عالم نقوی

عالم نقوی
مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

ایک سیدھا سچا اور مخلص شاعر انور جمال انور

انور صاحب نے حسرت موہانی کی مشہور غزل ’فسانہ یاد ہے ‘ اور ’منانا یاد ہے ‘ کی طرز پر اسی رنگ میں ردیف اور بحر میں ذرا سی تبدیلی کر کے، ’زمانہ یاد آتا ہے ‘ اور ’منانا یاد آتا ہے ‘، نو اشعار کی جو غزل کہی ہے وہ اُن کی سادہ مزاجی اور شعری لطافت  دونوں کا ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں >>

ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین!

ایک بزرگ عالم دین کا کہنا ہے کہ سنگھ پریوار کی موجودہ حکومت نے  ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ ’رخائن ‘ میانمار کا تجربہ دہرانے کا فیصلہ ہی نہیں اس کی تیاریاں بھی کر لی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کی اکثریت پہلے ہی  یرقانی حاکموں کے چشم و ابرو کے اشاروں پر قانون، دستور اور انصاف کی کھلی یا چھپی خلاف ورزی میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اور اب کچھ متضاد خبریں!

یمن اور با لخصوص  سیریا میں اسرائلی مفادات کو بھاری نقصان پہنچنے کے بعد اب اسرائل اپنے قدیم اور ’’جدید ‘‘ دوستوں کے ساتھ مل کر حزب ا للہ اور ایران کو بیک وقت سبق سکھانا چاہتا ہے جنہوں نے  سیریا اور لبنان میں ، جو اسرائل کے براہ راست پڑوسی  ملک ہیں ، نام نہاد  گریٹر اسرائل کے قیام کے صدیوں پرانے  ابلیسی  خواب کو چکنا چور کرڈالا ہے !

مزید پڑھیں >>

اردو کے بے غرض مجاہد سکندر احمد !

سکندر احمد نے اردو کو زندہ و پائیندہ زبان کی صف میں لانے، اردو والوں کی گردن سے مغرب کی تھیوری اور تنقید کا قلادہ اتارنے، مابعد جدید یت کی سامراجی سازش کی بخیہ ادھیڑنے اور اردو صوتیات اور تنقید شعر کی مشرقی جڑوں کو تلاش کرنے کے جو کارنامے اپنی مختصر ادبی زندگی میں انجام دیے ہیں وہ اردو زبان و ادب کے موجودہ’ عُسر‘ میں قدرت کے عطا کردہ ’یُسر‘  کا ثبوت ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عذاب صہیونیت کے بہترسال !

تہران کی سال گزشتہ والی ا لا قصیٰ کانفرنس میں سعودی عرب کویت، متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں کی نمائندگی نہیں  تھی !اور آج یہ عرب ممالک اسرائل اور امریکہ کی کھلی ہوئی مدد سے یمن کے بعد ایران کے خلاف بھی ایک نیا محاذ کھولنے کا اشارہ دے رہے ہیں ! تو کیا تیسری جنگ عظیم کا مرکز شمالی کوریا نہیں ایران ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ قریب سوا سال قبل قائم ہونے والے 34ملکوں کے عرب فوجی اتحاد میں ایران، عراق اورسیریا شامل نہیں ہیں جبکہ غازی محمد مرسی کی منتخبہ حکومت کے ظالمانہ  خاتمے اور غاصبانہ قبضے کی ذمہ دار فرعون السیسی کی غیر آئینی  حکومت اس میں شامل ہے !

مزید پڑھیں >>

چاند کو گل کرو تو ہم جانیں!

ہمیں امید ہے کہ یہ بھارت کا آخری عہد سیاہ ہوگا انشا اللہ۔ نریندر شارون میلو سیوچ ہٹلر مودی کے 2019 میں دوبارہ وزیر اعظم بننے کے امکانات مسلسل کم ہوتے جارہے ہیں۔ اور بالفرض ان کی پارٹی سام دام دنڈ بھید کی تمام چانکیائی، فرعونی اور قارونی ’نیتیوں ‘ پر صد فی صد عمل کر کے دلی کے  راج سنگھاسن پر دوبارہ قابض بھی ہو گئی تو وہ اپنے  اُن  سبھی ادھورے کاموں کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی جو با لآخر اُس کی  دائمی موت کے پروانے پر دستخط ثابت ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

راہ دکھا کر دم لیں گے ہم!

امریکہ و برطانیہ وغیرہ اصلاً صہیونی مملکتیں ہیں وہاں حکومت اوباما کی رہے یا ٹرمپ کی، کنزرویٹو ہوں یا لیبر والے اسرائل اور صہیونیت کے مفادات کی خلاف ورزی کوئی نہ کرتا ہے نہ کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ سے لے کر بین اقوامی تجارت تنظیم (ڈبلو ٹی او )تک جتنے بھی نام نہاد عالمی ادارے ہے سب کے سب بلا استثنا   صہیونی مفادات کے نگراں ادارے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں کرتا۔ اور متوجہ ہوتا بھی ہے تو یقین نہیں کرتا۔ ہم انہیں بتاتے ہیں سماجی انصاف اور امن کا قیام یرقانی و صہیونی قارونوں اور فرعونوں کے  موجودہ نظام  کے بس کی بات نہیں۔

مزید پڑھیں >>

ٹشو پیپر کا مقدر

وہ اپنے منافقانہ و خود غرضانہ ’طرز زندگی ‘ کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مغرب کے عشرت کدوں میں پلنے والی مکروہ تہذیب و ثقافت کے پروردہ لوگ جنہوں نے نام نہاد روشن خیالی آزادی اور جمہوردوستی کے ظاہراً خوش نما نقابوں اور لبادوں میں خود کو چھپا رکھا ہے،آج پہلی بار خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں !فرعون نے بھی جب موسیٰؑ کی پاکیزہ دعوت کو چیلنج کیا تھا تو اسی طرح چلا اٹھا تھا کہ ’وہ  مصریوں کی مثالی تہذیب و طرز زندگی کے دشمن ہیں ‘! آج کے فرعون بھی اسی لیے پاگل ہو رہے ہیں کہ وہ’ وقت کے موسیٰ ‘کی آمد کو قریب دیکھنے لگے ہیں !

مزید پڑھیں >>

عمل کا سراب!

اسلام نافذ ہونے کے لیے آیا ہے۔ لیکن اس کے لیے قوت کی ضرورت ہے۔ اقبال کی بلندی ضروری ہے۔ مگر ہماری تو ہوا اُکھڑی ہوئی ہے، اقبال کہیں گم ہو چکا ہے، قوت ناپید ہے، غضب خدا کا جنہیں اپنے کفر و شرک کی بدولت دنیا میں چھوٹا بن کے رہنا تھا، وہ، ہمیں چھوٹے بن کے رہنے پر مجبور کر رہے ہیں ! اور ہم ہیں کہ’’ ٹک ٹک دیدیم و دم نہ کشیدیم ‘‘میں مبتلا ہیں !

مزید پڑھیں >>

سرمایہ داروں کی جنگ زر گری اور حکمراں کی ساحری !

مسلسل بڑھتی ہوئی غریبی و امیری کی درمیانی خلیج،  کمی کے بجائے بےروزگاری میں اضافہ، غیر مفید علم کی لائی ہوئی غیر نافع ترقی کے نتیجے میں ہوا، زمین اور پانی کی  قاتل  آلودگی، بھکمری،  سودی قرض کےبوجھ تلے دبے ہوئے کسانوں کی خود کشی، وغیرہ کے حقیقی زمینی انسانی مسائل کی طرف سے عام آدمی کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ باطل قارونی نظام  جو ہتھ کنڈے اپناتا ہے وہی وطن عزیز میں نام نہاد گؤ رکشا اور لو جہاد وغیرہ کے نام پر ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں >>