قمر تبریز

قمر تبریز

ڈاکٹر قمر تبریز کا تعلق سیتا مڑھی بہار سے ہے۔ آپ معروف صحافی اور قلم کار ہیں اور راشٹریہ سہارا، عالمی سہارا، چوتھی دنیا، اودھ نامہ اور روزنامہ میرا وطن سمیت مختلف اخبارات سے وابستہ رہ چکے ہیں۔

ہندوستانی عدلیہ کا سب سے بڑا بحران

سپریم کورٹ میں وہی لوگ جج بنائے جاتے ہیں ، جو پہلے ہائی کورٹ میں کام کر چکے ہیں ۔ اس لیے، چیف جسٹس کسی ہائی کورٹ کے امیدوار کا نام فائنل کرنے سے پہلے اسی ہائی کورٹ میں پہلے کام کر چکے سپریم کورٹ کے موجودہ سب سے سینئر جج سے صلاح و مشورہ کرے گا، لیکن اگر سپریم کورٹ کے اس جج کو اس امیدوار کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے، تو پھر ویسی صورت میں چیف جسٹس اسی ہائی کورٹ سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے موجودہ کسی دوسرے سب سے سینئر جج سے صلاح و مشورہ کرے گا اور اس کے بعد ہی اس امیدوار کا نام فائنل کرے گا۔لیکن یہ صلاح و مشورہ صرف سپریم کورٹ کے جج تک ہی محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس صلاح و مشورہ میں اس ہائی کورٹ کا کوئی دوسرا جج یا چیف جسٹس بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

آنند کمار قانون کو نہیں مانتا، پر خوش ہے!

ممبئی کا آٹو رکشہ ڈرائیور، آنند کمار اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ آنند کی بات کو سننا اس لیے ضروری ہے، کیوں کہ تقریباً چالیس سال پہلے جب اس کے غریب ماں باپ آندھرا پردیش سے چل کر ممبئی روزی روٹی کی تلاش میں آئے تھے، تو قانون کے رکھوالوں نے اسے کبھی چین سے سونے نہیں دیا اور رشوت لینے کے باوجود ایک فٹ پاتھ سے دوسرے فٹ پاتھ پر دوڑاتے رہے۔ بعد میں اپنی محنت کی کمائی سے انھوں نے اتنے بڑے شہر میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اسی جھونپڑی میں ایک دن آنند کمار پیدا ہوا اور ماں باپ سے قانون کی ناانصافیوں کے بارے میں سنتے اور اپنے آس پاس کے ماحول کو دیکھتے ہوئے بڑا ہوا۔ آج وہ 28 سال کا ہے لیکن قانون کو نہیں مانتا، اس لیے کہ اس کی نظروں میں قانون انصاف نہیں دلاتا، بلکہ نا انصافی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جے للتا کے متبادل رجنی کانت اور کمل ہاسن؟

تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو چکا ہے۔ رجنی کانت نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ ریاست میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں سبھی 234 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتاریں گے اور جلد ہی ایک نئی سیاسی پارٹی بنائیں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جنوبی ہند میں تمل ناڈو ایک ایسی ریاست ہے، جہاں کی سیاست کا اثر نہ صرف ملک گیر سطح پر ہوتا ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خاص کر ہمارے پڑوسی ملک سری لنکا میں اس کا اثر اس لیے پڑتا ہے، کیوں کہ وہاں کی ایک بڑی آبادی تملوں پر مشتمل ہے، جن کے لیے ماضی میں پربھاکرن ایل ٹی ٹی ای نام کی ایک دہشت گرد تنظیم بنا کر علیحدہ تمل ایلم (ریاست) کے قیام کی تحریک چلاتار ہا اور آخر کار مارا گیا۔

مزید پڑھیں >>

شمبھو لال ریگر ’جہادی‘ کیسے بنا؟

شمبھو لال کے ’لائیو مرڈر‘ کا ویڈیو میں نے بار بار دیکھا، اس لیے کہ آنے والے دنوں میں ملک پر اس کا بہت گہرا اثر پڑنے والا ہے۔ آر ایس ایس کو اگر واقعی اس ملک سے پیار ہے، تو اسے اپنی سوچ اور کام کرنے کے طریقہ کو بدلنا ہوگا، ورنہ شمبھولال جیسے نہ جانے کتنے ’جہادی‘ ہندوستان میں پیدا ہوجائیں گے یا ہو سکتا ہے کہ پیدا ہو بھی چکے ہوں۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (آخری قسط )

ابھی حال ہی میں امرناتھ یاتریوں کی ایک بس پر اننت ناگ میں حملہ ہوا۔ ہم کو یہی بتایا گیا کہ حملہ ملی ٹینٹوں نے کیا تھا، لیکن آج تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے، جب کہ اس قسم کے ہر حملے کے بعد وہ ذمہ داری لینے میں پہل کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

بیوقوف لالو کے سامنے نتیش کی چالاکی

ہنسی تو آتی ہے لالو یادو کی بیوقوفی پر، جنہوں نے بہار میں بی جے پی کو دوبارہ ’واک اوور‘ دے دیا ہے۔ ان کے پاس ایک بہترین موقع تھا اپنے بیٹے بیٹیوں کے سیاسی مستقبل کو چمکانے کا۔ وہ چاہتے تو تیجسوی یادو سے استعفیٰ دلوا کر بہار کی مہا گٹھ بندھن حکومت کو بچا سکتے تھے۔ لیکن، نتیش کمار کے خلاف ایک مقدمہ کی کاپی لے کر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ وہ اس کمزور کا فائدہ اٹھا کر نتیش سے جو چاہیں گے کروا لیں گے۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (قسط پنجم)

مقدس رمضان المبارک کی 24 ویں شب تھی اور جون کی 18 تاریخ۔ بین الاقوامی کرکٹ کی چمپئنس ٹرافی کا فائنل میچ برطانیہ میں کھیلا جا رہا تھا۔ اتفاق سے اُس دن ہندوستان اور پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں ۔ دہلی میں رہتے ہوئے اس قسم کی خبریں تو کئی بار سن چکا تھا کہ فلاں یونیورسٹی یا کالج میں چند کشمیری طالب علموں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سپورٹ کردیا، جس کے بعد کچھ دوسرے لڑکوں نے ان کی پٹائی کردی یا پھر انتظامیہ نے انھیں اس یونیورسٹی یا کالج سے نکال دیا۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (قسط چہارم)

کشمیر میں ہمارے فوجی لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں جدید ترین اسلحے اور دیگر آلات ہیں ۔ لیکن، آج وہ سہمے ہوئے ہیں ۔ دوسری طرف، کشمیر کے پتھر باز ہیں جو جانتے ہیں کہ ان کے اوپر کبھی بھی گولی چلائی جا سکتی ہے، پھر بھی ڈرتے نہیں ۔ پولس والا یا کوئی فوجی جب کسی ایک کشمیری پر ڈنڈے یا گولی چلاتا ہے، تو ہزاروں نوجوان اپنا سینہ کھول کر سامنے آجاتے ہیں کہ آؤ، مارو گولی۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (تیسری قسط)

ٹی وی والے بتاتے ہیں کہ کشمیری نوجوانوں کو پاکستان سے پیسے ملتے ہیں پتھر چلانے کے۔ ہندوستان کے لوگ کہتے ہیں کہ کشمیری غدار ہیں ۔ فوجی بیچارے مجبور ہیں کہ پتھر کھانے کے باوجود وہ اِن نوجوانوں پر گولی یا ڈنڈے نہیں چلا سکتے۔ اور کشمیری نوجوان نعرہ لگا رہے ہیں کہ انھیں ’آزادی چاہیے‘۔ آخر ماجرا کیا ہے؟

مزید پڑھیں >>

کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (قسط  دوم)

یہاں میں یہ واضح کرتا چلوں کہ گراؤنڈ رپورٹنگ کرنے والا کوئی بھی صحافی، چاہے وہ ہندوستان کے کسی بھی کونے میں رہتا ہو، اپنے اخبار یا ٹی وی کے دفتر کو صحیح خبر لکھ کر بھیجتا ہے۔ اب یہ ٹی وی یا اخبار کا مالک طے کرتا ہے کہ اسے کون سی رپورٹ دکھانی ہے اور کون سی نہیں ۔

مزید پڑھیں >>