سلیم خان

سلیم خان
ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

گنگناتا جارہا تھا ایک فقیر، دھوپ رہتی ہے نہ سایہ دی رتک!

معاشی کوتاہیوں کے سبب گھٹتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اب تو  آرایس ایس نے بھی اپنی  خفیہ رپورٹ میں  مودی جی آگاہ کردیا ہے  کہ آئندہ سال انتخاب میں کامیابی مشکل ہے۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق سنگھ نے اپنی مختلف ذیلی تنظیموں کے جائزوں کی روشنی میں کہا ہے کہ مندی، بیروزگاری، نوٹ بندی، کسانوں کی بدحالی کی وجہ سے عام لوگوں میں مودی سرکار کے تئیں مایوسی جنم لے رہی ہے۔ سنگھ کے مطابق مودی جی کی ذاتی  مقبولیت انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنظیمیں مودی سرکار کی  معاشی پالیسی سے خفا ہیں اوراپنے آپ کو فریب خوردہ محسوس کررہی ہیں۔  آرایس ایس کے مزدور سنگھ کو 2015 میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرہ کرنے سے روک دیا گیا تھا لیکن اس سال 17 نومبر کو اس نے اپنا احتجاج طے کردیا ہے۔ یہ رپورٹ متھرا میں ہونے والی سنگھ کے رابطہ اجلاس  میں پیش کی گئی جس میں امیت شاہ اور یوگی بھی موجود تھے۔ ان کو بتایا گیا کہ اسی طرح کی خوش گمانی کا شکار اٹل سرکار 2004 میں انتخاب ہار گئی تھی۔

مزید پڑھیں >>

بی جے پی کی تین طلاقن کو تین طلاق

مودی جی نے جو کہا سوکیا۔ انہوں نے مہوبہ میں کہا تھا ہم مسلم خواتین کوتین طلاق کے معاملے  انصاف دلائیں گے۔ ان کے خیال میں شوہر چونکہ یکبارگی تین طلاق دے کر اپنی بیوی کو صفائی کا موقع نہیں دیتا اس لیے یہ ظلم ہے۔ حکومت کے اس موقف کی حمایت آسام کی بی جےپی رہنما بے نظیر عرفان نے اسزور و شور سے کی کہ انہیں تین طلاقن کے خطاب سے نوازہ گیا۔  وہ نہیں جانتی تھی کہ جس پارٹی کے جھانسے میں آکر وہ اپنی شریعت کی مخالفت کررہی ہے کام نکل جانے پر وہ بھی اس کو سابقہ شوہر کی مانند  ایک ہی  نشست میں تین طلاق  تھما دے گی۔  اس بیچاری کے پاس فی الحال 6 عدد طلاق ہے تین اپنے شوہر سے اور تین اپنی  پارٹی سے۔  معطل کرنے سے قبل اس کو وجہ بتاو نوٹس یا اپنی صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔  بے نظیر کو یہ بتانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی گئی کہ اس کا قصور کیا ہے؟  اس نے کیا کیا؟  کیوں کیا؟ اور کیسے کیا؟ یہ حسن اتفاق ہے واٹس ایپ پر طلاق کی مخالفت کرنے والی بئ نظیر کو معطلی کی اطلاع واٹس ایپ کے ذریعہ ملی۔

مزید پڑھیں >>

17 ستمبر: یومِ تکریم ِزوجہ

بیگم بگڑ گئیں۔  آپ نے میرے پکوان کو بدمزہ کہا  میں اسے برداشت نہیں کرسکتی۔  یہ بنت حوا کی توہین ہے۔  میں اس ظلم کے خلاف احتجاج کروں گی  اور روتے ہوئے باورچی خانے کی جانب لپکیں۔  کلیم صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔  وہ فوراً پلنگ کے نیچے دبک گئے۔ بیلن کے ساتھ بیگم نے واپس آکر دیکھا تو شوہر نامدار غائب تھے۔ انہیں یقین تھا کہ لنگی اور بنیان میں تو وہ ملک الموت کے ساتھ بھی نہیں جائیں گے اس لیے آواز لگائی۔ کیوں ؟ کہاں ؟؟ چھپے بیٹھے ہیں  باہر نکلو؟؟؟ کم ازکم میری عینک ہی دے دو تاکہ میں  بتی جلا کر آپ کو  تلاش کرسکوں۔

مزید پڑھیں >>

ریل گاڑی کی بندوق سے انتخابی جنگ

2019 کا قومی انتخاب جیسے جیسے قریب آتا جارہا ہے بی جے پی  کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے خاص طور پر معاشی میدان کا ہر جائزہ روح فرساں ہے۔ یہ لوگ اس قدر حواس باختہ ہو گئے ہیں کہ برکلے میں راہل گاندھی کی  ایک معمولی سی تقریر  کوبی جے پی  کے29 رہنماوں کے ردعمل نے غیر معمولی بنادیا۔ وہ اگر اس کو نظر انداز کرکےاپنے زرخرید میڈیا کو بھی یہی حکم دیتے تو ان کے حق میں بہتر تھا  لیکن ان کی مخالفت نےا سے  سپر ہٹ کردیا۔  اس  طرح  راہل  باباکی قسمت کھل گئی کیونکہ زعفرانی  لفافے کے ساتھ آنے والی ہر خبر کا مقدر شائع یا نشر ہونا تو ہوتا ہی ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنے الزام راہل پر لگائے وہ سب کے سب من و عن  مودی جی پر چسپاں ہوتے ہیں مثلاً جن کے پاس ملک کے اندر کوئی کام نہیں ہے وہ غیرملکی دورہ کرتے ہیں۔  اس میں شک نہیں کہ جب کسی صوبے میں انتخاب ہوتا ہے مودی جی مصروف ہوجاتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ان کے پاس دنیا کی سیر کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں >>

سیاست کی آگ، عدالت کی جھاگ

گئو بھکتی  آہستہ آہستہ اس حکومت کے گلے کی ہڈی بنتی جارہی ہے۔ عدالت  سےپریشان گئوبھکت سرکار کو خود اس کے نو منتخب  مرکزی وزیر نے جھٹکا  دیا۔ پہلے یہ معاملہ آسام کے وزیر اعلیٰ تک محدود تھا لیکن اب گوہای دلی آگیا ہے۔ سرکاری افسر سے سیاستداں بننے والے مرکزی وزیر سیاحت الفونس کننتھانم نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن بیف کے مسئلہ پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ کیرالا میں بیف بدستور کھایا جاتا رہے گا۔

مزید پڑھیں >>

گوری لنکیش..!

گوری لنکیش نے اپنے فیس بک  کی دیوار پرلکھا  ’’ بیشتر وقت غیرحاضر والد لیکن زندگی کے ایک بہترین  معلم ۰۰۰۰میرے اپاّ!! یوم اساتذہ مبارک‘‘۔ جری والد کے روایت کی پاسدار دلیرگوری نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنے والد معروف شاعر و صحافی پی لنکیش  کو آخری خراج عقیدت پیش کررہی ہیں۔ گوری کو یہ تو نہیں پتہ تھا کہ اس منحوس شام ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن وہ  اس بالکل بے خبر بھی نہیں تھیں۔   انہوں نے 2008 میں بی جے پی کے رکن پارلیمان پرہلاد جوشی اور امیش دوشی کے خلاف ایک مضمون لکھا تو ان دونوں نے عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ نومبر 2016 میں آیا اور گوری کو  جرمانہ کے ساتھ 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔  ویسے تو انہیں اسی روز ضمانت مل گئی مگر نیوز لانڈری نامی پورٹل سے بات کرتے گوری نے کہا ’’ میں جب  اپنے خلاف ہونے والے تبصروں اور ٹویٹ کو دیکھتی ہوں تو  چوکناّ ہوجاتی ہوں۔  وہ مجھےاپنی نجی نہیں بلکہ ملک کے چوتھے اسٹیٹ(صحافت) میں  اظہار رائے کی آزادی  سے خوفزدہ کرتے ہیں‘‘۔

مزید پڑھیں >>

مانک سرکار بمقابلہ ٹانک سرکار

آسمانِ گیتی کسی کو نہیں بخشتا۔ زمانے کی گردش میں ہر کوئی آجاتا ہے ۔ مودی حکومت کی اب تک کی  رسوائیوں کا نقطۂ عروج اگست 2017 ہے۔ اس مہینے ہر محاذ پر سرکار کی ناکامیاں کھل کر سامنے آگئیں۔ عدالت عالیہ  نے حق رازداری پر حکومت کو ایسی کھری کھوٹی سنائی کے بس چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے  کی کسر رہ گئی۔ انتظامی سطح پر  ریلوے کے مسلسل حادثوں کے سبب وزیر ریلوے نے استعفیٰ کی پیشکش  کردی اور ہریانہ کا خلفشار نے اس میں چار چاند لگا دیئے۔ معاشی میدان میں ریزرو بنک کی رپورٹ نے نوٹ بندی کا غبارہ بھرے بازار میں پھوڑ دیا۔  سفارتی سطح پر ڈوکلام سے فوجیں واپس بلا کر چین کی برتری کو تسلیم کرلیا گیا۔ غرض کوئی ایک ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں ان لوگوں کومنہ چھپانے کی جگہ ملے ۔

مزید پڑھیں >>

کابینی توسیع: میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

وزیراعظم نریندر مودی کیلئے حکومت ایک ایسی محبوبہ تھی جس نے ان  کو اپنی  دھرم پتنی کا  تیاگ کرنے کو مجبور کر دیا۔اس کو حاصل کرنے کے لیے انہوں کیا کیا نہیں کیا؟ فسادات کروائے، ملک بھر کی خاک چھانی  اوربھانت بھانت کےبہروپ اختیار کیے بالآخر 16 مئی  2014 کو ان کے سپنے ساکار ہوگئے اور سات پھیرے لے لیے گئے ۔ اس کے بعد وہ اپنی نئی نویلی دلہن کی خدمت میں لگ گئے۔ اس کو پالینے کے بعد انہیں  یہی ایک  فکر لاحق ہوگئی  کہ کہیں 2019 میں یہ بے وفا منہ موڑکر نہ چلی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پچھلاانتخاب جیتنے کے ساتھ ہی اگلے انتخاب کی تیاری  کا آغاز فرما دیا۔ آج حالت یہ ہے کہ مودی جی  کے ہرا قدام و فیصلے کو سیاسی مبصرین اسی عینک سے دیکھتے ہیں ۔ کوئی یہ جاننے کوشش نہیں کرتا کہ اس سے عوام کا کیا فائدہ یا ملک کا کون سا نقصان ہوگا ؟  ہر کوئی اس حساب کتاب میں لگ جاتا ہے کہ  اس سے 2019 کے الیکشن پر کیا اثر پڑے گا؟

مزید پڑھیں >>

نوٹ  بندی سے تو پر لگ گئے رسوائی کو!

نوٹ بندی کا فریب دے کر بی جے پی نے اترپردیش کا انتخاب تو جیت لیا لیکن ایک باصلاحیت وزیراعلیٰ دینے میں ناکام رہی  ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ نے چند ماہ کے اندر اس قدر بدنامی بٹور لی ہے کہ انہیں  اب ایوگیہ (نااہل) ناتھ کے لقب سے یاد کیا جانے لگا ہے۔ اس وزیراعلیٰ کی حماقت کا یہ عالم  ہے کہ اس  نےتین طلاق کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا اس سے 50 فیصد لوگوں کو راحت ملے گی۔ اس بیان سے تو ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی سو فیصد آبادی مسلمان  ہے اور اس میں سے ہرعورت تین طلاق کے عذاب میں مبتلا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے لحاظ سے  مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد ہے اس میں طلاق کاتناسب عشاریہ پانچ فیصد اور تین طلاق کا شکار ہونے والی خواتین  ان طلاق دینے والوں میں عشاریہ 5 فیصد ہیں۔ اس  تعداد کا اگر ہندوستان کی کل آبادی سے موازنہ کیا جائے تو عشاریہ کے بعد اتنے صفر لگیں گے کہ یوگی جی  کو تارے نظر آنے لگیں گے۔

مزید پڑھیں >>

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے!

’’ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا :کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں "۔اس حق گوئی  وبیباکی کا انعام ان کو یہ ملا کہ ’’ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے‘‘ ۔ اس دور میں بتوں کے علاوہ چاند ستاروں کو بھی معبود سمجھا جاتا تھا ۔ اللہ رب العزت نے ان کی حقیقت سے بھی اپنے بندے کو واقف کردیا۔ معرفت کے یہ مراحل بھی دیکھیں ’’ چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تار ا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں ۔ پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میر ی رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا ‘‘۔

مزید پڑھیں >>