ظفر دارک قاسمی

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ )
بدایوں، یو۔پی۔انڈیا
شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

اسلام اورہندو ازم کی مشترکہ اقدار

یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہندوستان مختلف ادیان ومذاہب ،اور تہذیب وثقافت کی آماجگاہ ہے،سرزمین ہند نے سینکڑوں رشیوں،منیوں،مبلغین واعظین اورمذھبی شخصیات کو جنم دیاہے۔انھوںنے اپنی تعلیمات کے ذریعہ ہندوستان کی روحانیت اورمذہبی حیثیت کو پورے عالم میں متعارف …

مزید پڑھیں >>

مدارس اسلامیہ کی عصری معنویت (آخری قسط)

مدارس اسلامیہ کا وجود مسلم ہے، ان کی خدمات کا اعتراف پوری دنیا نے کیا ہے، ان کی افادیت و اہمیت کی وضاحت کے لیے صرف یہ اعتراف کافی ہے کہ آج نئی نسل تک جو اسلام پہنچا ہے وہ انھیں کی بدولت پہنچا انھیں مدارس میں خالق کی طرف سے مخلوق کی طرف نازل کردہ احکام کی تعلیم دی جاتی ہے جو پوری دنیا کے لیے امن امان اور سکون و اطمینان کا بیش خیمہ ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مدارس اسلامیہ کی عصری معنویت

اگر ہم موجودہ زمانے میں مدارس اسلامیہ کی تاریخ و تاسیس کو تلاش کریں تو ماخذ کے حوالے سے یہ بات عیاں ہوجاتی کہ ان کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے۔عہد رسالت میں صفہ کے نام سے ایک یونیورسٹی تھی جس میں شائقین علوم و معارف کی بڑی تعداد موجود رہتی تھی۔ جن کی کفالت خود حضورﷺ فرماتے تھے، نبی کریمﷺ کے حکم سے صحابہ میں سے متعدد اشخاص کتابت وحی کے عمل پر مامور تھے ماخذ کا بیان ہے کہ کاتبین وحی کی مجموعی تعداد چالیس سے متجاوز ہے۔

مزید پڑھیں >>

نبی کریم ﷺ کا غیر مسلموں  سے حسن سلوک

حضرت محمد ﷺ نے جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو فلاح کی راہ دکھائی اور آپ نے جو معاشرتی نظام پیش کیا اس میں نہ صرف مسلمانوں کو آپس میں حسن سلوک سے پیش آنے کی تلقین کی بلکہ غیر مسلموں سے بھی حسن معاشرت کی تعلیم دی۔ اور اس کا خود بھی عملی مظاہرہ کرکے دکھایا۔ غیر مسلم چاہے مہمان ہویا پھر ہمسایہ اور مسلم ریاست کا شہری ہوہر صورت میں رسول ﷺ نے اس سے نیک برتاؤ، روادارانہ رویہ اپنانے کی تلقین و تعلیم دی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی جان و مال اور آبرو کا تحفظ مسلم حکومت اور معاشرے کی اہم ترین ذمہ داری قرار دی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مکالمہ بین المذاہب سے مرتب ہونے والے اثرات

موجودہ دور میں جہاں قیام امن ،بین المذاہب ہم آہنگی اور ملکی استحکام کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لایا جا رہاہے لیکن مذہبی رواداری کا فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کا …

مزید پڑھیں >>

مدارس اور تربیت (دوم)

ہر مدرسے میں ایک تربیت کمیٹی بننی چاہیے جس کے سربراہ مہتمم صاحب ہوں یا کسی سینئر استاد کو ناظم بنادیا جائے اور کچھ صالح طلبہ کو اس کا رکن بنالیا جائے۔ہر کلاس کا انچارج استاد تربیتی کمیٹی کارکن ہو وہ باقاعدہ بیٹھ کر میٹنگیں کریں۔ کچھ پرابلم کیسیز ہوتے ہیں بعض طلباء بگڑے ہوئے ہوتے ہیں ان کی اصلاح کے لیے ان کے والدین کوبلانے کے لے ایک کمیٹی بنالیں اور والدین سے رابطہ رکھیں۔ پھر تربیت کمیٹی اپنے طور پر پورے سال کا ایک پروگرام بنا سکتی ہے مثلاً آپ ہر ہفتے مختلف اخلاقی خوبیاں پیدا کرنے اور برائیوں سے بچنے کے لیے کسی ایک چیز کو موضوع بناسکتے ہیں ، مثلاً اس ہفتے ہمارے پیش نظر غیبت کی مذمت ہے طلبہ کو بتایا جائے کہ غیبت کیا ہے، شریعت نے اس کی کیسے مذمت کی ہے۔ معاشرے میں اس سے کیا فساد پیدا ہوتا ہے۔ ان باتوں کو ہر کلاس میں تختہ سیاہ پر لکھ دیا جائے طعام گاہ میں لکھ دیا جائے۔ اس طرح مختلف پہلوؤں سے اس چیز کو اجاگر کرکے اس کی قباحت کا احساس زندہ کیا جائے۔ اسی طرح ہر ہفتے کی نئی چیز پر توجہ مرکوز کی جائے۔

مزید پڑھیں >>

تربیت اور مدارس (اول)

یہ سچ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام میں اصلاح کی بات کرنے والے دو گروہ ہیں ایک تو بیرونی قوتیں اور ان کے مقامی ایجنٹ ہیں جو مدارس میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ اور دوسرے کچھ اندر کے لوگ بھی ہیں جو اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے کچھ تغیرات کے خواہاں ہیں۔ تو ان دونوں کی نوعیت میں فرق کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ باہر کی قوتیں دینی مدارس کے نظام میں تبدیلی دین دشمن مقاصد کے تحت چاہتی ہیں جبکہ ثقدلح لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم سے کوئی اختلاف کرتے ہتوں تو اس سے مقصود ہر گز اس کی تنقص یا اسے نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ یہ کام پہلے سے بہتر اور عمدہ طریقے سے انجام پائے اور دینی مدارس میں ایسے علماتیار ہوں جو معاشرے میں زیادہ موثر دینی کردار اداکرسکیں۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابوالکلام آزاد قومی یکجہتی کے علمبردار

ظفردارک قاسمی  مولانااابوالکلام آزاد 11؍نومبر 1888 کو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور دس سال کی عمر میں 1898ء میں ہندوستان کے شہر کلکتہ میں وارد ہوئے۔14؍سال کی چھوٹی عمر میں آپ نے رسالہ ’’لسان الصدق‘‘ جاری کیا جو آپ …

مزید پڑھیں >>