سلیم خان

سلیم خان
ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

گؤ راکشس: اس کے رکشک اور بھکشک!

وزیراعظم کو بالآخر احساس ہوگیا کہ اب مونی بابا بنے رہنے سے کام نہیں چلے گا اس لیے پہلے تو انہوں نے سابرمتی آشرم میں اشاروں کنایوں میں مذمت  کی اور پھر کل جماعتی نشست میں کھل کر بولے لیکن یہ ساری مشقت  بے سود رہی  اس لیے کہ مودی جی  قوم  کا اعتبار کھوچکے ہیں۔ پارلیمانی سیشن سے قبل کل جماعتی اجلاس میں  وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’ گئورکشا کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس پرصرف بیان بازی ہوگی یا  حکومت کی جانب سے کوئی اقدام بھی کیا جائیگا؟ مودی جی نے بڑی چالاکی سےایکشن لینے   کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈال دی  اور’’ریاستی حکومتوں  کو تلقین کی کہ  وہ اس تشدد  میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں ‘‘۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی صوبائی حکومت اپنے فرض منصبی کو  ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو وہ کیا کریں گے؟ کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے یا کسی وزیر یا افسر کے خلاف کوئی  تادیبی کارروائی کریں گے؟

مزید پڑھیں >>

بدعنوان اور جرائم پیشہ نمائندوں کا صدر

جمہوریت کا دعویٰ ہے عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے۔ آئیے اس دعویٰ کی حقیقت  صدارتی انتخاب کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں ۔ ہندوستان کی کل آبادی 134 کروڈ ہے اور  نومبر 2016 کو سرکار کے ذریعہ اعداوشمار کے مطابق جن لوگوں کی سالانہ آمدنی ایک کروڈ یا اس سے تجاوز کرتی  ہے ان کی تعداد 45 ہزار سے کچھ زیادہ  ہے  یعنی 30 لاکھ لوگوں میں ایک کروڈ پتی ہے۔ اس کے برعکس عوام کےان  نمائندوں کی حالت دیکھیں جن لوگوں نے ملک کا نیا صدر منتخب کرنے کیلئے اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کیا۔ ان 4852 ارکان پارلیمان اور اسمبلی میں 71 فیصد کروڈ پتی ہیں۔ یعنی ہر 150 میں سے ایک کروڈ پتی۔  سوال یہ ہے کہ عوام اور ان کے نمائندوں کی خوشحالی میں  یہ ایک کے مقابلے 20 ہزار کا فرق کیسے واقع ہوگیا ؟ عوام کے نمائندے ان 20 ہزار گنا خوشحال کیسے ہوگئے؟ ایک سوال یہ بھی ہے جمہوری نظام  غریب عوام اپنے جیسے غریبوں کو اپنا نمائندہ بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ؟  اور آخری بات یہ ہے کہ  کیا عوام کے نمائندگی کا دم بھرنے والا یہ امیر کبیرطبقہ   ان کا حقیقی نمائندہ بھی ہے؟ اگر نہیں تو جس سیاسی نظام  نے  انہیں اس جعلی  سرٹیفکٹ سے نوازہ ہے وہ عوام کے لیے رحمت ہے یا زحمت ہے؟

مزید پڑھیں >>

زعفرانی خانہ جنگی: یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے؟ 

یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت کاابھی  40 واں بھی نہیں ہوا تھا کہ سہارنپور کا فساد پھوٹ پڑا جس نے دلتو ں کو  ٹھاکروں کے خلاف متحد کرکے بی جے پی سے دور کردیا اور سیکڑہ پورا  ہوتے ہوتے دیگر پسماندہ ذاتوں اور براہمنوں کے درمیان لڑائی لگ گئی ۔ اس طرح براہمن ، راجپوت، پسماندہ اور دلت اتحاد ڈھاک کے پات کی مانند بکھر گیا ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ کی تاجپوشی کے 100ویں  دن جو کچھ ہوا وہ بالکل فلمی تھا بلکہ اگر اس کا منظر نامہ سلیم جاوید بھی لکھتے تو ایسا دلچسپ اور سنسنی خیز  نہ ہوتا۔ ان واقعات نے80  کی دہائی کے فلمساز ارجن ہنگو رانی یاد تازہ کردی ۔ وہ بہت باصلاحیت  فنکار نہیں تھا لیکن ہر فن مولیٰ  تھا ۔ فلمسازی کے علاوہ ہدایتکاری  کے فرائض بھی انجام دیتا  اور بوقت  ضرورت منظر نامہ لکھ مارتا لیکن اس کی فلمیں باکس آفس پر خوب کماتی تھیں بالکل مودی جی کی طرح جونہ دانشور ہیں اور نہ  رہنما ئی کی خاص صفات کے حامل  ہیں لیکن  کبھی نیتا بن کر اپنے ساتھیوں کو ڈراتے ہیں تو کبھی ابھینتا بن کر رائے دہندگان کا دل بہلاتے ہیں ۔ کبھی قہقہہ لگاتے ہیں تو کبھی آنسو بہاتے ہیں اوراپنی تمام تر نااہلی کے باوجود ای وی ایم پر خوب دھوم مچاتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

گائے: مودی، گاندھی اور گولوالکر

مودی جی اپنے اصلی گرو کا نام اس لیے نہیں لیتے کہ اس میں سیاسی فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ امول ڈیری قائم کرکے سفید انقلاب لانے والے ورگھیز کورین کے سامنے گولوالکر نے اعتراف کیا تھا کہ گئوکشی تحریک کا مذہب سے کوئی سروکارنہیں ہے بلکہ یہ خالص سیاسی مسئلہ ہے۔ وہ اس کی بنیاد پر ہندووں کو متحد کرکے اپنی سیاسی دوکان چمکانا چاہتے ہیں اور یہی سچائی ہے۔ گئو کشی سے متعلق 60 کی دہائی میں چلائی جانے والی تحریک کے بعد اندراگاندھی نے جو کمیشن قائم کیا تھا اس میں پوری کے شنکرآچاریہ کے ساتھ گولوالکر بھی شامل تھے۔ اس کمیشن کی سماعت کے دوران ایک صاحب یہ کہنے پر ہنگامہ ہوگیا کہ اگر ہم گائے نہیں کھاتے تو گائے ہمیں کھا جائیگی۔ اس وقت یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ گھاس کھانے والی گائے انسانوں کو کیسے کھا سکتی ہے؟ لیکن گائے کے نام پر ہونے والی حالیہ درندگی نے اس اندیشے کو سچ ثابت کردیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہند امریکی تعلقات: چور چور موسیرے بھائی

ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک کامیاب تاجر کی طرح اپنے گاہک کی خوب تعریف کی ۔ جی ایس ٹی کا ذکر کرنے کے بعد کہا کہ ہندوستان کو امریکہ کے ساتھ تجارتی تفاوت کم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ امریکی صنعت کاروں کو ہندوستانی بازار میں اپنا مال بیچنے کے لئےمزید سہولت دینی چاہیے۔ ہندوستان کی درآمد امریکی برآمد کے مقابلے 24 بلین ڈالر کم ہے ۔ امریکی صدر کو اس کا بڑاقلق ہے اس لیے انہوں نے اپریل میں ایسے ممالک کے خلاف 90 دنوں کے اندر تحقیقات کا حکم یہ پتہ چلانے کے لیے دیا کہ وہ کس کس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ان پر سخت کارروائی کی دھمکی دی ۔ وہ چاہتے ہیں کہ درآمد و براآمد کے فرق کو کم کرنے کے لیے امریکی مصنوعات ہندوستان میں فروخت ہوں اور اس کے لیے حکومت آسانیاں فراہم کرے لیکن اگر ایسا ہواتو ’میک ان انڈیا ‘ کا شیر کیا گھاس کھائے گا ؟ اور دودھ دے گا؟ اور اگر لوگ شیر کا دودھ پینے لگیں گے تو گئو ماتاکا کیا ہوگا؟یہ مطالبہ شاہد ہے کہ امریکی پادری نہ سہی لیکن سرمایہ دار ضرور ہندوستانی تاجر کے کان کاٹ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

کشمیرکی لا حاصل سفارتی و علامتی جنگ

سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے اور کشمیر کو ہندوستان کے زیر انتظام بتانے والا بیان بنی اسرائیل کی ایک قدیم حکایت یاددلاتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ سے کسی نے کہا میرے لیے دعا کیجیے۔ حضرت موسیٰؑ نے اس کو بتایا کہ تیری دعا تو قبول ہوگئی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جو تجھے ملے گا اس کا دوگنا تیرے ہم سایہ کو مل جائیگا ۔ یہ سن کر اپنے پڑوسی سے ناراض شخص پریشان ہوگیا اور بہت غوروفکر کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو بولا کہ اللہ سے دعا کریں میرے ایک آنکھ پھوٹ جائے تاکہ پڑوسی کی دونوں آنکھیں پھوٹ جائیں ۔ بغض عناد کی آگ میں اس نے بشارت کے باوجود کچھ حاصل کرنے کے بجائے اپنی ایک آنکھ گنوادی ۔

مزید پڑھیں >>

قطربحران: دوستوں اور دشمنوں میں کس طرح تفریق ہو؟

اٹھتے بیٹھتے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے والے یہ بھول گئے ہیں کہ چند سال قبل مصر کے اولین منتخبہ صدر ڈاکٹر محمد مورسی کا سعودی عرب میں یادگار استقبال کیا گیا تھا۔ اس دورے کے بعد اخوان کی حکمت عملی اور طریقۂ کار میں کو کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور اس کا مقصد ونصب العین تو کبھی نہیں بدلا۔ سعودی عرب کی حامی النور پارٹی نے مصری انتخاب کے بعد اخوان کی حمایت کی تھی اور ان کی حکومت میں شامل تھی ۔ النور نے ابتداء میں عبدالفتاح السیسی کی مخالفت بھی کی تھی لیکن پھر اچانک اس کی بساط لپیٹ دی گئی اور اب تو نام ونشان مٹ گیا۔ جہاں تک قطر کے ایران سے تعلقات کی بات ہے اومان کے بھی ایران سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور کویت بھی ایران کے ساتھ تعلق استوار کرچکا ہےلیکن ان دونوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ بات وہ نہیں ہے جو کہی جارہی ہے۔ قطر کا مقاطعہ ختم کرنے کے لیے کئے جانے والے مطالبات کی فہرست میں اخوانیوں سے دستبردار ہونے کے علاوہ العربیہ چینل کو بند کرنے اورترکی کے فوجی اڈے کو بند کرنا شامل ہے۔

مزید پڑھیں >>

کسان تحریک: کھیتیاں، میدان، خاموشی  اور غروب آفتاب!

چاند پہ بیٹھی بڑھیا نانی صدیوں سے چرکھا کات رہی ہیں اور اس کا ناخلف بیٹا چندا ماما سوت کو بیچ کر کھا رہا ہے۔ ہمارے کسانوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ برسوں سے فصل اگا رہے ہیں اور ان کی محنت ومشقت پر سیاستداں اپنے اقتدار کی روٹیاں سینکنے میں مست ہیں ۔ سیاستدانوں کو جب ضرورت ہوتی ہے تو وہ ان کو نت نئے وعدے کرکے ووٹ لے لیتے ہیں مگر جب کسان ان وعدوں کی یاددہانی کرنے کے لئے سڑکوں پر اترتے ہیں تو ان کو گولیاں سے بھون دیا جاتا ہے اور پھر پوچھا جاتاگولیاں کس نے چلائیں ؟جبکہ صوبے کا وزیرداخلہ اعتراف کرچکا ہے کہ گولیاں پولس نے چلائی تھیں ۔ کسانوں کا قاتل وزیراعلیٰ ستیہ گرہ کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ خود مہلوکین کی مزاج پرسی کے لیے جانے کے بجائے پسماندگان کو اپنے پنڈال میں بلا کر ٹیلویژن کیمرے کے سامنے مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے، حالانکہ سرکاری گولیوں سے ہونے والی موت کے لیے وزیراعلیٰ خود ذمہ دار ہے۔ یہ ہے مندسور سے اٹھنے والی کسان تحریک کی دکھ بھری داستان کا خلاصہ جس میں اپنا حق مانگنے کے لیے نکلنے والے6 کسانوں کو سرمایہ داری نے لقمۂ اجل بنالیا۔

مزید پڑھیں >>

غزوۂ بدر سے فتح مکہ تک فکر و عمل کا عظیم انقلاب!

غزوہ ٔ بدر کی شکست کو بھلا دینا مشرکین مکہ کے لیے ناممکن تھا اس لیے اگلے سال انہوں نے بڑے لشکر کے ساتھ انتقام لینے کا فیصلہ کیا ۔ احد کے میدان میں مسلمانوں سے مقابلہ ہوا جس میں ابتداء میں کفارکوشکست ہوئی مگر بعد میں وہ فتح میں بدل گئی۔ اس جنگ سے لوٹتے ہوئے انہوں نے آئندہ سال بدر کے میدان میں ملنے کا چیلنج کیا جسے محمد ؐ نے قبول کیا۔ اگلے سال نبی کریمؐ اپنے لشکر کے ساتھ بدر کے میدان میں تشریف لے گئے لیکن وہ درمیان سے لوٹ گئے اور گویا جنگ کے بغیر شکست تسلیم کرلی ۔ اب ان لوگوں کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ تنہا مسلمانوں کوشکست نہیں دے سکتے اس لئے 5 ھ میں سارے قبائل نے مل کر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا اس لئے وہ جنگ احزاب کہلائی ۔ نبی کریم ؐنے منفرد انداز میں خندق کھود کر اپنا دفاع کیا اور اللہ تعالیٰ نے دورانِ محاصرہ ایک ایسی زبردست آندھی بھیجی کے زبردست فوجی تیاری کے باوجوددشمنانِ اسلام کوبے نیل و مرام لوٹنا پڑا۔

مزید پڑھیں >>

دہشت گردی اور جمہوریت: چولی دامن کاساتھ !

فلپائن کے ایک جوا خانےپر حملہ ہوا اور 37 لوگ ہلاک ہوگئے۔ داعش نے فوراً اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی اور سی این این نے اعلان کردیا کہ داعش کا اگلا نشانہ فلپائن ہے۔ اس سے پہلے کہ ساری دنیا کو اسلامی دہشت گردی سے خوفزدہ کرنے کا گھناونا کھیل شروع ہوتا صدرراڈرگ ڈیوٹریٹ نے اپنے ایلچی سے اعلان کروادیا کہ حملہ آور داعش سے متعلق نہیں ہوسکتا اس لیے کہ وہ لوگ بڑے سفاک ہوتے ہیں ۔ پولس کو اندازہ ہوگیا کہ حکمراں کیا چاہتا ہے ۔ اس نے کوئی نئی کہانی بنانے کے بجائے سیدھے سیدھے حقیقت بیان کردی کہ ہلاکت کی وجہ گولی باری نہیں بلکہ آگ لگنے سے اٹھنے والا دھواں اور دم گھٹنا تھا۔حملہ آورکوئی مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ جیسی جیویر کارلوس نامی ایک جواری تھا جو جوئے میں ہارنے کے سبب بہت مقروض ہوگیا تھا اور اس نے جواخانے کے کمپیوٹر کی چِپ چرانے کے لیے حملہ کیا تھا اورپولس سے گھرجانے کے اس نے خودسوزی کرلی تھی ۔

مزید پڑھیں >>