عالم نقوی

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

اک آئینہ ہوں جو تصویر کے مقابل ہے!

جو بچے اپنے ماں باپ کو لڑتے جھگڑتے اور گالم گلوچ کرتے دیکھتے ہیں اور جو بچے ماں باپ کے جھگڑے میں، اُن میں سے کسی  ایک یا دونوں کے غصے کا شکار بن کر مار کھاتے ہیں اور جو بچے چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر میں روز شور و غل اور ہنگامہ دیکھتے ہیں، اُن سے یہ توقع فضول ہے کہ وہ آگے چل کر ایسے ہی مواقع پر تحمل اور برداشت سے کام لیں گے۔

مزید پڑھیں >>

چھوڑ کے قرآں، جہل ِ جہاں پر کتنے برس برباد کیے!

قرآن کا تصور علم نہایت وسیع، بسیط اور محیط ہے۔ وہ ہم کو دو ذرائع علم کی خبر دیتا ہے۔ وحی اور تجربہ۔ اور دونوں  کے درمیان لازمی دوستی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ ہمیں یہ دعوت دیتا ہے کہ فطرت کا مشاہدہ اور مطالعہ ہم یہ سوچتے ہوئے کریں کہ اس میں بیان کی گئی وحی کی سچائیاں مثلاً توحید، اور آخرت فی ا لواقع ہدایت کی نشانیاں ہیں ۔ مثلاً ’’اے رسول کہہ دیجیے کہ ذرا دیکھو تو سہی کہ آسمانوں اور زمینوں میں خالق و مالک اللہ تبارک و تعالیٰ کی کیا کچھ نشانیاں ہیں !

مزید پڑھیں >>

علم روشنی ہے، جہل اندھیرا

عمل سمجھ ہے تو جہل ناسمجھی۔ علم کے بغیر نہ قول کا بھروسہ نہ عمل کا ٹھکانہ۔ بے شک علم کا مقام عمل سے پہلے ہے۔ لیکن، عمل نہ ہو تو علم بیکار۔ حضرت علی ؑ   کاقول ہے کہ ’’علم عمل سے وابستہ ہے، جسے علم ہوگا وہ عمل بھی کرے گا۔اور علم تو عمل کو پکارتا ہے۔ اگر عمل اس پر لبیک کہے تو خیر، ورنہ علم وہاں سے کوچ کر جاتا ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیں >>

جھوٹ اور لوٹ پر قائم ملک اسرائیل!

یہود، مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرح، مسیح ابن مریم علیہ ا لسلام کے نہیں ، ابلیس کے نمائندے دجال  کے منتظر ہیں جو حضرات عیسیٰ و مہدی علیہم ا لسلام کی آمد سے قبل آئے گااور اپنے ’مسیح موعود ‘اور بعض کے مطابق ’مہدی موعود ‘ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ لیکن عیسائیوں کو دھوکے میں رکھنے کے لیے انہی کی طرح یہود  بھی ’مسیح موعود ‘ کے منتظر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

نہ ہو گی تم سے تنظیم گلستاں!

نیتن یاہو کے دورہ بھارت پر ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ملک اور دنیا کوخالق انسان اور انسانیت کے دائمی دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے  بہر حال و بہر صورت ایک نیا انقلاب درکار ہے وہ بھی با ایمان، صالح، خداترس اور انسان دوست قوتوں کا لایا ہوا انقلاب جو موجودہ ظالم، خود غرض  اور منافق  سیاسی طاقتوں کے بس کی بات نہیں۔ عالم انسانیت کے دشمن صہیونی دجالوں کے  ظالم اور قاتل دوستوں اور بہی خواہوں ٹرمپوں، یاہوؤں، مودیوں اور شاہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا ہے اِن سب کا اور اُن کےسبھی  حامیوں اور مددگاروں کا انجام ایک جیسا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

حقیقی مرد میدان رجب طیب اردوگان!

رجب طیب اردوگان نے پچھلے دس برسوں میں ایک سو پچیس نئی یونیورسٹیاں، ایک سو نواسی اسکول اور کالج، پانچ سو دس نئے بڑے اسپتال اور تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ اُنہتر ہزار نئے درجات پر مشتمل عمارتیں بنوائی ہیں تا کہ طلبا کی تعداد فی کلاس ۲۱ سے زائد نہ ہو اور ٹیچر ان پر بھر پور توجہ دے سکیں۔ ۲۰۰۸ سے جاری قرض اور  مالی بحران  کے دوران جب امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیس میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن  رجب طیب اردوگان نے اس کے بر خلاف حکم دیتے ہوئے ملک کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں  بلا کسی فیس کے مفت تعلیم  دینے کے احکامات جاری کر دئیے  اور عام اعلان کر دیا کہ اعلیٰ تعلیم کا سارا خرچ اُن کی حکومت برداشت کرے گی۔

مزید پڑھیں >>

ظالم ہی نہیں احمق اور جاہل بھی!

یہ حکمراں صرف فاشی اور ظالم ہی نہیں احمق اور جاہل بھی ہیں ! لوک سبھا  میں پاس ہونے والے تین طلاق  مخالف قانون نے یہ ثابت کر دیا ہے۔  اگر چہ ابھی راجیہ سبھا کا مرحلہ باقی ہے لیکن وہاں بھی اس کے پاس ہوجانے کے وافر امکانات موجود ہیں۔ لیکن دنیا میں دوام، ظلم و جہالت کو نہیں عدل و علم و یقین کو ہے، یقین اس رب کائنات کی ذات میں جس کے سامنے حاضر ہوکر سب کو ایک دن اپنے کیے کا حساب دینا ہے اور وہ دن بہت سخت ہوگا اور اس دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

ہمیں چاہئیے کہ…!

اسرائل سے ہندستان تک اور ٹرمپوں سے مودیوں تک ہمارا کام بس اتنا ہے کہ ظلم کو ظلم کو کہیں اور بلا تفریق پوری دنیائے انسانیت  اور تمام مستضعفین فی ا لارض کے لیے حصول انصاف کی جدوجہد کو ہر ممکن قوت و استقامت  کے ساتھ جاری  رکھیں۔ رہی تبدیلی تو ہم صرف انفرادی تبدیلیوں اور صرف اپنے اہل و عیال کو نار ِجہنم سے بچانے کی کوششوں کے مُکَلَّف ہیں۔ اجتماعی تبدیلی تو صرف مالک حقیقی کے اختیار میں ہے اور وہ عادل بھی ہے اور ہر شے پر قادر بھی !

مزید پڑھیں >>

کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟

اہل ایمان کے دائمی دشمن(المائدہ۔ ۸۲) قوم یہوداور دبراہمہ(مشرکین ) دنیا کی تنہا  دوایسی قومیں ہیں جو پیدائشی بلندی و پستی کے جاہلانہ و مفسدانہ نظریے پر یقین رکھتی ہیں۔ یہودی ہر غیر یہودی کو گولم GOLLAM یا  GENTILEہی نہیں کہتے بلکہ اپنے تحفظ کے لیے  ان کے بے سبب اور بے خطا  قتل کو بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ جبکہ اسلام انسانوں کی بلندی و پستی اور عزت و ذلت کا معیار اللہ کا تقویٰ ہے ( ان اکرمکم عند ا للہ اتقاکم )اور ایک بے گناہ کا قتل کو قرآن پوری انسانیت کے  قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نہیں، ہم  ہرگز مایوس نہیں!

انیسویں صدی  مسلمانوں کے زوال  کی تکمیل کی صدی تھی۔ لیکن یہ زوال صدیوں کے عروج و اقتدار کے بعد رو نما ہوا تھا۔ سامراج کےقریب  دو سو سالہ اقتدار  کے خاتمے کے بعد برہمنوں کو کئی ہزار سال بعد حاصل ہونے والا اقتدار، اس بار سو سال  بھی پورے نہیں کر سکے گا۔ انشا اللہ۔ سنگھ پریوار کی قیادت میں پہلے با لواسطہ  اور اب بلا فصل برہمنوں اور اُن کے معاونوں کو جو اقتدار ملا ہوا ہے وہ  محض ستر برسوں میں بیک وقت نمرودی و فرعونی،قارونی و یزیدی   فساد فی الارض کے ملغوبے کی انتہا کو پہونچنے کے قریب ہے۔ ان کا ظلم اور اسراف ہی لے ڈوبے گا۔

مزید پڑھیں >>