سیّد احمد قادری

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

بہار اردو اکادمی کی بے اصولی ہی اصول ہے

   بہار اردو اکادمی کی گزشتہ 16 جنوری 2018 ء کو منعقدہونے والی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں پر میں حیران اور پشیمان  ہوں۔  حیران اس لئے ہوں کہ یہ تمام فیصلے اردو زبان و ادب کے حق میں نہیں ہیں ، بلکہ دوست نوازی کو ترجیح دینے اور اردو زبان کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے،اور  پشیمان اس لئے ہوں کہ میں اس اکادمی کی مجلس عاملہ کا رکن ہوں اور گزشتہ تقریباََ ڈھائی برسوں سے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اکادمی کے اندر پھیلی بے ا صولی ا ور بے ضا بطگی، نیز، انصافیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں چند ایسے لوگوں سے جو اردو زبان و ادب کے نام پرلوٹ مچائے ہوئے ہیں،

مزید پڑھیں >>

کلیم الدین شمس کے بہانے بہت یاد آئے مسلم قائدین

 ایسے تشویشناک حالات میں یہ فکر بہت ضروری ہے کہ اس ملک میں اب جب کہ مسلمانوں کی آبادی پچیس کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی میں ایک بھی ایسا مسلمانوں کا اپنا رہنما یا قائد نہیں ہے، جو مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و تشدد، بربریت وستم اور استحصال ونا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کر سکے۔ آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنا تو دور ہمارے کچھ مذہبی نام نہاد رہبر تو بادشاہ وقت کے سامنے سجدہ ریز ہوتے  بھی دیکھے جا رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم انسداد بدعنوانی اور ملک کی بدعنوانیاں

9 دسمبر کی تاریخ نہ صرف سماجی معیشت کے لئے بلکہ ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کافی اہم ہے کہ اگر حکومت، ملک کے اندر بہت تیزی سے پھیل رہی بدعنوانیوں کے انسداد پر مثبت رویہ اختیار کرتی ہے، تو بہت ممکن ہے کہ کرپشن کے سلسلے میں ہر سال جاری ہونے والی مختلف فہرستوں میں ہمارے ملک کا نام ڈھوندنے سے بھی نہ ملے اور ہم فخریہ اس بات کا اعلان کر سکیں کہ ہمارا ملک بدعنوانیوں سے پاک ہے۔ کاش ایسا ہو۔

مزید پڑھیں >>

لاقانونیت کے دور میں ’یوم قانون‘ کا انعقاد!

یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی مفادات  اور ووٹ کی سیاست کے لئے یوم جمہوریہ کے ساتھ ساتھ یوم آئین کے منانے سے آئین کا تقدس اور اہمیت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر واقئی اس کی عظمت اور تقدس کے خواہش مند ہیں تو عوام کے حقوق کا تحفظ، انسانی اقدار اور اس  کی سا  لمیت کے تحفظ  پر توجہ دیں ، تبھی آئین کے تقدسی چشمے کے نکلنے کے آثار رونما ہونگے۔

مزید پڑھیں >>

بھرشٹ نیتا بی جے پی میں آئیں اور بھرشٹاچار مکت ہو جائیں

یہ بات  کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کہ کرونا ندھی کے خاندان کے بیشتر افراد ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں او رکئی تو  اس سلسلے میں جیل یاترا بھی کر چکے ہیں ۔ ابھی چند روز قبل نریندر مودی مدراس دورے پر گئے، تو وہ خاص طور پر ڈی ایم کے پارٹی کے سربراہ کرونا ندھی سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے ۔ باتیں کیا ہوئیں ، یہ ابھی طشت از بام نہیں ہوئی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابولکلام آزاد کی صحافتی بصیرت   

  مولانا آزاد نے صرف چوبیس، پچیس سال کی عمر میں صحافت کا جو اعلٰی معیار قائم کیا تھا، اور جس طرح کے  لب و لہجہ اور اسلوب سے روشناس کرایا تھا، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ معیار، لب و لہجہ اور اسلوب اپنے ساتھ لیتے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آزاد اگر سیاست کی دنیا میں داخل نہیں ہوتے، تو بھی وہ صحافت کے مرد آہن کے طور پر ہمیشہ یاد کئے جاتے۔ اردو کی صحافت مولانا آزاد کی صلاحیتوں کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔

مزید پڑھیں >>

گزشتہ چار سال کے کرپشن اور وسندھرا حکومت کاخوف

موجودہ حکومت  پورے ملک میں منافرت، عدم رواداری، گائے، گؤ مانس، گؤ رکشا، مدرسہ، وندے ماترم، لو جہاد، گھر واپسی، پاکستان جاؤ وغیرہ  جیسے فروعی معاملات کی بجائے ملک کے عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیتی، تو شائد اتنی جلد انھیں عوام سے اتنا زیادہ خائف نہیں ہونا پڑتا۔ بیرون ممالک میں جس طرح ملک کی شبیہ بن رہی ہے اور میڈیا جس طرح ملک کے حقائق کو اجاگر کر رہا ہے، ا س سے یقینی طور پر مستقبل قریب میں بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ یوں بھی کرپشن، لا قانونیت، منافرت، بہت تیزی سے گرتی معیشت وغیرہ پر بیرون ممالک میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہر سال کے سروے میں ملک پچھڑتا جا رہا ہے، لیکن ملک پر حکومت کرنے والوں کوان مسائل کی قطئی پرواہ نہیں۔

مزید پڑھیں >>

مودی حکو مت اپنوں کے نشانے پر:  الٹی گنتی شروع

 ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال شائد غلط نہیں کہ اس وقت ملک بہت ہی نازک اور خطرناک حالات سے گزر رہا ہے۔ حکومت اور بھاجپا دونوں ہی کی بہت تیزی سے گرتے گراف سے  یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت کی اب یقینی طور پر الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں >>

عدم تشدّد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود تشدّد کے شکار

عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود ہی ان دنوں متعصبانہ، فرقہ وارانہ اور جارحانہ ذہنیت کے لوگوں کے نشانے پر ہیں، ایسے میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات او رنظریات پرعمل تو دور ان کی شناخت تک مٹانے کے لئے یہ لوگ درپئے ہیں ۔ ان کے قاتل کو نہ صرف بے گناہ بلکہ مسیحا تک قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے قاتل کی جگہ جگہ مجسمہ لگانے اور ان کی عقیدت میں مندر تک تعمیر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

امت شاہ نے بچھائی 2019 ء کے عام انتخابات کی بساط

اس وقت بھارت کا سیاسی منظر نامہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔  خاص طور پر ادھر سپریم کورٹ کے دو فیصلوں اور سی بی آئی کی ایک عدالت کے ایک فیصلہ نے پورے ملک کو ایک عجیب دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے۔   اب جبکہ لوک سبھا کے عام انتخابات میں صرف ایک سال،  نو ماہ اور کچھ دن رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>