رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

یہ غصہ نہیں، ہمارے اندر کا قاتل ہے!

اگر ہم پورے بھارت سے ایسے اعداد و شمار جمع کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر جگہ کوئی قاتل گھوم رہا ہے. جو قتل کرنے کے پہلے تک ایک اچھا انسان ہے مگر اس کا تعمیر ان رجحانات سے ہویی ہے جو اسے معمولی بات پرایک قاتل میں تبدیل کر دیتے ہیں . بھیڑ کا غصہ مختلف طرح کا ہوتا ہے. صرف فرقہ وارانہ ہی نہیں ہوتا، صرف تعصبات کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا ہے، وہ بے حد فوری ہوتا ہے اور کئی بار طویل اور مستقل بھی ہوتا ہے. ہمارا شہر ہمارے اندر کی معصومیت کو چھین رہا ہے. کام سے لے کر ٹریفک کی کشیدگی، شام تک گھر پہنچتے پہنچتے ٹی وی چینلو کے سیاسی کشیدگی میں گھلتے ہی شہری گروپ کو ایک بھیڑ میں بدل دیتا ہے. جہاں دلائل اور حقائق کے پار جاکر مارو مارو کی آواز آتی ہے.آپ یقین نہیں کریں گے. ایک مٹھائی کی ایک چھوٹی سی دکان پر گیا. خالی دکان تھی اور گلی میں تھی. ٹی وی چل رہی تھی. ٹی وی پر مذہبی مشاعرہ چل رہا تھا. دکاندار اکیلے میں چلا رہا تھا. مارو ان کو مارو. ان مسلمانوں کو مارو تبھی ٹھیک ہوں گے. میں نے ٹی وی کے اس اثر کو جانتا ہوں مگر آنکھوں سے دیکھ کر حیران رہ گیا.

مزید پڑھیں >>

کیا پرائیویسی کے لیے نیا قانون بنے؟

حکومت کی فائلوں پر خفیہ لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے یہ معلومات عوامی نہیں ہوگی. اسی طرح ہماری اپنی زندگی کی کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں چاہتے کہ دنیا جانے. کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نام سے لکھا گیا خط کوئی اور پڑھ لے اور یہ بھی جان لے کہ خط کہاں سے آیا ہے. آپ خط سینے سے لگا کر پڑھتے ہیں یا ساری دنیا کو دکھا کر پڑھتے ہیں. یہ مثال اس لیے دے رہا ہوں تاکہ یہ بات سب کے سامنے برابری سے صاف ہو جائے کہ سب کے سامنے خط کا پڑھنا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے. جیسے اگر میں آپ کی پاس بک لے کر دیکھنے لگ جاؤں کہ کتنی رقم ہے تو آپ کو برا لگے گا. جس طرح سے حکومت کی رازداری اس کی پرائیویسی ہے، اسی طرح سے آپ کی پرائیویسی یعنی پرائیویسی کی بھی رازداری ہے. آج کل آدھار بہت چیزوں میں لازمی کیا جانے لگا ہے. آدھار کارڈ میں آپ کی بہت سی معلومات ہوتی ہیں. ان سب معلومات کو آج کل ڈیٹا کہتے ہیں. دنیا کے کسی بھی ملک میں یہ ڈیٹا محفوظ ہوتے ہوئے بھی آخری طور پر محفوظ نہیں ہے. ایک جگہ جمع ہونے کی وجہ سے ان اڑا لینے کا خطرہ رہتا ہے. اڑایا بھی گیا ہے. سپریم کورٹ میں آدھا کو بايومیٹريك یعنی آنکھوں کی پتلی، انگلیوں کے نشانات سے شامل کرنے کے خلاف 20 یاچیکاییں دائر ہیں.

مزید پڑھیں >>

کسانوں کے مسائل کا حل کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ کسان دہلی آ جاتے ہیں تب بھی ان کی کوئی نہیں سنتا، میڈیا میں آ جاتے ہیں تب بھی کسی کو فرق نہیں پڑتا. ایسا نہیں ہے کہ حکومت کچھ کرنے کا دعوی نہیں کرتی ہے، اس کے تمام دعووں اور منصوبوں اور ان کی ویب سائٹ کے بعد بھی کاشت کا بحران جہاں تہاں سے نکل ہی آتا ہے. کسان دوبارہ جنتر منتر پر آ گئے ہیں. مدھیہ پردیش کے مندسور سے آل انڈیا کسان جدوجہد رابطہ کمیٹی نے کسان مکتی یاترا نکالی، جس میں 6 ریاستوں سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچی ہے. اس سفر کو ملک کے 150-200 سے زیادہ کسانوں کی تنظیموں نے حمایت دی ہے. اسٹیج پر کسان لیڈروں کے علاوہ پہلی بار خود کشی کرنے والے کسانوں کے بچوں نے بھی اپنا درد دہلی والوں کو سنایا. اس امید میں کہ دہلی کے لوگوں کو سنائی دیتا ہو گا. مہاراشٹر سے چل کر جنتر منتر پر ان بچوں کا آنا ہم سب کی ناکامی ہے. میں جانتا ہوں کہ اب ہم سب ہر طرح کی ناکامی کے عادی ہو چکے ہیں. فرق نہیں پڑتا، مگر یہ بچے ایک اور بار کوشش کر رہے ہیں کہ جھوٹے آنسو رونے والی حکومتیں اگر کچھ کرتی ہیں تو ان کا اثر کہاں ہے. کیا اس حکومت کو شرم نہیں آرہی ہے جس نے ان بچوں کو صرف یقین دہانی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے.

مزید پڑھیں >>

چین کی پھلجھڑيوں کے علاوہ اس کی مخالفت کرنا چاہیں گے؟

میڈیا میں بھارت چین کے کاروباری رشتے کی کئی کہانیاں ہیں. آپ خود بھی کچھ محنت کیجیے. باقی چین کی مخالفت بھی کیجیے، اس میں کچھ غلط نہیں ہے لیکن جو آپ کے گھر میں گھس گیا ہے اس سے شروع کر سکتے ہیں. چین کی لڑياں تو ویسے بھی دیوالی کے بعد بیکار ہو جاتی ہیں. مخالفت کیجیے مگر اس کا مقصد بڑا کر لیجئے. میں نے یہ اس لئے لکھا کہ ہو سکتا ہے چینی لوازمات کی مخالفت کرنے والے پڑھتے نہیں ہوں یا حکومت سے پتہ نہ چلا ہو لیکن اب وہ اپنی معلومات کو اپ ڈیٹ کر اس میسج کو وهاٹس اپ یونیورسٹی کے مایوسی کاکا کو دے سکتے ہیں تاکہ وہاں سے سرٹیفاي ہوکر یہ جلد ہی ملک بھر میں گھومنے لگے.

مزید پڑھیں >>

جعلی نیوز کے ذریعے نفرت پھیلانے کی سازش

کیا آپ جعلی نیوز سے ہوشیار ہیں ؟ دنیا بھر میں جعلی نیوز جمہوریت کا گلا گھونٹنے اور آمروں کی موج مستی کا ذریعہ بن گیا ہے. دارالحکومت سے لے کر ضلعی سطح تک جعلی نیوز پھیلانے کا ایک مکمل نظام تیار ہو چکا ہے. یہی نہی آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی جعلی نیوز دے رہے ہیں . کمزور ہو چکا میڈیا ان کے سامنے صحیح حقائق کو رکھنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہا ہے. سامنے کے صفحے پر قومی سربراہ کا بیان چھپتا ہے، جس میں جعلی معلومات ہوتی ہے اور جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو پھر وہی اخبار اگلے دن اسی جگہ میں غلطی کو شائع کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتا ہے کہ صدر یا وزیر اعظم نے جھوٹا بیان دیا ہے. میڈیا، صحافی اور قاری و ناظرین کے لئے یہ پتہ لگانا بہت خطرے کا کام ہو گیا ہے کہ نیوز صحیح ہے یا جعلی؟ پوری دنیا میں اس بیماری سے لڑنے پر غور ہو رہا ہے کہ جعلی نیوز سے کیسے بچا جائے؟

مزید پڑھیں >>

امرناتھ مسافروں پر حملہ: کشمیریت پر دھبا لگانے کی سازش؟

کشمیر میں اس واقعے کی مخالفت وہاں کے ہر سطح کے رہنماؤں نے کی ہے. میر واعظ عمر فاروق، سید گیلانی اور یاسین ملک نے مشترکہ بیان جاری کر اس واقعہ کی مذمت کی ہے. کہا ہے کہ یہ واقعہ کشمیریت کے خلاف ہے. امرناتھ یاترا صدیوں سے پر امن طریقے سے پوری ہوتی رہی ہے. ہماری نیک تماییں مظلوم خاندانوں کے ساتھ ہیں. سری نگر میں ٹور اینڈ ٹریولس چلانے والوں نے بھی مظاہرہ کرکے اس واقعہ کی مذمت کی ہے. دہلی میں جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے گیٹ پر اساتذہ نے بھی موم بتی جلا کر اپنی تعزیت پیش کی اور جنتر منتر پر ناٹ ان مائی نیم والے پھر جمع ہو گئے. واقعہ کے دسویں منٹ سے ہی لوگ لکھنے لگے کہ کہاں ہیں ناٹ ان مائی نیم والے. کیا اب وہ کریں گے جب ہندو بھائی مرے ہیں. وہ یہ بھول گئے کہ ناٹ ان مائی نیم کی تختی لے کر لوگ بھیڑ کے تشدد کے خلاف اترے تھے.

مزید پڑھیں >>

جھوٹی خبروں کے جنجال سے کیسے بچیں؟

آپ جانتے ہیں کہ بنگال کے باشيرہاٹ میں گزشتہ دنوں فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ ہوا تھا. وہاں یہ تصویر پھیلائی جانے لگی کہ بدريا میں ہندو عورتوں کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے. بنگلہ میں لکھا تھا، 'ٹی ایم سی کی حمایت کرنے والے ہندو بتاو کیا تم ہندو ہو.' اس تصویر کے سہارے ایک خاص کمیونٹی کے خلاف ایک کمیونٹی کو بھڑکایا جا رہا تھا. اسے ایكسپوذ کرتے ہوئے altnews.in نے بتایا ہے کہ اس تصویر کو بی جے پی ہریانہ کی ایک رکن نے ہندی میں لکھ کر شیئر کر دیا. لکھ دیا کہ بنگال میں جو حالات ہیں، ہندوؤں کے لئے تشویش کا موضوع ہیں. بعد میں پتہ چلا کہ یہ تصویر بنگال کی نہیں ہے، بلکہ 2014 میں ریلیز ہوئی بھوج پوری فلم کے ایک سین کی ہے. آپ سوچ سکتے ہیں کہ بھوج پوری فلم کے ایک سین کا استعمال کر کے بنگال اور بنگال سے باہر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے. یہی نہیں اسکرول ڈاٹ ان نے اس پر پوری خبر چھاپتے ہوئے لکھا ہے کہ بی جے پی کی ترجمان نپور شرما نے 2002 کے گجرات فسادات کی تصویر شیر کر دی کہ یہ بنگال میں ہو رہا فرقہ وارانہ تشدد ہے. اسکرول نے لکھا ہے کہ بتانے کے بعد بھی ان ٹویٹس کو ڈلیٹ نہیں کیا گیا ہے.

مزید پڑھیں >>

بنگال میں تشدد کے پیچھے سازش؟

یہ سوال تو کرنا ہوگا کہ 17 سال کے ایک بچے کے فیس بک پوسٹ کو لے کر کیا شہر یا محلے میں آتش زد گی کی جائے گی، راستہ جام کیا جائے گا تو پھر معاشرے کا کیا ہوگا. کیا ہمارے تعلقات اتنے کھوکھلے ہو چکے ہیں. فیس بک پوسٹ کی وجہ سے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے جذبات کو ہی بیماری لگ گئی ہے. ایک بات سب کو یاد رکھنی چاہئے. اکثریت فرقہ واریت اسی فراق میں رہتا ہے کہ کب اقلیتی فرقہ واریت حرکت کرے یا کچھ ایسا کرے جسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر اس کے جواب میں اکثریت کو اکسایا جا سکے. بھیڑ کا جواب بھیڑ سے دینے والے دونوں طرف کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ جواب نہیں دے رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں.

مزید پڑھیں >>

کیا چین سے کشیدگی زیادہ بڑھی ہے؟

جب کہیں کچھ نہیں ہو رہا ہوتا ہے تو بھارت اور چین کی سرحد پر کہیں کچھ ہونے لگتا ہے. اگر اس کا تعلق نفسیاتی دباؤ بنانے سے ہے تو ایسے موضوعات سے دور رہنے کے بعد بھی مجھے لگتا ہے کہ اب چین اس طرح کا منووگیانک دباؤ نہیں بنا پائے. اگر بنا پاتا تو امرناتھ یاترا کی طرح کیلاش مان سروور سفر روک دینے پر ہنگامہ مچ گیا ہوتا. اس سے زیادہ ہنگامہ پاکستان کے ساتھ کچھ ہونے پر ہو جاتا ہے. کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہے کہ گزشتہ 45 دنوں میں چین کی جانب سے 120 اكرذن ہوئے ہیں. اس سال ایسے 240 اكرذن ہو چکے ہیں. ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا. اگر سنگھوی کی بات صحیح ہے تو کیا چین غیر معمولی طور پر اپنی جارحیت کو تیز کر رہا ہے.

مزید پڑھیں >>

کیا جی ایس ٹی سے ٹیکس کا نظام بہتر ہو گا؟

تاریخ تو بن رہی ہے ، مگر کلاس تاریخ کی نہیں ہے. نصاب تو کامرس، ٹیكسیسن کا ہے. اخبارات میں جی ایس ٹی کو لے کر مختلف سیکٹرس کی پریشانیوں کی خبریں بھی شائع ہو رہی ہیں، لیکن ان سب کو چھوٹی موٹی دقتیں بتاتے ہوئے حکومت اپنی مقررہ منزل پر پہنچ چکی ہے. 1/ جولائی سے جی ایس ٹی نظام نافذ ہو رہا ہے. حکومت کے لئے یہ موقع اتنا بڑا ہے کہ وہ اسے آزادی کے لینڈ مارک کی طرح پیش کرنا چاہتی ہے، ٹیکسٹائل تاجروں کو چھوڑ کر باقی زیادہ تر تجارتی تنظیمیوں کے اعتراضات کو آندولن سے بچاتے ہوئے ظاہر کر رہی ہے. لہذا سمجھنا اور دعوی کرنا مشکل ہے کہ ان کی پریشانی کتنی جائز اور بڑی ہے. جب بتانے والا ہی ہمت نہیں دکھائے گا تو کیا کیا جا سکتا ہے.

مزید پڑھیں >>