تبصرۂ کتب

اردو تو بے زبان ہے کس سے کرے سوال

وصیل خان

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ  ؍ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔ یادش بخیر تھا کبھی دور مئے نشاط۔ داغ دہلوی نے جب یہ شعر کہا تھا اس وقت بلا شبہ اردو زبان کا بہت بول بالا تھا، سرکاری سطح پر اس زبان کو وہی اہمیت اور وقارحاصل تھا جو آج ہندی، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانو ں کو حاصل ہے، لیکن آزادی کے بعد بدقسمتی سے اس زبان کے ساتھ جو متعصبانہ سلوک کیا گیا اور اسے مٹانے کی جو منصوبہ بند سازشیں کی گئیں اس کے اثرات کا یہ عالم ہے کہ آج یہ زبان بدحالی کی انتہا پر پہنچ گئی ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ہم چاہے جتنا شور مچائیں اور احتجاجی جلسے کریں اقتدار کی مسند پر متمکن افراد ٹس سے مس نہیں ہوتے موجودہ سرکار کی اردو دشمنی تو جگ ظاہر ہے اس سے تو کوئی توقع ہی فضول ہے، سابقہ کانگریس سرکارجس نے نصف صدی تک ملک پر حکومت کی اس نے بھی محض دلاسے اور وعدوں سے کام لے کر اردو والوں کو ہمیشہ بہلائے رکھا اور ایک شمّہ برابر بھی اردو کے حق میں کام نہیں کیا جبکہ وہ خود کو ہمیشہ سیکولر اور جمہوری قدروں کی علمبردار بتاتی رہی۔

دوسری طرف  ایک المناک صورتحال یہ بھی رہی ہے کہ ہمارا وہ اردو داں طبقہ جو  اردو کے تعلق سے کچھ کرسکنے کی طاقت و صلاحیت رکھتا ہے  وہ اپنے فرائض منصبی سے نہ صرف شدید غفلت برتتا رہا  بلکہ موقع بہ موقع دانستہ یا غیر دانستہ طور پر انہی اہل اقتدار کے نظریات فاسد کو تقویت پہنچاتا رہا ہے جس سے انہیں تو بہر صورت فائدہ پہنچتا رہا لیکن زبان دن بدن کمزور و نحیف ہوتی رہی۔ ہمیں کہنے دیجئے وہی طبقہ خوش فہمی کے بہت اونچے گنبد میں بیٹھا آج بھی اردو کی دھوم مچائے ہوئے ہے اور اس کے عالمی زبان بن جانے یہاں تک کہ اردو کی نئی نئی بستیوں کے بس جانے کی خبریں ہم تک پہنچانے میں مصردف ہے۔ اسے اس بات کی یا تو خبر نہیں یا پھر قصداً شتر مرغ کی طرح اپنی گردن  ریت میں چھپاکر حقیقت حال سے بے خبر ی کا ڈھونگ کررہا ہے۔ کالجس اور یونیورسٹیوں کی سطح پر آئے دن بڑے بڑے جلسے اور سیمینار منعقد ہورہے ہیں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر لاکھوں روپئے کے خطیر صرفے سے اردو کی بقا و تحفظ کے بڑے بڑےدعوے کرنے والے ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ محض بزم آرائیوں ، لذت کام و دہن اور کچھ ذاتی مراعات کے حصول سے آگے وہ کبھی بڑھتے نہیں دکھائی دیتے  اور پھر زور و شور کے ساتھ دوسری تیاریوں ، دوسرے معنوں میں اگلے نشانےکو تاک لیتے ہیں ۔ ان کی اسی مفاد پرستی اور غایت درجہ تساہلی کو عظیم اختر صاحب نے اپنی کتاب ’اردو تو بے زبان ہے کس سے کرے سوال ‘ میں موضوع بنایا ہے۔ موصوف ملک کے مختلف اردو اخبارات کیلئے مضامین اور دہلی و پٹنہ کے کچھ اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے ہیں ۔

ابتدا ً جب کتاب موصول ہوئی تو بادی النظر میں ایسا محسوس ہوا کہ یہ بھی انہیں عام کتابوں میں سے ہوگی جن میں نہ کوئی نکتہ آفرینی ہوگی نہ ہی کوئی گہرائی و گیرائی جیسا کہ عام طور سے چلن ہوگیا ہے لیکن شروع کے کچھ مضامین پڑھے تو دلچسپی بڑھتی چلی گئی اور پوری کتاب ایک دو ہی نشست میں مکمل کرلی، سارے مضامین انتہائی چشم کشا اور مبنی بر حقائق ہیں ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ مصنف نے سب کچھ بہت واصح انداز میں اور بڑی بے خوفی کے ساتھ اس طرح بیان کردیا ہے کہ کہیں بھی ان کے قلم کی بیباکی اور فکری آزادی نہ کمزور ہوئی ہے نہ ہی کسی دباؤ کا کوئی اثر دکھائی دیتا ہے۔ حرص و طمع اور تعین پسندی کے اس دور میں جس نے سماج کے تقریبا ً سبھی طبقات پر اپنا تسلط جمالیا ہے جس کے راست اثرات قلمکاروں پر بھی پڑے ہیں ایسے نازک ترین حالات میں بھی عظیم اختر نے خود کو پوری طرح محفوظ رکھا ہے اور ان کے قلم نے ایک ایسی کاٹ دار تلوار کی صورت اختیار کرلی ہے جس کی زد سے کوئ بھی خطاکار، مفاد پرست اور قوم کے نام پر قوم کو ہی کنارے لگادینے والا بچ نہیں سکا ہے چاہے وہ کتنا ہی نامور ادیب و شاعر ہو یا نقاد وقت یا پھر یونیورسٹی سطح کا پروفیسر او ر اردو اداروں خاص کر اردو اکیڈمی کا سربراہ ہو انہوں نے ان سبھی کی کالی کرتوتوں اور بداعمالیوں کا پردہ فاش کیا ہے۔ شاید اسی صورتحال سے متاثر ہوکر مشہور شاعر نازش پرتاب گڑھی نے یہ اشعار کہے ہوں گے۔

سنو ادیبو، سنو شاعرو قلمکارو؍قلم بچائے رہو، قلم بچائے رہو ؍

قلم بکے گا تو یہ رات زہر اگلے گی ؍ قلم بکے گا تو یہ نسل خون روئے گی ؍

اسی طرح ڈاکٹر بشیر بدر بھی حقائق کا پردہ چاک کرتے ہوئے شمشیر برہنہ بن گئے ہیں ۔

بڑے شوق سے مرا گھر جلا ؍ کوئی آنچ تجھ پہ نہ آئے گی ؍ یہ زباں کسی نے خرید لی ؍ یہ قلم کسی کا غلام ہے ؍

کتاب میں چھوٹے بڑے کل ۳۹؍ مضامین ہیں جو الگ الگ نہج پر ضرور ہیں لیکن موضوع کے اعتبار سے ایک ہیں اور جن کا مرکزی روئے سخن یہی ہے کہ اردو کو جتنا نقصان اس کے دشمنوں نے پہنچایا ہے اس سے کہیں زیادہ اردو کے نام نہاد بہی خواہوں سے پہنچا ہے۔ کتاب کے اولین مضمون سے ایک اقتباس ہم نذر قارئین کررہے ہیں جس سےبخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اردو کے یہ بڑے بڑے ادارے کس نہج اور کس غیر معیاری طرز پر اپنا کام سر انجام دے رہے ہیں جس سے نہ اردو زبان کو کوئی فائدہ پہنچنے والا ہے نہ ہی اردو والوں کو مگر ان کی انگلیاں صد فیصد منافع میں ضرور ڈوب جائیں گی۔ وہ لکھتے ہیں۔

’’ ہمیں اس حقیقت کا احساس ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے شعبہ ٔ اردو کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ابن کنول کی زیر نگرانی پایہ ٔ تکمیل تک پہنچنے اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبا ن جیسے مقتدر ادارے کے مالی تعاون سے کتابی شکل میں منصہ شہود پر آنے والا تحقیقی مقالہ ’ اردو صحافت : آزادی کے بعد ‘ اسلوب و بیان کی غربت اور معیار تحقیق کے فقدان کی وجہ سے کسی تبصرے یا گفتگو کے قابل نہیں تھا لیکن چونکہ فاضل مقالہ نگار نے جوش تحقیق میں لاعلمی اور مطالعے کی کمی کی وجہ سے مولانا آزاد جیسی عبقری شخصیت کی جائے پیدائش اور ان کی مشہور زمانہ کتاب ’ انڈیا ونس فریڈم ‘ پر سطحی قسم کے تحقیقی انکشاف کئے تھے اور قومی کونسل کی مالی معاونت نے ایک طریقے سے ان تحقیقی انکشافات پر مہر تصدیق بھی ثبت کردی تھی، اس لئے ہم نے اسلوب بیان کو ترستے ہوئے دوسرے مضامین سے قطع نظر صرف مولانا آزاد کی جائے پیدائش اور انڈیا ونس فریڈم کے بارے میں غلط اور بے بنیاد نتیجے اخذ کرنے کے حوالے سے قومی کونسل کے ارباب اقتدار کو نہ صرف ایک خط لکھا بلکہ ایک مضمون بھی سپرد قلم کیا تاکہ قومی کونسل کے کرتا دھرتا ریسرچ اسکالر کی غلط بیانی کی تلافی کرسکیں اور اس کی شفافیت پر کوئی حرف نہ آئے اور ہندوستان میں اردو کے اس سب سے بڑے ادارے کی فعالیت پر اردو والوں کا بھروسہ و اعتماد قائم رہے۔ ‘‘

ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں:

’’اس قسم کے دلفریب نعروں سے حکمران وقت کو تو یقینا ً خوش کیا جاسکتا ہے لیکن بھارت بالخصوص شمالی ہندوستان میں اردو کا کچھ بھی بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ اردو کا طبقہ ٔ اشرافیہ کڑوی کسیلی سچائیوں کو نظر انداز کرکے آخر کب تک پرچھائیں کے پیچھے بھاگتا رہے گا۔ اردو تو بے چاری بے زبان ہے آخر کس سے کرے سوال۔ ‘‘

کتاب میں بہت اعلیٰ و معیاری الفاظ و اسلوب کا استعمال بھلے نہ کیا گیا ہو لیکن حقائق نگاری کا جوطرز موجود ہے وہ قارئین کی تشفی وتسکین کیلئے کافی ہے۔ ساری باتیں سنجیدہ لب و لہجے اور راست اسلوب میں بیان کی گئی ہیں جس سے کتاب اور اس کے موضوع کی مقصدیت خوب واضح ہوگئی ہے اور اہمیت کے اعتبار سے بھی ان کتابوں اور مقالوں پر بھاری ہے  جسے مصنف نے موضوع بنایا ہے،جن کا تذکرہ مندرجہ بالا سطروں میں موجود ہے اور جن پر خطیر سرمایہ لٹایا جاچکا ہے۔ ہم اس کتاب کے مطالعے کی پرزور سفارش کے ساتھ ہی اس کتاب کے مصنف عظیم اختر اور کتاب کے مرتب عرفان اظہار کی اس بیباکانہ پیشکش کو سلام کرتے ہیں ۔

۲۰۸صفحات پر محیط یہ کتاب ۲۲۰؍روپئے میں ایم آر پبلی کیشنز ۱۰۔میٹرو پول مارکیٹ 2724-25کوچہ چیلان، دریا گنج نئی دہلی سے حاصل کی جاسکتی ہے رابطے کیلئے موبائل نمبر : 09810439067-09873156910

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close