سلیمان سعود

سلیمان سعود

بانی حیدرآباد کا ایک تعارف

کچھ نہ گفتہ بہ حالت کی بنا پررعایا گولکنڈہ (پایہ تخت )کی آب وہوا سے متنفر ہوگئے،تو اس نے گولکنڈہ سے چار کوس کے فاصلہ پر ایک نیا شہر آباد کیا، جو ہر چہار سمت سے ہندوستان میں بے نظیر تھا، اسے اپنا پایہ تخت بناکراس شہر کو بھاگیہ ؍بھاگ نگر کے نام سے موسوم کیا، لیکن آخر میں حیدرآباد نام رکھا،

مزید پڑھیں >>

قرن اول کی صدا

یہ قانون قدرت ہے کہ  طلوع آفتاب سے قبل سپیدہ  سحرنمودار ہوجاتی ہے، بران رحمت سے پہلےٹھنڈی ہوائیں موسم پر شگال کا پتہ دیتی ہیں  اسی طرح جوں جوں آپکی عمر بڑھتی جاتی اور نبوت کا قریب آتاجارہاتھاآپکے مزاج میں غیر معمولی تغیر نمایا ہورہا تھا اور روح ایک لامعلوم شئ کے لیے بے قرار بے چین تھی، دھیرے دھیرے آپکی طبیعت عزلت نشینی کی طرف مائل ہوتی جارہی تھی، آپ سامان خورد ونوش لیے مکہ سے باہرغار حرا میں دنیا کے نگاہوں سے الگ مجاہدہ وریاضت اور مراقبہ میں مشغول رہتے تھے، جب قلب فیضان الہی کو قبول کرنے کے قابل ہوگیا تب نبوت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگے۔

مزید پڑھیں >>

فتح سندھ اور فاتح سندھ کی رواداری

تیرہ سو سال پہلے ایک ایسا خطہ جو مغرب میں مکران اور جنوب میں بحرعرب و گجرات اور مشرق میں موجودہ مالوہ کے وسط اور شمال میں ملتان سے ہوتا ہوا جنوبی پنجاب تک پھیلا ہوا تھا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار سال پہلے جب آریہ قوم اس خطہ میں آئ تو اسکا نام "سندھو" رکھا ۔ لیکن گزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ یہ نام "سندھ" کہلانے لگا۔ یہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہزاروں سال گزرجانے کے بعد بھی اسکا نام سندھ ہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

المسائل المہمۃ فیما ابتلت بہ العامۃ!

مذکورہ کتاب میں جدید مسائل کی خاصی تعداد ہے، اس کے ایک دو نمونے آپ بھی ملاحظہ فرمائیے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آئے دن سائیبر کیفے کھولنے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے، اس کی کمائی حلال ہے یا حرام؟ اس کا حکم اس طرح بیان کیا گیا ہے: آج کل انٹرنیٹ کا استعمال عام ہو چکا ہے اور لوگ اسی عموم سے فائدہ اٹھا کر جگہ جگہ سائبر کیفے کھول رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کا ارتقائی سفر (دوسری و آخری قسط)

پوری دنیا میں اولیاء وصوفیاء نے اسلام کی تبلیغ وترویج میں جو نمایا کردار اداکیا وہ اہل فہم پر روشن ہے،بالخصوص ہندوستان میں ،جہاں سلاطین نے اپنی فتوحات کے پرچم لہرائے ، وہی صوفیاء نے اپنی روحانی توجہات سے لوگوں کے دلوں کو تسخیر کیا ،لیکن جب ان سلاطین کو عروج حاصل ہونے لگا تو جاہ ومنصب سیم و زرکی ہوس میں آپسی رسہ کشی اور خانہ جنگیوں کا شکار ہوگئے،

مزید پڑھیں >>

ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کا ارتقائی سفر (قسط اول)

یہ سلسلہ بارویں صدی عیسوی میں ایک نیا موڑ اختیار کیا،جس کے اوائل میں تہذیب وتمدن کے لیے مشہور عالمِ اسلام کے بڑے بڑے شہرتاتاریوں کے ہا تھ برباد ہو کر رہ گئے ،ہندوستان ایک ایساملک تھاجو اس سورش سے محفوظ تھا یہی وجہ تھی کہ سکون سے محروم شریف ترین خاندانوں نے ہندوستان کو مسکن بنایا،جو ہندوستان کے لیے خوش آ یئن بات تھی کہ ہند اسلامی فکراور روحانی قوت کا نیا مرکز بننے جارہاہے،اسی سیلِ رواں میں صوفیا بر صغیر میں تشریف لائے ،انمیں نمایاں اور شہرِآفاق نام ’’خواجہ معین الدین چشتی ‘‘ کا ہے تصوف کے مشہور سلاسل میں سے جس سلسلہ سے آپ منسلک تھے وہ’’چشتیہ‘‘ہے۔

مزید پڑھیں >>