سہیل انجم

سہیل انجم

تمثیل نو: ادبی صحافت کا نقش

یہ کتاب ماہنامہ ’’تمثیل نو‘‘ کے تعلق سے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی روشنی میں جہاں بہت سے ادبی رویوں اور رجحانات سے واقفیت ہوتی ہے وہیں اردو ادب میں گروہ بندیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس کی ترتیب کے لیے ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی قابل مبارکباد ہیں۔ امام اعظم نے ان سے یہ کام لے کر اہل ذوق کی خدمت میں ایک قابل قدر تحفہ پیش کیا ہے۔ اس کے لیے امام اعظم اور ابرار احمد دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ماہنامہ رہنمائے تعلیم

’’رہنمائے تعلیم کا آغاز  1905  میں پنڈی کھیپ سے ہوا۔ ماسٹر جگت سنگھ نے اس کا پہلا شمارہ انتہائی افلاس و بے سرو سامانی اور کسمپرسی کی حالت میں شائع کیا۔ وسائل کی بے حدکمی تھی اور ان کی تنخواہ صرف بیس روپے ماہوار تھی۔ ماسٹر صاحب تمام مضامین خود لکھتے اور اسکول سے فراغت کے بعد ان کا تمام وقت رسالے کی اشاعت اور فروخت کی نذر ہو جاتا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

اس پر اہل ایوان نے خوب لطف لیا۔ بی جے پی میں سشما سوراج ایسی لیڈر ہیں جن کو اچھے اشعار یاد ہیں ۔ جب من موہن سنگھ بیٹھ گئے تو سشما کھڑی ہوئیں اور انھوں نے شگفتہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم نے شعر سے ہمارے اوپر حملہ کیا ہے۔ ہم بھی اس کا جواب دینا جانتے ہیں ، ہم شعر ادھار نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں >>

بے گناہ قیدی

عبد الواحد شیخ نے اس کتاب میں یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی بے گناہ شخص پکڑا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ پولیس والوں کی جھانسے میں نہ آئے اور ان کے کہنے پر کسی بھی کاغذ پر دستخط نہ کرے۔ کیونکہ اگر اس نے کر دیا تو پھر اسے ہر حال میں سزا ہو جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پولیس والوں کی کارستانیوں سے عدالتیں بھی واقف ہوتی ہیں لیکن وہ محض کاغذی ثبوتوں کی روشنی میں فیصلے کرتی ہیں ۔ جیل میں کئی سال گزارنے والے عبد الواحد شیخ نے کمال جرأت مندی کے ساتھ یہ کتاب تصنیف کی ہے اور اسے شائع کرکے فاروس میڈیا نے بھی اپنی حق شناسی کا ثبوت دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>