مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی

اذان اور دعوت میں  تعلق (آخری قسط)

چونکہ دنیا میں  ہر دور میں  ابلیس اور انسان کی بڑائی کا مسئلہ ہی سب سے زیادہ خطر ناک رہا ہے، اسلئے اللہ تعالیٰ نے ابلیس اور انسان کی بڑائی کے تصور کو ختم کرنے اور اپنی بڑائی کا نقش بٹھانے کے لئے اسلام کی دعوتی، تعلیمیاور عباداتی نظام میں  بڑی اولیت، اہمیت اور تکرار کے ساتھ اپنی کبریائی کے تذکرہ اور حکم رکھ دیا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں تعلق (چوتھی قسط)

 جس نے پوری دنیا کو ظلم وستم سے بھر دیا ہے، جمہوری نظام کے ظلم وستم کو صرف اسلامی نظام ہی ختم کر سکتا ہے اسلئے میدان سیاست میں  شدومد کے ساتھ اسلامی نظام کو پیش کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ امت مسلمہ کے فرض منصبی میں  شامل ہے۔

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں تعلق (تیسری قسط)

جولوگ یہ سمجھتے ہیں  کہ دنیا میں  حکومتیں  ووٹوں  سے بنتی ہے، جس قوم کے ووٹ زیادہ ہوتے ہیں  اس کی حکومت بنتی ہے، ایسے لوگوں  کی سوچ کی اصلاح کے لیے عالمی طور یہود قوم کی مثال اور ہندوستانی سطح پر برہمن قوم کی مثال کافی ہے، در اصل ووٹوں  کے ذریعہ نہ آج تک کسی ملک میں  کوئی حکومت قائم ہوئی ہے اور نہ کوئی حکومت گری ہے، بلکہ آج تک کسی ملک میں  حکومت کے لئے الیکشن ہو ا ہی نہیں  تو کسی حکومت کے ووٹوں  کے ذریعہ بننے  اور گرنے کا سوال ہی پیدا نہیں  ہوتا۔

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں  تعلق (دوسری قسط)

اس پوری کائنات میں  ایک بھی چیز بیکار اور بے فائدہ پیدا نہیں  ہوئی ہے، ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے پورے انسانوں  کے لیے ایک بھی حکم بیکار اور بے فائدہ نہیں  دیا، بلکہ اس نے تمام انسانوں  کے لیے تمام احکام ایک مقصد اور فائدہ کے تحت دیئے ہیں  اس لیے کسی شخص کو اگر اللہ کے کسی حکم میں  نقصان نظر آرہا ہے تو یہ اس کی عقل کا نقص ہے، لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں  زیادہ تر وہی انسان عقلمند شمار ہوتے ہیں  جو ناقص العقل ہیں

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں  تعلق (پہلی قسط)

آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے جب تک مکہ میں  تھے، تب تک نہ اذان کی ضرورت تھی اور نہ اس کے لیے حالات ساز گار تھے، لیکن آنحضرتﷺ جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہونچے اور اہل ایمان کی بھی ایک بڑی تعداد مدینہ میں  جمع ہوگئی تو اذان کی بھی ضرورت پیش آئی اور اس کے لئے حا لات بھی ساز گار ہوگئے تو پھر اذان کی ابتداء ہوئی۔

مزید پڑھیں >>