت مولانا کی شہرت ومقبولیت صرف علماء کے درمیان ہی نہیں تھی بلکہ عرب حکام وسلاطین سے بھی مو لانا کے اچھے روابط تھے، مو لانا وہاں بھی اپنے داعیانہ کردار کو نبھاتے اورانھیں بعثت نبوی کے مقاصد اور مسلمانوں کے مسائل سےآگاہ فرماتے اور ’الدین النصیحہ’ کے تقاضے حکمت کے ساتھ پورے کرتے، مو لانا کی باتوں کو حکام بڑی توجہ سے سنتے، مو لانا طلبہ سے بھی یہ بات کہتےکہ اگرآپ کےپاس علم ہےتوبادشاہ وقت بھی آپ کی بات سنے گا اور آپ کی توقیر پر مجبور ہوگا، دراصل مولانا حکمراں طبقہ اور عوام کے درمیان ایک پل کاکام کرتےتھے، ہندستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں کی اکثریت ہندو آبادی پرمشتمل ہے لیکن یہاں کے بھی بڑے بڑے سیاسی رہنما مو لاناسے بغرض ملا قات تشریف لاتے، ملک کے وزراء اعظم، وزراء اعلی، گورنرس اور وزراء سبھی حضرت مو لانا کی خدمت میں حاضر ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے! (قسط 5)

مو لانا کے مزاج میں درویشی تھی، وہ تصوف بمعنی احسان کےقائل تھے، کچھ لوگوں نے تصوف کو موضوع بناکر جب مولانا پرتنقید کی تو مو لانا نے 'ربانية لا رهبانية ' نامی بڑی معرکۃ الآراء کتاب لکھی اور اس کتاب میں ایک بڑا خوبصوت سا عنوان لگایا ' جناية ا لمصطلحات علی الحقائق والغايات ' مو لا نا نے بتایا کہ آپ اسے جو بھی نام دیں لیکن دین کی اصل غرض وغایت تو احسان ہی ہے، مو لانا نے کبھی بھی کسی پر کھل کر تنقید نہیں کی، البتہ جب کبھی مو لا نا کو یہ محسوس ہوتا کہ شریعت یا فکر اسلامی کی تعبیر وتشریح کے تئیں غلط فہمی پیدا ہورہی ہے یا غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے اور مصلحین امت ومشائخ دین و ملت کی کردارکشی کی دانستہ یا نادانستہ کوشش ہورہی ہے تب مو لانا اس موضوع پر مجبورا قلم اٹھاتے اور بڑے علمی اور مثبت انداز میں اس کا جائزہ لیتے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے! (قسط 4)

ابتدائی زمانہ میں کافی دنوں تک مولانا کو تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک دن کا واقعہ مجلس میں یوں بیان فرمانے لگے کہ میں صبح دارالعلوم میں گھنٹہ پڑھا کر آیا، ناشتہ کا وقت تھا، بڑی بھوک لگی ہوئی تھی اور جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا، میں اسی فکر میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک دو طالب علم میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے سوچا کہ کیوں نا آج کا ناشتہ مولانا علی میاں کے ساتھ کیا جائے۔ میری ذاتی سمجھ یہ ہے کہ مولانا اس قسم کی باتیں طلبہ کے درمیان اس غرض سے بیان فرماتے تھے تاکہ غربت و مفلسی ان کی ہمت کو کمزور نہ کردے اور نتیجتا علم سے دور ہو کر تلاش معاش میں لگ جائیں، وہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر ان تمام مشقتوں کے باوجود آپ علم کی راہ میں انہماک اور ایثار سے کام لیں گے تو تابناک مستقبل آپ کے انتظار میں ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ : یادوں کے جھروکے سے (قسط: 3)

حضرت مولانا کی شان بے نیازی اسی طرح کی تھی، وہ دنیا سے بقدر ضرورت ہی لیتے تھے، ان کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی، معمولی سے معمولی آدمی ہو یا ادنی سے ادنی طالب علم یا پھر کوئی صاحب جاہ و ثروت وہ بڑی آسانی سے سب کو میسر آجاتےھے۔ مولانا کی زندگی میں روز و شب کے معمولات بہت منظم تھے، مطالعہ، خط و کتابت، قومی و ملی مسائل، لوگوں سے ملاقات، طلباء کے ساتھ مجلس،  سب کے اوقات متعین تھے، روز عصر کی نماز کے بعد مہمان خانہ کے باہر مجلس منعقد ہوتی جہاں اساتذہ اور عمائدین شہر آتے، مولانا سے ملاقات کرتے اور مختلف مسائل پر گفتگو کرتے، عشاء کی نماز کے بعد کا وقت طلبہ کے لئے مخصوص ہوتا،  مولانا سے استفادہ کی غرض سے ہم لوگ اس وقت کی تاک میں رہتے۔

مزید پڑھیں >>