شاہد کمال

شاہد کمال

سید فخر الدین بَلّے: حرف سے لفظ تک

 سید فخرا لدین بلّے کاحرف سے لفظ تک کا سفر عدم سے وجود کے منطقی جواز کا ایک ایسا اعلامیہ ہے، جس کے بغیر کسی تخلیق کار کے فنی مبادیات کی تکمیل کی مسافت قطی ممکن نہیں، اس کے لۓ ایک تخلیق کار کو بہت سے مراحل و مدارج سے گزرنا پڑتاہے۔ تب جاکر اس کے تخلیقی فن پاروں کو دوامیت کا درجہ استناد حاصل ہوتا ہے۔علامہ اقبال کا یہ شعر اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

’مخاطب‘ کے زیر اہتمام ایک شام کیفی اعظمی کے نام

 ’’ مخاطب ‘‘ کے زیر اہتمام ’’ایک شام کیفی آعظمی کے نام ‘‘ لیوانا سویٹ واقع مدن موہن مالویہ روذ پر منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کی صدارت جناب ابھیشک شکلا جی نے کی اور بطورمہمان خصوصی جناب سید حسین تاج رضوی نے شرکت کی۔ اس موقع پر’مخاطب ‘کی صدر عائشہ ایوب نے مدعو شعرا اور دانشوروں کا تعارف پیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

ہماری جمہوریت کے سینے میں تہذیب و ثقافت، مذہب و مسلک ذات و پات کے نام سے دھدھکنے والی آگ دھیرے دھیرے جوالا مکھی کی شکل اختیار کررہی ہے، جو ہمارے ملک کے امن و امان کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔لہذا ابھی وقت ہے کہ اس مسئلہ پر ہمارے ملک کے دانشوروں کو اپنے خیال کے اظہار کومحض اظہار افسوس کے دائرے تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس جمہوریت کی بحالی کے لئے کسی عملی اقدام کی سخت ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے!

اس جہان رنگ وبو کا نظام بغیر کسی تعطل کے اپنے مدار پر مسلسل گردش کررہا ہے ۔۲۰۱۷ ؍ کاسورج اپنی تمام تر یقین و گمان کی کشمکش کے ساتھ غروب ہوکر اب ہماری تاریخی باقیات کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔اب ایک نئے سال کا آغاز ہوچکاہے۔چونکہ انھیں گردش ایام ماہ و سال کی فطری تدوین اوراس شب وروز کی آمد ورفت سے انسان اپنی زندگی میں واقع ہونے والی تبدیلی اور رونما ہونے والے خوشگوار اور ناخوشگوار واقعات وحادثات سے بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔ہم نے اس نئے سال کا خیرمقدم بڑے پُرجوش اندازمیں کیا ۔لوگوں نے ایک دوسرے کو نئے سال کے آمد کی مبارک باد بھی پیش کی۔

مزید پڑھیں >>

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

مرزا اسد اللہ خاں غالب ؔ کے شعر کا یہ مصرعہ بہت مفہوم خیز ہے، غالبؔ نے اپنے عہد میں مسلمانوں کی ذہنی پسماندگی اور اہل مغرب کی علمی و سائینسی ایجادات اور ان کی سیاسی دور اندیشی کے ساتھ ان کی معاشرتی تہذیب کا پھیلاؤ ایک رجحان کی شکل میں تما م شرق و غرب میں پھیلے ہوئے دیگر ادیان عالم کو صر ف متوجہ ہی نہیں کررکھا تھا بلکہ اسے رفتہ رفتہ اپنے حلقہ اثر میں لینا شروع کردیا تھا۔ دنیا کا ہر پڑھا لکھا شخص اہل مغرب کی تہذیب کو دنیا کی بہترین تہذیب تصور کرنے لگا( آج بھی روشن خیالی کا یہ چلن عام ہے)۔ لہذا غالب نے اپنے اس شعر میں اہل کلیسا کی انھیں ترقیات کے پیش نظر یہ شعر تخلیق کیا۔

مزید پڑھیں >>