رویش کمار

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

نیوٹن اور ڈارون کے بعد اب باری ایڈیسن کی

راجستھان کے وزیر تعلیم واسودیو دیوناني نے کہا ہے کہ کشش ثقل کے اصول تو نیوٹن سے ہزاروں سال پہلے برهمہ گپت دوم نے دے دیے تھے. انہی وزیر نے کسی ریسرچ کو اٹھا کر کہہ دیا کہ گائے ہی وہ واحد جانور ہے جو سانس چھوڑتی ہے تو آکسیجن چھوڑتی ہے. باقی سارے لوگ کاربن ڈائی آكسائڈ چھوڑتے ہیں. وزیر جی اگر تین چار لاکھ گائیں لے کر دہلی آجائیں، ان سے آکسیجن چھڑوا دیں تو یہاں کی آلودگی دور ہو جائے گی.امید ہے کہ اسرو کے سائنٹسٹ، نیوٹن کی دی ہوئی تھیوری، کشش ثقل کو چھوڑ کر برهمہ گپت کے فارمولے کے مطابق بھی کبھی راکٹ لانچ کریں گے. اسرو کو بھی کچھ کہنا چاہیے تھا. برهمہ گپت دوم کے بارے میں میں بھی پڑھنا چاہوں گا. کیا کوئی فارمولا دیا تھا، 9.8 بتایا تھا، یا صرف کہا تھا کہ کشش ہے. جاننے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اتنی بڑی کھوج ہمارے وزیر نے کر دی ہے اور انہیں بال بہادروں کے ساتھ بہادری کا ایوارڈ نہیں دیا جا رہا ہے، میں اس کی مخالفت کرتا ہوں.

مزید پڑھیں >>

کیا AAP کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟

فائدہ کے عہدے کے پیچھے ماڈل تصور یہ تھا کہ ممبر اسمبلی دوسرے کام نہ کریں کیونکہ اس کا کام ایوان میں ہونا اور عوام کی آواز اٹھانا ہے. وہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہئے. ورنہ وہ عوام کی آواز نہیں اٹھا پائے گا. پر کیا یہ عملی طور پر بھی لاگو ہوتا ہے. اول تو اسمبلیوں کے اجلاس بھی بہت کم دنوں کے ہوتے ہیں. کیا یہ اخلاقی جرم نہیں ہے. یہی نہیں، ایم ایل اے ایوان میں وهيپ کی بنیاد پر اپنی پارٹی کے لئے ووٹ کرتا ہے. وہ عوام کا نمائندہ کاغذ پر ہوتا ہے مگر ووٹ پارٹی کے وهيپ کے حساب سے ہوتا ہے. پھر آفس آف پروفٹ کا تصور کا کیا مطلب رہ جاتا ہے. آپ خود بھی سوچئے. ایک بار پانڈی چیري کے میئر کے عہدے پر ممبر اسمبلی کی تقرری ہو گئی. اسے الیکشن کمیشن نے آفس آف پروفٹ سمجھا کیونکہ کئی طرح کے بھتے ملتے تھے. مگر اسے آفس آف پروفٹ نہیں مانا گیا کیونکہ میئر کا عہدہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں آتا تھا. مجموعی طور پر آفس آف پروفٹ کی کوئی ایک درست تشریح نہیں ملتی ہے.2006 میں شیلا دکشت نے کانگریس کے 19 ممبران اسمبلی کو کئی قسم کے عہدے دیے. پارلیمانی سیکرٹری سے لے کر ٹرانس جمنا ایریا ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیئرمین، وائس چیئرمین کے طور پر. تقرری کے بعد الیکشن کمیشن نے 19 ممبران اسمبلی کو آفس آف پروفٹ کا نوٹس بھیج دیا. شیلا دکشت اپنی حکومت بچانے کے لئے ایک بل لے آئیں. 14 دفاتر کو آفس آف پروفٹ کے دائرے سے باہر کر دیا.

مزید پڑھیں >>

سرکاری نوکریاں کہاں گئیں؟

گزشتہ چند گھنٹوں میں میں نے خود سینکڑوں میسج پڑھے اور بہت سے طالب علموں سے بات کی. میں حیران ہوں کہ ان امن پسند اور اچھے نوجوانوں کی تکلیف سمجھنے والا کوئی نہیں ہے. ان کا ایک ایک دن پریشانی میں گزر رہا ہے، وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ دوسرے امتحان کے لئے تیاری میں لگ جائیں یا پھر جس میں پاس ہو چکے ہیں اس کا جواننگ  لیٹر آئے گا. آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے. ایک تو 2015 سے اگست 2017 آ گیا۔ امتحان کے عمل کو مکمل ہونے میں اور اس کے بعد بھی پانچ ماہ سے انہیں جواننگ لیٹر نہیں ملا ہے جبکہ یہ امتحان میں پاس ہو چکے ہیں. کیا آپ چاہیں گے کہ ان امیدواروں اور طالب علموں کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہو. کیا ان کی داستان فوری طور پر نہیں سنی جانی چاہئے. آخر ان بچوں نے کیا گناہ کیا ہے. ایک لڑکی نے فون کیا کہ اس کا انتخاب، انفارمیشن ٹرانسمیشن وزارت میں پریس انفورمیشن بیورو میں ہوا ہے، لیکن ابھی تک جواننگ نہیں آئی ہے. فون کرنے پر جواب ملتا ہے کہ چھ ماہ اور لگیں گے، کئی بار تو جواب کی جگہ کسی اور انداز میں ان نوجوانوں سے بات کی جا رہی ہے.

مزید پڑھیں >>

نوکریوں پر نئی رپورٹ: 2017 میں 55 لاکھ نوکریاں ملیں؟

بھارت میں گزشتہ پچاس سالوں میں آبادی کی شرح کم ہوئی ہے. اس کے اور گھٹنے کا امکان ہے. ہر سال ڈھائی کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں اور ڈیڑھ کروڑ لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں. ان میں سے 88 لاکھ گریجویٹ ہوتے ہیں مگر گریجویٹ لیبر مارکیٹ میں نہیں آتے. تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ان میں سے 66 لاکھ كوالیفائڈ افرادی قوت ہیں.EPFO میں 190 سے زائد اقسام ویسے صنعت ہیں،  جہاں 20 یا اس سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں. اس کے ساڑھے پانچ کروڑ سبسکرائبر ہیں. ایک دوسرا ہے ESIC، یہاں دس یا دس سے زیادہ کام کرنے والے ٹھکانوں کے عملے کا حصہ جمع ہوتا ہے. اس کے تحت 60 سے زائد صنعتوں کے 1 کروڑ 20 لاکھ سبسکرائبر ہیں. اس کے علاوہ نیشنل پنشن فنڈ کے 50 لاکھ لوگ ہیں. جی پی ایس سے 2 کروڑ لوگ جڑے ہیں. خود دیکھئے باضابطہ طور پر ہندوستان جیسے وسیع ملک میں پے رول پر کتنے کم لوگ ہیں. دس کروڑ سے بھی کم جبکہ امریکہ میں 16 کروڑ اور چین میں 78 کروڑ ہیں.

مزید پڑھیں >>

 جج بی ایچ لویا کی پراسرار موت پر ’گودی میڈیا‘ کا کردار

21 نومبر کو كیروان (Carvan) میگزین نے جج بی ایچ لويا کی موت پر سوال اٹھانے والی رپورٹ شائع کی تھی. اس کے بعد سے 14 جنوری تک اس میگزین نے کل دس رپورٹ شائع کی ہیں. ہر رپورٹ میں حوالے ، دستاویز اور بیان ہیں. جب پہلی بار جج لويا کی قریبی بہن نے سوال اٹھایا تھا اور ویڈیوز بیان جاری کیا تھا تب حکومت کی طرف سے بہادر بننے والے گودی میڈیا خاموش رہ گئی. جج لويا کے دوست اسے منصوبہ بند قتل مان رہے ہیں. انوج لويا نے جب 2015 میں جانچ کی مانگ کی تھی اور جان کو خطرہ بتایا تھا تب گودی میڈیا کے اینکرز سوال پوچھنا یا چیخنا-چلانا بھول گئے. وہ جانتے تھے کہ اس کہانی کو ہاتھ لگاتے تو حضور پلیٹ سے روٹی ہٹا لیتے. آپ ایک ناظر اور قاری کے طور پر میڈیا کے خوف اور جرات کو مناسب طریقے سے سمجھئے. یہ ایک دن آپ کی زندگی کو متاثر کرنے والا ہے. جرات تو ہے ہی نہیں اس میڈیا میں. كیروان پر ساری رپورٹ ہندی میں ہے. 27 دسمبر کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

عدلیہ کے اندر اندر سلگتے سوالات

چار جج کہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ایسے یاد کرے کہ انہوں نے اپنی روح بیچ دی اور ہم ان اٹھائے سوالوں پر بحث نہیں کر رہے ہیں. معزز ججوں کے سوالوں کو کنارے لگا کر ٹی وی میڈیا اور سوشل میڈیا اس پر بحث کرنے لگا کہ ان کا خاندانی پس منظر کیا ہے، پریس کانفرنس کیوں کی، صدر کے پاس کیوں نہیں گئے، چیف جسٹس سے بات کیوں نہیں کی. یہی نہیں، سوشل میڈیا پر ان لوگوں کی طرف سے نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا جنھیں ملک کے آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ فالو کرتے ہیں. دوسری طرف ناانصافی چیف جسٹس کے ساتھ بھی ہوئی. انہیں رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کے فیصلے سے جوڑ دیا گیا اور مان لیا گیا کہ کیا فیصلہ دینے والے ہیں، ان کے فیصلوں کے قصیدے پڑھے جانے لگے اور دوسری طرف ان پر الزامات لگنے  لگے. یہ انتہائی خطرناک ماحول تھا، جسٹس نے جو کہا اس پر بات نہیں، جو نہیں کہا اس پر ہنگامہ. جبکہ جمعہ کو جسٹس چیلامیشور نے کہا کہ 'ہماری ساری کوششیں فیل ہو گئیں. ہم سب نے سمجھانے کی کوشش کی کہ جب تک اس ادارے کو بچایا نہیں جائے گا، بھارت میں جمہوریت کو نہیں بچایا جا سکتا ہے. '

مزید پڑھیں >>

مكاباز: کچھ کے لئے ٹانک ہے، کچھ کے لئے وائن

فلم کی یہی خوبی ہے. بہترین فلم وہی ہوتی ہے جو آپ کو ایک ساتھ کہانی کے اندر اندر ایک سے زیادہ تہوں کو دکھائے اور آپ کے اندرونی تضادات کو ابھارے. مزا آ رہا تھا. ونیت کمار سنگھ نے بہت اچھا کام کیا ہے. یہ آرٹسٹ اپنے رول میں سما گیا ہے. سب کچھ بہترین ہے. روی كشن کی پرتیبھا پہلی بار کسی فلم میں صحیح طریقے سے ابھر کر سامنے آئی ہے. روی کشن کے بارے میں بھی ڈائریکٹرز کو سوچنا چاہئے. ان میں کافی دم ہے. انوراگ کشیپ نے بہت چالاکی سے اس فلم کے ذریعہ آج کی سیاست کو سمیٹ دیا ہے. کہانی شروع ہی ہوتی ہے گئو رکشسوں کے سین سے. میڈیا سے زیادہ بہتر فلم والے آج کے وقت کو پکڑ رہے ہیں. بیگ گرؤنڈ میوزک میں ڈائیلاگ کی مکسنگ خوب ہے.

مزید پڑھیں >>

آج چینلوں کی وفاداری کی رات ہے!

آج اگر آپ نیوز چینل دیکھ رہے ہیں تو غور سے دیکھئے. چینلز کی اسکرین پر کیا لکھا ہے اور اینکرز کیا بول رہے ہیں. ججوں نے ملک کی خدمت کی اس کے بعد بھی یہ میڈیا حکومت کی خدمت کر رہا ہے. آپ میڈیا کی زبان پر غور کریں گے تو سارا کھیل سمجھ آ جائے گا.جج لويا کی موت پر آپ نے ان ایكروں کو بحث کرتے دیکھا تھا جب كیروان نے کہانی بریک کی تھی؟ جج لويا کی سماعت کے معاملے نے اس پریس کانفرنس کی حوصلہ افزائی کی گئی مگر کیا کوئی اینکر جج لويا کی موت کے معاملے کا نام لے رہا ہے؟ ایک جج کی موت پر سوال اٹھے ہیں کیا آپ اس پر میڈیا کی اس وقت بھی اور آج کی خاموشی کو صحیح مانیں گے؟

مزید پڑھیں >>

نوکریوں کے گھٹتے اور بدلتے مواقعوں پر بحث کیجیے

مالنی گوئل نے سرسری طور پر بتایا ہے کہ جرمنی، سنگاپور اور سویڈن میں کیا ہو رہا ہے اور بھارت ان سے کیا سیکھ سکتا ہے. بلکہ دنیا کو ہندوستان سے سیکھنا چاہئے. یہیں کا نوجوان ایسا ہے جسے نوکری نہیں چاہئے، روز رات کو ٹی وی میں ہندو مسلم ٹاپك چاہئے. اب اس کو الو بنانے کے لئے اس بحث میں الجھايا جائے گا کہ ریزرویشن ختم ہونا چاہئے. نوکری کا دشمن ریزرویشن ہے. پوری دنیا میں کام نہ ہونے کے مختلف وجوہات پر بحث ہو رہی ہے، بھارت نے اسی میں اٹکا ہے کہ ریزرویشن کی وجہ کام نہیں ہے.حکومت کوئی پیشکش نہیں لائے گی، تین طلاق کی طرح بحث میں الجھا کر نوجوانوں کا تماشا دیکھے گی. ریزرویشن پر بحث کے مسئلے کا استعمال فرنٹ کے طور پر ہو گا، جسے لے کر بحث کرتے ہوئے نوجوان خوابوں میں کھو جائیں گے کہ اسی کی وجہ سے کام نہیں ہے. لیڈر ووٹ لے کر اپنے خواب کو پورا کر لے گا. حقائق کے لحاظ سے یہ ہمارے وقت کی سب سے بڑی بکواس ہے. کام نہ تو مخصوص طبقے کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے اور نہ کسی مخصوص طبقے کے لئے. یہی حقیقت ہے. کام کے پیدا کرنے پر تو بات ہی نہیں ہوگی کبھی.

مزید پڑھیں >>