تبصرۂ کتب

اردو ادب کا آشیانہ: ادبی نشیمن

یہ رسالہ ایک عظیم کامیابی حاصل کر چکا ہے اوردنیا کے گوشہ گوشہ میں بسنے والے اردو پسند قارئین کی علمی عطش بجھا ر ہا ہے۔

عظمت علی

آج اردو دنیا میں مختلف اخبار،جرائد، رسائل اور علمی کاغذات چھپ رہے ہیں۔ اردو زبان کے ارتقاء کے لیے متعدد مقامات پر نشر و اشاعت کا سلسلہ رواں دواں ہے۔ شہر علم و ادب لکھنو میں جہاں بہتیری ادبی خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔ وہیں ادبی نشیمن بھی اردو کی خدمتیں کرر ہا ہے۔ آج یہ رسالہ ایک عظیم کامیابی حاصل کر چکا ہے اوردنیا کے گوشہ گوشہ میں بسنے والے اردو پسند قارئین کی علمی عطش بجھا ر ہا ہے۔

ایڈیٹر جناب ڈاکٹر سلیم احمد نے اسے بڑے ہی خوبصورتی سے اسے سنوار رکھا ہے۔ یہ ادبی نشیمن ہے۔ یہاں  اردو ادب کو سکون مہیا ہوا تاہے۔ یہ آشیانہ ادب ہے۔ یہاں مضامین، افسانے، غزل اور تبصروں کو راحت نصیب ہوتی ہے۔ سہ ماہی ادبی نشیمن اس قدر پر کشش ہو تا ہے کہ قارئین کو اس کی آمد کا ہمیشہ بے صبری سے انتظار رہتاہے۔ علمی و ادبی گرانقدر مضامین  کے ساتھ ساتھ اداریہ  تحریر اس میں چار چاند لگا دیتی ہے۔

حالیہ اشاعت (جون تا اگست )انوکھے اور جذاب سرورق اور ماہر قلمکاروں کی بدولت قا رئین کی آنکھوں کا سورما بنا ہوا ہے۔ گزشتہ شمارہ بھی بہت ہی عمدہ تھا۔ انور جلالپوری پر مرکوز یہ شمارہ دیکھتے ہی دیکھتے ادبی حلقوں  کی زینت بن گیا اور چند دنوں میں ہی ختم ہو گیا۔ جیساکہ  ایڈیٹر اپنے اداریہ (نظریہ )میں یوں رقم طراز ہیں :’ادبی نشیمن کا گزشتہ شمارہ انور جلالپوری پر مرکوز تھا۔ ادبی حلقوں اور قارئین میں بے حد مقبول ہوا اور ہر طرف سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ادارہ اپنے تمام قارئین کا ممنون ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے اس خصوصی شمارہ کا مطالبہ ہونے لگا۔ چونکہ محدود وسائل میں شمارہ  کی اشاعت کو انجام دیا جا رہاہے اس لیے قارئین کا ایک اچھا خاصا طبقہ اس شمارہ سے محروم رہ گیا۔ ‘

اس دفعہ کی اشاعت میں بھی ڈاکٹر سلیم احمد صاحب نے کا فی عرق ریزی کی ہے۔رسالہ کی نوک  پلک کو بڑی عمدگی سے سنوارا ہے۔ شبنمی سطور اور ریشمی الفاظ اور بڑے ہی شستہ و رفتہ انداز میں اداریہ کو قلم بند کیا ہے۔

کتا ب ہو یا میگزین اپنی مشمولات سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ مضامین کی فہرست دیکھ کر اس کی خوبی یا بدی کا بآسا نی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ پیش نظر  شمارے  میں برگزیدہ قلم کاروں کے رشحات قلم نے اس کی عظمت میں ترقی پیدا کر دی ہے۔

اس شمارے میں ’پاکستان کے ہم عصر اردو وسائل ‘میں ڈاکٹر عبد الحئ نے کافی اچھی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس مضمون میں انہوں نے پاکستان میں اردو رسائل کی روشن روایات کا ذکر کیا ہے۔ جن میں گزشتہ رسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے ہم عصر ادبی رسائل کا بھی ذکر کیا ہے۔ آج،دنیا زاد، تسطیر، لو، چہار سو، ادب لطیف،آبشار،اجراوغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ان پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی ہے۔

’زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر‘میں قطب اللہ نے بیگم حامدہ حبیب اللہ کی علمی و ادبی خدمات کوسنہرے الفاظ اور بہترین پیرائے میں  یاد کیا ہے۔ یہ ایک قابل قدر جذبہ ہے کہ ہم اپنے رفتگان کی زحمتوں کو یاد کرتے رہیں۔ ا نہیں طاق نسیاں کے حوالہ نہ کریں۔

’تذکرہ نویسی کے خدوخال ‘میں ڈاکٹر اسراللہ انصاری نے کافی اچھے انداز میں تذکرہ نویسی پر قلم اٹھایا ہے۔ اس طرح کا مضمون اہمیت کا حامل ہو تاہے۔ خاص طور اردوادب و گرامر میں۔

’بچے کی نفسیات اور ادب اطفال‘میں صالحہ صدیقی نے بچوں کے حوالہ بیش بہا مطالب بیان کئے ہیں۔ ان کی نفسیات کے سلسلے سے اچھوتی باتیں لکھی ہیں۔

صفحہ نمبر ۴۴ پر یہ عبارت کافی دور اندیش ہے کہ ’اردو کے اخبارات، رسائل اور کتابیں خرید کر پڑھنا نیز اردو کی خدمت و اردو کے فروغ میں اپنا تعاون دینا عبادت ہے۔ جس پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ‘

آخری صفحوں میں امراؤ جان ادا کی قبر کی دستاویز  ایک لائق تعریف تحریر ہے۔ اس طرح کے  تحریر وقت کی ضرورت ہے۔ کم پیرائے میں اتنی بڑی بات کہنا سمندر کو کوزے میں سمیٹنا ہے۔ بہترین تحقیق ہے۔ قلیل سہی لیکن کافی معلوماتی ہے۔ اسی صفحہ کے بعد ’حال میں شائع ہونے والی اردوزبان کی کچھ اہم کتابیں‘دی گئ ہیں جو قارئین کے لیے ایک عمدہ تحفہ ہے۔

رسالہ میں  شائع شدہ تمام مضامین خوب سے خوب تر ہیں۔ موجودہ شمارے میں نو مضامین، چار افسانے، پانچ غزلیں اور تین تبصرے گواہی دے رہیں کہ یہ جریدہ واقعی ادبی نشیمن ہے۔

ڈاکٹر عبد الحئ، قطب اللہ،ڈاکٹر اسراراللہ انصاری، ڈاکٹر شکیل احمد،ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر بی محمد دانش، ڈاکٹر ساجد حسین، صالحہ صدیق اور ابراہیم افسر کے مضامین نے اس شمارہ کی عظمت کو دوبالا کر دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ احمد رشید، شمیم فاطمہ،ندیم راعی اور ڈاکٹر بشری ٰ بانو کے   افسانے بھی معلومات افز اہیں۔ ابراہیم افسر، مہر فاطمہ اور ڈاکٹر شہزاد انجم برہانی  کے تبصرے بھی لائق مطالعہ و توجہ ہیں۔ سبھی اہل قلم لائق دادوتحسین ہیں۔

اردو زبان و ادب کی تمام خدمات لائق آفریں ہیں۔ لیکن ابھی اور ترقی کی ضرورت ہے۔ دور حاضر میں اردو زبان مٹتی چلی جا رہی ہے۔ لکھنؤ جیسے شہر میں لوگ اردو بولتے ہیں مگر افسوس ہے کہلکھ، پڑھ نہیں سکتے۔ قارئین ناپید ہوئے جارہے ہیں۔ قلم کار بھی مایوس ہو رہے ہیں۔ لہٰذا، ضرورت اس کام کی ہے کہ اردو کو فروغ دیا جا ئے۔ اردو زبان کے نصاب تعلیم کو مزید دلچسپ بنایا جائے  اور نوجوان قلم کاروں کی ہمت افزائی کی جائے۔ ان کی تحریریں شائع کی جائیں۔ حا ل  میں روزنامہ اودھ نامہ نے ’نوجوان قلمکار‘ کے عنوان سے تحریریں نشر کرنا شروع کی ہیں جو کہ ایک ترقی آور قدم ہے۔ اودھ نامہ کے علاوہ بھی دیگر اخبار و رسائل کو بھی اس ضمن میں کوئی لائحہ عمل تیا ر کرنا ہوگا۔ تاکہ اردو کو خاطر خواہ ترقی نصیب ہو۔

 

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close