مظفر حسین غزالی

مظفر حسین غزالی

سیدہ اطہر تبّسُم ناڈکرکی تصنیف ’گلستانِ تبّسُم‘ کا رسم اجراء

معروف قلم کارسیدہ اطہر تبّسم ناڈکرکے سماجی، اصلاحی وادبی مضامین کامجموعہ ’’گلستانِ تبّسُم‘‘ کی رسم اجراء آج یہاں کریمی لائبریری، انجمنِ اسلام اردو ریسرچ انسٹی چیوٹ ممبئی میں بدست محترمہ خیرالنساء سیداقبال صاحبہ (اُم تبسم منظورناڈکر)عمل میں لائی گئی۔

مزید پڑھیں >>

سیاسی حاشیہ پر کیوں ہیں مسلمان؟

کیا آپ ایک سیٹ پر کسی ایک کوجتانے کافیصلہ نہیں کرسکتے۔ سیاسی جماعتیں اسی کواہمیت دیتی ہیں جو ان کیلئے ضروری ہوتا ہے یا پھر جس سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اگر سیاسی فیصلوں کیلئے وقت درکار ہے توکسی ایک ریاست میں یہ تجربہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ووٹ دینے کا فیصل کریں کسی سیٹ پر امیدوارنہ بنیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر پارٹی آپ سے رابطہ قائم کرے گی اور شاید دشمنی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت آپ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی طے کرسکتے ہیں ۔ حاشیہ کی سیاست سے اوپر اٹھنے کا کوئی طریقہ تو اختیار کرنا ہی ہوگا۔ آئیے اس پر مل کر سوچیں ۔

مزید پڑھیں >>

ایک دیس ایک چناؤ کی منطق

ابھی بار بار انتخاب ہونے سے مرکزی حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دبائو ہوتا ہے اور وہ عوام کیلئے جوابدہ ہوتے ہیں ۔ اس کے خلاف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بار بار الیکشن ہونے سے سرکار ایسے سخت فیصلے نہیں پاتی جس کے دور رس مفید نتائج برآمد ہوں ۔ بیک وقت الیکشن ہویا الگ الگ، وہ فیصلہ لیا جائے جو ملک کے مفاد میں ہو۔ جس سے جمہوریت کو طاقت اور عوام کو فائدہ ملے۔

مزید پڑھیں >>

تین طلاق کے خلاف قانون سازی کی کوشش فی الحال ناکام

طلاق ثلاثہ بل پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں آخرکار لٹک ہی گیا۔ بل کا جو حشرہوا،وہ بہت زیادہ خلاف حیرت بھی نہیں ہے۔ویسے یہ تو طے ہے کہ طلاق بدعت کا خاتمہ قانون کی روشنی میں ہوچکاہے کیونکہ سپریم کورٹ 22اگست کو اسے غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ ایک نشست میں تین طلاق کے خلاف فوجداری قانون بنائے جانے کی کوششوں سے کئی خواتین خوش ہیں تو کئی فکرمند، سب کے پاس اپنی دلیلیں ہیں۔ رہا سوال علماء کا تو وہ اپنے مسلک کے ساتھ ہیں۔ نئے قانون کے فائدے ونقصان کی عملی صورت تو اس کے عمل میں آنے کے بعد سامنے آئیں گے، لیکن یہ بل لوک سبھا میں جس جلد بازی میں پاس کرایاگیا اس سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

گجرات کے انتخابی نتائج کچھ کہتے ہیں!

یہ ایسا انتخاب رہا جو وکاس سے شروع ہو کر فرقہ واریت کی وادیوں سے گزر کر گجرات کی عصمت کو آگے کر دوارکا مندر میں پوجا کے ساتھ مکمل ہوا۔ اس میں بابری مسجد، لوجہاد اور تین طلاق وغیرہ کی باتیں تو آئیں لیکن مسلمانوں کے ہی نہیں گجرات کے مسائل پر بھی بات نہیں ہو سکی۔ گجرات میں مسلم آبادی9.67 فیصد ہے، اور 21 اسمبلی حلقوں میں مسلمان 20 فیصد ہیں ۔ چار مسلمان اس الیکشن میں کامیاب ہوئے وہ چاروں کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے ہیں ۔ بی جے پی نے کسی ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ریاست کی دس فیصد آبادی کو نظر انداز کر کے سب کا ساتھ سب کا وکاس کیسے ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ 2019 کے الیکشن میں کامیابی کیلئے کیا بی جے پی مسلمانوں کو ساتھ لے گی یا پھر فرقہ واریت کے آزمائے ہوئے فارمولے پر ہی عمل کرے گی۔

مزید پڑھیں >>

بات گجرات الیکشن کی

ترقی کا ’گجرات ماڈل‘ نہ توکولی جیسی پسماندہ ذاتوں کو راس آرہا ہے اورنہ ہی اعلیٰ ذات کے راجپوتوں کو جو اپنے آپ کو دربار سماج کہلانے میں شان سمجھتے تھے۔ زمین چھن جانے سے ان کے بچے آٹو رکشہ چلا رہے ہیں ۔ کولی خاموش ووٹر ہیں اور ان کی تعداد ریاست میں 24 فیصد ہے۔ سبھی ذاتوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں لیکن بنیادی مسئلہ بے روزگاری کا ہے۔

مزید پڑھیں >>

بھارت میں پیشہ ورانہ تعلیم

سرکار نے دیسی طبی تعلیم (یونانی و آیوروید) جاری رکھی جائے یانہیں ؟اس کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی بنائی، جس کے صدر ڈاکٹر جوہن گرانٹ تھے۔ 20؍اکتوبر1834 کو کمیٹی نے اپنی رپورٹ داخل کردی۔ اس کے نتیجہ میں 28 جنوری1835کو کلکتہ میں پہلا میڈیکل کالج بنایا گیا۔ اسی کے ساتھ بھارت میں میڈیکل ایجوکیشن کی شروعات ہوئی۔ لیکن سرکارنے کلکتہ، مدراس اور سنسکرت کالج میں یونانی، آیوروید کی جو تعلیم ہورہی تھی، اسے بندکردیا۔ اس کی پورے ملک میں مخالفت ہوئی، سرکارنے یونانی وآیوروید کے مقابلے ایلوپیتھی کو بڑھاوا دیا۔

مزید پڑھیں >>

بہتر مستقبل کے تئیں بچوں کی تشویش

 عالمی یوم اطفال پر کیا گیا تجزیہ بتاتا ہے کہ دنیا بھر میں رہنے والے 1 سے 12سال کے بچوں کی حالت کہیں زیادہ بدتر ہے۔یہ 180 ملین بچے 37 ممالک میں رہتے ہیں۔  جہاں غریبی، تشدد، صحت کی خراب صورتحال، معیاری تعلیم تک رسائی نہ ہونا، نارواسلوک اور قدرتی آفات بچوں کی پریشانیوں کوبڑھانے کا بڑا سبب ہیں۔  دنیا کے 95 فیصد بچے دہشت گردی کو لے کر فکر مند ہیں۔  یہ بات یونیسیف کے ذریعہ کرائے گئے بھارت سمیت 13 ممالک کے سروے سے سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھیں >>

چائلڈ میرج کے خلاف جھارکھنڈکی بچیوں کا مثالی کردار

مونیکا نے بتایاکہ جب سویتا سے اس کی شادی کی بات معلوم ہوئی تو اسے کم عمر میں شادی کے نقصانات کے بارے میں بتایا۔ پھر اپنے اسکول کے ٹیچر جگدیش منڈل سے اس بارے میں بات کی۔ ان کے مشورے سے مونیکا اپنے بال پترکار ساتھیوں کو لے کر سویتا کے گھر گئی اور اس کے والد سے بات کی۔ اس نے انہیں پاس کے گائوں کی لڑکی کی موت کی بات یاددلائی،جس کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی۔ اس نے کہاکہ سویتا ابھی بہت چھوٹی ہے، شادی کے بعد اس کی پڑھائی چھوٹ جائے گی۔

مزید پڑھیں >>

ہر سانس کے ساتھ زندگی میں گھلتا زہر

عوام کو خود آگے آکر ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی سرکاروں پر بھی دباؤ بنانا ہوگا کہ وہ ماحول کے معاملہ میں کسی طرح لاپرواہی کو برداشت نہ کرے، شہر میں جگہ جگہ ہوا کو صاف کرنے کے لئے ائر کلینر لگائے جائیں ۔ دھول کو اڑنے سے روکا جائے اور بغیر روکاوٹ والا ٹریفک نظام تیار ہو، تاکہ ہم سب کو صاف ستھرا ماحول  مل سکے۔ کیونکہ اسی میں ہمیں سانس لینا  اور زندہ رہنا ہے۔

مزید پڑھیں >>