سید جلال الدین عمری

سید جلال الدین عمری
مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند ہیں۔ آپ صاحب طرز ادیب اور معروف دانش ور ہیں۔ موصوف نے کم و بیش ساٹھ کتابیں تصنیف کی ہیں۔

واجب الاتباع  کون: ہدایتِ الٰہی  یا  دینِ آبائی!

قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات ان کی قدیم روایات (Customs) بڑی اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ وہ انھیں اپنی پہچان سمجھنے لگتی ہیں اور کسی قیمت پر ان سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتیں ۔ کبھی کبھی تو ان روایات کو قانون کادرجہ حاصل ہوجاتاہے جس کی خلاف ورزی کی کوئی شخص ہمت نہیں کرپاتا۔ مذہب کی روایات تو اس کے ماننے والوں کے نزدیک حق و صداقت کااصل معیار بن جاتی ہیں ۔ وہ ان میں کسی غلطی کے اِمکان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ ہر چیز کو باپ دادا کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر حق و ناحق کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ قرآن مجیدنے کہا قومی اور مذہبی روایات الگ ہیں اور حق و صداقت ان سے بالکل الگ حیثیت رکھتی ہے۔ حق ہر چیز پر مقدم ہے۔ اگر یہ روایات حق کی میزان پر پوری اترتی ہوں تو وہ سرآنکھوں پر رکھنے کے قابل ہیں ، ورنہ انھیں رد کردینا چاہیے۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں ہے کہ آدمی روایات کے پیچھے حق کو ٹھکرائے اور ضلالت و گمراہی میں بھٹکتا پھرے۔

مزید پڑھیں >>

دعوتِ دین کے اصول و آداب

اللہ تعالی کوایک ماننا، ایک حقیقت ہے۔ اس کا تعلق انسان کی ذاتی زندگی سے بھی ہے اور سیادت، قیادت، اخلاقی و معاملاتی زندگی اور راست بازی سے بھی ہے۔ جواس کو نہیں مانے گا،وہ بالکل ایسے ہی نقصان میں رہے گا جیسے بجلی کے کھلے تار پڑے ہوں، بارش کا موسم ہواور کوئی شخص بتاتا ہوکہ آگے بڑھوگے تو کرنٹ لگ جائے گا۔ اب جو مانے گا وہ بچ جائے گا اور جو نہیں مانے گا وہ تباہ ہوجائے گا، چاہے وہ امیر ہویا غریب، اونچی ذات کا ہو یا نچلی ذات کا۔ اس لیے کہ کسی واقعہ کے بعداس کے ممکنہ نتائج سے نہیں بچاسکتا۔ اس لیے جس شخص سے بھی آپ بات کریں، اسے بتائیں کہ اس دین کو اختیار کرنے ہی میں تمہاری دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔ دنیا کی فلاح کا مطلب یہ ہے کہ اسے اختیار کرنے سے آدمی صاف ستھری زندگی گزار ے گا، جھوٹ کی جگہ سچ بولے گا، امانت و دیانت داری اختیار کرے گا اوراس کی وجہ سے اسے جو بھی نقصان ہوگااس کااجر اسے آخرت میں ملے گا۔

مزید پڑھیں >>

صلاحیتوں کو پہچاننے اور ترقی دینے کی ضرورت

موجودہ دور نے علم کے میدان میں بڑی ترقی کی ہے اور اس کے نئے نئے شعبے کھلے ہیں ۔ لیکن آج کے طرز ِتعلیم کا نقص یہ ہے کہ اس میں طالب علم کے ذہن و مزاج ، رجحانِ طبع اور صلاحیت کو نہیں، بلکہ مارکیٹ کی ضرورت اور تقاضوں کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں یہی رجحان غالب ہے کہ مارکیٹ کی جو ضرورت ہے، تعلیم و تربیت کے ذریعہ اس ضرورت کو پورا کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر بہت سے بچوں کا فطری رجحان سوشل سائنس کی طرف ہو سکتا ہے، لیکن آج ڈیمانڈ ہے فزیکل سائنس کی، تو بچے کو اس میں لگا دیا جاتا ہے۔اس طرح ایک بچہ، جو بڑا ادیب بن سکتا تھا، معاشیات کا ماہر ہو سکتا تھا، میدانِ سیاست کا رہ نما بن کر ابھر سکتا تھا، وہ ڈاکٹر اور انجینیربن گیا ۔ اس لیے کہ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کے اندر کیا صلاحیت ہے؟ لیکن جن لوگوں کو اپنی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور اپنے مزاج کے لحاظ سے کام کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں وہ بہت تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور خوب ترقی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا یا تو آسمان سے آواز آئی : بس خواب پورا ہوگیا ۔ تم امتحان میں کام یاب ہوگئے۔ پھر ایک مینڈھا لایا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس بچہ کی جگہ اس کو  ذبح کرو،یہ اس جان کا فدیہ ہے۔ یہ ہے وہ قربانی جس کو ہم یاد کرتے ہیں ۔ اس طرح حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ اے اللہ! تیرا حکم ہو تو یہ چھری ہر تعلق پر چل سکتی ہے ۔ اللہ تعالی نے اس عمل کو قیامت تک کے لیے نمونہ بنادیا۔ حضرت ابراہیم  علیہ السلام کے بعد ان کی بہت سی تعلیمات ختم ہوگئی تھیں ،لیکن قربانی کی یہ رسم باقی تھی ۔ لوگ قربانی کرتے تھے۔ اسلام نے بھی اسے باقی رکھا۔

مزید پڑھیں >>

اسلام کا فکری انقلاب اور دور حاضر کے تقاضے!

علم و فکر کے جس راستہ کی اسلام نے راہ نمائی کی، اس کے ماننے والے اس پر گام زن رہے اور جس وقت جو علمی تقاضے ابھرے ان کی تکمیل کی۔رسول اکرم ﷺ کی رحلت کی بعد حضرت ابوبکرؓ نے صحابۂ کرام کے مشورے سے جمع و ترتیب قرآن کی خدمت انجام دی اور مصحف مرتب فرمادیا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنے دور خلافت میں اس کے نسخے اسلامی سلطنت کے اطراف و اکناف میں پہنچادیے اور اسی کے مطابق کتابت و تلاوت کا حکم نافذ کردیا۔ آج یہی مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے۔اسے اسلامی علوم کی ترویج کا آغاز کہنا چاہیے، جس نے بعد میں ہمہ جہت رخ اختیار کیا۔ یہیں سے متعلقاتِ قرآن، تفسیر، اصولِ تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، سیرت، تاریخ، اسماء الرجال، فقہ اور اصولِ فقہ جیسے علوم وجود میں آئے۔ جنہیں اصطلاح میں دینی یا شرعی علوم کہاجاتاہے۔ ان علوم میں بڑے بڑے اساطینِ علم، فقہاء، محدثین اور مورخین کو دنیا نے دیکھا۔اسی میں ادب، لغت،، نقد ادب کی وہ خدمت انجام پائی جس کا مقابلہ دنیا کا کوئی ادب شاید نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

شورائیت: اصولی اور عملی پہلو

اہلِ ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیش آمدہ تمام اہم معاملات باہم مشورہ سے طے کریں ۔ اس کا تعلق عام امور ہی سے نہیں ، سیاست سے بھی ہے۔ اس کی نمایاں مثال خلیفہ کا انتخاب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خلافت کے لیے کسی شخص کو نام زد نہیں فرمایا اور اس معاملے کو امت کے حوالہ کردیا۔ یعنی امت باہم مشورے سے کسی شخص کو خلیفہ منتخب کرسکتی ہے۔ چناں چہ امت کے اربابِ حل و عقد نے باہم مشورے سے حضرت ابوبکرؓ کا انتخاب کیا۔

مزید پڑھیں >>

اسلام کا عائلی نظام: رحمت ہی رحمت

ہمیں اپنی اولاد کی دینی تربیت اور دینی تعلیم کی فکر بھی کرنی چاہیے۔ہم اس پہلو سے بہت کوتاہ ہیں ۔ ہمیں اس بات کی تو بہت فکر ہے کہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر ،انجینیراور آرکیٹیکٹ کیسے بنے گا اور کہاں اسے اچھی سے اچھی جاب ملے گی؟ ہندوستان میں رہے گا یا امریکہ، انگلینڈ، امارات، کنیڈا یا افریقہ میں رہے گا؟ لیکن آخرت میں ان کی کام یابی کے لیے فکر مند نہیں ہیں ۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے انھیں واقف کرائیں اور اسلام کی جو کچھ بھی معلومات ہمیں حاصل ہیں، ان تک پہنچانے کی کوشش کریں، انھیں دینی تعلیم سے آراستہ کریں، ان کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔ اصلاً تو یہ کام والدین اور سرپرستوں کے کرنے کا ہے۔ اگر وہ اس میں کوتاہی کر رہے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسی کمیٹیاں بنائیں، جو ان نوجوان مسلمانوں کی کونسلنگ کر سکیں۔ اگر آپ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا تو موجودہ تعلیم کے ماحول میں اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی کہ لوگ اسلامی تعلیمات سے واقف ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

ملک کی موجودہ صورت حال اور امت مسلمہ

مولانا سید جلال الدین عمری، امیر جماعت اسلامی ہند نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں سنیچر 18 مارچ 2017 کو مرکز جماعت اسلامی ہند کے ہفتہ وار پروگرام میں جو بصیرت افروز خطاب فرمایا ہے، اس کا خلاصہ ذیل میں پیش خدمت ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسوۂ ابراہیمی

مولانا سید جلال الدین عمری         قرآن مجید میں پیغمبروں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سب سے زیادہ تذکرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آیا ہے۔ مختلف پہلوؤں سے ان کی بڑائی اور عظمت، ان کی دعوت و …

مزید پڑھیں >>

ترجیحاتِ دین

مولانا سید جلال الدین عمری ترجیحاتِ دین کا سوال بہت اہم ہے۔  دین کی بعض اساسات ہیں اور بعض کی حیثیت فروع کی ہے۔  جو اہمیت اصول کی ہے وہ فروع کی نہیں ہے،  اس لیے کہ فروع اصول کی …

مزید پڑھیں >>