تبصرۂ کتب

أحكام الترجمة فى الفقه الإسلامى

محمد انس فلاحی سنبھلی 

ایک زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ اور ترجمانی ہر قوم، علاقہ اور ملک کی ایسی ضرورت ہے۔ جس کے بغیر ایک دوسرے سے تعلق وروابط اورمعاملات طے نہیں ہوسکتے ہیں۔ کچھ عالمی زبانوں نے اس مشکل کو کسی قدر دور تو کردیا ہے۔ لیکن ایشیا، افریقہ اور خلیجی ممالک کے آپسی تعلقات اور معاملات بغیر مترجم کے نہیں ہوسکتے ہیں۔

ہر زبان دوسری زبان سے "بولی” اور "رسم الخط” میں مختلف ہے۔ دوسری زبان میں موجود علمی مواد سے استفادہ کی دو ہی شکلیں ہو سکتی ہیں یا تو آدمی وہ زبان سیکھے یا جس زبان کو وہ جانتا ہے اس میں اس کا ترجمہ موجود ہو۔ اسی ضرورت کے پیش نظر اہل علم دوسری زبان میں موجود علمی ذخیرے کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ کرتے ہیں۔

ترجمہ نگاری جہاں ضرورت ہے وہیں یہ علم اور اہل علم  کی بڑی خدمت بھی ہے۔ ترجمہ نگاری اور ترجمانی کے سلسلے میں اسلام نے احکام دیے ہیں یا نہیں؟ کیا اسلام اس حوالے سے بھی کوئی رہنمائی کرتا ہے یا نہیں؟ بظاہر ایسے لگے گا کہ اس سلسلے میں کیا حکم ہو سکتا ہے۔ اس میں جائز و ناجائز کی کونسی بات ہے؟

اسی سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد بن احمد واصل نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ  "أحكام الترجمة فى الفقه الإسلامى ” لکھا۔٨٦٠صفحات کی اس ضخیم کتاب میں ڈاکٹر واصل نے اس موضوع پر سیر حاصل بحث گفتگو کی ہے۔  کتاب دو باب "حقيقة الترجمة” اور "أحكام الترجمة” پر مشتمل ہے۔ ہر باب کے تحت کئی مباحث زیر بحث آئے ہیں۔تمہیدی بحث میں ترجمہ کے لغوی و اصطلاحی معنی، ترجمہ نگاری قبل از اسلام،عہد اموی و عباسی میں ترجمہ نگاری، مسلمانوں کا دوسری زبانیں سیکھنا اور ترجمہ کرنا اور ترجمہ نگاری کی اہمیت پر گفتگو کی ہے۔

پہلے باب میں فوری ترجمہ، تحریری ترجمہ، کمپیوٹرائز ترجمہ، ترجمہ کی شروط وضوابط، مترجم کے حقوق وذمہ داری، مترجم کے لیے مالی اور معنوی حقوق بیان کیے گئے ہیں۔دوسرے باب میں قرآن کے لفظی و معنوی ترجمہ کا حکم، سنن نبویہ کے ترجمے کا حکم، گونگے افراد کے لیے ترجمہ کا حکم، قاضی کے کام میں معاونت اور ترجمے کا حکم، ترجمہ شدہ، ڈاکومینٹ، عقد کا حکم اور اجنبی زبانوں کے سیکھنے کا حکم ذکر کیا گیا ہے۔

کتاب اپنے عنوان اور علمی مواد میں منفرد ہے۔ مصنف نے اپنے موضوع سے متعلقہ مباحث پر جامع گفتگو کی ہے۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کا دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ دیگر زبانوں کے اہل علم بھی اس سے محروم نہ رہ سکیں۔

مزید دکھائیں

محمد انس فلاحی

اسلامی یونیورسٹی ،مدینہ منورہ

متعلقہ

Close