سلیم خان

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں کا ہجوم

عصر حاضر کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں  ہندو بہنوں کو خود اپنے سماج سے خطرہ لاحق ہے اس لیے وہ باہر پناہ ڈھونڈتی ہیں۔ شمبھو کی نام نہاد بہن کو مثال سامنے ہے۔ شمبھو تو اس کو بنک منیجر کے پاس چھوڑ آیا لیکن اس نے بنک منیجر کو خوش کرنے کے بجائے ناراض کردیا۔ وہ گھر کی چابی دینے کا بہانہ بناکر بھاگ بھاگ کھڑی ہوئی۔ چارج شیٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اس حرکت پر شمبھو آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے برا بھلا کہا یا مارا پیٹا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر اس عورت کو قرض درکار ہوتا یا قرض کو وہ  اپنی عصمت سے قیمتی سمجھتی تو وہاں سے فرار نہ ہوتی۔

مزید پڑھیں >>

ہمہ جہت ترقی کا اسلامی تصور

اس  دورپر فتن میں یہ ارشادِ قرآنی ہمارے لیے امید کی کرن ہے کہ ’’تم میں سے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے گا۔ جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اوران کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اوران کی حالت خوف کو امن میں تبدیل کردے گا۔ پس وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے‘‘۔ معاشی اور روحانی پہلو کے علاوہ سیاسی ترقی یہ ہے کہ  حکمراں اپنے آپ کو اللہ کا  خلیفہ سمجھے  اور رضائے الٰہی کی خاطر عدل و قسط کا نظام  قائم کرے۔ امن وامان کی  یہی ضمانت حالتِ خوف کا خاتمہ کرکےدنیا و آخرت کی فلاح کا راستہ ہموار کردیتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ارپندر مشرا: رتبہ بڑھا تو ساتھ میں رسوائی بڑھ گئی

 ارپندر مشرا کے ذریعہ سال شروع ہونے کے ۱۳ دن بعد نئے سال کی مبارکباد دینا ایسا مذاق ہے کہ جس پر سال بھر ہنسا جاسکتا ہے۔ اول تو آج کل   فون کیے بغیر چائے والا بھی سبزی والے کے گھر نہیں جاتا اور اگر سبزی والا فون نہ لے یا نہ لوٹا ئے تو وہ اپنے اپنے آپ کو رسو ا کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔  ارپندر مشرا  جیسے آئی ای ایس افسرسے  اس حماقت  کی توقع کرنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں >>

عدلیہ میں کہرام : اب اس کے بعد جو رستہ ہے وہ ڈھلان کا ہے

مودی سرکار نے اسلامی شریعت اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے عدلیہ کو ہتھیار بنایا لیکن مشیت نے عدالت کے اندر ایسا زلزلہ برپا کردیا کہ حکومت کی چولیں ہل گئیں ۔ مودی جی کو  یہ کہنے کا بڑاشوق ہے کہ( ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد)  پہلی بار یہ ہوا اور وہ ہوا لیکن اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کے چارمعمر ترین ججوں نے پہلی بار ایک پریس کانفرنس کرکے حکومت اور اس کے نامزد کردہ چیف جسٹس کا وستر ہرن کردیا۔ ایسی کھری کھری سنائی کہ جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے جواب میں چیف جسٹس مشرا جی کی زبان پر تالہ پڑ گیا اور حکومت یہ کہہ کر میدان سے بھاگ کھڑی ہوئی کہ یہ عدلیہ کا داخلی معاملہ ہے اور وہ اس معاملے میں دخل اندازی کرنا نہیں چاہتی۔

مزید پڑھیں >>

امن، ترقی اور نجات کا باہمی تعلق

انسان جسم، روح اور نفس کا حسین ترین امتزاج ہے۔ قرآن حکیم میں تخلیق انسانی کے مراحل اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ’’اس نے جو چیز بنائی بہترین بنائی اور انسان کی خلقت کی ابتداء گیلی مٹی سے کی پھر اس کی نسل کو ایک حقیر پانی (نطفہ) کے نچوڑ سے قرار دیا۔ آدم کو جسمِ خاکی سے نوازنے کے بعد خالق کائنات نے ’’  پھر اس کو درست کیا (اس کی نوک پلک سنواری) اور پھر اس میں اپنی روح پھونک دی‘‘ اس طرح گویا انسان کو حیات جاوداں  بخش دی گئی۔

مزید پڑھیں >>

نتن گڈکری: جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے

 انٹرنیشنل کریوز ٹرمنل کے سنگبنیاد کی تقریب میں گڈکری نے کہاکہ ’’مجھے پتہ چلا ہے کہ ہائی کورٹ نے بحریہ کے اعتراض کے بعد تیرتی جیٹی کو منظوری دینے سے انکارکردیا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ ملبارہل پر بحریہ کا تعلق کیا ہے، وہ پاکستان کی سرحد پرجائے۔ ہم اقتدار میں ہیں اور بحریہ یا وزارت دفاع کو کوئی اختیار نہیں۔ بحریہ کو سرحد کی حفاظت کرنا چاہئے ناکہ جنوبی ممبئی میں ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہئے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

قومی ترانہ: جعلی حب الوطنی کا نیا شکار

 مرکزی حکومت کی جانب سے ہری جھنڈی دیکھنے کے بعد عدالت عظمیٰ کے ججوں نے قوم پرستی کا چولا اتار پھینکا اور نہ صرف اپنا پرانا فیصلہ بدل دیا بلکہ حب الوطنی کی بابت وہ حقیقت پسندانہ باتیں کیں جن کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کا حلف نامہ  اگر پرچم کے حق میں ہوتا تو کیا اس صورت میں  بھی عدالت یہ جرأت رندانہ دکھا پاتی؟ عدالت کا  تازہ فرمان یہ ہے کہ  حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجنے پر کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے اگر کوئی شخص سنیما گھر میں قومی ترانہ بجنے پر کھڑا نہیں ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ محب وطن نہیں ہے۔ جسٹس دیپک مشرا،جسٹس اے کے خانویلکر نے کہا کہ سماج کو اخلاقی پہرے داری کی ضرورت نہیں ہے، اگر ایسا ہی رہا تو کل آپ لوگوں کو سنیماگھروں میں ٹی شرٹ اور شرٹس میں جانے سے روکنے لگیں گے اس لیے کہ اس سے قومی ترانہ کی توہین ہوتی ہے۔ جسٹس چندر چوڑ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لوگ سنیما گھروں میں تفریح کے لئے جاتے ہیں ۔ وہاں حب الوطنی کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ  نے یہاں تک کہہ دیا کہ  کسی بھی شہری کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ  اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے آستین پر کسی طرح کا بیج باندھے یا پٹی لگائے۔

مزید پڑھیں >>

کوپرڈی کی کلہاڑی اور کورے گاوں کا زخم

  وہ لوگ جواس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ پیشوائی کے مظالم کا خاتمہ ہوچکا ہے  ان کو چاہیے کہ دیگر صوبوں کے بجائے مہاراشٹر کا جائزہ لے کر دیکھ لیں ۔ نتن آگے سے قبل احمدنگر کے سونائی گاوں میں جنوری 2013 کے اندر ایک خاندان کے تین دلتوں کو  نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں نے قتل کردیا۔ مشتعل ہجوم نے ان کے چیتھڑے محض اس شک میں اڑا دیئے کہ ان میں سے ایک کی  اپنی برادری کی لڑکی سے شناسائی  تھی۔ ایک طرف دیگر ذاتوں میں بیاہ رچانے پر سرکار ڈھائی لاکھ کی امداد فراہم کرتی ہے اور دوسری طرف ایسا کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتاہے۔ اس دھرم یدھ کو  ’لو منوواد‘ کا نام دیا جانا چاہیے۔ یہ دہشت گردی  اس قدر خوفناک  ہے کہ  2014 میں صرف 5 اور 2016 میں جملہ72 لوگوں نے مذکورہ سرکاری اسکیم کا فائدہ اٹھایا۔ ڈھائی لاکھ کی معمولی رقم کے لیے اپنی جان کو جوکھم میں ڈالنے کی حماقت تو کوئی مودی بھکت ہی  کرسکتا ہے مگر وہ شادی ہی نہیں کرتا؟   

مزید پڑھیں >>

جانور بھی نہیں کرتے جو بشر کرتے ہیں!

فرد کی موت ایک بار ہوتی ہے مگر داعش کے رہنما ابوبکر بغدادی کے فوت ہونے کی خبر کئی بار ذرائع ابلاغ کی زینت بنی اس لیے کہ وہ علامت ہے۔ اسی طرح شمبھو محض ایک درندہ صفت انسان نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نمائندہ ہے۔ افرازل کی ویڈیو اپنی طرح کی پہلی ویڈیو نہیں ہے۔ اس سے قبل داعش کے ذریعہ اس طرح کی کئی ویڈیوز ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ جانور اپنی ضرورت کے لیے دوسرے جانور کا شکار ضرور کرتے ہیں مگر اسکی ویڈیو بناکر نہیں پھیلاتے۔ یہ مطابقت وی ایچ پی اور بجرنگ دل کو داعش کا ہم پلہّ ضرور بناتی ہیں لیکن ان کچھ فرق بھی ہے۔

مزید پڑھیں >>

تُو نے کیا دیکھا نہیں بھارت کا جمہوری نظام؟

انتخابات  کو  جمہوریت  میں سوئمبر کا مقام  حاصل ہے فرق صرف یہ ہے کہ دورِ جدید کی یہ نیلم پری ہر پانچ سال بعد تجدیدعہد کی خاطر نیا سوئمبر رچاتی ہے۔ وہ  اس مقابلے میں حصہ لینے والوں کو سام، دام، دنڈ جیسا  ہر عیارانہ و مکارانہ  حربہ استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دیتی ہے۔ اس اٹھا پٹخ کے بعد  ناکام ہونے والے کھلاڑیوں کو بے دردی سے دھتکار کر بھگا دیتی ہے اور کامیاب ہونے والے کے گلے میں  بڑے شوق سے ورمالا ڈال دیتی ہے۔ انتخابات  کے نتیجے میں  کبھی رام چندر جی کی مانند کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہوجاتی ہے اور کوئی ایک رہنما بلا شرکت غیرے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال  لیتا ہے کبھی کسی  جماعت کو اکثریت نہیں مل پاتی ایسے میں پانڈو کی مانند مختلف لوگوں کو  مل بانٹ کر ستاّ(اقتدار)کا بھوگ کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں >>