رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

کب سدھریں گے  صحتی شعبوں کے حالات؟

ایک دن میں تیس بچوں کی موت، پانچ دن میں ساٹھ بچوں کی موت، تمام وزراء کے دورے بتاتے ہیں کہ ہماری حکومت ذمہ دار ہے. موت کے بعد وزراء کا دورہ اس بات کی ضمانت ہے کہ اب بھی سب ختم نہیں ہوا ہے. 2012 سے یہاں 3000 بچوں کی موت ہوئی ہے، اگر اس رات آکسیجن کی سپلائی کا معاملہ نہیں ہوتا تو یہ بات قبول کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے کہ گورکھپور مقامی سماج بھی اور باقی معاشرے بھی ان اموات کو لے کر عام ہو چکا ہے. وزیر اعلی آدتیہ ناتھ نے خود اس معاملے کو لوک سبھا میں کئی بار اٹھایا ہے اور واقعہ سے دو دن پہلے وہ ہسپتال کے دورے پر ہی تھے. تب بھی یہ واقعہ ہوا. اس واقعہ کے بعد جو بڑے حادثے واقع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ اصل سوالوں سے توجہ ہٹانے کے لئے طرح طرح کی بحثیں پیدا کر دی گئیں. کچھ میڈیا کی جلد بازی سے اور کچھ منظم طریقے سے ٹرولنگ کے ذریعے. لہذا ضروری ہے کہ گورکھپور کے واقعہ کو لے کر اصل سوال پر ہی ہم ٹکے رہیں.

مزید پڑھیں >>

صفایٔی كرميوں کے حالات خراب ہیں!

پریکسس سنستھا نے 2014 میں گٹر میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا ہے. آپ جانتے ہیں کہ پورے ملک میں بھارت ماتا کے ان سچے سپوتو کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں رکھا جاتا ہے. گٹر بھی ملک کے اندر اندر کی وہ حد ہے جہاں ہماری صفائی کے لئے لڑتا ہوا بھارت کی ماں کا سپوت مارا جاتا ہے. اسے نہ تو شہید کا درجہ ملتا ہے نہ ہی معاوضہ. بھارت ماتا کا سپوت کہہ دینے سے سارا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا. گٹر میں اترنے والے نسل پرستی کا جو خمیازہ بھگتتے ہیں اس پر بات پھر کبھی ہوگی. کوئی 20 فٹ گہری گٹر میں اترا ہو، سانس لینے کی صاف ہوا تک نہ ہو، پتہ بھی نہ ہو کہ اندر صاف ہوا ہے یا زہریلی گیس. ان کے پاس کوئی سامان نہیں ہوتا جس سے معلوم کر سکے کہ نالے میں زہریلی گیس ہے. کئی بار ماچس کی تیلی جلا کر تحقیقات کر لیتے ہیں. بدن پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا ہے. کمر میں رسی بندھی ہوتی ہے تاکہ کیچڑ میں پھنس جائے تو کوئی کھینچ کر باہر نکال لے. پریكسس کی رپورٹ ڈاؤن دی ڈرین پڑھيے گا، انٹرنیٹ پر موجود ہے.

مزید پڑھیں >>

بھارت چھوڑو آندولن کے 75 سال: کیا سیکھا ہم نے آندولن سے؟

کرکٹ کی دنیا میں عظیم کھلاڑیوں کی بہترین علامات میں ایک علامت یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ آؤٹ ہونے پر وہ امپائر کے فیصلے کا انتظار نہیں کرتا، خود میدان سے چلا جاتا ہے. اس پیمانے پر ویسے تو کئی کھلاڑی ہیں لیکن سب سے اوپر آسٹریلیا کے سلامی بلے باز ​​ایڈم گلکرسٹ کا نام آتا ہے. 2003 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے گلکرسٹ کے بلے سے ڈی سلوا کی گیند چھوکر پیچھے گئی. امپائر کو لگا کہ گیند پیڈ پر لگی ہے. لہذا آؤٹ نہیں دیا لیکن گلکرسٹ خود پچ چھوڑ کر چلے گئے. عظیم کھلاڑی کھیل کے ایمان سے سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں. وہ تھرڈ امپائر یا الیکشن کمیشن کے لئے میدان میں کھڑے نہیں رہتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

کیا رات کے وقت باہر نہیں نکل سکتی لڑکیاں؟

آئی اے ایس وریندر کمار نے اپنی بیٹی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے. ملزم کے بیٹے کے ساتھ آئی اے ایس وریندر کمار سے زیادہ لوگ ہیں. میڈیا ٹرائل سے بچنا چاہئے. لیکن نظام کا میڈیا ٹرائل تو ہونا ہی چاہئے. تم نہیں جانتے، ایک بار کسی مقدمے میں الجھيے، پتہ چلے گا کہ کس کس میز پر آپ گردن دبوچي جاتی ہے. اسی لیے کسی کو اعلان کرنا پڑتا ہے کہ وہ لڑے گا. جیسے ہی وہ کہتا ہے کہ وہ لڑے گا، ہر حال میں لڑے گا اس مطلب یہی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ نظام اس وقفے کی حد تک پہنچا دے گا، پھر بھی لڑے گا.

مزید پڑھیں >>

طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کب تک؟

جب لاکھوں کروڑوں نوجوان پہلی بار ووٹر بننے کی عمر میں پہنچ رہے ہوتے ہیں تب ان کا سامنا دو تین قسم کے نظام سے ہوتا ہے. ایک لائسنس بناتے وقت، دوسرا دسویں اور بارہویں کے امتحان کے وقت. رشوت دے کر لائسنس بنانے یا امتحان میں پرچہ لیک ہونے، پیسے دے کر پاس ہونے کے تجربات کا ان پر کتنا برا اثر پڑتا ہوگا. جس نظام پر انھیں پہلے دن سے بھروسہ ہونا چاہئے، اس کے ساتھ ان نوجوانوں کے تعلقات کا آغاز ہی رشوت سے ہوتا ہے. یہی تجربہ جب اسے میڈیکل اور انجینئرنگ کے امتحان کے وقت ہوتا ہوگا تو اس کا یقین گہرا ہو جاتا ہو گا کہ اس ملک میں کچھ بننا ہے تو اس کا یہی طریقہ ہے. ہو سکتا ہے یہی مایوسی کی ایک وجہ بھی ہو. اس لئے ہمیں اس کی مانگ کرنی ہی چاہئے کہ ہندوستان میں امتحان کا نظام ایسا ہو جس میں کوئی عیب نہ لگا سکے.

مزید پڑھیں >>

سرکاری محکموں کی پول کھولتی سی اے جی رپورٹ!

سی اے جی نے 2011-12 سے لے کر 2015-16 کے درمیان فصل انشورنس کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا ہے. جو نتائج سامنے آئے ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ منصوبہ کسانوں کے لیے ہوتے ہوئے بھی ان کے لئے نہیں ہے. اگر ہوتا تو پھر سی اے جی کو کیوں کہنا پڑا کہ تین دہائی سے انشورنس اسکیمیں ہیں پھر بھی بہت کم کسان ان دائرے میں آئے ہیں . بہت ہی کم چھوٹے اور معمولی کسان فصل انشورنس کی کوریج میں آ سکے ہیں . ایس سی / ایس ٹی کسانوں کے انشورنس کے لیے بھی انتظام ہے مگر ان کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے. اسکیم انہی کسانوں کے لیے ہے، جو زراعت کے لیے قرض لیتے ہیں . کئی بار کسان کھیتی کے قرض کا بیمہ کراتے ہیں ، فصل کا نہیں . بینک کسانوں کو انشورنس دفعات کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں . کس کسان کا بیمہ ہوا ہے، اس کا ڈیٹا نہ مرکزی حکومت کے پاس ہے نہ ریاستی حکومت کے پاس. یہاں تک کہ انشورنس کمپنی اےآي سي بھی نہیں رکھتی ہے. گایڈلاین میں ڈیٹا رکھنے کی ذمہ داری کو کیوں نہیں جوڑا گیا ہے. آج کل ڈیجیٹل انڈیا اور ڈیٹا انڈیا کی ہی بات ہوتی ہے لیکن ہزاروں کروڑوں کی فصل انشورنس کی منصوبہ بندی کے تحت کس کسان کا بیمہ ہوا ہے اس کا کوئی ڈیٹا ہی نہیں ہے. یہ رعایت کسانوں کے لیے ہے یا کسی اور کے لیے.

مزید پڑھیں >>

یہ غصہ نہیں، ہمارے اندر کا قاتل ہے!

اگر ہم پورے بھارت سے ایسے اعداد و شمار جمع کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر جگہ کوئی قاتل گھوم رہا ہے. جو قتل کرنے کے پہلے تک ایک اچھا انسان ہے مگر اس کا تعمیر ان رجحانات سے ہویی ہے جو اسے معمولی بات پرایک قاتل میں تبدیل کر دیتے ہیں . بھیڑ کا غصہ مختلف طرح کا ہوتا ہے. صرف فرقہ وارانہ ہی نہیں ہوتا، صرف تعصبات کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا ہے، وہ بے حد فوری ہوتا ہے اور کئی بار طویل اور مستقل بھی ہوتا ہے. ہمارا شہر ہمارے اندر کی معصومیت کو چھین رہا ہے. کام سے لے کر ٹریفک کی کشیدگی، شام تک گھر پہنچتے پہنچتے ٹی وی چینلو کے سیاسی کشیدگی میں گھلتے ہی شہری گروپ کو ایک بھیڑ میں بدل دیتا ہے. جہاں دلائل اور حقائق کے پار جاکر مارو مارو کی آواز آتی ہے.آپ یقین نہیں کریں گے. ایک مٹھائی کی ایک چھوٹی سی دکان پر گیا. خالی دکان تھی اور گلی میں تھی. ٹی وی چل رہی تھی. ٹی وی پر مذہبی مشاعرہ چل رہا تھا. دکاندار اکیلے میں چلا رہا تھا. مارو ان کو مارو. ان مسلمانوں کو مارو تبھی ٹھیک ہوں گے. میں نے ٹی وی کے اس اثر کو جانتا ہوں مگر آنکھوں سے دیکھ کر حیران رہ گیا.

مزید پڑھیں >>

کیا پرائیویسی کے لیے نیا قانون بنے؟

حکومت کی فائلوں پر خفیہ لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے یہ معلومات عوامی نہیں ہوگی. اسی طرح ہماری اپنی زندگی کی کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں چاہتے کہ دنیا جانے. کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نام سے لکھا گیا خط کوئی اور پڑھ لے اور یہ بھی جان لے کہ خط کہاں سے آیا ہے. آپ خط سینے سے لگا کر پڑھتے ہیں یا ساری دنیا کو دکھا کر پڑھتے ہیں. یہ مثال اس لیے دے رہا ہوں تاکہ یہ بات سب کے سامنے برابری سے صاف ہو جائے کہ سب کے سامنے خط کا پڑھنا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے. جیسے اگر میں آپ کی پاس بک لے کر دیکھنے لگ جاؤں کہ کتنی رقم ہے تو آپ کو برا لگے گا. جس طرح سے حکومت کی رازداری اس کی پرائیویسی ہے، اسی طرح سے آپ کی پرائیویسی یعنی پرائیویسی کی بھی رازداری ہے. آج کل آدھار بہت چیزوں میں لازمی کیا جانے لگا ہے. آدھار کارڈ میں آپ کی بہت سی معلومات ہوتی ہیں. ان سب معلومات کو آج کل ڈیٹا کہتے ہیں. دنیا کے کسی بھی ملک میں یہ ڈیٹا محفوظ ہوتے ہوئے بھی آخری طور پر محفوظ نہیں ہے. ایک جگہ جمع ہونے کی وجہ سے ان اڑا لینے کا خطرہ رہتا ہے. اڑایا بھی گیا ہے. سپریم کورٹ میں آدھا کو بايومیٹريك یعنی آنکھوں کی پتلی، انگلیوں کے نشانات سے شامل کرنے کے خلاف 20 یاچیکاییں دائر ہیں.

مزید پڑھیں >>

کسانوں کے مسائل کا حل کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ کسان دہلی آ جاتے ہیں تب بھی ان کی کوئی نہیں سنتا، میڈیا میں آ جاتے ہیں تب بھی کسی کو فرق نہیں پڑتا. ایسا نہیں ہے کہ حکومت کچھ کرنے کا دعوی نہیں کرتی ہے، اس کے تمام دعووں اور منصوبوں اور ان کی ویب سائٹ کے بعد بھی کاشت کا بحران جہاں تہاں سے نکل ہی آتا ہے. کسان دوبارہ جنتر منتر پر آ گئے ہیں. مدھیہ پردیش کے مندسور سے آل انڈیا کسان جدوجہد رابطہ کمیٹی نے کسان مکتی یاترا نکالی، جس میں 6 ریاستوں سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچی ہے. اس سفر کو ملک کے 150-200 سے زیادہ کسانوں کی تنظیموں نے حمایت دی ہے. اسٹیج پر کسان لیڈروں کے علاوہ پہلی بار خود کشی کرنے والے کسانوں کے بچوں نے بھی اپنا درد دہلی والوں کو سنایا. اس امید میں کہ دہلی کے لوگوں کو سنائی دیتا ہو گا. مہاراشٹر سے چل کر جنتر منتر پر ان بچوں کا آنا ہم سب کی ناکامی ہے. میں جانتا ہوں کہ اب ہم سب ہر طرح کی ناکامی کے عادی ہو چکے ہیں. فرق نہیں پڑتا، مگر یہ بچے ایک اور بار کوشش کر رہے ہیں کہ جھوٹے آنسو رونے والی حکومتیں اگر کچھ کرتی ہیں تو ان کا اثر کہاں ہے. کیا اس حکومت کو شرم نہیں آرہی ہے جس نے ان بچوں کو صرف یقین دہانی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے.

مزید پڑھیں >>

چین کی پھلجھڑيوں کے علاوہ اس کی مخالفت کرنا چاہیں گے؟

میڈیا میں بھارت چین کے کاروباری رشتے کی کئی کہانیاں ہیں. آپ خود بھی کچھ محنت کیجیے. باقی چین کی مخالفت بھی کیجیے، اس میں کچھ غلط نہیں ہے لیکن جو آپ کے گھر میں گھس گیا ہے اس سے شروع کر سکتے ہیں. چین کی لڑياں تو ویسے بھی دیوالی کے بعد بیکار ہو جاتی ہیں. مخالفت کیجیے مگر اس کا مقصد بڑا کر لیجئے. میں نے یہ اس لئے لکھا کہ ہو سکتا ہے چینی لوازمات کی مخالفت کرنے والے پڑھتے نہیں ہوں یا حکومت سے پتہ نہ چلا ہو لیکن اب وہ اپنی معلومات کو اپ ڈیٹ کر اس میسج کو وهاٹس اپ یونیورسٹی کے مایوسی کاکا کو دے سکتے ہیں تاکہ وہاں سے سرٹیفاي ہوکر یہ جلد ہی ملک بھر میں گھومنے لگے.

مزید پڑھیں >>