سدھیر جین

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

راہل گاندھی کی کانگریس صدر کے عہدہ پر ہونے والی تاجپوشی کے معنی!

راہل کے والد راجیو گاندھی سے لے کر خود راہل گاندھی تک پارٹی جمہوری ڈھانچے کی حامی رہی ہے. اگرچہ یہ الزامات لگتے ہوں کہ یہ دکھاوا ہے، لیکن کانگریس میں اندرونی جمہوریت کی نمائش کو کوئی انکار نہیں کر سکتا. اس کی تو تاریخ ایسی ہے کہ اندرا گاندھی کو پارٹی کی ٹوٹ سے جوجھكر کانگریس کو پھر کھڑا کرنا پڑا تھا. اتنا ہی نہیں، کیس یہاں تک ہے کہ کانگریس کے اقتدار میں ہونے کے دوران اپوزیشن کی جانب سے میڈیا کے ذریعہ ہمیشہ ہی کانگریس میں اندرونی اختلافات کی بحث کروائی جاتی رہی. اتنے زیادہ حملے کروائے جاتے رہے کہ یہ اکیلی پارٹی ہی نظر آتی رہی جس میں کوئی صدر ناقابل تردید طور پر صدر نہیں بنا. آج بھی راہل کے لئے جس طرح شہزاد پونا والا بول رہے ہیں، اس سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پارٹی میں راہل گاندھی کی ہونے والی تاجپوشی بھی ناقابل تردید طور پر نہیں ہو پا رہی ہے.

مزید پڑھیں >>

نیا کیا ہے اس وقت گجرات میں؟

اس بار یہ کیسے ہوا؟ اس کی پڑتال کے لئے طویل حساب لگانے کی ضرورت پڑے گی. لیکن عام نظر سے یہی لگتا ہے کہ گجرات کے محروم سماجی طبقات نے انتخابی مہم کی کافی زمین گھیر لی ہے. اس بار بھی احساس پر مبنی سیاست کی جو تھوڑی بہت گنجائش نکلتی تھی وہ ملک میں پدماوتي اسکینڈل نے ختم کر دی. پدماوتي اسکینڈل پر تنازعہ میں وہاں کے وزیر اعلی نے جو حصہ داری کی ہے وہ اتنی سی ہے کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے وزرائے اعلی کی طرح انہوں نے بھی فلم پر پابندی لگا دی. یہ الگ بات ہے کہ فلم ریلیز ہی نہیں ہوئی ہے. ایک خصوصی طبقہ کی سالمیت کا یہ مسئلہ تابڑ توڑ جارحیت کے باوجود جذباتی رنگ نہیں لا پا رہا ہے. مینوفیکچررز کی جانب سے فلم ریلیز کی تاریخ ٹالنے کے بعد یہ بچي كھچي گنجائش بھی ختم ہو گئی کہ گجرات انتخابات میں اس کا کوئی استعمال ہو پائے. ایک کوشش ہاردک کا ایچ، الپیش کا اے اور جگنیش کا جے نکال کر حج بنانے کی ہوئی تھی. اس کے سامنے روپاني کا آر، امت شاہ کا اے اور مودی کا ایم لے کر رام بنا کر پھیلانے کی کوشش ہوئی. لیکن اس بار گجرات کا ماحول اس قدر بدلا ہوا ہے کہ اس پوسٹر کو ایک دن سے زیادہ جگہ نہیں مل پائی.

مزید پڑھیں >>

یوپی انتخابات: ریتا بہوگنا جوشی کے بی جے پی میں شامل ہونے کا مطلب …

سدھیر جین میڈیا میں چار چھ گھنٹے ریتا بہوگنا جوشی ایپیسوڈ میں نکل گئے۔ اس کے بعد 24 گھنٹے کا تجزیہ بتا رہا ہے کہ سیاسی رجحان واقعی لمحاتی ہو چلا ہے یعنی سیاست میں کوئی بھی بات ایک دو …

مزید پڑھیں >>