رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

ہمارے بھارت کے یہ 2464 بكلول لوگ

بی جے پی کے رہنما اور سمرتھک کس طرح لوگوں کی رائے کا جشن منا رہے ہیں. میری رائے میں انہیں بھی ان 2464 لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ بھائی، پارلیمنٹ، کورٹ کو بائی پاس کرنا ہمارے مودی جی کے مفاد میں ہی نہیں ہے. یہ سب سے پہلے ہو چکا ہوتا تو آج مودی جی وزیر اعظم ہی نہیں بن پاتے. ویسے بھی پارلیمنٹ کا سیشن ہم انتخابات کے حساب سے مینج کر لیتے ہیں تو اسے بائی پاس کرنے کی بات کیوں کرتے ہو. پارلیمنٹ ہونا چاہئے. غنیمت ہے کہ ان 10 ہندوستانیوں نے یہ نہیں کہا کہ کورٹ کی ضرورت نہیں ہے. صرف مضبوط لیڈر کے لئے بائی پاس کرنے کی بات کہی. مگر یہ 2464 قانون بنانے کا براہ راست حق اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، پارلیمنٹ کے ارکان کو نہیں دینا چاہتے. پنجاب یونیورسٹی کو بتانا چاہئے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو چنا ہے جنہیں نہ جمہوریت کی سمجھ ہے اور نہ فوجی کا پتہ ہے. انہیں لے جا کر کسی ملٹری گراؤنڈ میں دس راؤنڈ لگانا چاہئے تب پتہ چلے گا کہ فوجی کیسا ہوتا ہے. یہی نہیں دونوں ہاتھ اوپر کر بندوق لے کر ریسر سے ایک ہی راؤنڈ میں پتہ چل جائے گا.

مزید پڑھیں >>

معمولی آدمی کی فلم اور اس کے نمائندے کیجریوال

جس دن امریکہ سے یہ سروے ہمیں پروسا گیا ہے کہ %55  بھارتی مضبوط لیڈر کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے ٹھیک ایک دن بعد ایک فلم آ رہی ہے جس کا اردو میں مطلب ہے 'معمولی آدمی'. آپ اس اتفاق پر مسکرا سکتے ہیں. آپ کی مسکراہٹ کم اہم نہیں ہے. یہ فلم ان تمام طرح کے خدشات کو مسترد کرتی ہے کہ بغیر وسائل اور معاہدے کے کوئی سیاست میں جگہ نہیں بنا سکتا. یہ فلم یہ بھی بتاتی ہے کہ جب آپ سیاست میں آئیں گے تو سمجھوتے آپ کا امتحان لینے آئیں گے. عام آدمی پارٹی کا پہلا سال اور اس کے پہلے کے دو سال جذباتیت بھرے سال تھے. جذبات کا غلبہ تھا. مگر فلم بنانے والے نے اپنے کیمرے سے ان جذبات کو نکال دیا ہے. وہ خود ایک معمولی آدمی بن کر ایک معمولی آدمی کے رہنما بننے کی کہانی کو ریکارڈ کرتا ہے.یہ فلم ایک نئے سیاسی خواب کے طور پر ابھر رہی عام آدمی پارٹی کا سفر نہیں ہے بلکہ اس سیاست کو قریب سے دیکھنے کی چاہ لئے نوجوانوں کی بھی یاترا ہے.

مزید پڑھیں >>

ایماندار افسروں کے لئے نظام میں گنجائش کہاں؟

ہریانہ کے آئی اے ایس افسر اشوک کھیمکا نے تبادلے میں نصف سنچری بنایی ہے. 51 ویں بار ان کا تبادلہ ہوا ہے. ایک تبادلے سے دوسرے تبادلے کے درمیان ایک افسر کس طرح جیتا ہے، نئے اور پرانے محکموں کے اس ماتحت یا وزیر اس کے آنے اور جانے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، مجھے یہ سب سمجھنے میں دلچسپی ہو رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اشوک کھیمکا کے ساتھ ہونے جا رہی یہ بات چیت آئی اے ایس اور آئی پی ایس یا کسی بھی سطح کے لوك سیوك کا امحتان دینے جا رہے نوجوانوں کے لئے کوچنگ کا کام کرے. کیا تبادلہ کسی ایماندار افسر کو توڑ دیتا ہے، کیا اس کے خاندان والے اسی سے تنگ آ جاتے ہیں، اس کے خاندان پر کیا اثر پڑتا ہے، کیا ایماندار افسر کو مدھیہ مارگ ہونا چاہئے، مثلا کچھ کمانے دینے چاہئے اور کچھ کو کمانے نہیں دینا چاہئے.

مزید پڑھیں >>

بی جے پی سانسد آر کے سنہا کی صفائی اشتہار کی شکل میں کیوں شائع ہویٔی؟

پیراڈایٔس پیپرس میں بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ آر کے سنہا کا بھی نام آیا تھا. انڈین ایکسپریس اخبار نے ان کی صفائی کے ساتھ خبر شائع تھی. پیراڈایٔس پیپرس کی رپورٹ کے ساتھ یہ بھی سب جگہ چھپا ہے کہ اسے کس طرح پڑھیں اور سمجھیں. صاف صاف لکھا ہے کہ آف شور کمپنی قانون کے تحت ہی بنائے جاتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام لین دین مشتبہ ہی ہو مگر اس کی آڑ میں جو کھیل کھیلا ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے. حکومت کو بھی بھاری بھرکم تحقیقاتی ٹیم بنانی پڑی ہے. خیر اس پر لکھنا میرا مقصد نہیں ہے.آج بہت سے اخباروں میں آر کے سنہا کا بیان اشتہارات کی شکل میں چھپا دیکھا. یہ تشویش کی بات ہے. مجھے معلومات نہیں کہ اخبار نے اس کے لئے پیسے لئے ہیں یا نہیں. اگر مفت میں بھی چھاپا  ہے تو بھی اس طرح سے شائع کرنا غلط ہے. آر کے سنہا نے بطور سانسد راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کو خط لکھا ہے اور اس خط کو اشتہارات کی شکل میں شایٔع کیا گیا ہے.

مزید پڑھیں >>

سنیما کے تاریخ کی جادویٔی فلم ہے AN INSIGNIFICANT MAN

اپنی نوعیت کی یہ آخری فلم ہے. جب تک ایسی کوئی دوسری فلم نہیں بنتی ہے، اسے آخری فلم کہنے کا خطرہ اٹھایا جا سکتا ہے. شاید ہی کوئی سیاسی پارٹی اپنے اندر کسی فلم ساز کو اتنی جگہ دے گی جہاں سے کھڑا ہو کر وہ اپنے کیمروں میں اس کے تضادات درج کرتا چلے گا. یہ فلم سیاست کے ہونے کے عمل کی جو جھلک پیش کرتی ہے، وہ نایاب ہے. بہت پیچھے کی تاریخ میں جاکر نہیں بلکہ تین چار سال پہلے کی تاریخ میں جاکر جب AN INSIGNIFICANT MAN کے پردے پر منظر چلتے ہیں تو دیکھنے والے کے اندر اندر کتاب کے صفحے پھڑپھڑانے لگتے ہیں. یہ فلم ایک تماشائی کے طور پر بھی اور ایک سیاسی مخلوق ہونے کے طور پر بھی دیکھنے والے کو آکرشت کرے گی. ہم پرنٹ میں ایسے مضامین پڑھتے رہے ہیں مگر سنیما کے پردے پر اس طرح کا بےمثال نمونہ کبھی نہیں دیکھا. ممکن ہے سنیما کی روایت میں ایسی فلمیں بنی ہوں، جن کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے.

مزید پڑھیں >>

تاجروں کے لئے سبق: ووٹر بنے رہیں کوئی نہیں لوٹے گا

جن لوگوں نے جی ایس ٹی کی تکلیفوں کو لے کر آواز اٹھایی کی وہ صحیح ثابت ہوئے. تاجروں نے ڈر ڈر کر اپنی بات کہی. ان کے خوف کو ہم جیسے کچھ لوگوں نے آسان کر دیا. اس کے بارے میں لکھا اور بولا کہ جی ایس ٹی بزنس کو برباد کر رہی ہے. لوگوں سے کام چھن رہے ہے. جواب ملتا رہا کہ یہ تاجر ہی چور ہیں. چوری کی عادت پڑی ہے، لہذا جی ایس ٹی نہیں دینا چاہتے. کیا سانحہ رہا تاجروں کا، جو لٹ رہا تھا، وہی چور کہا جا رہا تھا. اپوزیشن بھی چپ رہا. بعد میں راہل گاندھی نے اسے زوردار انداز سے اٹھایا تو پھر مذاق اڑا کہ راہل کو جی ایس ٹی کی سمجھ نہیں ہے. وہ امیروں اور چوروں کا ساتھ دے رہے ہیں. آخر میں حکومت کو وہی کرنا پڑا جو پہلے کر دینا چاہئے تھا مگر گھمنڈ کے چلتے وہ طویل عرصے تک ان سنی کرتی رہی. سوچئے اگر ایک ہی بار میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ہو گئے ہوتے تو کیا تاجروں کی آواز سنی جاتی؟

مزید پڑھیں >>

یہ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نہیں تو کیا ہے؟

وجہ سب کو پتہ ہے مگر حل کرنے میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے. سب کو لگتا ہے کہ یہ نومبر کی بات ہے، اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا. دہلی کی ہوا آپ کی جیب اور ہیلتھ پر اثر ڈالنے دوبارہ آ گئی ہے. کب تک دہلی بات بات میں اسکول بند کرتی رہے گی، وہ یہ کیوں نہیں کہتی کہ شہر میں ڈیزل، گاڑیوں کی رجسٹریشن بند ہو، کاروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ بند ہو، پبلک ٹرانسپورٹ کی ثقافت کو بڑھانے کے لئے کاریں بند کرنے کی بات نہیں ہوتی، کب تک بڑوں کے پھیلائے اس آلودگی کا حل ہم بچوں کے اسکول کو بند کر کے کریں گے. ہر عمر کے لوگوں کا پھیپھڑا خراب ہو رہا ہے، ہمارے لیڈر بھیجا خراب کر دینے والے مسلسل پریس کانفرنس کر رہے ہیں مگر ان میں ہوا کو لے کر کوئی فکر نہیں ہے. ایک دن اٹھیں گے اور لوگوں کو اخلاقی تعلیم دے دیں گے کہ آپ باغبانی کریں، پیپل کے درخت لگائیں تو آلودگی رکے گی. دراصل مسئلہ کے تہہ تک کوئی نہیں جانا چاہتا، کیونکہ وہاں سب کے مفاد پھنسے ہیں.

مزید پڑھیں >>

کیا نوٹ بندی اپنے مقصد میں ناکام رہی؟

بھارتی ریزرو بینک کو 8 ماہ لگ گئے یہ بتانے میں  نوٹ بندي کے بعد اس کے خزانے میں 99 فیصد نوٹ واپس آ گئے ہیں. جبکہ 8 نومبر کو نوٹ بندي کا اعلان ہوا اور 28 نومبر کو ہی ریزرو بینک نے پروویذنل یعنی عارضی طور پر بتا دیا تھا کہ 8 لاکھ 45 لاکھ کروڑ واپس آ گئے ہیں. قریب 55 فیصد نوٹ بغیر نوٹ گننے کی نئی مشینوں کے ہی گن لئے گئے. جب پارلیمانی کمیٹی بار بار پوچھتی رہی کہ آپ مکمل اعداد و شمار کیوں نہیں دے رہے. تب جون میں ریزرو بینک نے کہا تھا کہ اس کے پاس نوٹ گننے کی کافی مشین نہیں ہے، ابھی ٹینڈر نکلنا ہے. اسی 17 جولائی کو یہ خبر چھپی تھی. کسی کو دیہان نہیں رہا کہ بینک جب نوٹ دیتے ہوں گے تو گن کر ہی دیتے ہوں گے تو پھر ریزرو بینک کو بتانے میں تاخیر کیوں ہو رہی تھی. یہی نہیں 14 دسمبر 2016 کو ریزرو بینک نے ہی بیان دیا کہ 80 فیصد نوٹ واپس آ گئے ہیں یعنی 12 لاکھ 44 ہزار کروڑ قیمت کے پانچ سو اور ہزار کے نوٹ واپس آ گئے ہیں.

مزید پڑھیں >>

جب دال نہیں گلی تو کھچڑی بیچنے لگے!

 جب دال نہیں گلی تو کھچڑی فروخت لگے. کھچڑی بے روزگاروں کا کھانا پہلے سے ہے۔ نوکری مل نہیں رہی ہے تو ظاہر ہے کھچڑی زیادہ بن رہی ہوگی. روز کوستے ہوئے بے روزگار کھا رہے ہوں گے تو بڑی چالاکی سے اسے قومی کھانا بنانے کے مسئلے سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو جھانسہ دیا جا سکے کہ انہیں جو کھانا، کھانے کے قابل بنا دیا گیا ہے وہ نیشنل اپرٹیس کا ہے. قومی اہمیت کا، بھلے ہی ان کے روزگار کا سوال قومی اہمیت کا نہ رہے.دہی چوڑا اور ستتو پیاز غریبوں کے کھانے رہا ہے. جسے ملک کی غریبی کا پتہ نہیں وہی کھچڑی کی بات کرتا ہے. دال کا ریٹ بتاؤ، مٹر اور گھی کا بتاؤ. کھچڑی گیس پر بنے گی یا بیربل کے باپ کے یہاں بن کر آئے گی. کام کی بات پر بحث نہیں ہے، جسے دیکھو یہی سب فالتو ٹاپک پر تبصرہ کر کے دن کاٹ رہا ہے. یہی سب بکواس ٹاپک لے آو اور اینكروں کو بھڑا دو.

مزید پڑھیں >>

نوٹ بندی کی سالگرہ کا تحفہ ہیں مکل رائے

آٹھ نومبر کو نوٹبدي کی پہلی سالگرہ ہے. اس موقع پر مکل رائے سے اچھا نیشنل گفٹ کیا ہو سکتا ہے. بغیر وجہ کالے دھن کے ملزم دوسری پارٹیوں میں گھومتے نظر آئے، یہ نوٹبدي کی کامیابی کے آپٹکس کے لئے بھی اچھا نہیں ہے. لہذا بی جے پی انہیں اپنے گھر لے آئی.  ابھی تقریر ہی تو دینا ہے تو دو گھنٹے کی تقریر کو تین گھنٹے کر دیا جائے گا. کہا جائے گا کہ ماں شاردا کی بڑی کرپا ہوئی کہ شاردا اسکیم کے ملزم بھی آ گئے. اب تو عدالت کا بھی کام کم ہو گیا. کالا دھن ترنمول والوں کے یہاں سے کم ہو گیا. تالیاں بجانے والے بھی ہوں گے. بھارت کی عوام کا سفید دھن پھونک کر کالا دھن پر فتح کرنے کا جشن منایا جایے گا. جس میں شامل ہونے کے لئے دوسرے جماعتوں سے کالے دھن کے ملزم آ جائیں تو چار چاند لگ جائیں گے. بلکہ بی جے پی کو ان لیڈروں کی علیحدہ پریڈ نکالنی چاہئے جن پر اس نے اسکیم کا الزام لگایا اور پھر اپنے میں ملا  کر وزیر بنا دیا.

مزید پڑھیں >>