ممتاز میر

ممتاز میر

طاقت ہتھیاروں میں نہیں ہوتی

جنوری ؍ فروری۱۹۷۹میں ایران میں انقلاب رونما ہوا۔محمد رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور لاشرقیہ لا غربیہ اسلامیہ  اسلامیہ کا نعرہ لگانے والے امام خمینی افق اقتدار پر طلوع ہوئے۔مگر مغرب نے انھیں برداشت نہ کیا۔ پہلے چند سال مغرب نے اس نوزائداہ حکومت کو نیست و نابود کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ پورے ملک میں جو ممکن تھا خون خرابہ کرایا گیا۔ یہاں تک کہ پوری پارلیمنٹ اور صدر مملکت کو ایک دہشت گردانہ حملے میں اڑا دیا گیا۔ اور ’’معصوم‘‘ مغرب کو اس وقت نہ ایران میں دہشت گردی نظر آتی تھی نہ افغانستان میں ۔کیونکہ دہشت گردی کرنے والے مغربی اور عیسائی تھے۔ اور شکار مشرقی اور مسلمان تھے۔

مزید پڑھیں >>

ٹو پارٹی سسٹم اور ہم 

   قریب دس بارہ سال قبل کلدیپ نیر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ملک کو ٹو پارٹی سسٹم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔یہ بات آج گجرات کے انتخابی نتائج کے بعد کم سے کم ہمارے لئے تو بالکل واضح ہو چکی ہے۔اب وہ مسلم لیڈر اور دانشور بھی جو کانگریس سے نفرت کرنے لگے تھے گذشتہ تین سالوں میں بی جے پی کے ’’پھٹکے‘‘کھانے کے بعدگجرات میں کانگریس کی فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

امریکی زوال اور مسلم ممالک

   صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ امریکہ پر یہودی گرفت کا کیا عالم ہے۔ یہ انتخاب صاحب بصیرت نہیں عام بصارت رکھنے والوں کو بھی یہ بتاتا ہے کہ اب صیہونی مقتدرہ نے امریکی سورج کو غروب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے دنیا کے سارے میڈیا، الکٹرونک یا پرنٹ میڈیا، سارے سروے یہ بتارہے تھے کہ محترمہ ہلیری کلنٹن جیت رہی ہیں مگر جیتے ڈونالڈ ٹرمپ۔

مزید پڑھیں >>

تاریخ کا سبق

یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہم نے آج تک ہٹلر کو کبھی برا کہا نہ لکھا۔ ہم نے ہٹلر کا ہمیشہ دفاع کیا۔ہٹلر کوئی صاحب ایمان نہ تھا کہ ہم اس می، مومنو، کی صفات ڈھونڈی۔ وہ ایک حکمرا، تھا اور بوجوہ اسے Totaliterian حکومت چاہئے تھی۔اور آج صاحب ایمان سعودی والے بھی ایسے ہی حکومت چلا رہے ہی،۔ پھر یہ صحیح اور وہ غلط کیو، ؟ہٹلر سے ہماری ہمدردی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جرمنی کا ڈکٹیٹر حکمرا، ہونے کے باوجود تاریخ می، وہ انہی لوگو، کا ستایا ہوا ہے جن کے ستائے ہوئے نہ صرف ہم ہی، بلکہ اب تو ساری دنیا ہی ان کی ڈسی ہوئی ہے۔گذشتہ نصف صدی سے ہم دیکھ رہے ہی، کہ ہم من حیث القوم اس کے لئے روتے نہی، تھکتے کہ یہودی ہر طرح سے مسلمانو، کو اور اسلام کو بدنام کر رہے ہی۔

مزید پڑھیں >>

منی شنکر ایّر نے کیا غلط کہہ دیا؟

 NDTV کے مشہور و معروف اینکر جناب روش کمار نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے’’منی شنکر ایئر نے ضرور وزیر اعظم بننے سے پہلے نریندر مودی کو چائے والا کہہ کر شرمناک بیان دیا تھا ‘‘یہ بات کہ نریندر مودی چائے بیچا کرتے تھے قومی انتخابات سے پہلے اور بعد کے ابتدائی ایام میں قابل فخر ہوا کرتی تھی۔مگر آج خود نریندر مودی جی کے کرتوتوں نے اسے قابل شرم بنا دیا ہے۔اب یہ بات امید ہے دنیا کی بھی سمجھ میں آچکی ہوگی کہ ہر ایرا غیرا اس قابل نہیں ہوا کرتا کہ اسے ملک کا سربراہ بنا دیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

عدلیہ اور ہماری خوش فہمیاں  

چند دنون سے عدالتی حلقوں میں چیف جسٹس دیپک مشرا اور مشہور و معروف وکیل پرشانت بھوشن کے تنازعہ کی گونج سنائی دے رہی ہے اس تنازعے کے تعلق سے ہمیں جتنی معلومات حاصل ہوئیں اس سے ایسا لگتاہے کہ اب تک ہندوستانی عوام کا آخری حصار ہونے والی عدالتیں جس نے اندرا گاندھی جیسی ڈکٹیٹر کے بھی ہوش ٹھکانے لادئے تھے،اب دھیرے دھیرے اس آخری حصار کو بھی ڈھایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ولی عہدوں کی داستان

محمد بن سلمان جنھیں مغرب میں MBS کے نام سے جانا جاتا ہے، نے وزیر دفاع بنتے ہی سعودی عرب کو یمن کی جنگ مین دھکیل دیا جس نے سعودی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا۔34 یا 42 ملکوں کا فوجی اتحاد بھی محمد بن سلمان کا Brain Child  ہے۔ جس کے مقاصد آج تک واضح  نہیں ہیں ۔چند مہینوں پہلے قطر پر الزامات کی بوچھار بھی انہی شہزادے صاحب کا کمال ہے۔ اب یہ جناب سعودی عرب میں ماڈریٹ اسلام کی فصل اگانا چاہ رہے ہیں جس کے لئے وہ 500 ارب ڈالر کے اخراجات سے سعودی عرب میں ایک شہر بسا کر دنیا کو دکھائیں گے کہ  ماڈریٹ اسلام کی ’’برکتیں ‘‘ کیا ہوتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مکافات عمل

  ہمین یقین ہے کہ ان کے علاوہ کچھ چھوٹے واقعات بھی ہوتے ہونگے جو میڈیا مین رپورٹ نہ ہوتے ہونگے یا دبا دئے جاتے ہونگے کبھی ایک کتاب پڑھی تھی جس مین امریکی تھنک ٹینکس کا مختصر تعارف تھا۔۔اس مضمون میں ہم نے امریکی قوم کو لاحق مختلف عوارض کا ذکر کیا ہے۔ہماری قوم کے لال بجھکڑ اکثر امریکی قوم کی تعریف مین رطب اللسان رہتے ہیں خاص طور پر وہ جو امریکہ رٹرن ہو جاتے ہیں۔ ہم نے کہیں پڑھا نہ سنا کہ جو پے درپے واقعات وہاں پیش آرہے ہیں اس کے تدارک کے لئے بھی کوئی تھنک ٹینک وجود میں لایا گیا ہو۔

مزید پڑھیں >>

اکیسویں صدی میں بھی اگنی پریکشا 

ہندوستان میں کئی واقعات ایسے ہو چکے ہیں کہ پولس نے ججوں کو بھی نہیں بخشا ہے۔ ٹاپ بیوروکریٹس پر بھی پولس ہاتھ چھوڑ چکی ہے۔اب پولس خواتین تو کیا تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی کمسن اور کمز ورطالبات کو بھی بخشنے کو تیار نہیں۔ ان کے خلاف بھی ہماری بہادر پولس لاٹھی چارج ہی نہیں آنسو گیس اوراور ربر بلٹس کا استعمال کر رہی ہےمستقبل قریب میں ہو سکتا ہے کہ ان کے خلاف بھی ATS بنانا پڑجائے۔ یہ اس بات کے اشارے ہیں کہ اب ہم مہذب نہیں رہے۔

مزید پڑھیں >>

ایک اور کلین چٹ

آخر کب یہ طے کیا جائے گا کہ ہماری اس حالت کے ذمے دار کون ہیں ؟ہم کب مل بیٹھ کر اپنی آئندہ حکمت عملی طے کریں گے؟ ہم بھی متعدد بار لکھ چکے ہیں اور دیگر لکھاری بھی کہ آج کا دور میڈیا کادور ہے۔ اب جنگیں میدان جنگ میں کم اور میڈیا میں زیادہ  لڑی جاتی ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں ہمارے اخبارات اور ٹی وی چینل کیوں نہیں ہیں ؟

مزید پڑھیں >>