سہیل انجم

سہیل انجم

یا رب مجھے 2017 جیسا سال نہ بنائیو: 2018 کی فریاد

حالات میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انسانوں کی سوچ میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔ اس لیے اندیشے تو ہیں۔ لیکن ہمیں قنوطیت پسندی کے بجائے رجائیت پسندی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں پرامید ہونا چاہیے، ناامید نہیں۔ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے جو اس کائنات کا خالق ہے۔ جس نے ہمیں اور تمھیں بھی بنایا اور جس نے انسانوں کو بھی بنایا ہے۔ میری دعا ہے کہ تمھارا حشر میرے جیسا نہ ہو اور جب تم واپس ہونے لگو تو لوگ یہ نہ کہیں کہ بڑا خراب سال گزرا ہے۔ بڑا برا سال گزرا ہے۔ لوگ یہ کہیں کہ یہ سال بہت اچھا رہا۔ بڑا پرامن رہا۔ بڑا پرسکون رہا۔اچھا خدا حافظ دوست اپنا خیال رکھنا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

انور جلال پوری شاعر ہی نہیں بہترین نثر نگار بھی تھے

ا س کے بعد انور جلال پوری اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے علاقے کی حدود سے باہر نکلتے ہیں اور مختلف شخصیات پر قلم اٹھاتے ہیں۔ علامہ اقبال او رمولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے سحر سے کون صاحبِ دل بچا ہوگا۔ انور بھی نہیں بچے۔ اس تعلق سے ان کے خیالات چغلی کھاتے ہیں کہ انھیں مذکورہ دونوں شخصیات سے عقیدت ہے۔ اقبال پر تین مضامین اقبال کی عبقریت، اقبال خود آگاہی کا نقیب اور اقبال انسانی عظمت کا پیغامبر شامل کتاب ہیں۔ جبکہ مولانا آزاد پر ایک مضمون ہے جو ان کے ایک تاریخی خطبے کو محیط ہے۔

مزید پڑھیں >>

تمثیل نو: ادبی صحافت کا نقش

یہ کتاب ماہنامہ ’’تمثیل نو‘‘ کے تعلق سے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی روشنی میں جہاں بہت سے ادبی رویوں اور رجحانات سے واقفیت ہوتی ہے وہیں اردو ادب میں گروہ بندیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس کی ترتیب کے لیے ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی قابل مبارکباد ہیں۔ امام اعظم نے ان سے یہ کام لے کر اہل ذوق کی خدمت میں ایک قابل قدر تحفہ پیش کیا ہے۔ اس کے لیے امام اعظم اور ابرار احمد دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ماہنامہ رہنمائے تعلیم

’’رہنمائے تعلیم کا آغاز  1905  میں پنڈی کھیپ سے ہوا۔ ماسٹر جگت سنگھ نے اس کا پہلا شمارہ انتہائی افلاس و بے سرو سامانی اور کسمپرسی کی حالت میں شائع کیا۔ وسائل کی بے حدکمی تھی اور ان کی تنخواہ صرف بیس روپے ماہوار تھی۔ ماسٹر صاحب تمام مضامین خود لکھتے اور اسکول سے فراغت کے بعد ان کا تمام وقت رسالے کی اشاعت اور فروخت کی نذر ہو جاتا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

اس پر اہل ایوان نے خوب لطف لیا۔ بی جے پی میں سشما سوراج ایسی لیڈر ہیں جن کو اچھے اشعار یاد ہیں ۔ جب من موہن سنگھ بیٹھ گئے تو سشما کھڑی ہوئیں اور انھوں نے شگفتہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم نے شعر سے ہمارے اوپر حملہ کیا ہے۔ ہم بھی اس کا جواب دینا جانتے ہیں ، ہم شعر ادھار نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں >>

بے گناہ قیدی

عبد الواحد شیخ نے اس کتاب میں یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی بے گناہ شخص پکڑا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ پولیس والوں کی جھانسے میں نہ آئے اور ان کے کہنے پر کسی بھی کاغذ پر دستخط نہ کرے۔ کیونکہ اگر اس نے کر دیا تو پھر اسے ہر حال میں سزا ہو جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پولیس والوں کی کارستانیوں سے عدالتیں بھی واقف ہوتی ہیں لیکن وہ محض کاغذی ثبوتوں کی روشنی میں فیصلے کرتی ہیں ۔ جیل میں کئی سال گزارنے والے عبد الواحد شیخ نے کمال جرأت مندی کے ساتھ یہ کتاب تصنیف کی ہے اور اسے شائع کرکے فاروس میڈیا نے بھی اپنی حق شناسی کا ثبوت دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>