تبصرۂ کتب

امجد حیدرآبادی: ایک مطالعہ

مصنف: ڈاکٹر۔ ایم۔ اے قدیر(عادل آباد)

مبصر: ڈاکٹرعزیز سہیل، نظام آباد

عصرحاضرمیں اردوادب کے میدان میں تحقیق وتنقیدکا کام جامعات کی سطح پر بہت اچھے انداز سے انجام دیاجارہا ہے۔ ساتھ ہی ریاستی اردواکیڈیمیوں اور قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان دہلی کے علاوہ دیگرسرکاری وخانگی اداروں کی جانب سے کتابوں کی اشاعت پر مالی تعاون کے ذریعے اردوادب کے متعلق تصنیف وتالیف کاکام بھی زور وشور سے جاری ہے جس کے نتیجے میں ہرسال سینکڑوں کتابیں منظرعام پرآرہی ہیں جواردو کے فروغ میں کافی مثبت پہلو رکھتی ہیں لیکن یہ امر سے بھی واقف ہونا ضروری ہے کہ اردو کی ترویج وفروغ کا کام جس انداز سے اعلیٰ سطح پر انجام دیاجارہا ہے نچلی سطح پر یہ کام کی رفتار بہت سست ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے بچوں کے ادب پرسے اپنی توجہ ہٹالی ہے حالاں کہ ہونا تویہ چاہئے تھاکہ بچے جن پر آنے والے عر صوں میں اردو کے فروغ کی ذمہ داریا عائد ہوگی ان سے متعلق ہم ان کی تعلیم وتربیت اور ذہن سازی سے کوسوں دورہوتے جارہے ہیں ایسے وقت میں چند ایک رسائل اور تصانیف بچوں سے متعلق دیکھنے میں آرہی ہے جو بچوں میں ادب کا ذوق اورذہن سازی کا کام انجام دئے رہے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت ہی کم ہے۔

پچھلے دنوں اسی فکر کو ملحوظ رکھتے ہوئے اردو کے ممتاز ادیب ‘قلمکار‘تبصرہ نگار ‘مبصر ڈاکٹرایم اے قدیرعادل آباد نے بچوں کے ادب پر مشتمل کتاب ’’امجد حیدرآبادیؔ ایک مطالعہ‘‘ کے عنوان سے شائع کی۔ جس کا رسم اجراء 18مارچ 2018ء کو ادارہ ادب اسلامی ہند کے سمینار میں مولانا حامدمحمد خان صاحب کے ہاتھوں انجام دیا گیا۔ امجدحیدرآبادی کا تعلق حیدرآباد سے رہا ہے۔ امجد نے ملک گیر سطح پر شہرت حاصل کی ہے۔ امجد دراصل ایک پاکیزہ شاعر ہیں جنہیں شہنشائے رباعیات کہاجاتا ہے۔ امجد کی شاعری قرآ ن وحدیث کی ترجمان ہے۔ ان کی شاعری میں اسلامی تعلیما ت اوراسلامی فکر شامل ہوتی ہے۔ انہوں نے اخلاق کو اپنی شاعری میں جگہ جگہ برتا ہے۔ عصرحاضر میں ہمارا تعلیمی نظام اخلاق کو نظرانداز کررہا ہے جبکہ تعلیم کامقصد ہی ایک اچھے انسان کی تعمیر ہے۔ ایسے میں بچے علم توحاصل کررہے ہیں لیکن اخلاقیات سے بہت دور ہوتے جارہے ہیں۔

 ڈاکٹرایم اے قدیر نے امجد حیدآبادیؔ کی اسلامی فکر اور تعمیری ادب کوملحوظ رکھتے ہوئے بچوں کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر پیشے سے مدرس ہیں لیکن اردو کے فروغ میں انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ۔ عادل آباد میں شعر وادب کا فروغ کے سلسلہ میں بھی وہ کافی سنجیدہ نظرآتے ہیں ۔ علاقہ تلنگانہ میں تبصرہ نگاری میں ڈاکٹرعبدالقدیر کو انفرادیت حاصل ہے۔ ان کے اکثرتبصرے روزنامہ اعتماد کے ادبی ایڈیشن اورق ادب میں مسلسل شائع ہوتے آرہے ہیں ۔ ڈاکٹرعبدالقدیر کی اب تک13کتابیں منظرعام پرآچکی ہیں جن میں پروفیسر رحیم الدین حیات وکارنامہ‘ فلسفہ و تنظیم مدرسہ ‘آخری صفحہ (افسانوی مجموعہ)‘ رخت سفر(ناول)‘ قاضی مشتاق احمد شخصیت اورکارنامے‘ میزان( تبصرے) ‘ قاضی مشتاق احمد ایک مطالعہ‘ تیسری آنکھ ‘ شمامہ کی ڈائری‘ روبوٹ کی دنیا‘ زاویہ نگاہ‘ قاضی مشتاق احمد کے افسانوں کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ‘ عادل آباد میں اردو شعروادب شامل ہیں۔ بہرحال ڈاکٹرعبدالقدیر تصنیف وتالیف کے ساتھ ساتھ اردو کے فروغ میں مسلسل کوشاں ہیں۔ ان کا راست تعلق بچوں سے ہے۔ اس سلسلے میں ان کی اب تک3تصانیف منظرعام پرآچکی ہیں۔

زیر نظر کتاب’’امجدحیدرآبادی ایک مطالعہ‘‘ کا انتساب ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے لڑکے اورلڑکی کے نام معنون کیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں بچوں کی ذہنی سطح کوملحوظ رکھتے ہوئے امجدحیدرآبادیؔ کا تعارف پیش کیا ہے۔ امجدحیدرآبادیؔ کی پیدائش سے متعلق ڈاکٹرعبدالقدیر نے لکھا ہے کہ ’’حیدرآباد کے ایک دیندارگھرانے میں 6رجب 1303ھ مطابق 16فروری1888/1886بروز دوشنبہ بوقت صبح پیداہوئے۔ تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ کسی نے 86لکھا ہے کسی نے88۔ ماں باپ نے سید احمدحسین نام رکھا۔ شاعری شروع کی توامجد ؔ تخلص اور حیدرآباد کواپنے نام کے ساتھ جوڑ کر امجدحیدرآبادیؔ کے نام سے مشہور ہوگئے۔

ڈاکٹرعبدالقدیر نے زیرتبصرہ کتاب میں بڑے ہی سیدھے سادہ اسلوب میں امجدحیدرآبادیؔ کی پیدائش ‘تعلیم اوران کی تربیت میں والدہ کے کردار کوبیان کیا ہے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر نے امجدحیدرآبادیؔ کی شاعری کا تعارف بھی پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی 1908ء میں موسیٰ ندی میں آئی طغیانی کا حال بھی بیان کیا ہے جس میں امجد اپنے والدہ ‘بیوی اور اپنی عزیز بیٹی سے محروم ہوگئے تھے۔ اس طغیانی پر امجد ؔ نے یہ مسدس نظم لکھی ہے۔ اس کے اشعار کوانہو ں نے یہاں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں امجد پرکیا گذری ہوگی ان کے دل پران ہی جذبات کوانہوں نے مسدس کی شکل میں نظم لکھی۔

وہ رات کا سناٹا وہ گھنگھور گھٹائیں

بارش کی لگاتار جھڑی سرد ہوائیں

گرنا ومکانوں کا وہ چیخو ں کی صدائیں

وہ مانگنا ہرایک کا رورو کے دعائیں

پانی کا وہ زور اور دریا کی روانی

پتھر کا کلیجہ ہو جسے دیکھ کے پانی

ڈاکٹرعبدالقدیر نے اس کتاب میں جہاں امجدؔ کی شاعری کا تذکرہ کیاہے وہیں پرامجد کی نثرنگاری کوبھی انہو ں نے بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹرعبدالقدیر نے جگہ جگہ امجد کی رباعیات کو کوڈ کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں تصانیف امجد کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ 32 صفحات پرمشتمل یہ کتابچہ رحمانی پبلیکیشن مالیگائوں نے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر نے بچوں کی ذہنی نفسیات کوپیش نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کو لکھا ہے۔ میں اس کامیاب کوشش پرڈاکٹرعبدالقدیر کومبارک باد پیش کرتا ہوں اوران سے امید بھی ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کوملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کتابچے منظرعام پرلائیں گے۔ اس سلسلہ میں ایک شعر ملاحظہ کیجئے۔

عین ممکن ہے کہ سوئی ہوئی غیرت

تم کتابیں توپڑھو جاگتے کرداروں کی

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close