صفدر امام قادری

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

امار سونار بنگلہ (قسط چہارم)

  ڈھاکہ یونی ورسٹی طلبہ اور اساتذہ کو جدید انداز کی تعلیم کی ساری سہولیات دیتے ہوئے اپنی اقدار اور قومی تشخص کے معاملے میں غفلت شعار نہیں ہے۔ اپنی مادری زبان کو دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے ہاتھ میں گروی رکھ دینے کا عمل بھی کم سے کم بنگلہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے اعلا تعلیم یافتہ لوگ ہم ہندستانیوں کی طرح شرمندہ نظر نہیں آتے بلکہ اپنے ملک اور اپنی زبان کے لیے جس انداز کی انھوں نے قربانیاں دی ہیں ، اس کا فخر ان کے ہر اقدام سے جھلک رہا تھا۔

مزید پڑھیں >>

امار سونار بنگلہ (تیسری قسط)

مغربی بنگال اور مشرقی بنگال اب دو ملکوں میں منقسم ہیں اور آج پڑوسی ملکوں کی حیثیت سے سرگرمِ کار ہیں۔ سے می نار میں پڑوسی ملک کے ادب کا جائزہ پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا گیا۔ اس جلسے میں شعبۂ اردو کے استاد حسین البنّٰی نے نہایت کارآمد مقالہ ’’عہدِ حاضر میں اردو کے فروغ میں بنگلہ دیش اور بیرونی ملک کے مدارس کا رول‘‘پیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

محمد مختار وفاؔ: جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی امتزاجی آواز

خدا کرے اگلے ہی برس ان کی نظموں کا مجموعہ اور متفرقات بھی طبع ہوکر سامنے آجائیں اور پڑھنے والوں کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ نصف صدی کی ریاضت کا جو سرمایہ ہے، وہ سفر رائیگاں نہیں ہے۔ میں ایم۔ایم۔وفا کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت پر انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

مزید پڑھیں >>

امار سونار بنگلہ (قسط دوم)

ڈھاکہ ایرپورٹ پر پہنچنے کے بعد ہی شعبۂ اردو کے طلبا نے استقبال اور میزبانی کے معیاری طور طریقوں کے جو نمونے پیش کیے، پانچ دنوں کے قیام میں اس میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ شہر کے قلب اور بیت المکرم مسجد کے بالکل سامنے ایک اچھے ہوٹل میں ہمارا قیام تھا۔ ایئر پورٹ سے ہوٹل اور ہوٹل سے یونی ورسٹی لے جانے کے لیے ڈھاکہ یونی ورسٹی کی گاڑیاں ہر وقت میسر تھیں۔

مزید پڑھیں >>

امار سونار بنگلہ (قسط اول)

ڈھاکہ شہرہندستان کی راجدھانی دلی کی طرح نہیں ہے۔ تین سو سال گزرنے کے آثار شہر میں نظر آتے ہیں۔ پرانا شہر ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے قدیم کھنڈروں کا نمونہ قرار دیا جاسکے۔ چار پانچ منزلہ عمارتیں اس علاقے میں بھی موجود ہیں، کشادگی کم ہے مگر دلی کی تنگ گلیوں کا گمان نہیں گزرتا۔ بھیڑ اور شور اسی طرح سے ہے جیسے ایک زندہ علاقے میں ملنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

بھارتیہ جنتا پارٹی کا مورچے سے پیچھے ہٹنا شروع

بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ حکومت کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ اس کی اقتصادی پالیسیاں امبانی اور اڈانی طے کرتے ہیں اور سیاسی پالیسیاں ناگپور میں آر ایس ایس کے کیمپ میں تیار ہوتی ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا یہ بھی تاثر ہے کہ ان دونوں باتوں میں کہیں گٹھ جوڑ اور خفیہ سمجھوتا ہے جس کی وجہ سے آر ایس ایس نے بھی کھلے طور پر اقتصادی پالیسیوں کی مخالفت نہیں کی۔ اس کا کام دوسرے انجام دیتے رہیں تو آخر دشواری ہی کیا ہے۔ مگر ان دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ پرانے لیڈر نریندر مودی حکومت کی کھلے عام مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں ۔ یشونت سنہا اورارون شوری کی باتوں کو صرف نریندر مودی سے دیرینہ اختلاف کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ اتفاق سے دونوں افراد اٹل بہاری باجپئی کے زمانے میں بڑے منصب دار اور ان کی پالیسیوں کے لیے ذمے دار مانے گئے تھے۔ انھوں نے جو باتیں کہیں ان میں صرف نریندر مودی کی مخالفت اور امت شاہ یا اس حکومت کے کارپردازوں کو سبق سکھانے کا مقصد پنہاں نہیں بلکہ انھوں نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں ان کی جانچ پرکھ شروع ہوچکی ہے اور اگر ان میں حقائق کی بنیادیں نہ ہوتیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چند دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے کاموں میں بنیادی تبدیلی کرنے کی ضرورت پڑتی۔

مزید پڑھیں >>

اردو کے فوجی کم اور سپہ سالار زیادہ: خدا محفوظ رکھے اس زباں کو

بے شک اردو کا ہر طالب علم اگر خود کو استاد اور سپہ سالار اور بادشاہ سلامت سمجھ رہا ہے تو اس میں وہ کس کا حق مار رہا ہے کہ جبینوں پر شکنیں پیدا ہورہی ہیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ سب پیادوں کو ہمارے اساتذۂ کرام ایسی تربیت دیں کہ وہ فوجی تو ہوں ہی، فوج کی قیادت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے اور جب ان کی مقدر کی تختی پر بادشاہت کا تمغہ آویزاں ہونے کی نوبت آئے تو وہ اسے بھی کامیابی کے ساتھ نبھاسکتے ہوں ۔ اب نئی قیادت کا وقت آیا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اس ملک میں اب جو بولے گا، وہ مارا جائے گا

 نریندر مودی کی قیادت کے ابھی ساڑھے تین برس پورے نہیں ہوئے مگر ملک کے انتظامی حالات یہ اعلان کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ہم خانہ جنگی اور سول وار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہر گلی محلے میں آر ایس ایس اور بھاجپا کی نئی نئی قِسمیں جنم لے رہی ہیںجن کا ایک ایجنڈا ہے کہ ہندستان میں اُن کے کاموں سے جو اختلاف کرے گا، اسے مار دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں >>

  مسلمان دیش بھکت کیو ں ہونے لگے ؟

ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ آزادی کی جنگ کے فیصلہ کُن دور میں اور آزادی کے بعد ایک طویل مدّت تک آر۔ایس ۔ایس ۔یا ہندو مہاسبھا کی ایسی کچھ توسیع نہیں تھی کہ ہندستانی مسلمانوں کے خلاف وہ کوئی ملک گیر مہم چلا لیں اور انھیں مکمل طور پراس میں کامیابی مل سکے۔ایسے تمام منافرت کے کا م کانگریس نے خود ہی کیے۔آلِ احمد سرور نے آزادی کے بعد اترپردیش میں گووند بلبھ پنت کے دور کو یادکرتے ہوئے لکھا ہے کہ فرقہ پرست جماعتوں کا انھیں اس طرح سے تعاون حاصل تھا کہ ان کے خلاف نہرو بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

بہار میں ہندستانی سیاست کا نیا دنگل

 بہار کی حکومت سازی میں نتیش کمار کو کم سیٹوں کے باوجود وزارتِ اعلا کی کرسی ملی۔ اس میں انھیں فائدہ تھا اس لیے وہ بہ خوشی تیار رہے۔ مگر لالو پرساد یادو کی مقبولیت اور سیاسی گرفت سے نتیش کمار کو ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف چھوٹے موٹے سوالات پر بیان دے کر ایک دوسرے کو احساس کراتے رہتے ہیں کہ یہ ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ لالو یادو کے لیے یہ مسئلہ ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے پچیس برس سے زیادہ دنوں سے دور ہیں ۔ کانگریس مخالف سیاسی منچ میں لالو یادو کی حیثیت 1990 ء سے ہی مرکزی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس لیے ان کے اِدھر اُدھر ہونے کا سوال کم ہے۔ شاید اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ساری جانچ ایجنسیاں اور بہار کے بھاجپا لیڈران بھی نتیش کمار کے بجاے لالو اور ان کے بیٹوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ نتیش کمار کے پاس ہمیشہ یہ راستہ ہے کہ وہ لالو کا ساتھ چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی سے مل کر یا باہر سے مدد لے کر سرکار بنالیں۔ بھاجپا کا مفاد یہ ہے کہ بہار کی سرکار ٹوٹے گی تو لالو کمزور ہوں گے اور ملک گیر سطح پر 2019ء کے انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مہم چلا پانے میں وہ پچھڑ جائیں گے۔

مزید پڑھیں >>