شاہد کمال

شاہد کمال

رثائی صنف ادب ’نوحہ‘ کا تاریخی و تنقیدی تجزیہ

 رثائی ادب کی سب سے قدیم اور حساس ترین صنف سخن نوحہ پر گفتگو کرنے کا مقصد اپنے اعتقاد کے اظہار سے زیادہ اپنے ادبی یقین کی آسودگی ہے۔رثائی ادب میں مرثیہ اور سلام کی طرح نوحہ بھی ایک مستقل صنف سخن کی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے ادب نے مرثیہ اورسلام کی ادبی افادیت کے پیش نظر اس کے کچھ اصول و ضوابط وضع کئے ہیں اوربیشترشعرا نے ان اصناف سخن میں خوب خوب طبع آزمائی بھی کی اور انیسؔ و دبیرؔ جیسے عظیم شاعروں نے بھی اس صنف سخن سے اعراض نہیں فرمایا۔

مزید پڑھیں >>

کربلا اقوام عالم کے لئے مرکز اتحاد

 اگرآپ واقعہ کربلاکا تجزیاتی انداز میں مطالعہ کریں تو اس کے معنوی اقدار کے تناظر میں زندگی کی بہت سی حقیقتوں کا انکشاف ممکن ہے۔ لیکن کچھ حقیقتیں ایسی ہیں ،جو اس واقعہ کے فطری متون میں پوشیدہ ہیں۔ جن کا ادراک ایک متعین وقت کا متقاضی ہے۔ لیکن وقت کی بصیرتیں جب ان حقائق کے درمیان حائل حجابات کو چاک کریں گی تو دنیا کی آنکھیں حیرت واستعجاب سے پھٹ جائیں گی اور جاء الحق۔۔ ۔ ۔ ۔ کی قہرمان صدائیں ظالموں کے کلیجوں کوچیڑ کر رکھ دیں گی۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کی نسل کشی استعماری طاقتوں کا عالمی ایجنڈا

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی۔ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف چلائی جارہی مہم یہ بدھ مت پادری کا اصل چہرہ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کررہی ہے۔ میانمار میں مقیم اقلیت روہنگی مسلمانوں کے خلاف تشدد کے لئے اکسانے والا اصل شرپسند اور روہنگی مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کا ا ذمہ دار بدھسٹ پادری اشین ویراتھو ہے۔اس نے روہنگی مسلمانوں کے خلاف کئی ریلیوں کی صدرات کی ہے۔ اس کے انھیں نظریات کی وجہ سے آج ہزاروں مسلمانوں کو ماردیاگیا اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

بولنا منع ہے صاحب!

اگر جمہوریت کے جملہ حقوق کی بات کی جائے تو اس کے بنیادی حقوق میں سے ایک حق Fredom Of Spech بھی ہے ۔اس آئین کے مطابق کسی کے اظہار خیال پر پابندی لگانا قانونی جرم ہے۔یہ بات اقتدار میں آنے والی ہر سیاسی پارٹی کے رہنماوں کو اچھی طرح سے یاد ہونا چاہئے کہ جوعوام آپ کو اپنی مرضی سے تخت اقتدار پر بٹھا سکتا ہے،تو وہی عوام کرسی اقتدار پر بٹھانے والے شخص کو اس کی بے راہ روی اور عوام کے حقوق کے استحصال کے جرم میں اس کا گریبان پکڑ کراسے بے دست و پَا کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

خمارؔ، خماریات اور خمریات

خمارؔ کی زندگی اور شاعر ی میں بڑی بیباکانہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس سے قطع نظر جہاں تک خمارؔ کی شاعری کی بات ہے تو ان کی شاعری خالص روایت پسندانہ شعور کی عکاس ہے۔چونکہ خمارؔ ذہنی طور سے کسی تحریک سے وابستہ نہیں تھے ۔لیکن وہ رجعت پسندیت کے باوجود ترقی پسند تحریک یا جدیدیت کے رجحان سے اغماز تو کرتے تھے لیکن اسے مسترد نہیں ۔وہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

یمن اور بحرین: صہیونیت نوازوں کا آخری مقتل

 اس دنیا کی یہی سب سے بڑی سچائی ہے۔ ہمارے سماج میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ’’تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے’’ یہ با ت حقیقت ہے کہ ہر شئے اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے۔‘‘ کوئی بھی صاحب عقل اس بات سے انکار نہیں کرسسکتا.

مزید پڑھیں >>